• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

راوت کی ہلاکت، دہشتگردی یا جنرلوں کی باہمی چپقلش کا نتیجہ؟

اسلام آباد ( پرویز شوکت ) بھارتی فو ج کے چیف آف ڈیفنس سٹاف جنرل بپن راوت اور ان کی اہلیہ کی ہیلی کاپٹر حادثہ میں ہلاکت سوالیہ نشان بن گئی ہے۔

بعض فوجی حلقے ہیلی کاپٹر حادثے کو سازش قرار دے رہے ہیں ، کیونکہ روسی ساخت کا یہ ایم آئی 17 ہیلی کاپٹر ہر موسم میں انتہائی محفوظ سمجھا جاتا ہے بعض حلقوں کا خیال ہے کہ دو روز قبل ناگا لینڈ میں جہاں علیحدگی کی تحریک چل رہی ہے وہاں شک کی بنیاد پر 13 شہریوں کو ہلاک کر دیا۔

بھارتی فوج نے انہیں دہشت گرد سمجھتے ہوئے مار دیا جبکہ وہ عام شہری تھے ۔

خیال ہے یا تو یہ حادثہ علیحدگی پسندوں کی تخریبی کارروائی کا نتیجہ ہے یا پھر بھارتی جرنیلوں کے درمیان باہمی چپقلش کا نتیجہ ہو سکتا ہے ۔

غیر جانبدار حلقوں کے مطابق جنرل بپن راوت کے چیف آف ڈیفنس بننے کے بعد ان کی بھارتی ایئر چیف کے ساتھ چپقلش کسی سے ڈھپی چھپی نہیں ۔

بھارتی ائیر چیف کاموقف ہے کہ بپن راوت ایئر فورس کو مضبوط بننے میں تعاون نہیں کرتے اور چین میں 8ہزار مربع میل مبینہ بھارتی علاقے پر جو قبضہ کیاہے وہ بپن راوت کی ناقص اور غلط پالیسیوں کا نتیجہ ہے ۔

ان دونوں فوجی جرنیلوں کے درمیان چپکلش کئی مرتبہ منظر عام پر بھی آچکی ہے ۔حادثہ کا شکار ہونے والا ہیلی کاپٹر ناگا لینڈ روانہ بھی ایئر فورس بیس سے ہوا ۔

واضح رہے گزشتہ دو اڑھائی سال قبل جب پاکستان نے دو بھارتی طیارے مار گرائے اس کے بعد پاکستانی طیاروں نے سری نگر میں آرمی ہیڈ کوارٹر میں جہاں بپن راوت کی سربراہی میں کور کمانڈر کانفرنس ہو رہی تھی اس ہیڈ کواٹر کے ارد گرد پاکستانی طیاروں نے بم پھینکے اور جان بوجھ کر ہیڈ کواٹر کو تباہ نہیں کیا

اس کا اعتراف (ر) بھارتی جرنیلوں نے بھی کئی بھارتی ٹی وی چینلوں پر بھی کیا ،پاکستان طیاروں کے اس حملے کے بعد را کے چیف کے خلاف کارروائی بھی کی گئی۔

ذرائع کے مطابق ہیلی کاپٹر کے اس حادثے کی تحقیقات میں ہیلی کاپٹر بننے والی کمپنی کے ماہرین کو بھی شامل کرنا پڑے گا ۔

اہم خبریں سے مزید