• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ادویات کے خلاف بڑھتی مدافعت، صحت کا بڑا بحران

کووِڈ-19وبائی مرض کے تیزی سے اور غیر متوقع عالمی پھیلاؤ نے دنیا کو صحت کے عالمی خطرات کے لیے پیشگی تیاری کرنے کی ضرورت کے بارے میں بہت سے سبق سکھائے ہیں۔ آج ہم اس بات کے پہلے سے کہیں زیادہ معترف ہیں کہ دنیا اور اس میں بسنے والے افراد کی صحت ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور بیماری کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے پبلک - پرائیویٹ تعاون کی ضرورت ہے، وگرنہ تمام انفرادی کوششیں خطرے میں پڑ جائیں گی۔

ادویات کیخلاف مزاحمت

انسانی جسم میں موجود یا پیدا ہونے والے بیکٹیریا اور جرثوموں میں اینٹی بائیوٹکس کے خلاف آج جس قدر قوتِ مزاحمت پیدا ہوچکی ہے وہ پہلے کبھی نہیں تھی، طب کی زبان میں جسے اینٹی مائکروبیل ریزیسٹنس (AMR)کہا جاتا ہے۔ دنیا کے تمام حصوں میں صحت کی دیکھ بھال کے نظام اور جانوروں کی پرورش میں استعمال ہونے والی بہت سی اینٹی بائیوٹکس کے خلاف بیکٹیریاز میں تیزی سے مزاحمت بڑھ رہی ہے۔ 

ادویات کے خلاف مزاحمت کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کثیر فریقی شراکت داروں کے مشورے اور ان کی رائے کی روشنی میں ’’صحت سب کے لیے‘‘ جیسی مربوط حکمتِ عملی مرتب کرنے کی ضرورت ہے۔ ترقی یافتہ دنیا کی کچھ حکومتیں اور غیرسرکاری تنظیمیں ادویات کے خلاف مزاحمت کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے عالمی سطح پر اسٹریٹجک سرمایہ کاری کرنے میں پہل کررہی ہیں۔ تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مسئلے کے خلاف زیادہ وسیع پیمانے پر اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے اور اس میں نجی شعبہ کو بھی شامل کیا جائے تاکہ مستقبل کے کسی بھی غیرمتوقع صحت کے بحران کو ابتدا میں ہی روکا جاسکے۔

ہالینڈ کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیر برائے صحت، فلاح و بہبود اور کھیل ہیوگو ڈی جونگ کہتے ہیں، ’’ہالینڈ صحت کی حفاظت کی کوششوں میں اینٹی مائکروبیل مزاحمت کو شامل کرنے کی اہم اہمیت کو تسلیم کرتا ہے۔ ہم ایکسیس ٹو میڈیسن فاؤنڈیشن اور ادویات ساز کمپنیوں کو آگے بڑھنے کی ترغیب دینے میں اس کے کردار کے قابل فخر حامی ہیں۔ متعدد شعبوں میں باہمی تعاون سے کام کر کے، ہم صحت کے اگلے بڑے خطرے کو اس کی ابتدا میں روک سکتے ہیں‘‘۔

نجی شعبہ کا کردار

گزشتہ پانچ برسوں سے، ایکسیس ٹو میڈیسن فاؤنڈیشن نے اس بات کا پتہ لگایا ہے کہ کس طرح اینٹی بائیوٹک مارکیٹ کی سب سے بڑی کمپنیوں نے ادویات کی مزاحمت میں اضافے اور اینٹی بائیوٹکس تک مناسب رسائی کی عالمی ضرورت سے نمٹا ہے۔ اس حوالے سے عالمی سطح پر کچھ پیشرفت ضرور ہوئی اور کچھ اشاریوں میں بہتری دیکھی گئی ہے۔ 

مثال کے طور پر، کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک میں نئی ​​ادویات کی دستیابی کے لیے ابتدائی منصوبہ بندی میں نمایاں اضافہ شامل ہے۔ اور جب ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ کی بات آتی ہے، تو بظاہر بگ فارما کی سرگرمیاں برسوں کی تنزلی کے بعد مستحکم ہوتی نظر آتی ہیں، حالانکہ نئی مصنوعات کی پائپ لائن اب بھی حوصلہ افزا نہیں ہے، اور زیادہ پیشرفت چھوٹی بائیوٹیکنالوجی کمپنیوں کی جانب سے دیکھی گئی ہے، جن کے مالیاتی وسائل انتہائی محدود ہیں۔

ادویات تک رسائی میں عدم توازن 

ادویات سازی کی صنعت کی سب سے بڑی ناکامی یہ ہے کہ کم وسائل کی حامل کمیونٹیز کی اینٹی بائیوٹک ادویات تک رسائی محدود ہے اور بدقسمتی سے ان ہی کمیونٹیز میں ادویات کے خلاف مزاحمت کا انفیکشن سب سے زیادہ ہوتا ہے۔ کچھ ممالک میں انتہائی محدود پیمانے پر ایسے اقدامات اٹھائے گئے ہیں، جن کے ذریعے ایسی کمیونٹیز میں اینٹی بائیوٹک ادویات کی رسد کو قیمتوں میں ردوبدل کے ذریعے بہتر بنایا گیا ہے۔ 

اینٹی بائیوٹک ادویات تک عدم رسائی (زیادہ تر بلند قیمتوں کے باعث) یا تو مریض ادویات خریدنے کی سکت نہیں رکھتے یا پھر ڈاکٹرز مجبور ہوکر انھیں غیرمعیاری ادویات تجویز کرتے ہیں، دونوں صورتوں میں پیتھوجنز کو موقع ملتا ہے کہ وہ لوگوں میں انفیکشن پیدا کریں اور ان کے اندر ادویات کے خلاف مزاحمت پیدا کریں، جس کے نتیجے میں عالمی سطح پر ادویات کے خلاف مزاحمت کے رجحان میں اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے۔

مزید برآں، ادویات کے خلاف مزاحمت کی کھلی اور شفاف نگرانی میں بہتری کی رفتار سست ہے، صرف ایک فارما کمپنی AMR کے پھیلاؤ کو ٹریک کرنے کے لیے عالمی تحقیقی کوششوں کو آگے بڑھانے کے لیے اپنے نگرانی کے پروگراموں کے خام اعدادوشمار کو سب کے لیے قابلِ رسائی بنارہی ہے۔ عام ادویات بنانے والی کمپنیوں نے بھی ماضی کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ حصہ ڈالا ہے اور کووِڈ-19کی تباہ کاریوں کے باوجود ان کمپنیوں نے AMRکے خلاف R&D پر توجہ مرکوز کیے رکھی ہے تاکہ وہ ایسی ادویات کی طلب کو پورا کرسکیں۔

پُراثر ادویات، صحت کی ضامن

اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ پوری دنیا مل کر ادویات کے خلاف انسانی جسم میں بڑھتی مدافعت کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کام کرے۔ دنیا نے کووِڈ-19وبائی مرض کے بحران سے جو کچھ سیکھا ہے، اس سے مستفید ہوتے ہوئے AMRکے مسئلے سے نمٹا جائے۔ دنیا نے جس طرح کووِڈ-19کی ویکسین کی تقسیم میں ناقابلِ قبول عدم مساوات دیکھی ہے، یہ ضروری ہے کہ اس ناانصافی پر مبنی لائحہ عمل سے سیکھتے ہوئے، جب AMRکو شکست دینے پر کام کیا جائے تو کووِڈ-19والی غلطی کو نہ دُہرایا جائے۔

اینٹی مائکروبیل ریزیزٹنس مستقبل کا مسئلہ نہیں ہے، یہ آج کا مسئلہ ہے اور اندازہ ہے کہ ڈرگ ریزیزٹنٹ انفیکشنز کے باعث عالمی سطح پر سالانہ ساڑھے سات لاکھ اموات واقع ہوتی ہیں۔ اسی طرح، 57لاکھ اموات ایسے انفیکشنز کی وجہ سے ہوتی ہیں جو قابلِ علاج تو ہیں لیکن متاثرہ مریضوں کو ادویات تک رسائی حاصل نہیں ہوتی۔