• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نسلِ نو/نوجوان کسی بھی مُلک وقوم کےعروج و زوال، ترقّی و تنزّلی میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ اسی لیےاُن ممالک کو، جہاں نوجوانوں کی اکثریت ہو، دنیا رشک کی نگاہ سے دیکھتی ہے کہ سب ہی جانتے ہیں کہ بلند عزائم، اُمنگوں، قوّتو ں، صلاحیّتوں، حوصلوں سے بھر پور نوجوان ہر میدان میں انقلاب برپا کرکے مُلک و قوم کی تقدیر بدل سکتے ہیں۔

اس لحاظ سے پاکستان انتہائی خوش قسمت ہےکہ اس کی آبادی کا قریباً 60 فی صد حصّہ نوجوانوں پر مشتمل ہے، مگر قابلِ افسوس امر یہ ہے کہ ہمارے یہاں اس بیش قیمتی سرمائے سے فائدہ اُٹھانا تو درکنار،غیر معیاری تعلیم، منہگائی، بے روزگاری، کرپشن جیسے مسائل میں اُلجھا کر اِسے گُھن لگایا جا رہا ہے۔ دنیا بَھر میں سالِ نو پر ’’نیو ایئر ریزولوشنز‘‘ لیے جاتے ہیں، لیکن وطنِ عزیز میں کم از کم نسلِ نو کے حوالے سے تو اُلٹی ہی گنگا بہتی دِکھائی دیتی ہے کہ ہر گزرتے سال کے ساتھ اس کے مسائل میں بھی اضافہ ہی ہوتا جا رہا ہے۔ 

نوجوانوں کے مسائل دُور کرنےکی باتیں، وعدےاور تسلیاں تو بہت دی جاتی ہیں، مگر عملاً کچھ ہوتاکم ہی نظر آتا ہے، تو 2021ء بھی نسلِ نو کے لیے ایسی ہی جھوٹی تسلیوں، بلند بانگ وعدوں، دعووںاور فقط حکمتِ عملیوں ہی کا سال ثابت ہوا۔ جیسے وزیرِ اعظم عمران خان نے سال کے آغاز میں جہلم میں اپنے ایک خطاب کے دوران کہا کہ ’’ نوجوانوں کو روزگار دینا سب سے بڑا مسئلہ ہے،سیاحت کو فروغ دے کر ہم بے روزگاری ختم کرسکتے ہیں۔‘‘

یاد رہے،پاکستان تحریکِ انصاف نے اقتدار میں آنے سے قبل ایک کروڑ نوکریاں دینےکا وعدہ کیا تھا اور شاید یہی وجہ تھی کہ نوجوانوں کی بڑی تعداد نے پی ٹی آئی کو ووٹ دئیے، لیکن گزشتہ برس سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائےمنصوبہ بندی کے اجلاس میں پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمینٹ اکنامکس ( پائیڈ) کے ذریعے یہ حقائق سامنے آئے کہ ’’مُلک میں مجموعی بے روزگار افراد کی شرح 16فی صد، تعلیم یافتہ مَردوں میں بے روزگاری کی شرح 24اور تعلیم یافتہ خواتین میں بے روزگاری کی شرح 40فی صد تک جاپہنچی ہے۔جب کہ بعض افراد ملازمت نہ ملنے کے باعث ایم فِل میں داخلہ لےلیتے ہیں ، جن میں 80فی صد طلبہ ایسے ہوتے ہیں، جو بے روزگاری کے سبب ہی داخلہ لیتے ہیں ، مگر اُنہیں بے روزگار افراد میں شمار نہیں کیا جاتا۔ 

یہ اعداد وشمار حکومت کی جانب سے دئیے گئے اعداد وشمار سےبہت مختلف ہیں کہ حکومت کاکہنا ہےکہ مُلک میں بے روزگاری کی شرح صرف 6فی صد ہے۔‘‘ یاد رہے، وفاقی وزیرِ اطلاعات ، فوادچوہدری نے بھی گزشتہ برس بغیر کسی اعدادو شمار کے یہ بیان داغ دیا تھا کہ ’’ہم تین سال میں ایک کروڑسے زائدنوکریاں فراہم کرچُکے ہیں ۔‘‘جب کہ پائیڈ کے اعداد و شمار کچھ اور ہی بتا رہے ہیں۔

وفاقی بجٹ22ء -2021 ءکی بات کی جائے ،تو’’ کام یاب جوان پروگرام‘‘ کی ذیلی یوتھ انٹرپرینیورشِپ اسکیم کے لیے 2 ارب روپے اوروزیرِاعظم یوتھ بزنس لون پروگرام اور دیگر اسکیمزکے لیے 60 کروڑ روپے مختص کیے گئے۔تاہم، اس بجٹ میں نیشنل اِنٹرن شِپ پروگرام کے لیے کوئی رقم مختص نہیں کی گئی ۔ البتہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے لیے مختص رقم میں خاطر خواہ اضافہ کیاگیا، جس سے نوجوانوں کو اعلیٰ تعلیم حاصل کرنےمیں ضرورفائدہ ہوگا۔ 

واضح رہے، بجٹ تقریر کے دوران وزیرِ خزانہ شوکت ترین نے کہا کہ ’’’ہر سال جاب مارکیٹ میں آنے والے نئے افراد کے لیے ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنے کی غرض سے پاکستانی معیشت کا 7 فی صد کی رفتار سے ترقّی کرنا ضروری ہے۔ صحت کی سہولتوں کی فراہمی کے بعد ہمارا دوسرا بڑا چیلنج روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہے۔‘‘

صوبۂ پنجاب کی بات کی جائے تومالی سال2022ء- 2021ء کےلیے 26کھرب 53ارب روپے کا بجٹ پیش کیا گیا،جس میں ترقیاتی پروگرامزکے لیے ریکارڈ 560ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ یاد رہے، بجٹ میں منہگائی اور بے روزگاری سے متعلق ، جو اس وقت مُلک کے سب سے بڑے مسائل ہیں ،کوئی خصوصی اقدامات تو تجویز نہیں کیے گئے۔ تاہم، ترقیاتی پروگرامز پر عمل درآمد، روزگار کے مواقع ضرور پیدا کرے گا۔ 

بچّوں کے لیےامراضِ قلب کے اسپتال کےقیام کے لیےفنڈز اور 5مدراینڈ چائلڈ اسپتالوں کےلیے 12ارب روپے مختص کیے گئے۔حکومت نے ‏ہر ضلعے میں کم از کم ایک یونی وَرسٹی کےقیام کا اعلان ، مختلف اضلاع میں یونی وَرسٹیز ‏کے قیام کے لیےبھی فنڈزمختص کیے ۔ جب کہ پرائمری ا سکولز ، ایلیمینٹری سطح تک اَپ ‏گریڈکیے جانے کا عمل بھی جا ری رہا۔ سالِ گزشتہ پنجاب حکومت نے 33ہزار اساتذہ بھرتی کرنے کی منظوری بھی دی اور لیکچرارز کی 3 ہزار اسامیوں پر بھرتی کی درخواست بھی پبلک سروس کمیشن کو بھجوا ئی۔

 محکمہ اسکول ایجوکیشن پنجاب کے مطابق ابتدائی طور پر 16ہزار اساتذہ بھرتی کیے جائیں گے،جب کہ گریڈ 1 سے 10 تک کی خالی اسامیاں پُر کرنے کا کام سالِ گزشتہ ہی شروع کر دیا گیاتھا۔یہی نہیں، محکمہ ٔبلدیات، سروسز، پولیس، بورڈ آف ریونیو، صحت، لائیو اسٹاک، زراعت، پاپولیشن اور اسپیشل ایجوکیشن میں مجموعی طور پر قریباً 72 ہزار خالی اسامیوں پر بھرتیاں کی جائیں گی۔جب کہ صوبائی حکومت کی جانب سے 25 سال کے بے روزگار نوجوانوں کو عُمر کی حد میں 5 سال کی رعایت دینے کا بھی اعلان کیا۔علاوہ ازیں، وزیر اعظم نےبتایا کہ پنجاب میں 163 ارب روپے کے تعمیراتی منصوبے شروع ہو چُکے ہیں،جن سےصوبے میں ڈھائی لاکھ نوجوانوں کو روزگار ملے گا۔

صوبۂ سند ھ میں رواں مالی سال کے لیے 1,477ارب روپےکا ٹیکس فرِی بجٹ پیش کیا گیا،جس میں تعلیم کے لیے 277ارب روپےاور اسمال اور میڈیم انٹرپرائزز کو آسان قرضوں کی فراہمی کے لیے300ارب مختص کیے گئے۔اسی طرح اسکول اساتذہ کی 14 ہزار سے زائد اسامیوں کے لیے بھرتی ٹیسٹس بھی ہوئے، جن میں ایک لاکھ 60 ہزار افراد نے درخواستیں جمع کروائیں، لیکن صرف 1258 افراد ہی کام یاب ہو سکے،اینٹری ٹیسٹ پاس کرنے والوں کا تناسب ایک فی صد سے بھی کم رہا۔ علاوہ ازیں، سالِ گزشتہ صوبے بھر میں بچّوں کے اغوااور بچّوں کوکتّوں کے کاٹنے کے کئی واقعات بھی سامنے آئے، جس کی بازگشت عدالتوں میں بھی سُنی گئی۔

کے پی کے میں 1,118.3ارب روپے کا بجٹ پیش کیا گیااور کم سے کم ماہانہ اجرت 21ہزار روپے مقررکی گئی، جب کہ صوبے میں معاشی سرگرمیوں کے لیے نوجوانوں سمیت صنعت کاروںاور خواتین کو بذریعہ بینک آف خیبر 10ارب روپے کے قرضےدینے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ علاوہ ازیں، خیبرپختون خواحکومت نے بچّوں کے تحفظ کے لیے ’’چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر ایکٹ 2010 ء‘‘کا ترمیمی مسوّدہ تیارکیا ،جس میں چائلڈ پورنوگرافی پر 20سال قید اور 70لاکھ روپے تک جرمانہ تجویز کیا گیا ہے، چائلڈ ٹریفکنگ کی سزا2 سے بڑھا کر 12سال ،جرمانہ 10سے 50لاکھ کرنے پر اتفاق کیا گیا۔

بلوچستان کے مالی سال 22-2021 ءمیں صوبےمیں نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے مختلف محکموں میں 5ہزار 854 سے زائد نئی اسامیاں تخلیق کی گئیں۔ علاوہ ازیں، سریاب روڈ ،غلام رسول مینگل ریلوے پھاٹک کے قریب 4 بچّوں کو ذبح کرنے کا واقعہ اور بلوچستان یونی وَرسٹی کے دو طلبہ کی گُم شدگی اور اس پر طلبہ و اساتذہ کا احتجاج بھی خبروں کا موضوع بنا رہا۔

علاوہ ازیں، پاکستان کے’’Evacuee trust property board‘‘ نے پاکستان کے سکھ اور ہندو نوجوانوں کے لیے ’’بابا گرو نانک اسکالرشپ‘‘ کا آغازکیا۔ جس کا مقصد ہندو ، سکھ نوجوانوں کو پیشہ ورانہ تربیت فراہم کرنا ہے، تاکہ وہ خودمختار بن سکیں۔ اس حوالے سے ای ٹی پی بی نے پنجاب ووکیشنل ٹریننگ کاؤنسل کے ساتھ ایم او یو پر بھی دستخط کیے، جب کہ اس ضمن میں چیئرمین ای ٹی پی بی، ڈاکٹرعامراحمد کا کہنا تھا کہ’’ پی وی ٹی سی 10 سکھ اور ہندو نوجوانوں کو تربیت فراہم کرے گی اور یہ تربیت پی وی ٹی سی کے موجودہ پیشہ ورانہ تربیت یافتہ انسٹی ٹیوٹ ہی میں مہیا کی جائے گی۔‘‘

اسی طرح 2021ء میں وزیر اعظم کے معاونِ خصوصی برائےاُمورِ نوجوانان ، عثمان ڈار کی جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق نوجوانوں کی ہائی ٹیک اِسکلز کے لیے ایک سال میں 4 ارب 30 کروڑ کی اسکالرشپس دی گئیں اور ’’کام یاب جوان پروگرام‘‘ نے ایک سال میں 95 ہزار 710 ہنر مند نوجوان تیار کیے، جب کہ ہائی ٹیک اِسکل اسکالرشپ کے تحت 36 ہزار 369 نوجوانوں نے جدید کورسز مکمل کیےاور حکومت ایک لاکھ 70 ہزار نوجوانوں کی اسکلز ڈویلپمنٹ کا ہدف مکمل کرنے کے قریب ہے۔واضح رہے، اعلیٰ تربیتی اِسکل اسکالرشِپ پر 2 ارب 54 کروڑ روپےخرچ ہوئے اور روایتی ہنر مندی سکھانے کے لیےایک ارب 64 کروڑ روپے کی اسکالر شِپس دی گئیں۔

کام یاب جوان پروگرام ہی کے تحت کارپوریٹ سیکٹر کے ایک ہزار 600 نوجوانوں نے کورسز کیے۔ نیز، مختلف کمپنیز میں ملازمت پیشہ نوجوانوں کی تربیت پر3 کروڑ 84 لاکھ روپے خرچ ہوئےاور ہائی ٹیک اِسکلزکے 28ہزار سرٹیفائیڈ نوجوانوں کو 13ہزار نوکریاں بھی ملیں۔ حکومت پورا سال ہی ’’سب اچھا ہے‘‘ ثابت کرنے کی کوششیں کرتی رہی ، لیکن وہ کیا ہے ناں کہ سچ چُھپائے نہیں چُھپتا، توگزشتہ سال ہی ماہرینِ نفسیات نے انکشاف کیا کہ ’’گزشتہ 2 برس میں مُلک میں خودکُشیوں کی شرح 3 سے بڑھ کر 8 فی صد ہوگئی ہے ۔ قریباً 25 فی صدافراد ڈیپریشن،ذہنی دباؤ اور دماغی بیماریوں میں مبتلا ہیں، جن میں اکثریت نوجوانوں کی ہےاور اس کی بڑی وجہ معاشی بدحالی اور کورونا ہے۔‘‘اسی طرح صحرائے تھر میں بھی خودکُشی کے واقعات میں اضافہ ہوا اور صرف ایک روز میں ایک خاتون سمیت تین افراد نے مبیّنہ طور پر خودکُشی کی۔

بچّوں کی بات کی جائے تو 2021ء میں بھی بچّے جنسی درندوں کے ہاتھوں محفوظ نہ رہے کہ مُلک بھر سے ہر دوسرے دن کسی نہ کسی بچّے کے ساتھ اغوا اورزیادتی کے بعد قتل کے کیسز سامنے آتے رہے۔ اسی حوالے سے بچّوں کے جنسی استحصال کی روک تھام کے لیے کام کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم، ساحل کی جنوری تا جون 2021ء کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیاکہ’’ سالِ گزشتہ کے صرف ابتدئی چھے ماہ میں بچّوں کے ساتھ جنسی تشدّد کے 1,084واقعات رپورٹ ہوئے۔جن کے حساب سے روزانہ اوسطاً 10 بچّوں کو جنسی استحصال کا نشانہ بنایا گیا۔ 1,045واقعات میں بچّوں کے قریبی رشتے داراور 430واقعات میں اَن جان لوگ ملوث تھے۔‘‘

واضح رہے، یہ صرف وہ کیسز ہیں، جو رپورٹ ہوئے ہیں کہ ہمارے مُلک میں اسی نوعیت کے لاتعداد کیسز بدنامی کے ڈراورخاندانوں کی عزّت بچانے کے نام پررپورٹ ہی نہیں ہوتے۔ پھرجنسی زیادتی کی روک تھام کے لیے ایوان سےاینٹی ریپ انویسٹی گیشن اینڈ ٹرائل بِل2020ء بھی منظور کروایا گیا، جس میں جنسی زیادتی کرنے والے عادی افراد کے لیے انتہائی سخت سزائیں مقرر کی گئیں، یہاں تک کہ بِل کی منظوری کے وقت پہلے عادی مجرمان کی کیمیکل کیسٹریشن کی شِق بھی شامل تھی۔ تاہم، اسلامی نظریاتی کاؤنسل کی جانب سے اعتراض اُٹھائے جانے کے بعد یہ شِق نکال دی گئی۔

سالِ گزشتہ قومی اسمبلی نے بچّوں پر جسمانی تشدّد کی ممانعت کا بِل بھی منظور کیا، جس کا اطلاق فی الحال وفاقی دارالحکومت میں ہورہا ہے۔ اس کے تحت تمام تعلیمی اداروں اور کام کرنے کی جگہوں پر بچّوں کو جسمانی سزا دینے پر پابندی ہو گی۔ بِل میں جسمانی سزا یا تشدّد کی وضاحت بھی کی گئی اور کہا گیا ہے کہ کسی بھی نوعیت کی تکلیف یا درد پہنچانا قابلِ سزا تصوّر کیا جائے گا۔جیسے،تھپّڑ مارنا، چابک، چھڑی، جوتے، لکڑی یا چمچ سے پٹائی کرنا۔ ٹُھڈّا مارنا، جھنجوڑنا، بالوں سے پکڑنا، کان کھینچنا، تکلیف دہ حالت میں رکھنا، اُبلتا پانی ڈالنا، جبری غذا کھلانا، توہین و تضحیک وغیرہ سب قابلِ سزا جرائم ہیں ۔ 

مزید برآں، تشدّد کے مرتکب شخص کو ملازمت کی معطلی، تنزّلی، برخاستگی، جبری ریٹائرمنٹ جیسی سزائیں دی جا سکیں گی اور وہ مستقبل میں بھی کسی ملازمت کا اہل نہیں ہو گا اوراس سلسلے میں شکایات کے اندراج کے لیے مجسٹریٹ کا تقرر کیا جائے گا۔ 2021ء میں اسکول نہ جانے والے بچّوں سے متعلق ’’پاک الائنس فور میتھ اینڈ سائنس‘‘ کی جاری کردہ ایک تحقیقاتی رپورٹ’’دی مِسنگ تھرڈ‘‘میں بتایا گیا کہ پاکستان میں 5سے 16سال کی عُمر کے 2کروڑ سے زائد بچّے اسکولز نہیں جاتے۔ 

اسکول سے باہر بچّوں کی سب سے بلندشرح بلوچستان میں 47فی صد،سندھ میں 44فی صد، خیبر پختون خوا میں 32فی صد، پنجاب میں 24فی صد، جب کہ اسلام آباد میں 10فی صد ہے۔ نیز، اسکول نہ جانے والے بچّوں میں 54فی صد لڑکیاں اور 46 فی صد لڑکے ہیں ۔جن میں سے 77فی صد کا تعلق دیہی اور 23فی صد کا تعلق شہری علاقوں سے ہے ۔ رپورٹ میں87 فی صد آبادی نے منہگی تعلیم کواسکول نہ جانے کی بنیادی وجہ قرار دیا۔

سالِ گزشتہ بچّوں کے لیے اس حوالے سے بھی بُرا ثابت ہوا کہ وہ بھی کورونا وائرس کی لپیٹ میں آئےاور اس کی وجہ سےایک سے دس سال تک کے کم از کم 44 بچّے زندگی کی بازی ہا رگئے۔علاوہ ازیں، نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر نے 12سال سے زائد عُمر کے بچّوں کوسائنو وَیک اورسائنو فارم لگانے کی منظوری دیتے ہوئے بچّوں کی ویکسی نیشن 15نومبر2021ء سے شروع کروائی۔ 

پولیو کی بات کی جائے توگلف نیوز کے مطابق گزشتہ سال اکتوبر تک وائلڈ پولیو وائرس کا صرف ایک اور ٹائپ ٹو کے 8 کیسز رپورٹ ہوئے۔ یعنی کیسز میں 99 فی صد کمی واقع ہوئی۔ اسے محکمۂ صحت کی بہترین حکمتِ عملی ہی کا نتیجہ کہا جا سکتا ہے کہ جہاں 2020 ءمیں برس وائلڈ پولیو وائرس کے 84اور ٹائپ ٹو کے 135کیسز رپورٹ ہوئے تھے، وہیں گزشتہ برس( تا دمِ تحریر) وائلڈ پولیو وائرس کیسز میں 99 فی صد کمی واقع ہوئی ۔

وطنِ عزیز کے معماروں کی کام یابیوں پر ایک سرسری نظر ڈالی جائے ،تو میٹرک اور ایف ایس سی میں کم نمبرز کی وجہ سے پاکستان کی یونی وَرسٹیز میں سال بھر تک داخلے سے محروم رہنے والے ایبٹ آباد کےعمیر مسعود کو بین الاقوامی امریکی ادارے لیب رُوٹ نے ’’ینگ سائنٹیسٹ‘‘ کا ایوارڈ دیا ،اسراء وسیم، کائنات عارف نے ابوظبی میں منعقدہ بین الااقوامی ایونٹ میں کانسی کے تمغے جیتے ، ایما عالم نے ’’ورلڈ میموری چیمپئن شِپ‘‘ اپنے نام کی،عروبی فریدی نے مُلک کی کم عُمر ترین ایرو اسپیس انجینئر ہونے کا اعزاز اپنے نام کیا، 19سالہ کوہ پیما، شہروز کاشف نے ماؤنٹ ایورسٹ سر کیا، توزارا نعیم نے اے سی سی اے کےامتحان میں دنیا بھر میں سب سے زیادہ نمبرز حاصل کرکےدنیا کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا۔

سنڈے میگزین سے مزید