آپ آف لائن ہیں
منگل14؍ محرم الحرام 1440 ھ25؍ستمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
امن و امان کے حوالے سے بلوچستان سے خیر کی تو کوئی خبر نہیں البتہ بدامنی، بدنظمی، عسکریت پسندی، فرقہ وارانہ دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ، بم دھماکوں اور سکیورٹی اداروں کے اہلکاروں پر حملوں کی خبریں بہت ہیں۔ حالات روزبروز بد سے بدتر ہوتے جا رہے ہیں۔ بلوچ بیلٹ کے نو گو ایریاز میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور ریاست کی رٹ بتدریج کمزور پڑتی جا رہی ہے۔ تشویش کی بات یہ ہے کہ پشتون علاقوں میں بھی جہاں علیحدگی کی کوئی تحریک نہیں اغوا برائے تاوان فائرنگ اور بم دھماکوں کی وارداتیں شروع ہو گئی ہیں۔ کوئٹہ سمیت پورے صوبے میں پولیس اور رینجرز نے کئی کامیاب کارروائیوں میں دہشت گرد پکڑے ہیں اور ٹنوں کے حساب سے گولہ بارود بھی برآمد کیا ہے مگر اپنی جانوں کی بھاری قیمت ادا کر کے، پولیس لائنز سمیت ان کے اپنے ہیڈ کوارٹر اور دفاتر حملوں سے محفوظ نہیں۔ اس کی وجہ علیحدگی پسندوں اور فرقہ پرستوں کی طاقت میں اضافہ ہے۔ اب تو طالبان بھی سرگرم ہو چکے ہیں، بلوچستان بدامنی کیس میں سپریم کورٹ کو سرکاری وکیل نے بتایا ہے کہ بلوچ علیحدگی پسندوں کے 48 فراری کیمپ ہیں، جہاں انہیں تربیت دی جاتی ہے۔ افغانستان کے ساتھ سرحدی علاقوں میں بلوچ لبریشن آرمی کے 5 سے 8 ہزار کے درمیان سرمچار روپوش ہیں اور ان کی تعداد میں وقت گزرنے کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے۔ بی

ایل ایف، بی آر اے اور دوسری کالعدم تنظیموں کے جنگجو ان کے علاوہ ہیں۔ انہیں 1200 میل لمبی پاک افغان سرحد پر واقع 212 دروں کے علاوہ خیبر پختونخوا، سندھ اور سمندری راستوں سے بھاری مقدار میں اسلحہ پہنچایا جا رہا ہے اور سرمایہ بھی مل رہا ہے۔ سینیٹ میں بتایا گیا ہے کہ بھارت نے افغانستان کے سرحدی علاقوں میں علیحدگی پسندوں کے لئے 9 تربیتی کیمپ بھی قائم کر رکھے ہیں۔ بعض ذرائع ان کی تعداد 21 بتاتے ہیں، بھارت اور افغانستان کے علاوہ بعض دوسرے ”دوست“ ممالک کی 20 ایجنسیوں کے ایجنٹ بھی صوبے میں موجود ہیں۔ امریکی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ ان میں اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے جاسوس بھی شامل ہیں۔ سابق وزیر داخلہ رحمن ملک بتا چکے ہیں کہ بی آر اے کے 46 کیمپ غیر ملکی امداد سے چلائے جا رہے ہیں۔ یہ تنظیم نوابزادہ براہمدغ بگٹی کی ہے جو بیرون ملک بیٹھے ہیں۔ ان کے پاس نواب بگٹی کی شہادت کا کارڈ بھی ہے جو بیرونی امداد کے حصول میں آسانیاں پیدا کررہاہے۔ بعض غیر ملکی قوتیں چین کی مدد سے گوادر ڈیپ سی پورٹ کو فعال ہونے سے روکنے کیلئے بھی صوبے میں بدامنی اور بے چینی کو ہوا دے رہی ہیں۔ ان میں سے کچھ چین دشمنی اور کچھ اس خوف کی بنا پر سرگرم ہیں کہ یہ بندرگاہ کامیاب ہو گئی تو ان کے تجارتی اور دوسرے سٹریٹجک مفادات کو نقصان پہنچے گا۔
ایک طرف خوف اور دہشت کا یہ ماحول ہے تو دوسری طرف نوجوانوں اور سیاسی کارکنوں کو زبردستی اٹھا لے جانے، تشدد اور قتل کی شکایات بھی بڑھ رہی ہیں جو مزاحمت کاروں کے ساتھ مفاہمت کے عمل میں بہت بڑی رکاوٹ ہیں۔ ایک سروے میں بتایا گیا ہے کہ ان ماورائے عدالت کارروائیوں کی وجہ سے 60 فیصد بلوچ نوجوان نفسیاتی مسائل کا شکار ہو چکے ہیں۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ مزاحمتی تحریک اب نوابوں، سرداروں سے زیادہ متوسط طبقے اور نوجوانوں کے ہاتھ میں ہے۔ اس لیے زیادہ سنجیدگی کی متقاضی ہے۔ پچھلے ادوار میں اس طرح کی تحریکوں کی قیادت نواب سردار اور میر معتبرین کرتے تھے۔ یہ طبقہ جہاں اثرورسوخ کے اعتبار سے بہت طاقتور ہے وہاں بہت سے مفادات اور مصلحتوں کا بھی اسیر ہے۔ اسے مذاکرات کی میز پر لانا اور اپنی بات منوانا مشکل ضرور ہے مگر ناممکن نہیں۔ اس کے مقابلے میں غریب اور متوسط طبقے خصوصاً روزگار سے محروم اور اپنے مستقبل سے مایوس نوجوانوں سے ہتھیار رکھوانا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ ان کے پاس اپنی جانوں کے سوا کچھ کھونے کو نہیں جنہیں وہ پہلے ہی داؤ پر لگائے ہوئے ہیں۔ انہیں گفت و شنید پر آمادہ کرنا پیپلز پارٹی کے بس کی بات تھی نہ مسلم لیگ ن یہ صلاحیت رکھتی ہے۔ اسی لئے وزیراعظم نواز شریف نے جب نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کو وزیراعلیٰ نامزد کیا تو بلوچستان ہی نہیں پورے ملک میں ان کی دوراندیشی اور معاملہ فہمی کو خراج تحسین پیش کیا گیا تھا اور عوام نے امید باندھ لی تھی کہ طویل مدت کے بعد ایک تجربہ کار قوم پرست رہنما کو اقتدار ملا ہے تو وہ اپنی بصیرت اور صلاحیت سے صوبے میں بدامنی اور بدنظمی ختم کرنے میں کامیاب ہو جائے گا۔ وزیراعظم نے یہ فیصلہ اس حقیقت کے باوجود کیا تھا کہ ڈاکٹر مالک کی پارٹی نشستوں کے حوالے سے صوبائی اسمبلی میں تیسرے نمبر پر تھی۔ مسلم لیگ ن کو بھی انتخابات میں زیادہ نشستیں نہیں ملی تھیں مگر مرکز میں اس کی حکومت قائم ہونے سے آزاد ارکان کی جوق در جوق شمولیت اور مسلم لیگ ق کے رضاکارانہ ’الحاق‘ کی بدولت وہ تقریباً ڈھائی درجن ارکان کی حمایت کے ساتھ پہلے نمبر پر آ گئی۔ دوسرے نمبر پر پشتونخوا ملی عوامی پارٹی ہے۔ اس کی حمایت بھی ڈاکٹر مالک کے کام آئی۔ مسلم لیگ ن نے اپنے مرکزی قائد کے حکم پر سر تو جھکا لیا مگر دل میں گرہ باندھ لی اور اندرون خانہ جوڑ توڑ میں لگ گئی۔ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ وزارتوں کی تقسیم پر اتحادی جماعتوں میں شدید اختلافات ہیں اور وزیراعلیٰ تین ماہ گزرنے کے بعد بھی اپنی کابینہ تشکیل نہیں دے سکے۔ نواب رئیسانی نے اسمبلی کے تقریباً تمام ارکان کو وزیر مشیر اور معاون بنالیا تھا مگر ڈاکٹر مالک کی مشکل یہ ہے کہ آئین میں ہونے والی ایک ترمیم کے تحت وہ 20 سے زیادہ وزیر اور مشیر مقرر نہیں کر سکتے کوشش ہو رہی ہے کہ جو وزیر یا مشیر نہ بن سکیں انہیں مجالس قائمہ کے چیئرمین بنا کر یا دوسرے عہدے دے کر مطمئن کیا جائے مگر وزارت اعلیٰ اور وزارتوں کے خواب دیکھنے والوں کی اکثریت کو یوں ”بے وقوف“ نہیں بنایا جا سکتا۔ اس لئے نظام حکومت تقریباً ٹھپ پڑا ہے۔ اتحادیوں کا ”تعاون“ اسی طرح جاری رہا تو صوبے کے حالات کون اور کیسے درست کرے گا،اس کا جواب فی الحال کسی کے پاس نہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں