روبینہ فرید، کراچی
خالقِ کائنات کا فرمان ہے کہ اس نے کائنات کی ہر شے جوڑوں کی شکل میں پیدا کی اورسائنس دان بھی آج اس حقیقت کو پا گئے ہیں کہ انسان، حیوان اور نباتات ہی نہیں، کائنات میں موجود تمام تر مادّی اور غیر مادّی اشیاء جوڑوں کی صُورت ہیں، جو اپنے خواص میں کہیں کہیں ایک دوسرے سے متضاد بھی ہیں، لیکن مقصد کی تکمیل کے لیے دونوں کی موجودگی لازمی ہے۔ یہاں تک کہ مادّے کی سب سے چھوٹی مسلّمہ اکائی ایٹم کو بھی توڑا جائے، تو اس میں منفی چارج رکھنے والے الیکٹران، مثبت چارج رکھنے والے پروٹون سے مل کر ہی ایٹم کی موجودگی کو ممکن بنائے ہوئے ہیں۔
انسان کے شرف و منزلت کا تو کیا کہنا کہ اس مختصر سی قد و قامت کی مخلوق کے آگے کائنات کی بے حد و حساب قوّت و طاقت رکھنے والی مخلوقات کو مسخّر کر دیا گیا اور انہیں ایک ایسے نظام کا پابند کیا، جس کے ذریعے دُنیا میں انسانی زندگی قائم رہ سکے اور اس سے بھی بڑھ کر کبھی خطا نہ کرنے والی نورانی مخلوق، ملائکہ کو بھی اس کے آگے سجدہ ریز کیا ۔
انسانی زندگی کی ابتدا جوڑے کی شکل میں ہوئی اور اس کی بقا بھی اِسی تسلسل میں مضمر ہے۔ مَرد و عورت دونوں نسلِ انسانی کی بقا اور تسلسل کے ضامن، اشرف المخلوقات، باعثِ عزّت اور رب کے نائب ہیں۔ ان کے بنیادی حقوق بھی یک ساں ہیں، تو دونوں کا کردار دُنیا چلانے کے لیے نا گزیر ہے۔ دونوں اصناف میں ایک دوسرے کی خواہش اور طلب کو رکھ دیا گیا اور دونوں کے متعین کردار کے لحاظ سے ان کو قوّت، قابلیت اور خصوصیات عطا کی گئی ہیں۔
اگر مَرد و عورت کے مقام، کردار اور ذمّے داری کے تعین خالق کے بنائے گئے رہنما خطوط کی روشنی میں کیا جاتا، تو مسئلہ سلجھانا بہت آسان تھا کہ سورۃالملک کی آیت نمبر14 میں ہے،’’کیا وہی نہ جانے گا، جس نے پیدا کیا؟ حالاں کہ وہ باریک بین اور با خبر ہے،‘‘مسئلہ دراصل اس وقت پیدا ہوا، جب انسان نے الہامی نشاناتِ راہ نظر انداز کر کے اپنی عقل سے راہِ نجات تلاش کرنے کی کوشش کی اور افراط و تفریط کا شکار ہو گیا۔ آج اکیسویں صدی میں داخل ہو کر بھی اگر ہم "Gender Discrimination"کی اصطلاح اپنائے ہوئے ہیں، تو اس میں کس کا قصور ہے؟
ایک مسلمان عورت کس طرح ویمن ایمپاورنمنٹ کی بات کرتی ہے، جب کہ اس کے ربّ نے تو اسے اتنا طاقت وَر کیا ہے کہ جنّت اُس کے قدموں تلے رکھ دی ۔ اُسے زندگی، تعلیم، وراثت، مہر، نان نفقے کا حق دیا اور ان ذمّے داریوں کو ادا کرنے کے لیے اس کے محرم مَرد کو اس پر قوّام بنایا گیا۔ وہ مشّقت کرے، پسینہ بہائے، خود کو تھکائے اور پیسے کما کر بیوی، بچّوں کی ضروریات پوری کرے، جب کہ عورت مالی تفکّرات سے آزاد ہو کر اپنی گود میں موجود ننّھے ذہنوں کو ایسی تعلیم و تربیت دے کہ وہ بڑے ہو کر اپنے کردار کی خوشبو سے اس دُنیا کو مہکا سکیں۔
انسانی معاشرے کی بنیادی اکائی گھر ہے۔ خوشی اور سُکون پانا ہے، تو گھروں کو امن و سُکون کا گہوارہ بنانا ہوگا اور گھروں کو ایک دوسرے کی عزّت، احترام، بھروسا، ایثار، درگزر، خلوص، محبّت اور اتحاد ہی مضبوط بناتا ہے۔ عورت کی ترقّی یہ نہیں کہ وہ ہر ادارے کی اہم ترین پوسٹ حاصل کر لے، اُس کی ترقّی یہ ہے کہ وہ خود سے منسلک ہر رشتے کا ایسے اعتماد جیتے کہ وہ اپنی خوشی سے اپنی ذات اُس کے حوالے کردیں۔
رواں سال عالمی یومِ خواتین مناتےہوئے ہمیں اس سوال پہ ضرور غور کرنا چاہیے کہ آج جب کہ پاکستانی طالبات اور خواتین معاشرے کے ہر دائرۂ کار میں مصروفِ عمل ہیں۔ تعلیم کے حوالے سے قابلِ فخر ریکارڈ قائم کر رہی ہیں، روایتی اور غیر روایتی دونوں مقامات پر ان کی موجودگی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، اپنے حقوق سے زیادہ باخبر اور دُنیا کا زیادہ علم رکھتی ہیں، تو خاندان بننے کا عمل سُست اور خاندان ٹُوٹنے کا عمل تیز کیوں ہوتا جا رہا ہے، خواتین کے ساتھ ہراساں کیے جانے کے واقعات میں کمی کیوں نہیں آرہی، عورت آج بھی ظلم و تشدّد کا شکار کیوں ہے۔ اپنے خاندان کو ساتھ لے کر چلنے والی خواتین کے لیے آج بھی مواقع محدود کیوں ہیں، عورت کے تحفّظ بنانے کے لیے ہونے والی قانون سازی کے باوجود وہ غیر محفوظ کیوں ہے؟
یہ وہ مسائل ہیں، جن پر محض ایک مخصوص دِن نہیں، بلکہ پورا سال سنجیدہ بحث ہونی چاہیے۔ معاشرتی اصلاح محض احتجاجی پوسٹرز اُٹھا کر مظاہرے کرنے سے ممکن نہیں۔ اس کے لیے پُرخلوص ہو کر سوچنے اور ایک ایسی فضا بنانے کی ضرورت ہے، جس میں ہر اکائی اپنے اپنے حصّے کے امور انجام دے۔کووِڈ -19نے جہاں پوری دُنیا کو متاثر کیا ہے، وہیں اُس کا ایک اچھا پہلو یہ سامنے آیا کہ خواتین کو پتا چلا کہ وہ گھر بیٹھے کیا کیا کر سکتی ہیں؟ یہ حقیقت خاص طور پر ان خواتین کے لیے امکانات کا ایک وسیع دروازہ کھولنے کے مترادف ہے، جو اپنی صلاحیتوں کا استعمال تو چاہتی ہیں، لیکن اس کے لیے اپنا گھر نہیں چھوڑنا چاہتیں۔
اگر ہم ان باصلاحیت خواتین کو تھوڑی سی تربیت دے کر اس قابل بنا دیں کہ وہ گھر بیٹھے اپنی تعلیم، ہنر اور صلاحیت سے نئے میدانوں کو مسخّر کرنے کے ساتھ اپنے خاندان سے بھی جُڑی رہیں، تو یہ ایک بڑی کام یابی ہو سکتی ہے۔ اس معاملے میں حکومت پر بھروسا کر کے ناکام رہنے سے بہتر ہے کہ ہر با علم خاتون خود اپنے دائرۂ احباب کی کم از کم پانچ خواتین کو یہ تربیت فراہم کردے، تو کڑی سے کڑی جُڑتی چلی جائے گی۔
اب جب کہ ہمارے نظامِ تعلیم سے تربیت کا عُنصر غائب ہوچُکا ہے، میڈیا اور معاشرہ تعمیر کے بجائے بگاڑ میں زیادہ منہمک ہے، تو معاشرے کی حسّاس اور دردمند خواتین کو یہ ذمّے داری بھی خود اُٹھانی ہو گی۔’’عورت کی ترقّی، اخلاقی اقدار کے ساتھ‘‘ کا سلوگن لے کر عملی زندگی میں قدم رکھنے والی بچّیوں کو سمجھانا ہو گا کہ خوشی اور سُکون کے لیے کن عادات کو اپنانا اور کن کو چھوڑنا ہو گا؟ ایک اچھی بیوی، ماں اور بہو کیسے بنا جائے،کیرئیر اور خاندان میں توازن کیسے قائم رکھا جائے، زندگی کی ترجیحات کیا ہوں، کن کاموں کا کرنا ناگزیر ہے اور کن کو چھوڑا بھی جا سکتا ہے؟
کتنا اچھا ہو کہ خواتین کے عالمی دِن کے موقعے پر ہم میں سے ہر خاتون ’’بہترین انسان وہ ہے، جو دوسرے انسانوں کے لیے زیادہ نفع بخش ہو‘‘ کی تاکیدِ نبویﷺ اپناتے ہوئے اپنی ذات کو معاشرے کے لیے زیادہ سے زیادہ مفید بنانے کا عزم کر لے کہ اگر ہم کسی ایک فرد کے ذہن سے بھی منفی سوچ ختم کرکے اُسے مثبت سوچ دینے میں کام یاب ہو جاتے ہیں، تو گویا ہم دُنیا کے گلشن میں ایک پھول کِھلا دیتے ہیں۔ ہزار میل تک کا لمبا سفر بھی پہلا قدم اُٹھانے ہی سے آغاز ہوتا ہے، لہٰذا پہلا قدم اُٹھانے میں تاخیر نہ کریں کہ یہ ہماری ذمّے داری بھی ہے۔