• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اقصی منوّر ملک، صادق آباد

دینِ اسلام کی یہ مسلمانوں کی ہر دَور میں امتیازی شان رہی ہے کہ اسلامی اور دینی علوم کی تعلیم و تدریس اور نشر و اشاعت میں مَردوں کے ساتھ خواتین نے بھی پورا حصّہ لیا ، خاص طور پر حدیث و فقہ کے بیان میں خواتین پیش پیش رہیں۔ صحابیات رضی اللہ عنہن، تابیعات و تبع تابیعات اور ان کے بعد آنے والی بناتِ اسلام نے احادیثِ مبارکہﷺ کی روایات اور تدوین و ترتیب میں کارہائے نمایاں سَر انجام دیئے ۔ یہی وجہ ہے کہ بہت مشہور حفّاظِ حدیث اور آئمہ فقہ نے ان محدّث و فقہیات سے استفادہ کیا۔اگر علمِ تفسیر کا ذکر کریں، تو تمام صحابیاتؓ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا، اکابر صحابہؓ کی ہم سَر ہیں۔

انہوں نے بڑی دقیق آیات کی تفسیریں بیان کی ہیں۔ ان سے احادیثِ مبارکہﷺ کی کتابوں میں جو تفسیری روایات مذکور ہیں، وہ دوا قسام کی ہیں۔ایک تو ان کے دِل میں کوئی بات کھٹکی، انہوں نے خود رسول اللہﷺ سے استفسار فرمایا اور دوسری وہ آیات ہیں، جن کے متعلق دوسروں کو کوئی شبہ ہوا، انہوں نے حضرت عائشہ سے اس سے متعلق دریافت کیا اور انہوں نے نہایت بخوبی تشفّی کی۔ 

حدیث وفقہ کی روایات کے اعتبار سے تین طبقات قائم کیے گئے ہیں۔٭طبقۂ مکثرین:یعنی وہ صحابہؓ جن سے بکثرت مسائل منقول ہیں۔ ان میں حضرت عائشہ ؓ شامل ہیں۔٭طبقۂ متوسطین :ان میں حضرت امِ سلمہ رضی اللہ عنہا شامل ہیں۔٭طبقۂ متقلین: وہ صحابہؓ جن سے کم مسائل مروی ہیں۔ ان میں حضرت صفیہ ؓ،حضرت حفصہؓ ،حضرت اُمِ حبیبہ ؓ ، حضرت جویریہ ؓ ،حضرت میمونہ ؓ،حضرت فاطمہ الزہراؓ ، حضرت اُمِ عطیہ ؓ، حضرت اسماءؓبنتِ ابوبکر ؓ،حضرت اُمِ شریکؓ، حضرت سہلہؓ،حضرت اُمِ ایمنؓ ،حضرت عاتکہؓ بنت زیدؓ، حضرت فاطمہؓ بنت قیس ؓ وغیرہ شامل ہیں۔

علمی حیثیت سے حضرت عائشہ ؓکو نہ صرف خواتین، بلکہ تمام اُمّہات المومنینؓ اور چند صحابہؓ کے استثنا کے ساتھ تمام پر فوقیت حاصل تھی۔ حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ سے روایت ہے کہ ’’ہمیں کبھی کوئی ایسی مشکل بات پیش نہیں آئی، جس سے متعلق ہم نے حضرت عائشہ ؓ سے پوچھا ہو اور ان کے پاس اس کے متعلق کچھ معلومات نہ ملی ہوں۔‘‘(جامع ترمذی)۔حضرت عروہ بن زبیر ؓ فرماتے ہیں ’’قرآن ،فرائض، حرام و حلال ،فقہ ، شاعری ،رطب، عرب کی تاریخ اور نسب کا عالم حضرت عائشہ ؓ سے بڑھ کر کسی کو نہیں دیکھا۔‘‘حضرت عائشہ ؓ کا شمار مجتہدین صحابہ رضی اللہ عنہم میں ہوتا ہے۔ اس حیثیت سے وہ اس قدر بُلند ہیں کہ بلا خوفِ تردید ان کا نام حضرت عُمر ، حضرت علی، حضرت عبداللہ بن مسعود اور حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کے ساتھ لیا جا سکتا ہے۔ 

وہ حضرت ابوبکر ؓ،حضرت عُمرؓ اور حضرت عثمانؓ کے زمانے میں فتوے بھی دیتی تھیں۔ حضرت عائشہ ؓسے 2210اور حضرت حفصہؓ سے60احادیثِ مبارکہﷺ مروی ہیں ،جو انہوں نے رسول اللہ ﷺ اور حضرت عُمرؓ سے سُنی تھیں۔حضرت اُمِ سلمہؓ سے378 روایتیں مروی ہیں۔ محمّد بن لبید کہتے ہیں، آنحضرت ﷺکی ازواج احادیث کا مخزن تھیں۔ تاہم ،حضرت عائشہ ؓ اور حضرت ام سلمہؓ کا ان میں کوئی مقابل نہ تھا۔ علّامہ ابن قیم نے لکھا ہے،’’اگر حضرت اُمِ سلمہ ؓکے فتاویٰ جمع کیے جائیں، تو ایک رسالہ تیار ہو سکتا ہے۔حضرت اُمِ حبیبہ ؓ سے حدیث ِ مبارکہﷺکی کتابوں میں65روایات مذکور ہیں اور راویوں کی تعداد بھی کم نہیں۔ 

خود بھی احادیثِ مبارکہﷺ پر سختی سے عمل کرتی تھیںاور دوسروں کو بھی تاکید کرتیں۔ حضرت میمونہ ؓ سے46احادیث ِ مبارکہﷺمروی ہیں ،جن سے ان کی فقہ دانی کا پتا چلتا ہے۔ حضرت زینب بن جحش ؓ سے 11روایات مذکور ہیں، تو حضرت جویریہ ؓ نے بھی چند حدیثیں روایت کی ہیں۔ حضرت صفیہ ؓ بھی دیگر ازواجِ مطہراتؓ کی طرح اپنے زمانے میں علم کا مرکز تھیں۔حضرت اُمِ عطیہ ؓ رسولِ کریم ﷺ کی صاحب زادی کے انتقال پر ان کے غسل میں شریک تھیں۔ بعد میں ان کی غسلِ میت میں حدیث معتبر مانی جاتی تھی۔ بصرہ کے علما و فقہا میں ان کا شمار ہوتا تھا۔ 

صحابہؓ اور تابعینؒ ان سے غسل ِمیت کا طریقہ سیکھتے تھے۔ حضرت زینب ؓبنت ابو سلمہ ؓ فضل و کمال میں شہرہ آفاق تھیں۔ اس وصف میں کوئی خاتون ان سے ہم سری کا دعویٰ نہیں کر سکتی تھی۔ حضرت خنساءؓ بہت بڑی شاعرہ تھیں۔ بازار ِعکاظ جو شعرائے عرب کا سب سے بڑا مرکز تھا ، وہاں حضرت خنساءؓ کو یہ امتیاز حاصل تھا کہ ان کے خیمے کے دروازے پر ایک جھنڈا نصب رہتا، جس پر یہ الفاظ لکھے تھے’’عرب میں سب سے بڑی مرثیہ گو، حضرت خنساء ؓکا دیوان بہت ضخیم ہے۔‘‘

صحابیات ؓ کا خاص طور پر خواتین پر احسان ہے کہ انہوں نے عورتوں سے متعلق فقہی مسائل آنحضرتﷺ سے دریافت کیے۔ خود حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ ’’انصار!یہ عورتیں کس قدر اچھی ہیں، کہ تفقہ فی الدین سے ان کو حیا باز نہیں رکھ سکتی تھی۔ ‘‘ نیز، اس اُمّت پر بھی بہت بڑا احسان ہے کہ انہوں نے حدیث و فقہ کی نشرو اشاعت میں صحابہ کرامؓ کے دوش بدوش خدمات انجام دی ہیں اور علومِ دینیہ سے سرفراز کیا ہے۔

سنڈے میگزین سے مزید