• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’سیلیک ڈیزیز‘ واحد علاج تاحیات گلوٹن والی غذاؤں سے پرہیز ہے

سیلیک ڈیزیز، جسے گلوٹن سینسیٹو(Gluten Sensitive) اور عرفِ عام میں گندم سے الرجی بھی کہا جاتا ہے، ایک شدید مرض ہے،جس میں آنتوں میں الرجی ہو جانے سے سوزش واقع ہوجاتی ہے اور غذا جذب نہیں ہوپاتی ۔عام طور پر یہ مرض اُن افراد کو لاحق ہوتا ہے، جو گلوٹن یعنی گندم، جوار، جَو، دلیے کی پروٹین برداشت نہیں کرپاتے۔ دراصل خوراک میں گلوٹن کی موجودگی کے نتیجے میں انہضام کی نالی میں الرجی ظاہر ہوتی ہے، جو بعد ازاں آنت کی جھلّی کو الرجک کرکے مدافعتی نظام کو نقصان پہنچاتی ہے۔ یہ مرض دُنیا بَھر میں پایا جاتا ہے۔ 

ایک محتاط اندازے کے مطابق مغرب میں تقریباً ایک فی صد آبادی اس سے متاثرہے، مگر ہمارے یہاں مرض سے متعلق معلومات کا اس قدرفقدان ہے کہ بیش تر مریض علامات ظاہر ہونے پر اسے آنتوں کی کوئی بیماری یا آنتوں کا انفیکشن سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تاحال مریضوں کے درست اعداد و شمار معلوم نہیں ہوسکے ۔ عمومی طور پر یہ مرض آٹھ سے بارہ ماہ یا اس سے زائد عُمر کے بچّوں میں پایا جاتا ہے، البتہ زیادہ تر کیسز میں علامات 40 سے 50 سال کی عُمرتک ظاہر ہوتی ہیں۔

سیلیک ڈیزیز کی علامات کو دو حصّوں میں منقسم کیا گیا ہے۔ یعنی معدہ اور اضافی آنتیں۔ معدے کی علامات میں سب سے عام ڈائریا ہےکہ قریباً 50سے80 فی صد مریض اس کا شکار ہوجاتے ہیں۔ ڈائریا میں جسم سے خارج ہونے والا مواد پانی جیسا پتلا اور کم انجذاب کی وجہ سے چکنا بھی ہوسکتا ہے۔اس کے علاوہ معدے میں درد، پیٹ پُھولنے اور مروڑ جیسی علامات بھی ظاہر ہو سکتی ہیں۔ نیز، 50فی صد مریضوں کا وزن کم ہوجاتا ہے۔ شیر خوار بچّوں کی نشوونما کی صلاحیتیں متاثر ہوجاتی ہیں۔ جسم کے دیگر حصّوں کی بھی علامات ظاہر ہوسکتی ہیں۔

مثلاً کم انجذاب کی وجہ سے خون کی کمی، آسٹیویسیا، آسٹیو پوروسس، قے، کم زوری کی کیفیت، بےہوشی طاری ہونا، جِلدی بیماریاں، تھکاوٹ، منہ کے چھالے/زخم، بانجھ پَن اور ماہ واری میں بےقاعدگی وغیرہ۔ دیکھا گیا ہے کہ مرض کی حتمی تشخیص سے قبل ہی مریض کو گلوٹن فری غذا کے استعمال کا مشورہ دیا جاتا ہے، حالاں کہ اے سی-جی گائیڈ لائنز کے مطابق مریض کو گلوٹن فری غذا دینے سے قبل ٹیسٹ کروانا بہتر ہے۔ عام طور پر مرض کی تشخیص کے لیےجینیٹک ٹیسٹنگ(ڈی این اے) تجویز کی جاتی ہے، جس کی سہولت پاکستان میں بھی دستیاب ہے۔ اس کے علاوہ معمول کے بلڈ ٹیسٹس مثلاً سی بی سی ،الیکٹرو لائٹس(Electrolyte) اور ایس کیلشیم فاسفیٹ وغیرہ بھی کروائے جاسکتے ہیں۔

چوں کہ یہ ایک مُوروثی بیماری ہے، تو اگر گھر کا کوئی ایک فرد بھی اس میں مبتلا ہوجائے، تو دیگر افراد میں سیلیک ڈیزیز سے متاثر ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں، لہٰذا حفظِ ماتقدّم کے طور پر اہلِ خانہ بھی اپنا ٹیسٹ کروالیں، تاکہ بر وقت تشخیص صحت کی ضامن بن سکے ۔ایچ ایل اے ڈی کیو ٹو(hla dq2) اور ایچ ایل اے ڈی کیو ایٹ(hla dq8) کی تشخیص کے لیے جینیٹک ٹیسٹنگ ناگزیر ہے، کیوں کہ یہ95فی صد مریضوں میں مثبت ہوتے ہیں۔ 

اس کے علاوہ بعض کیسز میں گیسٹرو اسکوپی اور 6ڈیوڈینم کی بائیوآپسی بھی کی جاتی ہے۔ علاج کے ضمن میں تاحال کوئی دوادریافت نہیں ہوسکی، لہٰذا اس مرض کا واحد علاج تاحیات گلوٹن والی غذاؤں سے پرہیز ہے۔ مریض صرف وہی غذائیں استعمال کرسکتے ہیں، جن میں گلوٹن شامل نہ ہو۔ یعنی مکمل طور پر گلوٹن والی غذا، رائی، گندم اور جَو کے استعمال سے اجتناب برتنا ہے۔ ایسے مریضوں کی اکثریت میں، جو گلوٹن فِری غذا پر انحصار نہیں کرتے ہیں، ڈائریا، خون اور وزن کی کمی کی شکایت عام ہوتی ہے۔

سیلیک ڈیزیز کی علامات کم کرنے کے ضمن میں ماہر اغذائیہ کا کردار بہت اہم گردانا جاتا ہے، کیوں کہ ہمارے یہاں گلوٹن فری ڈائٹ کا استعمال اتنا آسان اس لیے نہیں کہ گلوٹن فری گندم اور دیگر اشیاء منہگی ہیں اور باآسانی دستیاب بھی نہیں ۔ واضح رہے، وہ تمام مریض جو اپنے معالج کی ہدایات پر عمل ِپیرا ہیں اور کسی صُورت پرہیز ختم نہیں کرتے، ان کی صحت بہتر رہتی ہے، بصورتِ دیگر پرہیز نہ کرنے یا علاج نہ کروانے کی صُورت میں مریض کے جسم میں خون کی شدید (اینیمیا) کمی واقع ہوسکتی ہے۔ غذائیت کی کمی نشوونما میں رکاوٹ بن جاتی ہے، جب کہ بچّوں میں خون خارج ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ نیز، چھوٹی ہڈیوں کا لمفوما اور غدود کا سرطان بھی لاحق ہو سکتا ہے۔ (مضمون نگار، کنسلٹنٹ گیسٹرو انٹرولوجسٹ ہیں اور امجد میڈیکل سینٹر، کراچی سے وابستہ ہیں)