• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کپاس کو حرف عام میں روٹی، پھٹی اور کاٹن سے موسوم کیا جاتا ہے۔ یہ حریف کی فصل ہے۔ کپاس کو پاکستان میں سب سے زیادہ اہم نقد فصل تصور کیا جاتا ہے۔ یہ ملک کی زرمبادلہ کی کمائی کا تقریباً 55فی صد برآمدات پر مشتمل ہے اور تقریباً 26فی صد کسان کپاس کی کاشت کو ترجیح دیتے ہیں۔ اور کل کاشت شدہ رقبہ کا 15فی صد اس فصل کے لیے وقف ہے، جس کی پیداوار بنیادی طور پر سندھ اور پنجاب میں ہوتی ہے۔

پنجاب 79فی صد کی شرح کے ساتھ سرفہرست ہے جب کہ سندھ میں20فی صد تک اس کی کاشت کی جاتی ہے، تاہم KPK اور بلوچستان کے کچھ حصوں پر چھوٹے پیمانے پر اس کی کاشت ہوتی ہے۔ کپاس خالصاً سیلولور فائبرز کی فصل ہے جو ملک کی چار بڑی فصلوں میں سے ایک ہے۔چاول،گندم ،گنے، کپاس ان تمام نقدی فصلوں میں کپاس کا مقام بڑا ہی اعلیٰ ہے۔ اس کو (کنگ کاٹن) اور وائٹ گولڈ آف پاکستان کے نام سے بھی موسوم کیا جاتا ہے ،یہ پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری کا بنیادی ان پٹ بناتا ہے۔ پاکستان دنیا میں کپاس پیدا کرنے والے ممالک میں سرفہرست ہے۔

کپاس ایک نرم ریشہ پر مشتمل ہے۔ یہ فیملی Malvaceaeسے تعلق رکھتی ہے اور یہ ایک حفاظی تہہ میں پروان چڑھتی ہے۔ اس کے فائبر خالص سیلولوز میں جس میں پانی ،موم، چکنائی اور پیکٹن کی شرح شامل ہوتی ہے۔ ان پر مشتمل ہے یہ دنیا میں پروان چڑھنے والی فصل ہے۔ بشمول امریکا، افریقا، مصر، ہندوستان ا ور چین میں اس کی پیداوار بہت زیادہ ہے، تاہم میکسیکو میں بھی اس کی بہت خاص قسم پائی جاتی ہے۔ زمانہ قدیم میں آسٹریلیا میں بھی کپاس کی کاشت کا تصور تھا۔

کپاس کے فائبرز کی اکثریت سوت یا دھاگہ میں کاٹاجاتا ہے۔ اور پھر اس کو نرم کر کے ٹیکسٹائل ملز کو فراہم کیا جاتا ہے۔ اگرچہ زمانہ قدیم میں اس کی کاشت کی جاتی تھی حالاںکہ لوگ جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ نہیں تھے، پھر بھی ان لوگوں نے پھٹی/کپاس سے فائبرز حاصل کر کے ملبوسات کی ایجاد کو فروغ دیا اور یہ ہی وجہ ہے کہ کپاس کا فائبرز آج دنیا میں استعمال ہونے والا سب سے بڑا قدرتی فائبر ہے۔ عالمی پیداوار کا موجودہ تخمینہ تقریباً 25فی صد ملین ٹن یا110ملین گانٹھن سالانہ ہیں جو دنیا کی قابل کاشت اراضی کا تقریباً2.5فی صد بنتی ہیں۔ہندوستان دنیا میں کپاس پیدا کرنے میں سب سے اوپر ہے۔ امریکا کئی سالوں سے روئی کی تجارت میں مصروف ہے۔

عموماً اگائی جانے والی چار اہم اقسام جن میں Gossypium hirsutum (اوپری سطح پر کپاس) وسطی امریکا، میکسیکو ،کیرپین اور جنوبی فلوریڈا جو کہ دنیا میں90 فی صدہے، جب کہ Gossypium Barbadense ایکسٹر لمبے اسٹیل والی کپاس کے نام سے جانی جاتی ہے۔ یہ جنوبی امریکا میں8 فی صد جب کہ دوسری دو قسموں جن میں Gossypium herbaceumاور Gossypium arboreumشامل ہیں۔ ان کا تناسب تقریباً دو فی صد ہے۔یہ عموماً جنوبی افریقا اور عرب سے تعلق رکھتی ہیں، تاہم پاکستان میں اس کی اہم اقسام جن میں RH-662, FH-152اور RH-668سر فہرست ہیں جب کہ Sea Island cottonبھی بڑی اہمیت کی حامل ہے اس کا فائبر تقریباً 34ملی میٹر تک لمبا ہوتا ہے۔ اور اس کو دنیا میں اعلیٰ کوالٹی کا شاندار فائبر تصور کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں صوبہ پنجاب میں4.7ملین اراضی پر کپاس کاشت کی جاتی ہے۔

جب کہ سندھ میں تقریباً ایک ملین ایکڑ پر کپاس کاشت کی جاتی ہے۔ (Tarzen -1) CRIS-533-Leader، CRIS-508اور TH-2109شامل ہیں۔ یہ سب کی سب BTکاٹن کی ورائٹی میں (BT) کاٹن میں حشرات کے خلاف مزاحمتی قوت زیادہ ہوتی ہے ۔جب کہ ایک Non-BTکاٹن TH-120بھی کئی علاقوں میں کاشت کی جاتی ہے۔ کپاس کے ریشے قدرتی طور پر سفید، بھورے، گلابی اور سبز رنگوں میں پائے جاتے ہیں لیکن سفید کپاس کے جینیات کے آلودہ ہونے کے خدشات نے کپاس لگانے والے بہت سے مقامات پر رنگین کپاس کی اقسام کی افزائش پر پابندی عائد ہے۔

لفظ کپاس عرب زبان سے ماخذ ہے جو عربی لفظ قطن سے ماخوذ ہے۔ یہ قرون وسطی کی عربی میں روئی کے لیے عام لفظ تھامارکو پولو نے بھی اپنی کتاب میں کپاس کا ذکر کیا ہے، کپاس کی تاریخی پہلو بڑے ہی دلچسپ اور حیران کن ہیں ۔ اس کی تاریخ بھی انسانی ارتقاء کی طرح قدیم ہے۔ اپنی معاشی افادیت کے پیش نظر ہر دور میں اس کی ضرورت رہی اور اس طرح یہ فصل پروان چڑھتی ہی چلی گئی۔

کپاس کو جدید تجارتی کپاس کے ریشوں کے ذریعے مائل آف وائٹ کے علاوہ رنگوں کے لیے بھی کاشت کیا جاتا ہے۔آج کے جدید دور میں جینیاتی طور پر تبدیل شدہ (GM) کپاس کیڑے مار ادویات پر بھاری انحصار کو کم کرنے کے لیے معاون ہے، جس کی ایک خاص قسم BTکاٹن ہے۔ جو پہلے ہی بنائی جا چکی ہے۔ اس میں قدرتی طور پر کیڑوں کے صرف ایک چھوٹے سے حصے کے لیے نقصان دہ کیمیکل پیدا کرتا ہے۔خاص طور پر پتنگوں ،تتلیوں اور مکھوں کے اور اس کو خاطر خواہ نقصان نہیں پہنچا سکتے، تاہم یہ ہی (BT-Cotton)کپاس کے بہت سے دوسرے کیڑوں کے خلاف غیر موثر ہے۔

جیسے پودوں کے کیڑے ،بدبو دار کیڑے اورافڈس وغیرہ ۔اس طرح تحقیقی ذرائع سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ جو کیڑے Chemicalکے ذریعے تلف کئے جاتے ہیں ۔کچھ عرصے بعد ان کی مقدار میں اچانک اضافہ ہوتا ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ زندہ رہ جانے والے حشرات میں مزاحمتی نظام بیدار ہوتا ہے اور پھر مستقل قریب میں وہ حشرات کش اسپرے ان پر موثر نہیں رہتے۔ یہاں ضرورت اس امر کی ہے کہ آخر کس طرح پھر فصلوں کو حشرات کے حملے سے بچایا جائے۔ ماہرین زراعت کپاس کے کیڑوں کے انسداد کے لیے کئی طرح کے طریقے تجویز کرتے ہیں۔

جن میں سر فہرست تو کیمیائی اسپرے، پھر حیاتیاتی اور ثقافتی طریقہ کار شامل ہیں، تاہم آج ہم اس جدید دنیا میں رہتے ہوئے بھی'کیمیائی مرکبات کو ہی ترجیح دیتے ہیں۔ کسان کم وقت میں موثر نتیجہ مانگتا ہے اور ان کی ترجیح کم لاگت، کم وقت میں زیادہ سے زیادہ حشرات کو تلف کرنا ہے جو کہ صرف وقتی بچائو ہے لیکن مستقبل میں یہ ان گنت مسائل کا پیش خیمہ ہے۔ کپاس جس کا استعمال تقریباً ہر شعبہ زندگی میں ملتا ہے۔ یہ ٹیکسٹائل انڈسٹری سے شروع ہوکر میڈیکل انڈسٹری تک رسائی حاصل کرچکی ہے۔

عموماً کپاس کئی طرح کی مصنوعات کو بنانے میں استعمال ہوتا ہے جن میں ایک عام جیکٹس سے لے کر گھریلو سازوسامان تک شامل ہے۔ اس کے بیج سے تیل حاصل کیا جاتا ہے جو کہ صرف Cooking مقاصد کے لیے بلکہ کئی طرح کی ادویات میں استعمال ہوتا ہے۔ کپاس سے بنی ہوئی چاروں کو ترجیح اس وجہ سے بھی دی جاتی ہے کہ کپاس میں Hypoallergenic برقرار رکھنے میں بڑی آسانی ہے اور یہ جلد پر خارش یا دوسرے امراض کا باعث بھی نہیں بنتی ہے۔ کاٹن کو کچھ دوسرے مواد کے ساتھ شامل کرکے ریون بنایا جاتا ہے اور اس کے Raw مواد سے ربڑ بنتا ہے۔ کسی بھی ملک کی معاشی حالت کی مضبوطی اس کی زراعت کی ترقی سے وابستہ ہوتی ہے۔

کپاس کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے دنیا میں ہر سال 7؍اکتوبر کو (Cotton Day) منایا جاتا ہے، جس میں سالانہ پروڈکشن کے حوالے سے اعدادوشمار کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ ٹاپ ممالک کی رینکنگ کو دیکھا جاتا ہے، تاہم 2019ء کے اعدادوشمار کے مطابق پانچ سرکردہ برآمد کنندگان میں چین، ہندوستان، امریکا، برازیل اور پاکستان شامل ہیں۔ کپاس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ابلین کے لوگ صرف اور صرف اپنی بقاء کے لیے کپاس کی کاشت پر انحصار کرتے ہیں۔

بشمول 100؍ملین چھوٹے ہاری جو کپاس کاشت کرتے ہیں، تاہم ترقی پذیر ممالک میں کپاس کے بڑھتے ہوئے مسائل اور ان کا مناسب تدارک نہ ہونے کی وجہ سے ہم ترقی یافتہ ممالک کی دوڑ میں بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔ ہمارا ہاری نت نئی ٹیکنالوجی سے آشنا نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ اب ہم سالانہ اپنی مطلوبہ پیداوار کا ہدف مکمل نہیں کر پاتے اور ملکی بقاء اور خوشحالی کے لیے ضروری ہے کہ کسان برادری کو جدید تقاضوں سے روشناس کرایا جائے ،تاکہ وہ زراعت میں بہترین نتائج کو بروئے کار لائے پاکستانی مٹی بہت زرخیز ہے اور خطے کی آب و ہوا بھی بڑی موافق ہے جو نہ صرف فصلوں بلکہ حشرات کی پروڈکشن میں بھی اہم ہے۔ یہی جہ ہے کہ پاکستان میں کئی دوسری فصلوں کی طرح کپاس بھی کئی طرح کے مسائل سے دوچار ہے۔ بدقسمتی سے کپاس کی فصل کئی اقسام کے کیڑوں کیلئے بہترین پرپیش کش رہی ہے۔

یہ ازل سے کئی مہلک کیڑے مکوڑوں کی زد میں ہے۔ اس کی پیداوار کا خاطرخواہ حصہ ان کیڑوں کی نذر ہوجاتا ہے، جس کی وجہ سے پیداواری ہدف حاصل نہیں ہو پاتا اور ملکی معیشت ناقابل تلافی نقصان سے دوچار ہوئی جارہی ہے۔ موجودہ دور میں کئی جدید تکنیک میں بائیو کنٹرول اور ہارمونز کا استعمال شامل ہے لیکن بدقسمتی سے ہمارا کسان تو اس کا استعمال تو دور، ان کے نام سے بھی واقف نہیں ہے اور پاکستان میں حیاتیاتی کنٹرول کی شرح نہ ہونے کے برابر ہے اور کسان صرف اپنی فصلوں کو بچانے کے لیےکیمیائی اسپرے پر ہی انحصار کرتا ہے اور ملک میں ملین، بلین سالانہ بچت صرف اور صرف ان حشرات کش ادویات کی درآمد پر خرچ ہوجاتی ہے اور ہمارا کسان غریب سے غریب تر ہوتا جارہا ہے بجائے اس کے کہ وہ بہتر اور پرآرائش زندگی کی طرف جائے، تاہم WHO اور FAO کے مطابق ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے کے لیے کیمیائی مواد کو ترک کرنے کی سفارشات کی گئیں ہیں۔

ان اداروں کا زیادہ تر زور (IPM) انٹیگریٹڈ پیسٹ مینجمنٹ کو فروغ دینے کی طرف ہے۔ یہی IPM کی تیکنیک یورپ اور آسٹریلیا میں سوفی صدتک کامیاب رہی ہے اور کئی حشرات اب حیاتیاتی تیکنیک سے مکمل طور پر ختم ہوچکے ہیں۔ پاکستان میں کاٹن کی فصل پر کئی میجر اور مائنر حشرات /کیڑوں کا حملہ ہوتا ہے، جس میں چیدہ چیدہ درج ذیل ہیں۔ عموماً کپاس کو تباہ کرنے میں کپاس کے پتوں کا فولڈر ،گلابی بول ورم ، Spo Hed دھبے والا ورم ، ڈسکی کاٹن ورم ،میلی بیگ ،تھرپس اور سفید مکھی شامل ہیں بلکہlocust اور grasshopper کی کئی اقسام بھی کاٹن کو خطرناک حد تک نقصان پہنچاتی ہیں۔

المیہ یہ ہے کہ پاکستان میں ان حشرات / کیڑوں کی روک تھام کے لیے حشرات کش ادویات کا استعمال کیا جاتا ہے جو فوری طور پر نتائج تو دیتا ہے لیکن یہ کیمیکل پانی اور مٹی کے بہائو کے ساتھ زیریں زمین اور اردگرد رہنے والی حیاتیاتی زندگی کودشوار بنا دیتے ہیں اور ایکو سسٹم میں ایک نہ ختم ہونے والاخلل پیدا ہوتا چلا جارہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کئی اقسام جن کا نام و نشان بھی تاریخ سے مٹ چکا تھا، اب دوبارہ پیدا ہوتی جارہی ہے۔ وجہ صاف ظاہر ہے جب کبھی انسان قوانین فطرت سے کھیلنے کی کوشش کرے گا، اس کا مقدر صرف اور صرف تباہی ہی ہے۔

اب ان تمام خطرات سے نمٹنے کا نعم البدل صرف اور صرف حیاتیاتی طریقہ کار ہی ہے۔ ان میں بیکٹیریا ،وائرس،فنجائی دوسرے کئی مائیکرو اجسام شکاری حشرات، شکاری پرندے، طفیلی جاندار وغیرہ شامل ہیں۔ کسی بھی حشرات اور کیڑے کی لائف اسٹائل کو دیکھتے ہوئے ان حیاتیاتی ایجنڈا کا استعمال ان کے خلاف کیا جاسکتا ہے اور اس طرح ان کی پروڈکشن کو بغیر ایکوسٹم کو متاثر کئے بغیر کیا جاسکتا ہے اور زمینی اور فضائی ماحول کو آلودگی سے بھی پاک و صاف کیا جاسکتا ہے۔

حیاتیاتی ایجنڈاکے استعمال کے لیے درج ذیل ترجیحات کی ضرورت ہے۔ ٭فیلڈ میں موجود قدرتی دشمنوں کا تحفظ کرنا ۔ ٭حشرات کے خلاف نئے قدرتی دشمنوں کا متعارف کروانا۔ ٭قدرتی دشمنوں کی آبادی مستقل بنیادوں پر قائم کرنا۔ ٭قدرتی دشمنوں کو حالات کے پیش نظر فیلڈ میں وقتاً فوقتاً Relase کرنا ۔٭موسمی تغیرات کا خیال رکھتے ہوئے ان جانداروں کی ترسیل کی پلاننگ کرنا۔

ان تمام عوامل کے ساتھ ساتھ درج ذیل میں کچھ سفارشات ہیں جن پر عمل کرکے کسان برادری اپنی کاشت کو بہتر کرسکتی ہے۔ ٭کپاس کی کاشت کے لیے صحت مندانہ بیجوں کا انتخاب ضروری ہے جو کہ ماہر کوالٹی اور پیداوار کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ ٭روئی کی اعلیٰ کوالٹی کا انتخاب کریں جو کہ پہلے ہی سے منظور شدہ ہو۔ ٭ان خطوں پر کاشت کو ترجیح دی جائے جہاں پر دھوپ کی شدت خاطرخواہ ہو۔ سرد علاقوں کو منتخب نہ کیا جائے۔ ٭مٹی کی مکمل طور پر جانچ پڑتال کریں، اس کی زرخیزی پیداوار کے لیے ضروری ہے۔ ٭حشرات سے بچانے کے لیے حشرات کش ادویات کا بروقت اور مناسب مقدار میں استعمال کیا جائے (جبکہ ہاری حیاتیاتی طریقہ کار سے آشنا ہوجائے) اگر حیاتیاتی طریقہ کار تک رسائی حاصل ہوجائے تو کیمیائی اسپرے کو ترک کردیا جائے۔ ٭فیلڈ میں مناسب مقدار میں پانی کی فراہمی ممکن بنائی جائے۔٭پاکستان میں کپاس کی کاشت کا مناسب ٹائم مئی تا اگست تجویز کیا جاتا ہے ،تاہم بعض علاقوں میں فروری تا اپریل بھی کاشت ہوتی ہے۔ لہٰذا اپنے خطے کے مطابق ٹائم اسکیل کا خیال رکھا جائے۔ ٭ فیلڈ میں رجسٹرڈ شدہ حشرات کش ادویات کا استعمال کیا جائے ۔

اب ضرورت اس امر کی ہے کہ عام کسان کو بنیادی سہولتوں سے آراستہ کیا جائے۔ ان ہاریوں تک وہ تمام بنیادی وسائل پہنچائے جائیں جن کو بروئے کار لا کر وہ زراعت کے شعبے کو مستحکم کرسکتے ہیں۔ کسانوں کو دنیا کا ساتھ دینے کے لیے جدید ٹیکنالوجی سے روشناس کروایا جائے، تاکہ یہ بھی جدید دور کی ضروریات کو پورا کرتے ہوئے ۔اس کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چل سکے۔

ان کو اعتماد میں لئے بغیر ہم زراعت کے سیکٹر میں ترقی کا خواب نہیں دیکھ سکتے۔ خوشحال اور مستحکم پاکستان کی بقاء کے لیے ہمیں اپنے آپ کو اندرونی طور پر مضبوط اور منظم کرنا پڑے گا۔ ہمیں صرف اور صرف اپنے ذرائع کو بروئے کار لانا ہوگا۔ اپنی برادری اپنی کسان کمیونٹی کو ساتھ لے کر چلنا پڑے گا یہ ہی مستحکم پاکستان کی ابتداء ہوگی۔

سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سے مزید
ٹیکنالوجی سے مزید