• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دنیا یوکرین روس تنازعے کے نتیجے میں خوراک کی قلت کے متوقع بحران، تیل اور گیس کی بڑھتی ہوئی قیمتوں، یورپ کے دفاعی بجٹ میں اضافے اور مہاجرین کی آمد کے حوالے سے خاصی متفکر ہے ۔ اس جنگ کی پسِ پردہ قوتوں کے نقطہ نظر کو سمجھنے کے لیے گزشتہ دہائی سے جاری دوسری جنگوں پر غور کرنے سے کہانی سمجھی جا سکتی ہے ۔ 

جنگیں تقریباً ہمیشہ بین الاقوامی مارکیٹ میں ڈالر کی قدر میں ایک خاص اضافہ کرتی ہے، جو ڈالر کی مدِ مقابل کرنسی کی راہ میں رخنہ ڈالنے کی شعوری کوشش ہوتی ہے۔جولین اسانج نے ان سازشوں کا پنڈورا باکس کھول دیا ہے جو امیر ممالک کی حکومتوں نے رچی تھیں، وہ سازشیں جنہیں محض تخیلات کی پیداوار سمجھا جاتا تھا، اب کھل کر سامنے آچکی ہیں۔ 

جنگیں جو قوموں کے درمیان تنازعات کی صورت نظر آتی ہیں، درحقیقت ایک طاقتور ملک کے مالیاتی نظام کو جمود میں رکھنے کے لیے تیار کی جاتی ہیں۔ہم ڈالر کو مضبوط کرنے کے لیے ایک اور جنگ کا سامنا کر رہے ہیں، ابھی تو یہ صرف آغاز ہے۔

جنگوں کے تناظر میں قومی حکومتوں کے انتخاب کے ذریعے اپنی معیشتوں کو ڈی ڈالرائز کرنے کیلئے جس نے بھی کوشش کی اسے کم و بیش ایسے ہی نتائج کا سامنا کرنا پڑا۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکی ڈالر دنیا کی طاقتور ترین کرنسی بن گیا۔ 

دنیا بھر میں مالیاتی نظام ڈالر کی فراہمی پر منحصر تھے۔ سعودی عرب کے ساتھ امریکہ کے پیٹرو ڈالر انتظامات کے ساتھ، ڈالر کی پوزیشن تمام دیگر کرنسیوں پر سبقت لے گئی۔ باقی کام ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف نے کیا جو واضح طور پر واشنگٹن کے زیرانتظام ہیں۔ 

امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان سرد جنگ کے دنوں میں، سوویت معیشت کو اندر اور باہر سے نقصان پہنچانے کی تمام کوششیں کی گئیں۔ سوویت یونین کا افغانستان پر حملہ ایک ایسی قوم کے وسائل اور ذخائر کو ختم کرنے کا موقع بن گیا جو ڈالر کے تسلط کو چیلنج کر رہی تھی۔ 

پوری مسلم دنیا سے اربوں ڈالر اور مجاہدین افغانستان میں جمع ہوئے اور سوویت یونین کو شکست ہوئی۔ سوویت یونین کے زوال کے بعد ڈالر نے عالمی منڈی پر قبضہ مستحکم کر لیا۔ اقتصادی ترقی کیلئے، امریکہ کو صرف پیسے پرنٹ کرنے کی ضرورت تھی۔

ایک اور واضح مثال عراق کے صدام حسین کی ہے۔ جب اس نے ڈالر کے غلبے کی مخالفت کرنے کا فیصلہ کیا تو چند ہی ہفتوں کے اندر 2003 میں عراق پر حملہ کر دیا گیا جس میں امریکی معیشت کے لیے مزید پیٹرو ڈالرز محفوظ ہو گئے۔ 

دوسرے ممالک میں بھی ایسا ہی ہوا لیکن بیرونی کی بجائے اندرونی اختلافات نے مہلک نتائج کو جنم دیا، جیساکہ لیبیا میں قذافی کا تختہ الٹنا اور دیگر ممالک جنہوں نے عرب اسپرنگ کے نام پر حکومتوں کی تبدیلی دیکھی۔ 

یہ سب ڈالر کی بالادستی کو بچانے کے لیے ایک تزویراتی پروگرام تھا۔ کہانی فی الحال برکس کے آغاز کے ساتھ شروع ہوئی۔ امریکی ڈالر میں تجارت اور تجارت کا متبادل پیش کرنے کے لیے برازیل، روس، بھارت، چین اور جنوبی افریقا کے درمیان مالیاتی تعاون کا منصوبہ بنایا گیا۔ 

چند برسوں کے اندر برازیل کو بولسنارو کی قیادت میں انتہائی دائیں بازو کی حکومت نے سنبھال لیا، جس نے برعکس قدم اٹھایا اور برازیل کو آئی ایم ایف کے سامنے لا کھڑا کیا۔ برازیل کی اقتصادی ترقی تنزلی کا شکار اور جمہوری ادارے حملوں کی زد میں آگئے۔ کرپشن اور اقربا پروری کو فروغ ملا اور ملک شدید بحران کا شکار ہوا۔

یوکرین جنگ میں بھی’’ ڈالر وار‘‘ کی حکمت عملی واضح ہے۔یوکرین کی جنگ نے یورپ میں صدمے کی سی کیفیت طاری کر رکھی ہے۔ پورے خطے کی معاشی خوشحالی متزلزل ہے۔ 

تیل اور گیس کی سپلائی لائنیں درہم برہم ہیں۔ یورپ میں مہنگائی تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے۔ سرحدوں پر روسی افواج کا خوف فلاحی بجٹ کو دفاعی اخراجات میں تبدیل کر رہا ہے۔ صنعتی ترقی اور تجارت کو مضبوط بنانے والی تمام سرمایہ کاری اب امریکی ہتھیاروں کی خریداری میں بدل رہی ہے۔ 

علاوہ ازیں،اس وقت روس سخت پابندیوں کا سامنا کر رہاہے۔ چین اور روس کی جانب سے ڈالر سے نجات کے لیے تعاون کو آگے بڑھانے کی تمام کوششوں کو فی الحال شدید مزاحمت کا سامناہے۔ 

روس کو جنگ میں شامل کرنے سے روسی معیشت اور یورو کو بیک وقت نقصان پہنچا ہے، دونوں صورتوں میں ڈالر کے لیے پیش رفت کا کھلا میدان موجود ہے۔ اب امریکی اسلحے اور گولہ بارود کی ایک نئی منڈی مستحکم ہو رہی ہے۔ یہ سب کچھ روسی فوج کے ساتھ براہ راست فوجی تصادم یا جوہری جنگ کے خطرے کے بغیر ڈیزائن کیا گیا ہے۔

امریکہ کواپنی بالادستی قائم رکھنے کے لیے اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ اس کی معیشت اور ڈالرکے تحفظ کے لیے مسلسل جنگ اور تصادم جاری رہے۔ لیکن اس حکمت عملی کا ایک منفی پہلو بھی ہے اور یہ اس حقیقت میں مضمر ہے کہ دنیا اب یونی پولر نہیں رہی۔ چین ورلڈ آرڈر کا متبادل ہے۔ واشنگٹن کو آزاد منڈی کی دنیا کا چیمپئن سمجھا جاتا تھا لیکن اب اس کی جگہ بیجنگ نے لے لی ہے۔

اب یہ دیکھنا ہے کہ نئی سپر پاورز کی ذہانت کب اور ڈالر کی جنگ میں ڈوبی ہوئی بالادستی کے لیے اپنی کیا جوابی حکمت عملی تیار کرتی ہے۔ تبدیلی کا وقت ، اور ڈالر کا خاتمہ قریب ہے۔ 

اب بھی ایک ایسے دن کی امید باقی ہے جب کسی قوم کی خوشحالی کا مطلب دنیا بھر میں کسی دوسرے کی خونریزی اور تباہی نہ ہوگا۔خدا کرے کہ یوکرین اس کی آخری مثال ثابت ہو ۔

(مضمون نگار جناح رفیع فاؤنڈیشن کے چیئرمین ہیں)

تازہ ترین