برق رفتاری سے بدلتے اس عہد میں ’’جنریشن گیپ‘‘ اب جزوی طور پر پاکستانی معاشرے کا بھی مسئلہ بنتا جارہا ہے۔ وہ زمانے گئے، جب آہستہ روی کا شعار تھا۔ پرانی ہوتی نسل، جنم لینے والی نئی نسل کا ہاتھ تھام کر اور ایک ایک قدم اپنے ساتھ اٹھوا کر چلنا سِکھاتی تھی۔ ذہنی تربیت کے لیے علمی خزینوں سے لے کر مخصوص صحبتوں تک کا انتخاب انتہائی اہتمام سے کیا جاتا تھا، آج ایسی ساری تربیت گاہیں عنقا ہوچکی ہیں۔ مَیں نے چوں کہ ہمیشہ اپنے خاندانی بزرگوں سے اِک نوع کی نسبت خاص محسوس کی اور اُن کے بخشے ہوئے اعتماد سے آج بھی فیض یاب ہوں، تو جب ایک ایک کرکے سب رخصت ہونے لگے، تو یوں لگا، جیسے ساری درس گاہیں اچانک بند کی جا رہی ہیں۔
ایسے میں بہت وقت اسی محرومی کے احساس کے ساتھ گزر گیا، یہاں تک کہ ایک روز اچانک دبستانِ دہلی کے آخری چراغ، اُردو کے مایہ ناز غزل گو شاعر، دانش وَر اور براڈکاسٹر، حضرت تابش دہلوی سے ایک شعری محفل کے اختتام پر ملاقات ہوئی، بہت اپنائیت سے مخاطب ہوئے۔ فرمانے لگے، ’’بی بی! آپ ماشاء اللہ بہت اچھے شعر کہتی ہیں، مَیں آپ کا کلام بہت پسند کرتا ہوں، یوں ہی لکھتی رہیے…‘‘ ظاہر ہے حضرت تابش دہلوی اپنے ادبی مقام کے اعتبار سے جس مرتبے پر فائز تھے، اُن کے یہ الفاظ میرے لیے کسی اعزاز سے کم نہ تھے۔ بڑی طمانیت ہوئی۔
پھر چند ہی روز گزرے ہوں گے کہ ایک اور شعری نشست میں تشریف لائے، مشاعرے کے اختتام پر باریابی کا شرف حاصل ہوا، تو فرمایا، ’’بی بی! آپ نے اپنی غزل کے ایک شعر میں ’’ہُما‘‘ کو مونّث نظم کردیا ہے۔ یہ مذکّر ہے، اِسے درست کرلیجیے گا۔‘‘ گویا روشنی ملنے لگی، مَیں ابتدا میں صحتِ بیان اور الفاظ کے درست استعمال کے حوالے سے خود کو اتنا ذمّے دار نہیں پاتی تھی، مگر جب سے تابش صاحب نے غلط استعمال پر ٹوکنا شروع کیا، الفاظ کے درو بست، اُن کے صحیح تلفّظ اور درست ادائی کے سلسلے میں خاصی محتاط ہوگئی۔
بعدازاں، اُن کی ذات میرے لیے ایک ایسے روشن وجود کی مانند ہوگئی، جس نے مجھے ایک عجیب نوع کا اعتماد بخشا۔ اپنے پہلے شعری مجموعے کی اشاعت سے قبل تابش صاحب کو فون کیا،’’تابش صاحب! یہ میری غزلیں ہیں، براہِ کرم چھپنے سے پہلے ایک نظر دیکھ لیجیے۔‘‘ انہوں نے کوئی تامّل نہ کیا۔ مَیں مسوّدہ اُنہیں دے آئی، دو دن بعد ہی اُن کا فون آگیا، ’’بی بی! میں نے مسوّدہ دیکھ لیا ہے، آپ آکر لے جایئے۔‘‘ مَیں پہنچی، تو انہوں نے مسوّدہ لوٹاتے ہوئے کہا ’’آپ ماشاء اللہ بہت اچھا کہتی ہیں۔ مَیں آپ کی بڑی عزت کرتا ہوں، آپ بہت کم آمیز ہیں اور رکھ رکھائو سے رہتی ہیں۔ ہاں، مگر جو لوگ آپ کی کتاب چھاپ رہے ہیں، اُن سے انپے معاملات ابتدا ہی میں طے کرلیجیے گا۔ ایسا نہ ہو کہ آپ کو نقصان پہنچے۔‘‘ وہ گفتگو کرتے رہے اور میں اُن کی شفقتیں مسّرت بھری حیرانی سے دیکھتی رہی۔
تابش صاحب اپنے ہم عُمر احباب سے ملتے یا نئی نسل کے کسی لکھنے والے سے، رکھ رکھائو، وقار اور متانت کے باوجود ایک والہانہ پن اُن کے برتائو میں مسلسل نظر آتا۔ مَیں جب بھی اُن سے ملتی، وہ کوئی نہ کوئی نصیحت ضرور کرتے، کبھی صحت کے معاملے میں، کبھی بچّوں کی تربیت کے سلسلے میں، اور کبھی سماجی رویّوں کے حوالے سے تنبیہ کے ساتھ تعریف و توصیف بھی۔ مجھے تابش صاحب کی شخصیت کے دیگر پہلوئوں سے کچھ ایسی واقفیت نہ تھی، مگر ایک بار اسلام آباد میں ٹیلی ویژن پروگرام کی ایک ریکارڈنگ کے بعد عالی جی (جمیل الدین عالی) تابش صاحب اور مَیں واپس کراچی آرہے تھے۔
اسلام آباد ائرپورٹ پر موسم کی خرابی کے باعث جہاز سات آٹھ گھنٹے کی تاخیر سے کراچی روانہ ہوا۔ سب بُری طرح تھک چُکے تھے۔ اس سفر میں امجد اسلام امجد بھی ہمارے ساتھ کراچی آرہے تھے، جہاز میں داخل ہوئے، تو اپنی اپنی نشستوں پر بیٹھنے کے بعد سب آپس میں گفتگو کرنے لگے۔ امجد اپنی بذلہ سنجی اور شگفتہ مزاجی کے باوصف تابش صاحب سے ہرچند بے تکلّف تو ہوچکے تھے، مگر احتیاط کو بھی ملحوظ رکھ رہے تھے، وہ ایک کے بعد ایک لطیفہ سُناتے رہے اور عالی جی، تابش صاحب اور مَیں دیر تک محظوظ ہوتے رہے۔
کچھ دیر بعد عالی جی کسی کتاب کے مطالعے میں مصروف ہوگئے، میں اپنی نشست پر سر ٹِکا کر آرام کرنے لگی، مگر مَیں نے دیکھا، تابش صاحب کے لب و لہجے سے مہ و سال کی ساری گرد کہیں اُڑچکی تھی اور وہ اور امجد بے تکلّف دوستوں کی طرح مسلسل ایک دوسرے کو دل چسپ یادداشتیں اور ادبی لطائف سُنانے میں مصروف تھے۔ دیر تک اُن دونوں کی بے ساختہ ہنسی کی آوازیں میرے کانوں میں آتی رہیں۔
تابش صاحب نے نظمیں بھی کہیں، معریٰ شاعری (جس میں قافیے کا خیال نہیں رکھا جاتا) بھی کی۔ شخصیات کے خاکے بھی لکھے اور تنقیدی مضامین بھی، مگر شیدائی وہ سدا غزل ہی کے رہے۔1963ء میں اُن کی غزلیات کا پہلا مجموعہ ’’نیم روز‘‘ 1983ء میں ’’چراغِ صحرا‘‘ 1993ء میں، ’’ماہ ِشکستہ‘‘ اور 1996ء میں ’’دھوپ چھائوں‘‘ شایع ہوا۔ اس دوران ان کی منظومات، نعتیہ، منقبتی کلام اور مرثیوں کے علاوہ نثری مضامین کے مجموعے بھی شایع ہوتے رہے۔ زیرِ نظرتحریر میں بھی ہم نے خود کو ارادی طور پر ان کی غزلیات تک محدود رکھا، کیوں کہ ایک مختصر مضمون میں اُن کی شخصیت اور شاعری کے تمام پہلوئوں کا جائزہ لینا ممکن نہیں۔
تابش صاحب کی غزلیں اس حقیقت کی غمّاز ہیں کہ وہ نہ صرف ایک صاحبِ مطالعہ شاعر تھے، بلکہ عمیق مشاہدے اور گہرے احساس کے باوصف، اساتذہ کے کلام کی معنویت کو خاص اپنے انداز میں سمجھنے کی صلاحیت بھی انہیں کچھ اس طرح ودیعت ہوئی کہ اُن کے اپنے شعری اظہار میں تازگی ِاحساس اور انفرادیت برقرار رہی۔ اُن کی غزلوں میں کلاسیکی غزل کے مروجّہ اسالیب کے اثرات واضح نظر آتے ہیں۔
بطورِ خاص میر، غالب اور فانی کے۔ وہ اقبال اور جوش سے بھی متاثر رہے، مگر انہوں نے کسی اور کی فکر اور احساس کو خود پر طاری کرکے جذبوں کو قلم بند نہیں کیا، بلکہ اپنے غموں اور دُکھوں کو اپنے اندر جذب کرکے صرف ان لذّتوں کو بیان کرنے پر اکتفا کیا، جو اُن کے اپنے دائرئہ احساس میں شامل تھیں۔ مثلاً؎ پیدا یہ فرقِ جادہ و منزل ہوا نہ تھا.....کن مرحلوں میں ہیں قدمِ اولیں سے ہم۔ ایک اور شعر دیکھیے؎ اب تُو ملے تو پائیں ہم اُن کا سراغ بھی.....جو خود بھی کھو گئے ہیں، تجھے بھی نہ پاسکے۔
تمام تر ناآسودگیوں کے باوجود تابش دہلوی اِک باشعور اور حقیقت پسند انسان کی حیثیت سے زندگی کے تقاضوں کو نبھاتے نظر آتے ہیں۔ اُن کی سوچ و فکر نے وقت کی اُڑتی گرد کو تھکن کی چادر بنا کر نہیں اوڑھا، اور نہ اُن کے ظاہری وجود پر کسی زبوں حالی کا غلبہ ممکن ہوسکا، بلکہ ایسا لگتا ہے، جیسے ہر نئے دکھ اور نئی چوٹ کے ساتھ، وہ زندگی کے سفر میں پہلے سے زیادہ بااعتماد ہو کر قدم اٹھاتےرہے ؎ میں اسی دور میں کیا زندہ ہر اِک دور میں ہوں.....کب سے یہ گردشِ ایّام مری تاک میں ہے.....راکھ کا ڈھیر سہی میں مگر اے ،خرمنِ شوق.....اک ناجستہ شرر اب بھی مری خاک میں ہے۔
اگرچہ کبھی کبھی زندگی کے تھکا دینے والے لمحوں میں تابش دہلوی یوں بھی مخاطب ہوئے ہیں؎ آئی تو ہوائے تازہ لیکن.....تنکوں کی طرح بکھر گئے ہم- یا اندھیروں کو تادیر نہ ڈھلتے دیکھا تو کہہ اٹھے؎ روشنی کے لیے بس ایک دِیا، سو ہم نے.....کبھی دیوار پہ رکھا ،کبھی دَر پر رکھا۔ یا بےیقینی کے لمحات میں یہ سوچ ستانے لگی؎ دو ہی موسمِ خزاں، بہار کے ہیں.....دیکھیے ختم ہو یہ سال کہاں۔مگر پھر زندگی اور اس کے لامتناہی حُسن پر اُن کے بھرپور یقین نے اُن کے لب و لہجے کا اعتماد بحال کردیا؎ کب ٹھہرنا ہے رہِ شوق میں کب چلنا ہے.....ہم مسافر ہیں، ہم آدابِ سفر جانتے ہیں۔
وہ نہ صرف خود آدابِ سفر جانتے تھے، بلکہ ان کے شاعرانہ کینوس پر بنی ہوئی زندگی کی سچی تصویریں ہمیں اس سفرِ حیات کے بہت سے رموز سے آشنا بھی کرتی ہیں؎ یہ ذائقہ مرے لہجے میں کچھ یونہی تو نہیں.....غم ِحیات نے اپنا مزہ دیا ہے مجھے۔ غمِ حیات کا بخشا ہوا یہی ذائقہ تھا، جو انہیں خود بھی بہت عزیز تھا، وہ درد کی ان لذتوں سے دست بردار ہونے کو دراصل زندگی اور زندگانی کے لُطف سے دست بردار ہونے کے متراد ف قرار دیتے رہے۔ غمِ دل کی سلسلہ دَر سلسلہ یہی داستان اُن کے شعری اظہار کا حصّہ ہے؎ یہ فراق ووصل و شوق و آرزو کچھ بھی سہی.....اِک غمِ دل ہی مگر افسانہ دَر افسانہ ہے۔
تابش دہلوی نے ایک جگہ اپنی شاعری کے تعارف میں لکھا،’’ میری شاعری دورِ حاضر کی تمام تحریکوں سے متاثر ہوئی اور مَیں نے ارادی طور پر اپنی شاعری کو روایت و جدّت سے ہم آہنگ رکھا ہے، مَیں نے کوشش کی ہے کہ جدّت میں دوسروں کی نقل نہ کروں، بلکہ اپنے استعارے اور اپنی تشبیہات استعمال کروں۔‘‘ تابش صاحب کی شاعری میں روایت و جدّت کی اِسی ہم آہنگی نے اُن کے کلام کو ابلاغ کی اُس سطح پر رکھا کہ بڑے بڑے شعری اجتماعات میں جب وہ اپنا کلام عطا کرتے تو نہ صرف ہم عُمروں سے داد وصول کرتے، بلکہ نئی نسل بھی پوری طرح لُطف اندوز ہوتی۔
اُن کی شاعری اور شخصیت میں کوئی تضاد نہیں، وہ ایک وضع دار، سنجیدہ خُو، صاحبِ نظر شخصیت کے مالک تھے۔ اُن کے رکھ رکھائو اور وضع داری سے اِک پوری تہذیب جھلکتی تھی، لہجے کے ٹھہرائو، بُردباری، گفتگو میں لفظوں کے چنائو کے ساتھ آواز کے زیر و بم سے شخصی اعتماد کے بھرپور تاثر کے ساتھ شاعرانہ اظہار میں گویا اِک پورے عہد کی اجتماعی زندگی کی تصویر دکھائی دیتی تھی۔ انہوں نے اپنے اوّلین مجموعۂ کلام ’’ نیم روز‘‘ میں غزل کی روایت کے جانے پہچانے اور برتے ہوئے موضوعات، احساسات اور دلی کیفیات کو رقم کرتے ہوئے نئے زاویوں سے اس طرح مربوط کیاکہ ان کا شعری اسلوب خود بخود نمایاں ہوگیا۔
مذکورہ مجموعۂ کلام میں وہ فرماتے ہیں؎ اتنے تارے خیال نے توڑے.....آسماں کھو گئے زمینوں میں۔ ؎ رہا اِک اِک قدم پر پاسِ آدابِ طلب ورنہ.....وہاںہم تھے جہاں پانا ترا مشکل نہیں ہوتا۔؎کاش دل ہی ذرا ٹھہر جاتا.....گردشوں میں اگر زمانہ تھا۔ ؎کب ہےدامن گیر ہونے کا جنوں بھی رائیگاں.....ہاتھ میں دامن اب اپنا ہی سہی، دامن تو ہے۔؎ رشک کے قابل تھی شاید میری سحر آسودگی..... بارہا ڈوبا ہوا ساحل نظر آیا مجھے۔؎ تیرے دیوانوں کو آگے نہیں جانے دیتے..... تیری دیوار کے سائے بھی تو دیوار ہوئے۔؎ جوشِ وحشت میں قدم اور اٹھائیں تو کہاں.....وسعتیں رہ گئیں یک گام بیابانوں کی۔؎ زمانہ رہ گزرِ سیل تند ہے تابش.....یہاں نہ ہم نہ ہمارا غبار ٹھہرے گا۔ تابش صاحب کے اس معیارِ کلام کو مشاعرے کے دادو تحسین کے پیمانوں سے نہیں ناپا جا سکتا۔
اُن میں فکر و معانی کی گہرائی کے ساتھ رمزیت اور اشاریت اور زبان کا ایسا رچائو ہے، جو خاص صنف ِغزل سے منسوب ہے۔ تابش دہلوی ایک عجلت پسند قلم کار نہیں، اُن کی غزلیات کا دوسرا مجموعہ ’’چراغِ صحرا‘‘ جب دو دہائیوں کے فرق کے بعد سامنے آیا، تو اندازہ ہوا کہ ’’نیم روز‘‘ کے رنگِ تغزّل پر کس قدر مزید نکھار آچکا ہے۔ یہ نکھار محض مشقِ سخن کا مرہونِ منّت نہ تھا، اس کے پس منظر میں تخلیقی انہماک کی وہ طویل ساعتیں تھیں، جن کے اختتام پر رُتوں کی تازہ کاریاں نئے رنگ بکھیرتی ہیں۔
’’نیم روز‘‘ سے لے کر ’’دُھوپ چھائوں‘‘ تک یہ رنگ پھیلے ہوئے ہیں؎ وہ بھی پڑتا ہے برسرِ منزل.....جو قدم بے ارادہ رکھتے ہیں۔ ؎ مانا شکستِ قیمتِ دل ہے نگاہِ لُطف.....ہم اور بھی گراں ہیں خریدار دیکھ کر۔؎ ابھی ہیں قُرب کے کچھ اور مرحلے باقی.....کہ تجھ کو پا کے ہمیں پھر تری تمنّا ہے۔؎ ہم اکیلے ہی نہیں آئے ہیں تیری بزم سے.....آج تو تجھ کو بھی تیری انجمن سے لائے ہیں۔؎ عمر بھر کو متاعِ جاں ٹھہری.....وہ خلش پھر جو عُمر بھر نہ ہوئی۔؎ جانفراء نیم نظر بھی، نگۂ لُطف بھی ہے.....کون سے تیر کو پیوستِ رگِ جاں کرلیں۔ ؎ تِرا وصال تو کس کو نصیب ہے لیکن.....ترے فراق کا عالم بھی کس نے دیکھا ہے۔ ؎ اپنی ویرانیٔ خاطر معلوم.....خلوتِ غم بھی ہے آباد اب کے۔
تابش دہلوی کو ورق دَر ورق پڑھتے چلے جایئے، نہ کسی حرف میں ابتذال ملے گا، نہ کسی خیال میں سطحیت، نہ کیفیتوں میں خود رحمی، نہ احساس میں پژمردگی۔ بس کسی دل میں اِک آگ کے مسلسل سلگتے رہنے کا احساس ہوگا، جس کے مدھم مدھم شعلے وجود کو راکھ نہیں کرتے بلکہ دل و دماغ میں اُجلی اُجلی روشنی پھیلائے رہتے ہیں۔ ؎ سیلِ گریہ کرگیا شاداب گل زارِ امید.....دل سے جو نالہ اٹھا سروِ چراغاں ہو گیا۔ ان اوراق میں تغزّل کے حُسن کے ساتھ زندگی کا بھی بھرپور حُسن موجود ہے۔ تابش صاحب زندگی کے اسی حُسن کے بیان کے شاعر ہیں۔
اسی لیے اُن کے یہاں غم کا ہمہ رنگ احساس مسّرتوں کی نمود سے اس طرح وابستہ نظر آتا ہے کہ غم اور خوشی ایک ہی کیفیت کے دو نام لگتے ہیں۔ اُن کے نزدیک احساسِ غم ایک قوّت ہے اور جو لوگ اپنے غموں سے مسّرتیں کشید کرنے کا ہُنر جانتے ہیں، وہ زندگی کو سدا اپنی دست رس میں پاتے ہیں۔ اُن کے کلام میں اگرچہ خارج کے مظاہر کم کم ہیں، مگراس کے باوجود وہ دنیا اور کارِ دنیا سے دل برداشتہ، ایک ایسے غم پسند انسان کے طور پر نہیں ملتے، جو اپنی خلوتوں اور تنہائیوں میں اپنے اندر پلنے والے دُکھوں کو کسی مرض کی طرح جھیل رہا ہو۔ اُن کے سارے دُکھ سُکھ، انسانی روابط کے نتیجے ہی میں جنم لیتے ہیں۔ اُن کا مکالمہ اگرچہ بیش تر اپنے آپ ہی سے جاری رہتا ہے، مگر اس مکالمے کے دائرے میں اُن کی اپنی ذات کے ساتھ ساتھ کائنات اور فرد کے تعلق سے سارے سماجی رشتے اور فطرتِ انسانی کے دیگر مظاہر بھی شامل ہیں۔