• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اقصیٰ منوّر ملک، صادق آباد

’’وہ تو بہت ہی سُست شخص ہے‘‘، ’’مَیں نے اپنی زندگی میں اتنی کنجوس عورت نہیں دیکھی‘‘،’’وہ تو شکل ہی سے بُرا آدمی لگتا ہے‘‘،’’مَیں نے آج تک اُسے کبھی نماز پڑھتے نہیں دیکھا‘‘۔لوگوں کے کسی بھی قسم کے عیوب بیان کرنا غیبت کے زمرے میں آتا ہے۔ سورۃ الحجرات کی آیت نمبر12میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ’’اے ایمان والو! بہت سی بدگمانیوں سے بچتے رہو، کیوں کہ بعض گمان تو گناہ ہیں، اور ٹٹول بھی نہ کیا کرو اور نہ کوئی کسی سے غیبت کیا کرے، کیا تم میں سے کوئی پسند کرتا ہے کہ اپنے مُردہ بھائی کا گوشت کھائے۔

اسے تو تم ناپسند کرتے ہو۔ اور اللہ سے ڈرو۔ بے شک اللہ بڑا توبہ قبول کرنے والا نہایت رحم والا ہے۔‘‘جس طرح ہم اپنے مَرے ہوئے مسلمان بھائی کا گوشت کھانے کو صریحاً ایک حرام عمل سمجھتے ہیں اور اس بات کے تصوّر ہی سے نفرت وکراہیت محسوس ہوتی ہے،بالکل اسی طرح کسی کی غیبت کرنا بھی صریحاً حرام عمل ہےجس طرح مُردار کا گوشت مضرِصحت ہوتا ہے کہ اس کے استعمال سے جراثیم اور بیماریاں جسم میں داخل ہوجاتی ہیں، ایسے ہی غیبت سے اُس شخص کی بُرائیاں بھی غیبت کرنے والے میں منتقل ہو جاتی ہیں۔

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے ،’’ حضور اکرم ﷺ نے صحابہ کرامؓ سے دریافت فرمایا ،’’کیا تم جانتے ہو، غیبت کیا ہے؟‘‘ انہوں نے عرض کیا ’’اللہ اور اس کا رسولؐ بہتر جانتے ہیں‘‘۔ آپ ﷺ نے فرمایا’’تم اپنے بھائی کا تذکرہ کرو، جو اُسے ناپسند ہو ،تو یہ غیبت ہے‘‘۔ عرض کیا گیا ’’اگر اُس میں واقعی وہ بات موجود ہو، جو مَیں کہتا ہوں تو؟‘‘ فرمایا’’اگر اُس میں وہ بات موجود ہے، جو تم کہتے ہو، تب ہی تو غیبت ہے۔ اگر اُس میں وہ بات ہی نہیں، تو تم نے تو اُس پر بہتان باندھا۔‘‘(صحیح مسلم)۔ابو اللیث سمر قندی فرماتے ہیں کہ ’’کسی کے متعلق اتنا کہنا کہ اس کا کپڑا چھوٹا یا لمبا ہے، یہ بھی غیبت ہے اور جب اُس کی ذات سے متعلق کچھ کہا جائے گا ،تو کیا وہ غیبت نہیں ہو گی؟‘‘

علمائے نے غیبت کی کئی اقسام بیان کی ہیں، جن میں سے ایک قسم کفر بھی ہے۔ اور کفر کی صُورت یہ ہے کہ اگر کوئی کسی مسلمان کی غیبت کررہا ہو اور کوئی دوسرا اُسے ٹوک دے کہ غیبت نہ کرو اور جواباً وہ کہے کہ یہ غیبت نہیں ہے، مَیں سچ ہی تو کہہ رہا ہوں۔ تو گویا اُس شخص نے اللہ کی حرام کردہ چیز کو حلال قرار دے دیا اور ایسا کرنے والا کافر ہو جاتا ہے۔(العیاذ باللہ) غیبت کی دوسری قسم نفاق ہے۔ جب انسان کسی کی غیبت اُس کا نام لیے بغیر کرے اور مخاطب سمجھ رہا ہو کہ فلاں شخص کی بات ہو رہی ہے۔ 

اکثر سُنا ہے کہ عورتیں غیبت کرنے سے پہلے کہتی ہیں ’’اللہ معاف کرے‘‘ اور اس کے بعد غیبت شروع کر دیتی ہیں۔ گویا سمجھتی ہیں، اللہ نے معاف کر دیا ہوگا، حالاں کہ جب تک اُس شخص سے معافی نہیں مانگی جائے گی، جس کی غیبت کی گئی ہوگی اور اُس نے معاف نہ کیا ہوگا، تب تک اللہ بھی معاف نہیں کرےگا۔ یہی نہیں، بلکہ غیبت کرنے والا اپنی جمع شدہ نیکیاں بھی اُسے دے دیتا ہے، جس کی وہ غیبت کرتا ہے۔

کس قدر افسوس ناک بات ہے کہ ایسی حرام اور ناپاک شے ،جو زنا سے بد تر اور نیکیوں کے زیاں کا باعث ہے، وہ مجلسوں کی رونق اور محبوب ترین مشغلہ بن گئی ہے۔ عوام و خواص، مَرد و عورت، دُنیا دار اور دین دار کسی کی مجلس بھی بالعموم اس وَبا سے پاک نہیں اور غضب یہ کہ اب تو غیبت کو غیبت یا گناہ سمجھا ہی نہیں جاتا، حالاں کہ یہ زہرِ ہلاہل سے کم نہیں۔ اللہ تعالیٰ ہماری زبانوں کو غیبت کی آلودگی سے سے محفوظ و مامون فرمائیں۔ آمین، ثم آمین۔

سنڈے میگزین سے مزید