• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

شاعر: زاہد حسین راجہ

صفحات: 176، قیمت: 1000روپے

ناشر: ماورا پبلشرز،60شاہراہِ قائدِ اعظم، لاہور۔

صاحبِ کتاب کا شمار شعرا ءکے اس قبیلے میں ہوتا ہے، جن کے نزدیک شاعری ان کی زندگی کا مسئلہ نہیں، دِلی تسکین کا ایک ذریعہ ہے۔ وہ بڑے بڑے سرکاری عُہدوں پر فائز رہے،لیکن جہاں بھی گئے، شاعرانہ مزاج اُن کے ساتھ گیا۔ انہوں نے غزلوں اور نظموں کے علاوہ نعتوں پر بھی خصوصی توجّہ دی ۔ صاحبِ کتاب نے اپنے تازہ مجموعۂ کلام میں ایک حمد، سات نعتیں اور 71غزلیں شامل کی ہیں، متفرق اشعار ان کے علاوہ ہیں۔ ان کی غزلوں میں معاملات حُسن و عشق بھی ہیں اورسماجی ناہم واریوں کے خلاف احتجاج بھی۔ 

معاشرتی زندگی کو بھی انہوں نے ذریعۂ اظہار بنایا ہے اور ہجر کی کیفیتوں کو بھی نہایت سلیقے سے برتا ہے، جب کہ نعتیں بھی بہت مختلف پیرائے میں لکھی ہیں، جن میں صرف عقیدت ہی نہیں، جذبہ بھی موجود ہے۔ عشقِ رسولؐ اُن کے لفظ لفظ سے عیاں ہے اورانہوں نے اپنی غزلوں میں بھی تعلی سے گریز کیا ہے،اِس سے ان کی میانہ روی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ 

بلاشبہ، ان کی غزل فکری سچائیوں سے عبارت ہے۔ کتاب کادیپاچہ خالد علیم نے ’’زاہد راجہ اور اُن کی شاعری‘‘ کے عنوان سے لکھا ہے۔ فلیپ پر عطاء الحق قاسمی کی یہ رائے سند کا درجہ رکھتی ہے کہ’’روایتی شعراء کی طرح زاہد راجہ کے کلام میں صرف حُسن و عشق اور ہجر و وصال ہی نہیں ملتا، بلکہ ان کے شعروں میں سماجی شعور کا احساس بھی ایک منفرد انداز کے ساتھ نظر آتا ہے۔‘‘

سنڈے میگزین سے مزید