کراچی (اسٹاف رپورٹر) ایڈمنسٹریٹر کراچی لئیق احمد نے کہا ہے کہ آج کے زمانے میںٹیکنالوجی کی ضرورت سے انکار نہیں تاہم کمپیوٹر کتابوں کا متبادل ہرگز نہیں ہے انٹرنیٹ سے موصولہ اطلاعات اپ ڈیٹ تو کرسکتی ہیں لیکن علم کی بالیدگی کتابوں سے ہی آتی ہے، کتاب پڑھنے اور نہ پڑھنے والوں کے درمیان ہزاروں سال کا فرق ہوتا ہے کشادہ ذہن کسی بھی تاریک ذہن سے بہت آگے ہوتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوںنے بزم فروغ ادب و فن اور فرید پبلیشرز کے زیراہتمام 30ویں سالانہ کتب میلے کے آغاز پرمنعقدہ تقریب میں بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ تقریب کی صدارت پروفیسر سحر انصاری نے کی کتب میلے میں تاریخ، ادب ، سائنس، تعلیم، فلسفہ ، سفر نامے اور مذہب سمیت مختلف موضوعات پر سیکڑوں کی تعداد میں کتابیں رکھی گئی ہیں۔تقریب سے ممبر صوبائی اسمبلی محفوظ یار خان، پروفیسر اعجاز فاروقی، اے ڈی آئی جی ٹریفک طاہر نورانی، سہیل عابدی، تاج علی رعنا، انیس احمد اور سید فرید حسین نے بھی خطاب کیا ۔ ایڈمنسٹریٹر کراچی لئیق احمد نے کہا کہ کسی بھی کام کو مسلسل تیس سال تک انجام دینا کوئی معمولی بات نہیں بلکہ یہ ایک بڑا کام ہے فرید حسین خراج تحسین کے حقدار ہیں کہ وہ مسلسل تیس سالوں سے کتاب میلہ سجا رہے ہیں اور یوں معاشرے میں کتاب کلچر کے فروغ میں اپنا نمایاں کردار ادا کررہے ہیں۔انہوںنے کہا کہ انسان اور دیگر مخلوقات میں جو فرق ہے وہ عقل ہی کی وجہ سے ہے جو انسان کو عطا ہوئی ہے عقل کے لازمی جز الہام، تجربہ اور دماغ میں موجود الفاظوں کا ذخیرہ یا حافظہ ہے آج کے دور میں جو بھی کتابیں موجود ہیں وہ مختلف ادوار کے انسانوں کی تحقیق، علم اور تجربہ کی بنیاد پر تحریر کی گئی ہیں اب یہ موجودہ نسل کا کام ہے کہ وہ اس علم سے فائدہ اٹھائے اور ان موضوعات کا انتخاب کرے جس سے اسے اپنے کام اور ہنر پر دسترس حاصل ہو اور اسے اچھے اور برے کی تمیز ہوسکے۔ انہوں نے کہا کہ ترقی یافتہ ممالک میں بچوں کو کتابوں کے نزدیک لایا جا رہا ہے اور وہاں اس بات کی کوشش کی جارہی ہے کہ بچوں کا رشتہ کتاب سے مضبوط سے مضبوط تر ہو، ہیری پورٹر جیسے ناول اس چیز کی مثال ہیں۔ انہوںنے کہا کہ شہر میں ایک وقت ایسا بھی تھا کہ گلی محلوں میں موجود چھوٹی چھوٹی دکانوں پر کتابیں کرائے پر پڑھنے کیلئے ملتی تھیں اور کتابوں سے شغف رکھنے والے قارئین ان کتابوں کو حاصل کرکے بڑے شوق سے پڑھا کرتے تھے مگر پھر ایک ایسا وقت بھی آیا کہ یہ دکانیں کتابوں سے خالی ہوگئیں ۔