• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

علامہ محمد اقبالؒ کے والدین کی قبور کو قومی ورثے کا درجہ دے دیا گیا

چند ہفتے قبل ایک طویل جدوجہد کے بعد مصوّرِ پاکستان، ڈاکٹر علّامہ محمّد اقبالؒ کے والدین کی قبور کو قومی وَرثہ قرار دیتے ہوئے ایک صدی پرانی ان بوسیدہ قبور کو خُوب صُورت مزار میں تبدیل کردیا گیا ہے۔ گزشتہ تین دہائیوں میں راقم الحروف کا گزر جب بھی امام صاحب روڈ، سیال کوٹ سے ہوا، تو شاعرِ مشرق کے والدین کی خستہ قبریں دیکھ کر ہمیشہ دُکھ اور افسوس ہوتا۔ضلعی انتظامیہ ہر سال یومِ اقبالؒ پر ان قبروں پر پھولوں کی چادریں تو چڑھاتی، مگر اُسے کبھی ان کی دیکھ بھال کا خیال نہ آیا۔ 

اِن قبور کو قومی وَرثے کا درجہ دِلوانے کے محرّک، محمّد عمران خان لودھی کی کاوشیں لائقِ تحسین ہیں، جنہوں نے اس مشن کی تکمیل کے لیے رضوان بٹ کے ذریعے پہلا قدم بڑھایا اور پھر عثمان ڈار(رہنما پاکستان تحریکِ انصاف) نے علّامہ محمّد اقبال سے دلی وابستگی اور لگاؤ کی عمدہ مثال قائم کرتے ہوئے اُن کا بھرپور ساتھ دیا۔ڈپٹی کمشنر سیال کوٹ عبداللہ خرم نیازی، سی او فیصل شہزاد اور وسیم بٹ نے قدم بہ قدم ساتھ دیا اور سب سے بڑھ کر عکس اقبال، منیب اقبال کی خصوصی دل چسپی اور بھرپور رہنمائی سے یہ کام پایۂ تکمیل کو پہنچا۔خاندانِ اقبال سے منیب اقبال ہی ایک ایسی شخصیت ہیں، جو اہلِ سیال کوٹ سے بے حد محبّت و عقیدت رکھتے ہیں۔

یہاں پہلی قبر اُن کی والدۂ محترمہ، امام بی بی کی ہے، جو اپنے خاندان میں ’’بے جی‘‘ کے نام سے پکاری جاتی تھیں۔اُن کا تعلق سمبڑیال ضلع سیال کوٹ کے ایک کشمیری گھرانے سے تھا۔ جہاں 1834ء میں پیدا ہوئیں۔ انتہائی وضع دار خاتون تھیں، پڑھنا لکھنا نہیں جانتی تھیں، لیکن صوم وصلوٰۃ کی بے حد پابند تھیں۔ پورا محلّہ اُن کا گرویدہ تھا۔ دیانت داری کا یہ حال تھا کہ محلّے کی اکثر عورتیں اُن کے پاس اپنا زیور اور دیگر قیمتی سامان بطور امانت رکھتی تھیں۔ محلّے یا برادری کی خواتین میں کبھی کوئی تنازع ہوجاتا، تو فیصلے کے لیے’’بے جی‘‘ کو ثالث مقرّر کیا جاتا۔ وہ غریب اور نادار عورتوں کی خفیہ طور پر امداد بھی کرتی رہتیں۔ ایک دو مرتبہ ایسا بھی ہوا کہ اپنے گھر غریب خاندانوں کی بچیاں لے آئیں اور اُنہیں بڑے ناز و چائو سے پالا، جب جوان ہوگئیں، تو اُن کی شادی کروادی۔

یہ 1914ء کے موسمِ گرما کا ذکر ہے کہ بے جی خاصی کم زور ہوچُکی تھیں اور گزشتہ چند برسوں سے علیل چلی آرہی تھیں۔ دردِ گردہ کی شکایت تو جانے کب سے تھی اور اس کے علاج کے لیے جانے کون کون سے نسخے اُن کے زیرِ استعمال رہ چکے تھے۔ حضرت علّامہ اقبال سیال کوٹ آئے ہوئے تھے۔ ایک روز بے جی کو ہلکا سکا بخار ہوا اور چند روز میں اس نے موسمی بخار بن کر خاصی شدّت اختیار کرلی۔علّامہ اقبال کی خواہش تھی کہ بے جی کو علاج کے لیے لاہور لے جائیں، لیکن وہ کسی قیمت پر سیال کوٹ چھوڑنے پر آمادہ نہ تھیں۔9 نومبر 1914ء کو انتقال کرگئیں۔

اُنھیں درگاہ امام علی الحق سے ملحقہ قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا۔اُن کی وفات پر علّامہ اقبال نے ایک نظم ’’والدۂ مرحومہ کی یاد میں‘‘ لکھی، جو بعدازاں بانگِ درا کی زینت بنی۔ اس نظم کا آخری شعر اس قدر مقبولِ عام ہے کہ پاکستان میں اکثر قبور کے کتبوں پر کندہ کیا جاتا ہے آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے…سبزۂ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے۔

دوسری قبر علّامہ اقبال کے والدِ گرامی، شیخ نور محمّد کی ہے ۔ قیاس ہے کہ وہ 1840ء کو سیال کوٹ کے محلّے کھٹیکاں میں پیدا ہوئے۔ اُنھیں عرفِ عام میں ’’نتھو‘‘ کہا جاتا تھا۔ اس کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ اُن کی پیدائش سے پہلے اُن کے والدین کے ہاں دس لڑکے اوپر تلے فوت ہو گئے تھے۔ شیخ نور محمد کی پیدائش پر بڑی منتیں مانی گئی تھیں اور مقامی ٹوٹکے کے مطابق، اُن کی ناک چھدوا کر سونے یا چاندی کی نتھ پہنا دی گئی تھی۔ اس نتھ کی وجہ سے لوگ اُنہیں ’’نتھو‘‘ کہہ کر پکارنے لگے۔

تاہم، اپنے خاندان میں ’’میاں جی‘‘ کے لقب سے معروف تھے۔نہایت وجہیہ، رنگ سرخ، داڑھی سفید، لباس سادہ، نہایت متین، ذی عقل، سنجیدہ مزاج اور کم گو تھے۔ شیخ نور محمّد پڑھے لکھے تو نہ تھے، لیکن شروع ہی سے اہلِ دین کی صحبت نے اُنہیں تصوّف کی جانب مائل کر دیا تھا۔صوفیانہ عادات و اطوار اُن کی شخصیت کے نمایاں پہلو تھے۔

وہ سلائی کرڑھائی کے کام میں ماہر تھے اور اُنھیں سیال کوٹ میں برقعوں کی ٹوپی کا ’’موجد‘‘ کہا جاتا ہے۔اُن کے ہاں دو بیٹوں، شیخ عطا محمّد اور محمّد اقبال، جب کہ تین بیٹیوں کی ولادت ہوئی۔شیخ نور محمد المعروف میاں جی کا انتقال تقریباً90 برس کی عُمر میں 17 اگست 1930ء کو ہوا۔اِس مزار میں تیسری قبر علّامہ اقبال کی پہلی بیٹی معراج بیگم کی ہے، جو اُن کی پہلی بیوی کریم بی بی کے بطن سے پیدا ہوئیں۔یہ صرف انیس برس کی عُمر میں1915ء میں وفات پاگئی تھیں۔