معروف بھارتی مصنف، منظر نگار اور شاعر جاوید اختر نے ایک بار پھر پاکستان کے بارے میں بیان دیا ہے۔
جاوید اختر سے ایک ایونٹ کے دوران میزبان چیتن بھگت نے سوال کیا کہ پاکستان میں مہنگائی بہت زیادہ ہے، معیشت کا برا حال ہے، ریزرو ختم ہیں اور انہوں نے آئی ایم ایف کے آگے گھٹنے ٹیکے ہوئے ہیں، کیا آپ نے اپنے دورۂ پاکستان کے دوران وہاں ایسی کوئی چیز محسوس کی؟
اُنہوں نے اس سوال کے جواب میں کہا کہ بالکل نہیں، بات یہ ہے کہ بھارت میں غربت آپ کو امیروں کے گھروں کے سامنے کھڑے بھی نظر آجاتی ہے لیکن وہاں پاکستان میں مجھے ایسا لگتا ہے کہ غربت چھپائی جاتی ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ میں 3 بار لاہور گیا ہوں مگر مجھے وہاں کہیں بھی سڑکوں اور گلیوں پر غربت نظر نہیں آئی، ہمارے ممبئی شہر کی طرح وہاں کہیں غریبوں کے گھر نظر نہیں آئے اور میں حیران ہوں کہ ان لوگوں نے کس طرح سے ایسا انتظام کیا ہوا ہے۔
چیتن بھگت نے جاوید اختر کی یہ بات سننے کہ بعد کہا کہ سر، وہ لوگ آپ کو اسپیشل راستے سے لے کر گئے ہوں گے نہ جہاں سے آپ کو غربت دکھائی نہ دے۔
جس پر جاوید اختر نے کہا کہ ایسی بات نہیں ہے، آپ ممبئی یا دہلی میں اپنے مہمان کو کسی بھی اسپیشل راستے سے لے جائیں کہیں نہ کہیں غربت نظر آجائے گی کیونکہ ہمارے یہاں اچھا اور برا سب سامنے ہے لیکن پاکستان میں ایسا نہیں ہے، وہاں پر غربت نظر نہیں آتی۔
واضح رہے کہ لاہور میں سجا فیض احمد فیض فیسٹیول اپنی تمام رنگینیاں بکھیر کر اپنے اختتام کو پہنچا، اس دوران قومی فنکاروں نے پڑوسی ملک سے آئے مہمان بھارتی مصنف، شاعر اور نغمہ نگار جاوید اختر کی خوب خاطر تواضع بھی کی۔
لیکن جب جاوید اختر کا پاکستان مخالف بیان سوشل میڈیا کی زینت بنا تو کہرام مچ گیا، وہی فنکار جو ایک روز قبل ان کے گُن گا رہے تھے، وطن مخالف بیان سن کر انہیں آڑے ہاتھوں لے لیا اور اس بیان کی شدید مذمت کرتے ہوئے جاوید اختر کو یاد دہانی کروائی کہ آپ فن کی خدمت کے لیے پاکستان آئے تھے، سیاست کرنے نہیں۔