آئی بی ایس ( Irritable Bowl Syndrome ) معدے کی ایک عام بیماری ہے، بلکہ اِسے بیماری کہنا بھی درست نہیں ہوگا، اِسے بےترتیبی کی ایک حالت کہا جاسکتا ہے، تاہم اِس کے لاحق ہونے کی وجوہ کا اب تک تعیّن نہیں کیا جاسکا، البتہ بعض روز مرّہ اور مستقل رہنے والی علامات سے اِس کی شناخت یا تشخیص میں مدد مل سکتی ہے۔ اِس ڈس آرڈر کی صُورت میں عمومی طور پر بڑی آنت متاثر ہوتی ہے۔
دراصل آئی بی ایس بہت ہی خاموشی سے انسانی جسم میں پنپنے والی بیماری ہے اور بعض طبّی ماہرین کے مطابق تو ہر پانچ میں سے ایک فرد کو زندگی کے کسی نہ کسی مرحلے پر آئی بی ایس ہوسکتا ہے۔ یہ مَردوں کے مقابلے میں خواتین کو زیادہ متاثر کرتا ہے اور عموماً 20 سال کی عُمر کے بعد ظاہر ہوتا ہے۔ نیز، یہ اکثر مورثی بھی ہوتا ہے۔
جدید تحقیق کے مطابق آئی بی ایس کے بیش تر کیسز کا تعلق آنت کے بڑھنے، حسّاس ہونے یا ہاضمے میں خرابی سے دیکھا گیا ہے، جب کہ یہ ایسی بیماری ہے، جو اثر انداز ہونے کے بہت دن بعد تک بھی سامنے نہیں آتی اور اکثر اوقات خُردبین سے دیکھنے پر بھی آنت کے تمام حصّے نارمل نظر آتے ہیں۔مگر یاد رہے،آئی بی ایس، آنتوں کی سوزش کی بیماری (Inflammatory bowel disease،آئی بی ڈی) سےیک سر مختلف سینڈروم ہے۔
علامات: اِس بیماری کی علامات کچھ مریضوں میں مشترک ہوسکتی ہیں اور ہر ایک میں الگ، الگ بھی۔ بعض مریضوں میں علامات کافی شدّت کے ساتھ ہوتی ہیں، خاص طور پر جب وہ اسٹریس میں ہوں یا کوئی مخصوص کھانا کھائیں۔ اِن علامات میں پیٹ میں درد یا بَل پڑنا، پیٹ کے مختلف حصّوں میں درد محسوس ہونا اور درد کا بار بار یا رُک رُک کر ہونا، نظامِ انہضام میں بے قاعدگی، موشن یا قبض کی شکایت، بد ہضمی یا تیزابیت، تھکن کا احساس، پیٹ میں گیس یا مروڑ اُٹھنا، پاخانہ کرنے میں تکلیف ہونا،پیٹ کا پھولا ہوا محسوس ہونا، مستقل قے یامتلی کی کیفیت رہنا، جسم میں درد،سر کا بھاری ہونا،طبیعت میں چڑچڑاہٹ، پٹھوں میں شدید درد ،سینے میں جلن، نیند کا ضرورت سے زیادہ یا بالکل نہ آنا وغیرہ شامل ہیں۔
آئی بی ایس کو تین بنیادی اقسام میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔1))IBSD : اس کی سب سے اہم علامت ڈائریا اور پیٹ کا درد ہے، یہ آئی بی ایس کی عام قسم ہے۔(2)IBSC اس کی سب سے اہم علامت شدید قبض اورپیٹ کا درد ہے، یہ آئی بی ایس کی دوسری عام قسم ہے ۔(3)IBSM : اِس میں دونوں علامات، یعنی ڈائٹریا اور قبض (Constipation) پائی جاتی ہیں۔
تشخیص: اِس مرض کی تشخیص کے لیے بلڈ یا لیبارٹری ٹیسٹ کچھ خاص کار آمدثابت نہیں ہوتے، اِس لیے تشخیص کے لیے ROME IV کا Criteria استعمال کیا جاتا ہے کہ کلینکل علامات دیکھ کر ہی مرض کی شناخت کی جاتی ہے۔ بیش تر ڈاکٹرز اس کو علامات ہی کے ذریعے تشخیص کرتے ہیں اور مریض کی مکمل ہسٹری سےبیماری کی تہہ تک پہنچتے ہیں۔ البتہ کچھ ٹیسٹس سے بیماری کو سمجھنے میں آسانی ہوسکتی ہے، جن میں اسٹول ٹیسٹ، اینڈو اسکوپی اور سی۔ ٹی اسکین وغیرہ شامل ہیں۔
علاج: اِس بیماری کے علاج کے لیے کوئی خاص دوا نہیں دی جاتی۔ بس، عام طور پر کھانے پینے کی عادات، کیفین، کولا، چکنائی والےکھانوں اورالکوحل وغیرہ کے استعمال کو مدّنظر رکھ کر ہی ادویہ تجویز کی جاتی ہیں۔ اس کے مریضوں کے لیے فائبر کا زیادہ استعمال بےحد فائدہ مند ہے۔ خصوصاً قبض کے لیے کچھ ڈائٹس، خاص طور پرFODMAP آئی بی ایس کے مریضوں کے لیے بنائی گئی ہیں، یہ ڈائریا اور پیٹ کے درد میں کمی کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہوتی ہیں۔ زیادہ پھل، سبزیوں، اناج اور گِری دار میووں کے استعمال کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ دن بھرمیں آٹھ سے دس گلاس پانی لازماً پینے اور پنیر اور دودھ کا استعمال محدود کرنےکا بھی مشورہ دیا جاتا ہے کہ ایسے افراد میں لیکٹوز کی زیادتی عام دیکھی جاتی ہے۔
باقاعدہ ورزش، تمباکو نوشی سے مکمل پرہیز، کام کے بعد آرام، سارے دن کے کھانے کو بار بار اور چھوٹے چھوٹے حصّوں میں تقسیم کرکے کھانا، نیز اسٹریس/ ڈیپریشن مینجمینٹ وغیرہ کو اس تکلیف سے نمٹنے کے لیے ناگزیرقرار دیا گیا ہے۔ باہر کے کھانوں، خاص طور پر فاسٹ فوڈز سے مکمل پرہیزکوضروری خیال کرتےہوئے ایسی غذائوں کے استعمال کی ترغیب دی جاتی ہے، جن میں فائبر موجود ہو۔ اس ضمن میں اسپغول کے چھلکے، جَو اور گندم کے مکس آٹے، سونف، الائچی اور دارچینی کے استعمال کو فائدہ مند تسلیم کیا گیا ہے۔ (مضمون نگار، کنسلٹنٹ گیسٹرو انٹرولوجسٹ ہیں اور امجد میڈیکل سینٹر، کراچی سے وابستہ ہیں)