مصنّفہ: سلمیٰ اعوان
صفحات: 320، قیمت: 1250 روپے
ناشر: بُک کارنر جہلم۔
فون نمبر: 0321-5440882
سلمیٰ اعوان معروف لکھاری ہیں اور زیرِ نظر سفرنامہ، اُن کا گیارہواں سفرنامہ ہے، اِس کے علاوہ اُن کے کئی ناولز اور افسانوں کے مجموعے بھی شایع ہو چُکے ہیں۔گو کہ کتاب میں تو اِس بات کا ذکر نہیں کیا گیا، مگر مطالعے کا ذوق رکھنے والوں کے علم میں ہوگا کہ یہ سفرنامہ، روزنامہ جنگ کے سنڈے میگزین کے29مئی 2022ء سے2اکتوبر 2022ء تک کے شماروں میں 19 اقساط میں ’’دل کو ’’چِین‘‘ کا ہے سفر درپیش‘‘کی سُرخی کے تحت شایع ہوتا رہا ہے، البتہ کتاب میں ترتیب بدل دی گئی ہے، جیسے میگزین میں شایع ہونے والی پہلی قسط، اِس کتاب کا پانچواں باب ہے۔
اِن دنوں ’’ گوگلی سفرناموں‘‘ کی بھرمار ہے۔اِس کی مثال یوںہے، جیسے کوئی شخص لاہور کا سفرنامہ لکھے اور بتائے کہ ہم مینارِ پاکستان پہنچے اور پھر گوگل کی مدد سے اُس کی پوری تاریخ لکھ ڈالے، اِسی طرح بادشاہی مسجد اور دیگر مقامات کی تاریخی تفصیلات سے صفحات کے صفحات بَھر دے،حالاں کہ قارئین کی تو تاریخ کے ساتھ یہ جاننے میں دل چسپی ہوتی ہے کہ وہ وہاں تک کیسے پہنچے، راہ میں کیا واقعات رُونما ہوئے، کیا کچھ دیکھا، کیا باتیں ہوئیں،کیا احساسات و جذبات رہے، ان مقامات کی اب کیا حالت ہے۔
ایک صاحب اپنی منزل پر پہنچنے کے لیے چند ممالک سے صرف گزرے، تو اُن ممالک کا بھی اِسی گوگلی تیکنیک کے ذریعے کئی سو صفحات کا سفرنامہ لکھ ڈالا، تاہم سلمیٰ اعوان اِس لحاظ سے منفرد ہیں کہ اُنھوں نے جہاں ضروری سمجھا، وہاں مختلف مقامات اور شخصیات سے متعلق اپنے سفرنامے میں تاریخی تفصیلات تو دی ہیں، لیکن اُن کا اپنا مشاہدہ، تجربہ اور درپیش واقعات کا بیان غالب ہے، جس سے کوئی بھی سفرنامہ حقیقی معنوں میں سفرنامہ بنتا ہے، ورنہ تو لوگ سفرناموں کے نام پر تاریخی معلومات کی کتابیں لکھ رہے ہیں۔
گہرا مشاہدہ، تجزئیے کی صلاحیت، انسانی فطرت سے آگاہی، وسیع مطالعہ، طبیعت میں شگفتگی اور بیان پر قدرت ہو، تو پھر ایسا ہی عُمدہ، دل چسپ اور معلوماتی سفرنامہ وجود میں آتا ہے، جو اِس وقت ہمارے سامنے ہے۔معروف نقّاد، محمّد حمید شاہد کی سلمیٰ اعوان کے اندازِ نگارش سے متعلق اِس رائے سے اختلاف ممکن نہیں کہ’’ وہ افسانہ لکھیں یا ناول، کسی موضوع پر مضمون لکھیں یا رپوتاژ اور سفرنامہ، پہلی سطر سے انگلی تھامتی ہیں اور آخری سطر تک ساتھ ساتھ لیے چلتی ہیں۔‘‘کتاب کا آغاز چینی شاعری کے اردو تراجم کے ایک انتخاب سے کیا گیا ہے،جس میں10 نظمیں شامل کی گئی ہیں۔یہ سفرنامہ جہاں چینی ثقافت اور تہذیب کے مختلف رنگوں سے ہمیں آشنا کرتا ہے، وہیں اِس کی روشنی میں پس ماندہ چین کو سپر پاور بنتے بھی دیکھا جاسکتا ہے۔
سلمیٰ اعوان نے اپنے مخصوص ہلکے پُھلکے، پُر مزاح جملوں میں، جو گہری معنویت کے حامل ہوتے ہیں، اہلِ وطن کو دعوتِ فکر بھی دی ہے،مگر’’ مرن جوگے‘‘ سمجھیں بھی تو۔’’ چھلانگیں مارتا، آسمان کو چُھوتا بیجنگ‘‘میں اپنا دردِ دل یوں بیان کیا ہے’’اِس وقت میرے سامنے بیجنگ کا آسمان شفّاف، آواخر مارچ کی خنکی سے بھرا تاحد نظر پھیلا فلک بوس عمارتوں کے بے انتہا خُوب صُورت جنگل میں گِھرا حیران کرتا تھا۔ دائیں بائیں جاتی، مُڑتی ایک دوسرے کو کاٹتی، کہیں جھپیاں ڈالتی شاہ راہیں اور گاڑیوں کا طوفان پریشان کُن تھا۔’’ خدایا‘‘! مجھ سے یہ سب برداشت نہیں ہو رہا تھا۔ رشک اور حسد میں جلتی بُھنتی اندر آگئی تھی۔ 1960ء میں یہی چینی میرے کراچی شہر کی بلند و بالا عمارتوں کو دیکھ کر کہتے تھے، کاش! ہمارے پاس بھی کراچی جیسا ایک شہر ہوتا۔‘‘