بدقسمتی سے یہ پاکستان کا المیہ ہے کہ جو چیز ملک کے لئے اچھی ہے، وہ ضروری نہیں کہ ملکی سیاست کے لئے بھی اچھی ہو۔ یہ انتہائی افسوس کی بات ہے کہ ہمارے مقامی سیاسی حقائق ہمیں وہ اقدام اٹھانے سے روکتے ہیں جو حقیقی طور پر پاکستان اور اس کے تابناک مستقبل کے لئےضروری ہیں۔ گزشتہ ہفتے آئندہ مالی سال کے لئے پیش کئے گئے بجٹ کے حوالے سے پیشگی باتیں شروع ہو گئی تھیں کہ کیا یہ بجٹ انتخابی سال کا بجٹ اور عوام کو ریلیف دینے والا بجٹ ہوگا یا پھر ایم آئی ایف کے بتائے گئے اور ان معاشی اصولوں کے مطابق ہوگا جو معاشی استحکام اور پاکستان کے لئے ضروری ہیں۔ اب بجٹ آنے کے بعد یہ محسوس ہو رہا ہے کہ یہ بجٹ انتخابی سال کا ہی بجٹ ہے جس میں عوامی سیکٹر پر خرچ کئےجانے والے فنڈز میں اضافہ کیا گیا ہے اور سرکاری ملازمین کی تنخواہیں بھی 35فیصد تک بڑھا دی گئی ہیں۔
آئندہ مالی سال کے بجٹ کے بعد اب یہ اندیشہ ہے کہ شاید ایم آئی ایف کا پروگرام بحال نہیں ہو پائے گا۔ فروری سے حکومت اس کوشش میں ہے کہ کسی طرح آئی ایم ایف سے اسٹاف لیول معاہدہ طے پا جائے لیکن اب تک کچھ بھی فیصلہ کن صورت نہیں بن پائی ہے۔ آئی ایم ایف پروگرام جون میں ختم ہو رہا ہے، درمیان میں تھوڑی امید نظر آئی تھی کہ یہ پروگرام بحال ہو جائے گا لیکن اب وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور وزیراعظم صاحب نے بھی اپنے بیانات میں پلان بی کا ذکر کرنا شروع کر دیا ہے۔ کبھی ہم معاشی خود کشی کی بات کرتے ہیں اور کبھی ہمیں لگتا ہے کہ ہمارے ساتھ بہت بڑی زیادتی ہو رہی ہے۔
جمعہ کے روز جب شاہزیب خانزادہ کے پروگرام میں اسحاق ڈار صاحب سے پوچھا گیا کہ آئی ایم ایف سے بات کیوں نہیں بن رہی تو انہوں نے جیو پالیٹکس کا ذکر کیا۔ جس کا ڈھکے چھپے الفاظ میں مطلب یہ تھا کہ پاکستان کے خلاف کوئی بین الاقوامی سازش ہو رہی ہے اور شاید افغانستان میں جو امریکہ کے ساتھ ہوا، اس کا بدلہ پاکستان سے لیا جا رہا ہے۔ اگر اسحاق ڈار صاحب سے کوئی پوچھے کہ یہ جیو پالیٹکس تب کہاں تھی جب مفتاح اسماعیل نے پچھلے سال یہ پروگرام بحال کروایا تھا اور اس کے بعد انہیں اپنے عہدے سے برطرف کر دیا گیا تھا اور کیوں ہم اسحاق ڈار صاحب کے آنے اور ان کے روپے کی قدر بڑھانے سے اس پروگرام سے دوبارہ باہر ہو گئے؟
اسحاق ڈار نے وزارتِ خزانہ سنبھالتے ہی آئی ایم ایف پروگرام کودوبارہ مذاکرات کرنے اور ڈالر کو 200روپے تک لانے کے دعوے کئے مگر دوسری طرف درآمدات پر پابندیوں سے انڈسٹری اور برآمدی شعبے کو سخت مشکلات میں ڈال کر معیشت کا گلا گھونٹ دیا تو کیا یہ جیو پالیٹکس تھی یا اسحاق ڈار کی ایک خطرناک معاشی مہم جوئی جس کی پاکستان کو بھاری قیمت چکانا پڑ رہی ہے۔ اب پوری دنیا میں مہنگائی قابو میں آنے لگی ہے لیکن ایم آئی ایف پروگرام سے باہر ہونے کے بعد پاکستان میں مہنگائی تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے۔ ایسی ہی خطرناک معاشی مہم جوئی تحریک انصاف کی حکومت میں بھی ہوتی رہی۔ پہلے اسد عمر اور پھر شوکت ترین نے ایسی خطرناک معاشی مہمات کیں۔ ان کی یہ خطرناک مہم جوئیاں تب بھی پاکستان کو مہنگی پڑی تھیں۔
اگر جیو پالیٹکس ہی پاکستان کے لئےآئی ایم ایف پروگرام بحال نہ ہونے کی واحد وجہ ہے تو یہی جیو پالیٹکس مفتاح اسماعیل کے دور میں بھی تھی۔ اور اگر جیو پالیٹکس ہی ہمارے معاشی مسائل کی وجہ ہیں تو پھر ملکی اور غیرملکی معاشی ماہرین پاکستان کے لئے ان ہی سب اقدامات کو ضروری کیوں سمجھ رہے ہیں جو آئی ایم ایف کہہ رہا ہے۔ اگر جیو پالیٹکس کی آڑ میں پاکستان کی معیشت کو تباہ کرنا مقصد ہے تو پھر تو حکومت اور اسحاق ڈار صاحب کو اسے اسی طرف چلنے دینا چاہئے جہاں یہ جا رہی ہے- یہی تو تباہی کا راستہ ہے۔ اسحاق ڈار بار بار کہتے ہیں کہ پہلے آئی ایم ایف کا رویہ اتنا سخت نہیں تھا- یہ بات صحیح ہے کہ پہلے آئی ایم ایف کا رویہ پاکستان کے ساتھ بہتر تھا، اس کی وجہ افغانستان میں پاکستان کی ضرورت بھی تھی اور اس کے ساتھ ساتھ اس وقت دنیا کے معاشی حقائق بھی ذرا مختلف تھے۔ لیکن اب یہ دونوں چیزیں موجود نہیں ہیں اور پاکستان کا ٹریک ریکارڈ اور ساکھ بھی خراب ہو چکی ہے۔آئی ایم ایف کی تین شرائط تھیں جن کی بنا پر یہ پروگرام رُکا ہوا تھا۔ ایک آئی ایم ایف 6ارب ڈالر کی بیرونی فنانسنگ کا کہہ رہا تھا جس میں 3ارب کی سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات تحریری یقین دہانی کروا چکے ہیں اور آخر میں صرف 1.5ارب ڈالر کا ریوائزڈ گیپ رہ گیا تھا لیکن اسحاق ڈار صاحب جہاں اتنی بڑی بڑی باتیں کر رہے ہیں کہ پاکستان ڈیفالٹ نہیں کرے گا، وہاں یہ بھی سوچنا چاہئے کہ صرف 1.5ارب ڈالر پاکستان سے منظم نہیں ہوا تو آگلے سال جو 25ارب ڈالر سے زائد کی ادائیگیاں کرنی ہیں وہ کہاں سے ہوں گی؟
دوسرا مسئلہ ایکسچینج ریٹ کا ہے۔ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ کیوں ڈار صاحب اور ہماری ایلیٹ سمجھتی ہے کہ ڈالر کے اوپر جانے سے ساری تباہی ہوتی ہے۔ 2013-18ء میں جب ڈالر مستحکم تھا اور ہم اپنے زرِ مبادلہ کے ذخائر خرچ کر رہے تھے تو ہم درآمدات کو سبسڈائز کر رہے تھے اور اپنی برآمدات کو نقصان پہنچا رہے تھے۔ اور تیسرا بجٹ کو دیکھا جا رہا تھا کہ الیکشن کے سال میں کوئی مسئلہ نہ ہو۔
اب یہی کہا جا رہا ہے کہ ایم آئی ایف جانے اور اگلی حکومت جانے۔ پاکستان کا ایم آئی ایف کے بغیر ڈیفالٹ سے بچنا مشکل ہے اور انڈسٹری کا ستیا ناس کرکے ڈیفالٹ کو ٹالنے سے بھی کوئی فائدہ نہیں۔ سیاست پھر ایک دفعہ معیشت اور ملک پر بھاری پڑ گئی ہے۔ پہلے (ن) لیگ کی اندرونی سیاست اور اب ملکی سیاست اور ناقص معاشی پالیسیوں نے ملک کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔
صرف آئی ایم ایف کو دشمن بنانے سے ہمارے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ ہمارے مسائل کا حل صحیح فیصلوں اور معاشی عقلمندی سے ہوگا یہ دونوں اس وقت نظر نہیں آ رہے۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں00923004647998)