جب بھی ہمارے ذہن میں کسی بادشاہ کا تصوّر ابھرتا ہے، تو وہ عموماً کسی عُمر رسیدہ فرد ہی کا ہوتا ہے کہ ایک بوڑھا شخص، ہیرے جواہرات سے مزیّن تخت پر نرم و ملائم تکیے لگائے بیٹھا ہے۔ سامنے درباری مخصوص لباس زیبِ تن کیے، گردن جُھکائے کھڑے ہیں۔چہار اطراف ریشمی پردے لہرا رہے ہیں۔
بلاشبہ، بہت سے بادشاہوں نے لمبی عُمریں پائیں اور کئی ایک تو اُس وقت تخت پر بیٹھے، جب وہ بڑھاپے کے سبب اپنی مرضی سے ہِلنے جُلنے تک کی سکت نہ رکھتے تھے، مگر تاریخ ایسے بادشاہوں کے ذکر سے بھی بَھری پڑی ہے، جو چھوٹی عُمر میں تخت پر بیٹھے، اچھے بُرے کام سرانجام دئیے اور جوانی ہی میں راہیٔ عدم ہوئے۔ اِس مضمون میں ایسے ہی چند نوجوان بادشاہوں کا ذکر مقصود ہے۔ تاہم، واضح رہے کہ قارئین تک معلومات کی فراہمی کے لیے اِس فہرست میں بعض پچاس برس کے ’’جوان‘‘ بھی شامل کیے گئے ہیں۔
اگر ہم مسلم حُکم رانوں کی بات کریں، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد خلافتِ راشدہ کی صُورت جو نظام وجود میں آیا، وہ اپنی رُوح میں ایک جمہوری طرز کا نظام تھا، جس میں اُس دَور کے رواج کے مطابق اہلِ رائے مشاورت سے نئے حُکم ران کا انتخاب کیا کرتے تھے۔ خلیفۂ چہارم، حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ تک یہ سلسلہ جاری رہا، بعدازاں، حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حکومت قائم ہوئی۔
آیا یہ حکومت خلافتِ راشدہ ہی کا تسلسل تھی یا اسے کوئی اور نام دیا جائے، اِس ضمن میں مؤرخین کے درمیان اختلاف ہے، یہاں تک کہ یہ موضوع آج بھی علمی مباحث اور مسلکی مناظروں کا محور ہے، البتہ اِس نکتے پر مسلمانوں کے تمام مسالک متفّق ہیں کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے انتقال کے بعد بنو امیّہ کی حکومت کی شکل میں شخصی و خاندانی حکومتوں کا آغاز ہوا اور اِس طرزِ حکومت کا پہلا بادشاہ، یزید تھا، تو ہم اپنی گفتگو کا آغاز بھی اُسی سے کرتے ہیں۔
یزید جب تخت نشین ہوا، تو اُس وقت وہ34 برس کا تھا۔اُس کی حکومت کے پہلے ہی سال کربلا کا الم ناک واقعہ پیش آیا، جس میں نواسۂ رسولﷺ، جگر گوشۂ بتولؓ، حضرت سیّدنا حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے خاندان اور ساتھیوں سمیت شہادت پائی۔ یزید کے لیے یہ ایک ایسی کالک ہے، جس سے اُسے کبھی چھٹکارا نہیں مل سکتا۔
اُس کی حکومت نے دوسرے سال مدینۃ النبیﷺ پر چڑھائی کی تاکہ وہاں کے باسیوں سے یزید کی بیعت لی جاسکے۔ اِس دَوران بلدِ رسولﷺ کی بے حرمتی ہوئی، عوام کا قتلِ عام کیا گیا اور شامی فوجیوں نے اہلِ مدینہ کے گھروں میں گُھس کر لُوٹ مار کی۔اس کے بعد یزیدی فوج مکّہ مکرّمہ میں حضرت عبداللہ بن زبیرؓ سے جنگ کے لیے روانہ ہوئی، جنھوں نے یزید کے مقابلے میں اپنی خلافت کا اعلان کیا تھا۔
یزید کے سپاہیوں نے شہر کا محاصرہ کیا اور روایات کے مطابق، اُن کی جانب سے کی گئی سنگ باری سے بیتُ اللہ کو بھی نقصان پہنچا۔ یزید اپنے انجام کو پہنچا، تو وہ تقریباً 38سال کا تھا۔ اُس کے اقتدار کے یہ تین، چار برس اُمّتِ مسلمہ پر بہت بھاری ثابت ہوئے کہ اُن کے اثرات آج بھی مسلم معاشرت، تاریخی مباحث اور مسلکی رجحان و تفریق کی صُورت دیکھے جا سکتے ہیں۔
اموی حُکم رانوں میں ولید بن عبدالملک نے بہت نام کمایا۔ وہ36 سال کی عُمر میں تخت نشین ہوا۔ اُس کا ایک بڑا کارنامہ ریاست میں امن و امان کا قیام تھا، تو دوسری طرف، اُس کے دورِ حکومت میں بہت سی اہم فتوحات بھی ہوئیں۔ اندلس کی فتح کا سہرا اُسی کے سر ہے، جب کہ محمّد بن قاسم کو سندھ بھی اُسی نے بھیجا تھا۔
اُس کی افواج بلخ، بخارا، سمرقند، خوارزم، تاشقند اور کاشغر(چین) تک کام یابیاں سمیٹتی رہیں۔ولید نے عُمر بن عبدالعزیز جیسے خدا ترس شخص کو حجاز کا حاکم بنایا تاکہ اپنے پیش روؤں سے پہنچنے والے زخموں کا کچھ مداوا کرسکیں اور وہ اس میں بہت حد تک کام یاب بھی رہے، مگر یہ الگ بات کہ عُمر بن عبدالعزیز کو جَلد ہی عُہدے سے ہٹا بھی دیا گیا۔
اِس برطرفی کے پیچھے حجّاج بن یوسف کا ہاتھ تھا۔ولید نے مسجدِ نبویؐ میں توسیع کروائی، پوری سلطنت میں سڑکیں بنوائیں، کنویں کھدوائے، نہریں بنوائیں، مسافر خانے، شفاخانے اور غریبوں کے لیے محتاج خانے قائم کیے، تو ضرورت مندوں کے سرکاری سطح پر وظائف کا انتظام کیا۔ بہت سے مؤرخین اس عہد کو بنو امیّہ کا بہترین دَور قرار دیتے ہیں۔ ولید نے دس سال حکومت کرنے کے بعد وفات پائی، تو اُس کی عُمر 46سال تھی۔
ولید کے بعد اُس کا بھائی، سلیمان تخت نشین ہوا، جو اُس وقت چالیس برس کا تھا۔اِس شخص کو مجموعۂ اضداد کہنا ہی بہتر ہوگا کہ ایک طرف تو ایسی خدا ترسی کے جیلوں میں بند تمام قیدی رہا کر دئیے، تو دوسری طرف ایسی منتقم المزاجی کہ نام وَر سپاہ سالاروں کے لیے زندہ رہنا مشکل ہوگیا۔ یہ بادشاہ، حجّاج بن یوسف کا دشمن تھا، مگر حجّاج کی بچت تو ایسے ہوئی کہ وہ اس کے اقتدار سے پہلے ہی سفرِ آخرت پر روانہ ہوگیا تھا، تاہم حجّاج کے متعلقین نے بُرے حالات کا سامنا کیا۔
سلیمان ہی نے محمّد بن قاسم کو معزول کرکے سندھ سے واپس بلوایا اور اذیّتیں دے دے کر مار ڈالا۔ قُتیبہ بن مسلم جیسے نام وَر سپاہ سالار نے اپنی جان بچانے کے لیے بغاوت کی راہ اختیار کی، مگر اُس کا سَر بھی کاٹ ڈالا گیا۔پھر سلیمان نے فاتحِ اندلس، موسیٰ بن نُصیر سے ایسا انتقام لیا کہ وہ مسجد کے باہر بھیک مانگنے پر مجبور ہوا اور اسی کسمپرسی کی حالت میں جان دے دی۔
سلیمان نے اُس کے بیٹے کو بھی، جو اندلس کا والی تھا، مروا دیا۔ اِتنا سب کچھ کرنے کے باوجود اب اِسے اس کا کارنامہ کہیں یا عوام پر احسان کہ اس نے اپنے کم سِن بیٹے کی بجائے چچا زاد، عُمر بن عبدالعزیز جیسے درویش صفت شخص کو اپنا جانشین مقرّر کیا۔ سلیمان نے دو سال، آٹھ ماہ حکومت کی، جس کے دَوران زیادہ زور مخالفین سے نمٹنے ہی پر رہا۔
موت کے وقت وہ 43سال کا تھا۔قارئین میں سے شاید ہی کوئی ایسا ہو، جس نے عُمر بن عبدالعزیز کا نام نہ سُنا ہو۔ یہ اموی حُکم ران اپنی خدا ترسی، پرہیز گاری اور انصاف پسندی کے لیے مشہور و معروف ہیں، یہاں تک کہ اُنھیں’’ عُمرِ ثانی‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔36 برس کے تھے، جب مسلمانوں کے حاکم بنے۔ سابقہ بادشاہوں نے عوام کی تقریباً آدھی جائیدادوں پر مختلف حلیے بہانوں سے قبضہ کر رکھا تھا، انھوں نے اقتدار میں آتے ہی یہ تمام جائیدادیں اصل مالکان کو واپس کردیں۔
خود اُن کے پاس جو جائیداد تھی، وہ بھی مالکان کو لوٹا دی گئی۔اُن سرکاری اہل کاروں کے محاسبے کا سخت انتظام کیا، جو بے مہار ہوچُکے تھے۔کئی ایک کو جلاوطن تک کردیا۔غیر مسلم رعایا کو مختلف سہولتیں دیں، اُن کے لیے وظائف مقرّر کیے۔ مساجد کے منبروں سے شر انگیزی کے راستے بند کردئیے۔
سرکاری خزانے کا غلط استعمال پوری قوّت سے روک دیا اور اس راہ میں آنے والی کسی رکاوٹ کی کوئی پروا نہیں کی۔ درباری شان و شوکت قائم رکھنے کے لیے جو شاہانہ اخراجات کیے جاتے تھے، وہ سب ختم کردئیے۔اپنی سواری کے لیے صرف ایک خچّر رکھا، باقی سب گھوڑے بیچ کر رقم بیت المال میں جمع کروادی۔
مسافروں کے لیے سرائیں بنوائیں، نئی نہریں کھدائیں، لنگر خانے بنوائے، مسجدِ نبویؐ کو ازسرِنو تعمیر کروایا۔ گو کہ اُن کی نرمی سے بعض انتظامی مسائل بھی پیدا ہوئے، لیکن خلقِ خدا نے اُن کے دَور میں بہت سکون پایا۔ جب اِس درویش حکم ران نے وفات پائی، تو وہ محض39برس کے تھے۔ تقریباً ڈھائی سال اُن کی حکومت رہی۔
یزید بن عبدالملک کا ذکر اِس لیے ضروری ہے کہ اس نے حکم ران بنتے ہی عُمر بن عبدالعزیز کی اصلاحات منسوخ کرتے ہوئے پرانا جابرانہ نظام بحال کردیا تھا۔ اس شخص کے انتقامی جذبے نے اموی سلطنت کی بنیادیں ہلا ڈالیں، جس کے نتائج بعد کے برسوں میں خوف ناک صُورت میں سامنے آئے۔یزید بن عبدالملک39 برس زندہ رہا اور چار برس حکومت کی۔
گو کہ ہشّام بن عبدالملک نے پچاس سے ایک، دو برس زیادہ عُمر پائی، مگر ان کا شمار بھی جوان بادشاہوں میں کیا جاسکتا ہے۔وہ 34 برس کی عُمر میں تخت نشین ہوا تھا۔ہشام اموی حکم رانوں میں بہت اہم مقام کے حامل ہیں کہ اُنھوں نے یزید بن عبدالملک کے دَور میں پیدا ہونے والی خرابیوں پر قابو پانے میں کافی کام یابیاں حاصل کیں۔
بیس سالہ دورِ حکومت میں بہت سی جنگیں لڑیں، جن میں کبھی مخالفین، تو کبھی اُن کی جیت ہوتی رہی۔بہت سی بغاوتوں کا سامنا رہا۔ اُن کے دَور میں مسلم فوج جنوبی فرانس تک پہنچی اور پھر وہاں دو سو سال تک مسلمانوں کا اقتدار قائم رہا۔ یزید بن عبدالملک کے دَور میں عباسی تحریک فعال ہوئی، جس نے ہشّام کے دَور میں زیادہ قوّت حاصل کی۔ یہ تحریک، بنو امیّہ کی مخالفت پر مبنی تھی۔ہشام کے بعد تخت ولید ثانی کو ملا، جس کے دو ہی مشاغل تھے، ایک مخالفین کا قتل اور دوسرا راگ و رنگ کی محافل۔وہ14ماہ کی حکومت کے بعد37برس کی عُمر میں مارا گیا۔
بعدازاں،43 سالہ یزید ثالت بن ولید تخت پر بیٹھا اور چھے ماہ بعد ہی اپنی تمام تر نااہلیوں کے ساتھ انتقال کرگیا۔مروان ثانی آخری اموی حکم ران ثابت ہوا۔اُس کے عہد میں عباسی تحریک کے ایک داعی، ابو مسلم خراسانی نے بنو امیّہ کے خلاف مَرو سے بغاوت کا آغاز کیا۔ اُس کا جھنڈا سیاہ رنگ کا تھا اور بعد میں یہی رنگ عباسیوں کی علامت قرار پایا۔
مختلف علاقوں میں کام یابیاں سمیٹنے کے بعد اُنھوں نے کوفہ پر قبضہ کرکے عباسی حکومت کے قیام کا باقاعدہ اعلان کردیا۔بعدازاں، مروان بھی جنگ میں شکست کے بعد فرار ہوتے ہوئے قتل ہوگیا۔یوں اموی حکومت کے90سالہ دَور کا خاتمہ ہوگیا۔یزید سے مروان تک کُل12 اموی حکم ران آئے، جن میں سے8 ایسے تھے، جنھوں نے50 سال سے کم عُمر پائی۔
عباسی حکومت تقریباً پانچ سو برس قائم رہی، اس دوران کُل37حکم ران آئے۔ دولتِ عباسیہ کا پہلا حکم ران، ابو العباس السفّاح محض 33سال زندہ رہا اور ساڑھے چار برس حکومت کی۔اُس نے ابو مسلم خراسانی کے تعاون سے 132 ہجری میں کوفہ میں نئی حکومت کی بنیاد ڈالی۔ بنو عبّاس، نبی کریمﷺ کے چچا، حضرت عبّاس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اولاد میں سے تھے اور وہ بنو اُمیّہ کی نسبت خود کو حکومت کا زیادہ اہل سمجھتے تھے۔
اِسی بنیاد پر خفیہ تحریک چلاتے رہے، جس میں اُنھیں کافی مشکلات کا بھی سامنا رہا اور بالآخر مروان ثانی کو شکست دے کر اپنی حکومت قائم کرنے میں کام یاب ہو ہی گئے۔سفّاح کے عہد کی ایک خاص بات یہ ہے کہ اسی دور میں فرغانہ کی جنگ میں کئی چینی سپاہی قیدی بنے، جو کاغذ سازی سے واقف تھے اور پھر اُن ہی کے ذریعے سمرقند میں کاغذ بننا شروع ہوا، وہاں سے بغداد اور پھر دیگر علاقوں تک یہ ہنر پہنچا۔ابوالعباس کو’’ سفاح‘‘ کیوں کہا جاتا ہے، اِس ضمن میں مؤرخین دو رائے پیش کرتے ہیں۔
بعض کا کہنا ہے کہ’’ سفاح‘‘ کے ایک معنی سخی کے ہیں اور وہ بہت سخی تھا، جب کہ بیش تر کا کہنا ہے کہ ابوالعباس ایک سفّاک حکم ران تھا، یہاں تک کہ اُس نے مخالفین کی قبریں تک کھدوا دی تھیں، اِس لیے اُسے سَفّاح، یعنی ظالم و سفّاک، بہت خون بہانے والا، قصاب کہا گیا۔ المہدی باللہ، تیسرے عباسی خلیفہ تھے۔ یہاں یہ بات واضح رہے کہ اِس سے قبل اُن کے والد ابو جعفر المنصور حُکم ران تھے، جنھیں عباسی حکومت کا اصل بانی قرار دیا جاتا ہے۔ اُنھوں ہی نے بغداد شہر کی بنیاد ڈالی تھی۔باپ جس قدر سخت مزاج تھے، مہدی اتنا ہی رحم دل واقع ہوا تھا، اس نے سیاسی قیدی رہا کیے، لوگوں کی جائیدادیں واپس کیں، تاہم خرچ کے معاملے میں اِس قدر غیر محتاط تھا کہ لبالب بَھرا سرکاری خزانہ کچھ ہی عرصے میں خالی کردیا۔
مہدی نے الحاد کی طرف مائل افراد کو سخت سزائیں دیں۔ وہ41سال زندہ رہا اور11برس حکومت کی۔اس کے بعد موسیٰ الہادی حکم ران بنا، مگر ایک سال بعد ہی 26سال کی عُمر میں وفات پاگیا۔ ہارون الرشید دولتِ عباسیہ کے پانچویں اور خاصے مشہور حکم ران ہیں۔ اُنھوں نے20برس کی عُمر میں حکومت سنبھالی اور23سال حکومت کی۔
اُن کا دَور، علمی ترقّی کا دور تھا۔وہ اہلِ علم کے قدر دان تھے، اِسی لیے دارالحکومت بغداد علم و ہنر کا مرکز بن گیا۔ امام ابو حنیفہؒ کے شاگردِ خاص، امام ابو یوسف کو قاضی القضاۃ مقرّر کیا۔ اُنھوں نے علوم و فنون کی ترویج کے لیے’’ بیتُ الحکمت‘‘ کے نام سے ایک ادارہ بنایا، جہاں مختلف زبانوں کے مترجّم جمع کیے گئے۔
رعایا کی فلاح وبہبود کے بہت کام کیے۔اُن کا دَور، دولتِ عباسیہ کا بہترین دَور تصوّر کیا جاتا ہے۔زبیدہ اُن ہی کی ملکہ تھیں، جنھوں نے مکّۃ المکرّمہ اور میدانِ عرفات کو پانی کی فراہمی کے لیے نہر بنوائی تھی۔ ہارون الرشید 43 برس زندہ رہے۔ بعدازاں23سالہ امین الرشید تخت نشین ہوا، مگر بھائی، مامون الرشید نے پانچویں سال اُسے قتل کرکے خود حکومت سنبھال لی۔مامون الرشید بھی عباسی حُکم رانوں کے سلسلے کا ایک معروف نام ہے۔وہ ابتدا میں مَرو میں رہا، جس کی وجہ سے بغداد اُس کے ہاتھ سے نکل گیا اور وہاں مخالفین نے حکومت قائم کرلی۔ بعدازاں، وہ کئی برس بعد بغداد میں داخل ہوسکا۔
مامون نے حضرت امام علی رضا رحمۃ اللہ علیہ کو اپنا ولی عہد مقرّر کیا تھا اور عباسیوں کے سیاہ رنگ کی بجائے علویوں کے سبز رنگ کو سرکاری علامت قرار دیا تھا، تاہم امام علی رضا رحمۃ اللہ علیہ اُن کے ساتھ بغداد آتے ہوئے اچانک راہ میں انتقال کرگئے، جس کا الزام مامون پر لگا۔مامون کی والدہ اور بیوی کا تعلق ایران سے تھا، جس کی وجہ سے دربار اور حکومت میں ایرانی طرزِ معاشرت کو فروغ حاصل ہوا۔ عباسی حُکم رانوں میں مامون کو سب سے زیادہ علم دوست کہا جاتا ہے۔
دربار میں علمی مجالس منعقد ہوتیں، اُس کے دور میں مختلف علوم کی عربی میں منتقلی کا کام تیز ہوا، اجرامِ فلکی کے مطالعے کے لیے رصد گاہ بنوائی گئی، ہندسوں یعنی 1، 2، 3 کا رواج اُسی کے دَور میں پڑا، جو محمّد بن موسیٰ خوارزمی نے ہندوؤں کے علمِ حساب سے اخذ کیا تھا۔ اِس سے قبل 1 کی جگہ الف، 2 کی بجائے ب وغیرہ لکھا جاتا تھا۔ مامون مذہبی عقیدے کے لحاظ سے معتزلی تھا اور اُس کے عہد میں سرکاری سرپرستی میں قضا و قدر اور عقیدۂ خلقِ قرآن وغیرہ پر بحث مباحثے ہوتے۔ مخالفین پر بہت سختیاں برتی گئیں کہ وہ عقیدے کے معاملے میں بے حد متشدّد تھا۔ جو اُس کا ہم عقیدہ نہ ہوتا، اُسے سرکاری ملازمت نہ دی جاتی۔
اُس کا20 سال حکومت کے بعد47سال کی عُمر میں انتقال ہوا۔مامون کے بعد اُس کا بھائی ابو اسحاق، معتصم باللہ کا لقب اختیار کرکے تخت پر بیٹھا۔ اُس کے دَور میں ایرانی اور عرب پیچھے چلے گئے، اُن کی جگہ تُرکوں نے لے لی اور وہی تخت نشینی کے فیصلے کرنے لگے۔
یہ بھی مذہبی عقائد کے معاملے میں بہت سخت تھا اور اِسی نے امام احمد بن حنبلؒ کو سرکاری عقیدہ نہ رکھنے کے جرم میں کوڑے لگوائے تھے۔معتصم9سال کی حُکم رانی کے بعد45سال کی عُمر میں فوت ہوا۔معتصم کا بیٹا واثق باللہ ایک علم دوست حُکم ران تھا۔ انتظامی معاملات پر خاصی مضبوط گرفت تھی اور اُس نے خود سر انتظامی افسران کو سیدھا کردیا تھا۔
رشوت خور افسران کی آمدنی سے زاید دولت ضبط کرلیتا تھا۔اُس نے صرف35 سال عُمر پائی۔المتوکل علی اللہ نے حکومتی امور پر تُرکوں کی گرفت کم زور کرنے کی کوشش کی، مگر اِسی چکر میں39 سال کی عُمر میں قتل ہوگیا۔اُس نے15 برس حکومت کی اور یہ پہلا عباسی خلیفہ ہے، جو اپنے ہی لشکریوں کے ہاتھوں قتل ہوا۔اُس کے قتل میں بیٹے کا بھی ہاتھ تھا۔
گو کہ اس کے عہد میں رعایا خوش حال رہی، مگر بہت بے رحم تھا۔چھوٹی چھوٹی باتوں پر بھی سخت سزائیں دیتا تھا۔24سالہ منتصر باللہ باپ کے قتل کے بعد تخت پر بیٹھا، مگر صرف چھے ماہ ہی حکومت کرسکا کہ موت کا فرشتہ آگیا۔ مستعین باللہ بادشاہ بنا، مگر جلد ہی وہ تخت سے دست بردار ہوگیا، وہ40سال زندہ رہا۔
22سالہ المعتز باللہ بھی چار سال حکومت کرسکا اور درباریوں کے ہاتھوں جان گنوا بیٹھا۔45 سالہ المہتدی باللہ اصلاحات کا خواہش مند تھا اور عوامی بھلائی کے لیے کئی اقدامات بھی کیے، جو تُرک لشکریوں کو پسند نہ آئے، جس پر اُسے ایک سال بعد ہی قتل کردیا گیا۔بعدازاں، یکے بعد دیگرے 12ایسے نوجوان تخت نشین ہوئے، جن کی عُمریں28سے48برس کے درمیان تھیں اور وہ تھوڑا تھوڑا عرصہ ہی حکومت کرتے رہے کہ درباریوں نے تخت نشینی کو کھیل بنا رکھا تھا۔
المستعصم باللہ37واں اور آخری عباسی حُکم ران تھا۔وہ ایک طرف تو لہو ولعب کا دل دادہ تھا، تو دوسری طرف ریاستی امور پر بھی گرفت کم زور تھی۔دارالحکومت بغداد طوائف الملوکی کا منظر پیش کرتا تھا اور تاتاریوں نے اِسی کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے بغداد پر قبضہ کرلیا۔ ہلاکو خان نے تین دن تک عوام کا قتلِ عام کیا، کتب خانے جلا دئیے، مساجد، تعلیمی ادارے سب شعلوں کی نذر کردئیے اور پھر45 سالہ مستعصم کو قالین میں لپیٹ کر اُس پر گھوڑے دوڑائے گئے، جس سے اُس کی موت واقع ہوگئی۔
عباسیوں ہی کے دَور میں ابو محمّد عبیداللہ نے، جو عبیداللہ المہدی یا المہدی باللہ کے نام سے معروف ہیں، تیونس کے قریب فاطمی حکومت کی بنیاد رکھی۔معز لدین اللہ اِس سلسلے کا تیسرا حکم ران تھا اور اسی کے سپہ سالار، ابولاحسن جوہر نے مصر فتح کرنے کے بعد قاہرہ کے نام سے ایک نیا شہر بسایا تھا، جب کہ عظیم تعلیمی ادارے، جامعۃ الازہر کے قیام کا سہرا بھی اسی کے سر ہے۔معز لدین اللہ نے 45برس کی عُمر پائی۔اس کے بعد7فاطمی حکم ران تخت نشین ہوئے،جن میں سے چھے کی عُمریں11سے40سال کے درمیان تھیں۔
عباسی حکم ران، القائم بامر اللہ کے دور میں طغرل بیگ نے بغداد میں داخل ہو کر اِس لحاظ سے سلجوق ریاست کی بنیاد رکھی کہ عباسی بادشاہ نے اُن کا نام خطبے میں شامل کرکے اُنھیں تمام مفتوحہ علاقوں کا حکم ران تسلیم کرلیا۔ اس کے انتقال کے بعد اس کا بھتیجا، الپ ارسلان سلطنت کا وارث بنا، جس کے’’ ڈراما سیزن‘‘ اِن دنوں پاکستان میں بھی بہت شوق سے دیکھے جا رہے ہیں۔ الپ ارسلان نے ایک طرف بڑے پیمانے پر فتوحات کیں، تو دوسری طرف، وہ ایک نیک دل اور بہادر حکم ران بھی تھا۔
وہ نو برس کی حکومت کے بعد 43سال کی عُمر میں ایک قاتلانہ حملے میں زخمی ہوکر چل بسا۔اُسی کے زمانے میں جنگ ملازگرد لڑی گئی، جس میں قیصر رومانوس کو عبرت ناک شکست ہوئی اور یہ جنگ بازنطینی سلطنت کے زوال کا باعث بنی۔کہا جاتا ہے کہ یہی جنگ، طویل صلیبی جنگوں کا باعث بنی تھی۔ بعدازاں، اُس کا17 سالہ بیٹا، ملک شاہ سلجوق تخت نشین ہوا۔اس کے عہد میں سلجوق ریاست کی سرحدیں دُور دُور تک پھیل گئیں، یہاں تک کہ قیصرِ روم بھی اس کا باج گزار تھا۔
اُس نے اصفہان کو عالی شان عمارتوں سے آراستہ کیا اور وہیں38 برس کی عُمر میں مدفون ہوا۔ اِن دونوں باپ، بیٹے کے ضمن میں اِس بات کا حوالہ دینا بھی ضروری ہے کہ نظام الملک طوسی جیسا مدبّر وزیر اِنہی کے دربار سے وابستہ تھا اور انہی کے دَور میں بغداد میں جامعہ نظامیہ جیسا عظیم الشّان تعلیمی ادارہ قائم ہوا، جو کم و بیش چار سو برس تک فیض بانٹتا رہا۔
سلطنتِ عثمانیہ 1299ءسے 1924ء تک قائم رہی۔اِسے اِس لحاظ سے ایک خاص اہمیت حاصل ہے کہ اِس کے اختتام سے مسلمانوں میں خلافت کا نظام( جو جیسا تیسا بھی تھا) ختم ہوگیا۔ عثمانی سلطنت اپنے عروج کے زمانے میں تین برّاعظموں پر پھیلی ہوئی تھی۔کُل37 بادشاہوں نے اس پر حکومت کی، جن میں سے کئی نوجوان تھے۔ان میں محمّد اوّل چلبی بھی شامل ہیں، جنھیں سلطنتِ عثمانیہ کا دوسرا بانی قرار دیا جاتا ہے کہ اُن کے والد، بایزید اوّل کو جنگِ انقرہ میں امیر تیمور نے پکڑ لیا تھا اور اُس کے بعد سلطنتِ عثمانیہ ٹکڑے ٹکڑے ہوگئی تھی،جسے محمّد اوّل نے اُسے متحد کیا۔
وہ انتقال کے وقت40 برس کے تھے اور اُنہوں نے8 سال حکومت کی۔49 برس کی عُمر پانے والے سلطان محمّد فاتح کا بھی ذکر ضروری ہے، جو سلطنتِ عثمانیہ کے ساتویں سلطان تھے۔ اُنہوں نے محض 21سال کی عُمر میں قسطنطنیہ (استنبول) فتح کرکے عیسائیوں کی بازنطینی سلطنت کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کر دیا۔اِسی طرح سلیم یاووز( سلیم اوّل) بھی اہم ہیں، جنھوں نے شام، فلسطین اور مصر کو عثمانی سلطنت کا حصّہ بنایا، جس کے بعد مکّۃ المکرّمہ اور مدینۃ المنوّرہ جیسے مقدس شہروں کی خدمت کا بھی اُنھیں موقع ملا۔اِسی فتح کے بعد قاہرہ کا آخری عباسی حکم ران، المتوکل ثالث خلافت سے دست بردار ہوا اور یوں خلافت، عباسی خاندان سے عثمانی خاندان کو منتقل ہو گئی۔
اس نے ایک جنگ میں اسماعیل صفوی کو شکست دے کر اُس کے دارالحکومت، تبریز پر بھی قبضہ کرلیا تھا، مگر بعدازاں قبضہ چھوڑ دیا تھا۔ سلیم یاووز نے50برس عمر پائی۔عثمانی حُکم ران، محمّد ثالث37 برس زندہ رہا اور اس دوران بغاوت کے خوف سے اپنے19بھائی اور 20 بہنیں قتل کیں۔کہا جاتا ہے کہ اُس کے شاہی جلّاد گونگے، بہرے تھے تاکہ وفادار رہیں۔
ایک اور حُکم ران، احمد اوّل نے محض27 سال عُمر پائی، مگر اُسے استنبول کی سلطان احمد مسجد کے باعث یاد کیا جاتا ہے، جو’’ نیلی مسجد‘‘ بھی کہلاتی ہے۔ مُراد رابع11برس کی عُمر میں تخت پر بیٹھا اور28 برس زندہ رہا۔اِس دوران اُس کی والدہ ہی حکومت چلاتی رہیں۔ عبد المجید اوّل نےصرف38 برس کی عُمر پائی، لیکن اُنھوں نے اس دوران بہت سی اصلاحات متعارف کروائیں۔ پہلے عثمانی کاغذی نوٹوں کا اجرأ، عثمانی قومی ترانے اور قومی پرچم کا انتخاب اُنھوں ہی نے کیا۔نیز، روایتی پگڑی کی جگہ فاس،یعنی تُرکی ٹوپی کا رواج عام کیا۔
موجودہ ایران اور اُس کے ملحقہ علاقوں پر تقریباً سوا دو سو سال تک صفوی خاندان حکومت کرتا رہا ہے۔اِس خاندان کی نسبت کردستان(عراق) سے تعلق رکھنے والے ایک صوفی بزرگ، صفی الدّین اردبیلی سے ہے۔اِنہی بزرگ کی چھٹی پُشت میں اسماعیل پیدا ہوا، جس نے باقاعدہ صفوی حکومت قائم کی۔ اِس سے پہلے اُس کا خاندان شافعی مکتبِ فکر سے تعلق رکھتا تھا، جب کہ اسماعیل صفوی نے شیعہ اثنا عشری نظریات اختیار کرلیے اور وہ اپنے مذہبی عقائد کا پُرجوش داعی بھی تھا، جس کی وجہ سے پورے علاقے کی مسلکی صُورتِ حال بدل گئی۔ وہ ایک اچھا شاعر، عمارتیں بنانے کا شوقین اور بہادر نوجوان تھا، مگر شراب نوشی کی کثرت اُسے لے بیٹھی۔اُس نے محض36سال کی عُمر پائی۔
اسماعیل کی فوج ’’قِزِلباش‘‘ (qizilbaash)کہلاتی تھی۔’’ریختہ‘‘ کے مطابق’’ اِس لفظ کا مطلب’’ سُرخ سر‘‘ ہے۔اسماعیل صفوی نے اپنے لشکریوں کے لیے بارہ گوشے کی سُرخ ٹوپی مقرّرکی تھی، اِس لیے اِن لشکریوں کو قزلباش کہا جانے لگا۔ تاہم، بعض لوگوں کا خیال ہے کہ قزلباش اُن قیدیوں کی اولاد ہیں، جنہیں تیمور نے شاہ اسماعیل کے والد کے کہنے پر آزاد کردیا تھا، یہ لوگ سُرخ ٹوپیاں پہنتے تھے۔ طہماسپ اِسی اسماعیل صفوی کا بیٹا تھا، جس نے ہندوستان سے فرار ہو کر آنے والے ہمایوں بادشاہ کو پناہ دی تھی۔
اب ہم اپنے خطّے کا رُخ کرتے ہیں۔ یہاں کے بادشاہوں میں سے بیش تر نے طویل عُمریں پائیں، مگر اس کے باوجود کئی نوجوان حکم رانوں نے بھی بہت نام کمایا۔ شہاب الدّین غوری وہ پہلا شخص ہے، جس نے 1196ء میں یہاں مسلمانوں کی پہلی باقاعدہ حکومت قائم کی، جو 1857ء تک کسی نہ کسی شکل میں برقرار رہی۔1206ء میں غوری کے قتل کے بعد اُن کا ایک غلام، قطب الدّین ایبک تخت پر بیٹھا۔ دہلی کا’’ قطب مینار‘‘ اسی کی یادگار ہے۔ ایبک کے انتقال کے بعد 1210ء میں اُس کا بیٹا، آرام شاہ تخت نشین ہوا، مگر وہ عملاً بھی’’آرام شاہ‘‘ ہی تھا، اِس لیے ایبک کے غلام اور داماد، شمس الدین التمش نے اپنے برادرِ نسبتی کو اقتدار سے بے دخل کرکے اپنی بادشاہت کا اعلان کردیا۔
التمش اپنی نیک دلی، رعایا پروری اور تقویٰ و پرہیزگاری کے حوالے سے معروف ہیں۔مشہور ہے کہ حضرت خواجہ قطب الدّین بختیار کاکی رحمتہ اللہ علیہ کی وفات کے بعد اُن کی یہ وصیّت سامنے آئی کہ’’ اُن کی نمازِ جنازہ وہ شخص پڑھائے، جس کے اندر چار خوبیاں ہوں۔ کبھی تکبیرِ اولیٰ قضا نہ ہوئی ہو، کبھی تہجّد کی نماز نہ چھوڑی ہو، غیر محرم پر بُری نظر نہ ڈالی ہو اور اُس سے کبھی عصر کی سنّتیں بھی نہ رہ گئی ہوں۔‘‘ تو ہزاروں کے مجمعے میں سے صرف سلطان التمش روتے ہوئے باہر آئے اور اُن کی نمازِ جنازہ پڑھائی۔اِس بادشاہ نے50 سے ایک، دو برس کم عُمر پائی کہ ان کی ولادت کے سال میں اختلاف ہے۔التمش نے وفات سے قبل بیٹوں کی بجائے اپنی بیٹی، رضیہ سلطانہ کو اپنا جانشین مقرّر کردیا تھا، جس نے بڑی تگ ودو کے بعد اقتدار سنبھالا۔ رضیہ سلطانہ برّصغیر کی پہلی مسلم خاتون حُکم ران ہیں۔
اُنھوں نے چار برس تک حکومت کی، جس کے دَوران بہت سی بغاوتوں کا سامنا کرنا پڑا اور ایسی ہی ایک جنگ کے بعد فرار ہوتے ہوئے 35برس کی عُمر میں ماری گئیں۔رضیہ سلطانہ پر کئی فلمز بھی بن چُکی ہیں۔اِس خاندانِ غلاماں کا آخری تخت نشین، کیومرث تھا۔اِسے ہم نوجوان کی بجائے’’ بچّہ بادشاہ‘‘ کہہ سکتے ہیں کہ جب اس کے 21سالہ والد، معز الدّین کیقباد کو جلال الدّین فیروز خلجی نے قتل کروایا، تو یہ اُس وقت محض 3برس کا تھا۔ خلجی نے پہلے تو اس کی بادشاہت کا اعلان کیا اور خُود اس کا وزیر بن گیا، مگر ایک ہی سال بعد اس چار، پانچ سالہ بادشاہ بچّے کو قتل کروا کر خود تخت پر بیٹھ گیا اور یوں خلجی خاندان کی حکومت کا آغاز ہوا۔
خلجی خاندان کا دوسرا بادشاہ، علاؤ الدّین خلجی تھا، جو اپنے چچا اور سُسر، جلال الدّین کو قتل کرکے تخت نشین ہوا تھا۔علاؤ الدّین نے49برس کی عُمر پائی اور لگ بھگ20 برس حکومت کی۔ یہ تاریخ میں اپنی شان دار معاشی اور فوجی اصلاحات کے حوالے سے نمایاں مقام کا حامل ہے، خاص طور پر اس نے منہگائی اور چور بازاری کے خاتمے کے لیے جو قوانین متعارف کروائے اور اُن پر جس سختی سے عمل درآمد کروایا، اُس سے عوام کی زندگی بہت آسان ہوئی۔علاؤ الدّین خلجی کا بیٹا، قطب الدّین مبارک شاہ17برس کی عُمر میں تخت پر بیٹھا اور چار سال بعد ہی انتقال کرگیا،جس کے بعد سلطان غیاث الدیّن تغلق نے ہندوستان میں تغلق خاندان کی بنیاد رکھی۔
ابراہیم لودھی، جس کی زندگی46برسوں پر محیط رہی، لودھی خاندان کا آخری بادشاہ تھا، جسے ظہیرالدّین بابر نے 1526ء میں پانی پَت کی جنگ میں شکست دے کر مغل خاندان کا اقتدار قائم کیا۔ بابر کی ابتدائی زندگی بہت پُرمشقّت رہی۔12، 13برس کی عُمر ہی سے جنگیں شروع کردی تھیں۔ علاقوں پر قبضے کیے، گنوائے، پھر واگزار کروائے۔ برسوں یہی سلسلہ چلتا رہا، مگر ہمّت نہ ہاری۔اُس کی خود نوشت’’تزکِ بابری‘‘ سے جہاں اُس کی جدوجہد، بہادری اور بلند حوصلے کا پتا چلتا ہے، وہیں اُس کی خوش مزاجی، زندہ دلی اور ادبی ذوق بھی نمایاں ہوتا ہے۔
اُس کی حکومت چار برسوں پر محیط رہی۔بابر کے انتقال کے بعد اُس کا22سالہ بیٹا، ہمایوں بادشاہ بنا، مگر دس برس بعد شیر شاہ سوری نے اُسے ہندوستان سے بھاگنے پر مجبور کردیا۔ وہ بڑی تکالیف اور بے سروسامانی میں ایران پہنچا۔ اِسی فرار کے دوران عمرکوٹ( سندھ) میں اُس کے ہاں اکبر تولد ہوا۔ 15برس بعد اُس نے ہندوستان کا اقتدار دوبارہ حاصل تو کرلیا، مگر اگلے ہی برس48سال کی عُمر میں انتقال کرگیا۔ مغل بادشاہوں نے عام طور پر طویل عُمریں پائیں، البتہ20میں سے8حکم ران ایسے گزرے، جن کی عُمریں19 سے 48 برس کے درمیان رہیں۔