شاعرہ: ڈاکٹر فاطمہ حسن
صفحات: 140، قیمت: 800روپے
ناشر: رنگِ ادب پبلی کیشنز، آفس نمبر 5، کتاب مارکیٹ، اردو بازار، کراچی۔
فون نمبر: 2610434- 0345
ڈاکٹر فاطہ حسن بنیادی طور پر شاعرہ ہیں۔ اُنہوں نے شعری سفر کا آغاز 70ء کی دہائی میں کیا۔ پہلا شعری مجموعہ’’بہتے ہوئے پھول‘‘ 1977ء میں شائع ہوا، جب کہ افسانوی مجموعہ 2000ء میں منظرِ عام پر آیا۔ اُن کی شعری اور نثری کتب کی تعداد بیس سے زیادہ ہے۔ نسائی ادب کی تحریک کو جن معدودے چند خواتین نے بامِ عروج پر پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا، اُن میں ڈاکٹر فاطمہ حسن کا نام نہایت معتبر ہے۔
اِس حوالے سے اُن کی تین کتابیں بھی منظرِ عام پر آچُکی ہیں، جب کہ اُنہوں نے انجمن ترقّیٔ اردو، پاکستان میں معتمدِ اعزازی کی حیثیت سے جو خدمات انجام دیں، وہ بھی تاریخِ ادب میں اُنہیں ہمیشہ زندگی رکھیں گی۔ ’’اردو باغ‘‘ کے قیام کے لیے اُن کی جدوجہد مثالی بھی ہے اور قابلِ قدر بھی، تو ایک کہانی کار کے طور پر بھی اُن کی نمایاں شناخت ہے۔ گویا اُنہوں نے جس میدان میں بھی قدم رکھا، سُرخ رُوئی اُن کا مقدّر ٹھہری۔
ڈاکٹر فاطمہ حسن کو بین الاقوامی سطح پر منعقد ہونے والی کانفرنسز اور مشاعروں میں بھی مدعو کیا جاتا ہے۔ وہ 2020ء سے آرٹس کاؤنسل آف پاکستان (کراچی) کی’’ جوش ملیح آبادی لائبریری و آرکائیو‘‘ کی منتظمِ اعلیٰ ہیں۔ انھیں 2012ء میں حکومتِ پاکستان کی جانب سے ’’تمغۂ امتیاز‘‘ عطا کیا گیا تھا۔ زیرِ نظر مجموعۂ کلام کا تیسرا ایڈیشن ہمارے پیشِ نظر ہے، جس میں 39نظموں اور 22غزلوں کے علاوہ عقیدتی کلام بھی شامل ہے۔ ڈاکٹر ستیہ پال آنند نے پیش لفظ لکھا ہے اور ڈاکٹر نجیبہ عارف نے فلیپ۔
ڈاکٹر فاطمہ حسن کا شعری سفر پوری آب و تاب کے ساتھ جاری ہے اور اُن کا کوئی مجموعہ، پچھلے مجموعوں کا تسلسل نہیں۔ ہر مجموعہ ایک نئے ذائقے سے ہم کنار کرتا ہے۔ گوکہ یہ کتاب پہلی بار 2019ء میں شائع ہوئی تھی، لیکن ایسا لگتا ہے کہ یہ اُن کا نیا شعری مجموعہ ہے کہ اچھی شاعری ہر دَور میں اچھی لگتی ہے۔ گرچہ یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ فاطمہ حسن غزل اچھی کہتی ہیں یا نظم، لیکن ہماری نگاہ میں اُنہوں نے دونوں اصناف سے خوب انصاف کیا ہے۔نیز، ان کی نثری نظموں میں بھی شعری جمالیات موجود ہے۔