بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے وکیل خالد یوسف چوہدری کا کہنا ہے کہ جیل انتظامیہ کی جانب سے قانونی دستاویزات پر دستخط نہیں کروانے دیے گئے۔
اڈیالہ جیل کے قریب میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خالد یوسف چوہدری نے کہا کہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ میں بانی کی کچھ پٹیشنز فائل کرنا ہیں، آج دوسری مرتبہ وکالت نامے اور پاور آف اٹارنی دستخط کروانے اڈیالہ جیل آیا ہوں، اسلام آباد ہائیکورٹ کےحالیہ احکامات کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کرنی ہے۔
خالد یوسف نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی پٹیشنز کو جان بوجھ کر لٹکایا جارہا ہے، کوشش کی جا رہی ہے ہماری پٹیشنز کو غیر موثر کیا جائے، عدالتوں میں پٹیشنز دائر کرنے کیلئے وکالت ناموں پر بانی کے دستخط ضروری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جب پٹیشنز دائر ہوتی ہیں تو عدالتوں کو کسی نہ کسی صورت ریلیف دینا پڑتا ہے۔ سائفر کیس، عدت کیس اور توشہ خانہ ون میرٹ پر سنے گئے تو سزائیں ختم ہوئیں، سپریم کورٹ میں بانی کے میڈیکل کے حوالے سے ہم نے رجوع کرنا تھا۔
وکیل بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے 12 مارچ کے فیصلے کے خلاف بھی پٹیشن فائل کرنی ہیں، جیل انتظامیہ نے نام نوٹ کیا اور انتظار کرنے کو کہا ہے، ٹیکنیکلی کوشش کی جارہی ہے بانی کی کوئی پٹیشن فائل نہ ہو۔
خالد یوسف چوہدری نے کہا کہ بانی کا جو بھی کیس میرٹ پر سنا گیا اس میں بریت ملی، ہم اب دیکھیں گے جو بھی قانونی طریقہ ہوگا اسے استعمال کریں گے۔