وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ہمارے دو جہاز آبنائے ہرمز میں کھڑے تھے، دونوں جہاز فیلڈ مارشل عاصم منیر اور نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کی کوششوں سے آبنائے ہرمز سے گزر گئے۔
خطے کی موجودہ صورتِحال پر اعلیٰ سطح کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا کہ خطے میں جنگ کے شعلے ٹھنڈے کرنے کے لیے ہم نے بھرپور کوشش کی، ڈپٹی وزیرِ اعظم بھی خطے میں کشیدگی میں کمی کے لیے انتھک محنت کر رہے ہیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان نے جنگ بندی کے لیے اپنی بھرپور کوشش کی، اس وقت تک پاکستان کی جانب سے جنگ بندی کی کوششیں جاری ہیں، پاکستان بھی اس جنگ سے بہت متاثر ہو رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جنگ کے نتیجے میں ہمیں معاشی مشکلات کا سامنا ہے، پارلیمنٹیرینز نے تیل کی بچت کو یقینی بنایا، کفایت شعاری مہم میں تعاون پر صدر آصف علی زرداری کا شکریہ، بلاول بھٹو کا خاص شکریہ جنہوں نے اپنے بھرپور تعاون کا یقین دلایا۔
شہباز شریف نے کہا کہ 3 ہفتوں میں وفاق نے پی ایس ڈی پی میں 100 ارب کا کٹ لگایا، جنگی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے وزرائے اعلیٰ نے تعاون کی یقین دہانی کرائی، مشکل صورتِحال میں غریب کو تحفظ دینا اور اشرافیہ کو قربانی کا مظاہرہ کرنا ہے۔
وزیرِ اعظم نے کہا کہ وفاق اور صوبے قومی ترقی اور خوش حالی کے جو منصوبے روک سکتے ہیں روکیں، سیاسی استحکام ہو گا تو ہی معاشی استحکام ممکن ہے، کابینہ نے 2 مہینے کی تنخواہ رضاکارانہ طور پر سرنڈر کی۔
انہوں نے کہا کہ عوام، زرعی شعبے اور گڈز ٹرانسپورٹ کو تحفظ دینا ترجیح ہے، مہنگائی پر قابو پانا بھی ہماری ترجیحات میں ہے۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے یہ بھی کہا کہ مشکل حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے وفاق اور تمام صوبے مل کر وسائل خرچ کریں۔