مرتّب: ایاز پاشا
صفحات: 264، قیمت: درج نہیں
ناشر: جہانِ حمد پبلی کیشنز، نوشین سینٹر، دوسری منزل، کمرا نمبر 19، اردو بازار، کراچی۔
شاعر لکھنوی کا شمار اُن صاحبانِ علم و دانش میں ہوتا ہے، جنہوں نے قیامِ پاکستان کے بعد کراچی کے ادبی منظرنامے کو فعال اور متحرّک بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔وہ مولانا ماہر القادری، بہزاد لکھنوی، تابش دہلوی، راغب مراد آبادی اور محشر بدایونی کے ہم عصر تھے۔ شاعر لکھنوی درجۂ استادی پر فائز تھے اور اُن کے شاگردوں کی تعداد قابلِ رشک تھی، لیکن اب اُن کا نام لیوا کوئی نہیں، یہ بے حسی نہیں تو اور کیا ہے۔بلاشبہ شاعر لکھنوی ایک بہترین شاعر اور نفیس انسان تھے، اُنہوں نے بھرپور ادبی زندگی گزاری اور تاریخِ ادب میں اُن کا نام ہمیشہ زندہ رہے گا۔
زیرِ نظر کتاب اُن کے لائق و فائق صاحب زادے، ایاز پاشا نے شائع کروائی ہے اور اسے پانچ حصّوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلا حصّہ حمد، نعت، سلام اور منقبت پر مشتمل ہے۔ دوسرے حصّے میں 109غزلیں ہیں، تیسرے میں شخصیات کے لیے کہی گئی نظمیں، چوتھے میں قومی نغمے، نظمیں اور ترانے جب کہ پانچویں حصّے میں ’’روشن تارے‘‘ کے عنوان سے بچّوں کی نظمیں شامل کی گئی ہیں۔اس کے علاوہ شاعر لکھنوی کی پہلی اور آخری دونوں غزلیں شامل ہیں، تو بچّوں کے لیے کہی گئی آخری نظم بھی کتاب کا حصّہ ہے۔
کتاب ڈاکٹر شہزاد احمد، طاہر سلطانی اور محمّد ایاز پاشا کے مضامین، جب کہ ڈاکٹر فرمان فتح پوری، پروفیسر سحر انصاری اور خواجہ رضی حیدر کے فلیپ سے آراستہ ہے۔ واضح رہے کہ شاعر لکھنوی کا پہلا مجموعۂ کلام ’’زخمِ ہنر‘‘ 1979ء میں شائع ہوا تھا، جس نے ادبی دنیا سے غیر معمولی پذیرائی حاصل کی۔پھر اُن کا نعتیہ مجموعہ ’’نکہت و نور‘‘ 2000ء میں منظرِ عام پر آیا اور بعدازاں، غیر منقوط کلام 2011ء میں اشاعت پذیر ہوا۔