آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ 18؍ صفر المظفّر 1441ھ 18؍ اکتوبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز
گلگت بلتستان میں دو برس پہلے شادی کی ویڈیو میں نظر آنے والی عورتوں اور مردوں کے مقدمہ قتل کا فیصلہ سنا دیا گیا ہے۔ دو بھائیوں کو قتل کرنے پر ایک ملزم کو سزائے موت اور چار کو عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ ستم ظریفی ہے کہ اس معاملے میں جن خواتین کے قتل کی خبر پر مقدمہ قائم ہوا تھا، ابھی تک یہ بھی واضح نہیں ہو سکا کہ وہ زندہ ہیں یا انہیں قتل کیا جا چکا۔ جب کہ عدالت اس معاملے کی ازسرنو تفتیش سے انکار کر چکی ہے۔ مظفر گڑھ میں ایک نام نہاد پنچائیت کے حکم پر ایک چالیس سالہ بیوہ عورت کے ساتھ اجتماعی زیادتی کی خبر آئی ہے۔ دائرہ دین پناہ کے باسیوں نے اپنے قصبے کے نام ہی کی لاج رکھی ہوتی۔ ادھر سکھر میں چند افراد نے ایک عورت کو بس سے اتار کر تشدد کا نشانہ بنایا اور اپنی گاڑی میں ڈال کر لے گئے۔ غیرت مند سندھی یہ ظلم دیکھتے رہے اور کسی نے اس برائی کو ہاتھ سے روکنے کی کوشش نہیں کی۔ یہ خبریں نہیں، ہمارے اجتماعی شعور کے منہ پر طمانچے ہیں۔ جو معاشرہ عورتوں کے تحفظ کے بارے میں حساس نہیں ، وہاں کس منہ سے تہذیب، تمدن اور ثقافت کے ترانے گائے جاتے ہیں۔ یہ محض حادثاتی واقعات نہیں، یہ معاشرتی روئیے ایسے ناسور ہیں جن کی جڑیں ہماری اجتماعی پسماندگی میں ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ ہم میں اتنی اخلاقی جرأت نہیں کہ ہم ان رویوں پر سنجیدگی سے غور و

فکر کر سکیں ۔ ہم اپنی کتاب قانون سے امتیازی قوانین اور اپنی معاشرت سے صنفی استحصال کو ختم کرنے پر آمادہ نہیں ہیں۔
مختلف مذہبی اور ثقافتی روایات سےتعلق رکھنے والے رجعت پسند صنفی مساوات کی یکساں شدو مد سے مخالفت کرتے ہیں۔ صنفی اور تولیدی حقوق کے بارے میں ایک جیسے رجحانات رکھتے ہیں اورگوناگوں باہمی اختلافات کے باوجود عورتوں کو مردوں سے کمتر سمجھتے ہیں۔انسانی تاریخ میں عورتیں امتیازی سلوک کی بدترین صورتوں کا شکار رہی ہیں۔ درحقیقت معاشرتی، سیاسی اور معاشی میدان میں عورتوں سے امتیازی سلوک مردوں کی بہت بڑی اکثریت کے حق میں جاتا ہے۔ عدم مساوات اور امتیازی سلوک کی اس شرمناک صورت حال نے معاشرے کو ایک بڑی استحصالی سازش کی شکل دے رکھی ہے۔ عورتوں سے بدسلوکی صرف عورتوں ہی سے ناانصافی نہیں بلکہ پوری انسانیت کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے۔عورتوں کی تخلیقی، فکری، پیداواری اور اخلاقی صلاحیتوں کو کچلنے سے اجتماعی انسانی امکان مجروح ہوتا ہے۔
کچھ رجعت پسند تاویل پیش کرتے ہیں کہ عورتوں کے لئے ایک مخصوص دائرہ کار اور بود و باش کے زبردستی عائد کردہ ضابطے دراصل ان کی حفاظت اور احترام کی عکاسی کرتے ہیںلیکن حقیقت یہ ہے کہ مردوں کو نصف انسانی آبادی کا دائرہ کار، صلاحیت اور امکان متعین کرنے کا اختیار کسی نے نہیں دیا۔ عورتوں اور مردوں میں واحد خط امتیاز جسمانی فرق ہے۔ تاہم حیاتیاتی وظائف اور عضویاتی فرق کو انسانی عقل ، صلاحیت اور امکان کی بنیاد قرار نہیں دیا جا سکتا۔ دراصل رجعت پسند ذہن عورت اور مرد میں لکیر کھینچتے ہوئے انسانی جسم کے احترام سے انکار کرتا ہے۔ اگر انسان اپنے جسم کا احترام کھو بیٹھیں اور اپنی جسمانی خصوصیات پر تفاخر یا شرمندگی جیسے احساسات کا شکار ہو جائیں تو وہ سیاسی مکالمے، تمدنی بلوغت اور اجتماعی فیصلہ سازی میں مؤثر آواز اٹھانے کے اہل نہیں رہتے۔ ایسے محجوب اور منفعل انسانوں پر مشتمل معاشرہ آمرانہ اور استحصالی طبقوں کو لامحدود اختیارات کا شکنجہ کسنے میں مدد دیتا ہے۔
رجعت پسند فلسفے میں عورت کے تین ہی مناسب وظائف ہیں: بچے پیدا کرنا، گھر کی چاردیواری میں کھانے پکانے ، کپڑے دھونے اور جھاڑو دینے کے فرائض انجام دینا نیز عبادت کرنا، تاریخی طور پر عورتوں کو میدان جنگ میں ہتھیار بند ہونے اور لشکر کشی کا اہل نہیں سمجھا گیا اور رجعت پسندوں کے نزدیک پوری انسانی زندگی قتل و جدال کی لامتناہی داستان کے سوا کچھ نہیں۔ لہٰذا غیر جمہوری معاشروں میں عورتیں جنگی مہم جوئی میں عدم شرکت کے باعث خود بخود دوسرے درجے کی شہری قرار پاتی ہیں اسی لئے انہیں حکومت اور معاشرے میں قیادت کے مناصب سے باہر رکھا جاتا ہے۔ حالیہ برسوں میں کچھ بنیاد پرست ریاستوں میں عورتوں کو رائے دہی کا حق دیا گیا ہے لیکن بنیاد پرست حکومت میں رائے دہی کا حقیقی مفہوم تو بنیاد پرست گروہ کی تائید اور رسمی توثیق کے سوا کچھ نہیں ہوتا چنانچہ ایسی غیرحقیقی جمہوریت میں ووٹ کا حق بے معنی ہو کر رہ جاتا ہے۔
رجعت پسند فکر میں مردوں کی عورتوں پر بالادستی کی ایک سیاسی نفسیات بھی ہے۔ غیرجمہوری معاشرے کی گھریلو چاردیواری میں مرد ایک مطلق العنان سربراہ ہے۔ بیوی اور بچوں سے مرد سربراہِ خاندان کی بے چوں و چرا اطاعت کا مطالبہ کیا جاتا ہے ۔ خاندانی زندگی میں اطاعت اور تسلیم و رضا کی اس ذہنی اور عملی تربیت سے حکومت کے لئے معاشرے کو مطلق العنان اطاعت کے ڈھب پر لانا آسان ہو جاتا ہے۔ گھر میں تسلیم و اطاعت کا یہ درس تعلیمی اداروں تک بھی پہنچتا ہے۔ کچھ ریاستیں تو سرے سے عورتوں کی تعلیم ہی پر پابندی عائدکرتی ہیں۔ کچھ صورتوں میں کم عمر بچوں کی تعلیم کے لئے عورتوں کی بجائے مرد اساتذہ کو ترجیح دی جاتی ہے تاکہ نوخیز طالب علم مؤدت اور شفقت کی بجائے درشتی اور تُند خوئی کے عادی ہو جائیں۔ نظم و ضبط کے نام پر تجسس اور جرأت اظہار جیسی صلاحیتوں کو دبایا جائے۔ تحقیق کی بجائے تقلید اور دلیل کی بجائے منقولی طریقۂ تدریس کو ترجیح دی جاتی ہے۔ نصاب تعلیم میں علمی حقائق کی بجائے نظریاتی تلقین پر زور دیا جاتا ہے۔ اس مشق کا اصل مقصد تابعِ فرمان شہریوں کی کھیپ تیار کرنا ہوتا ہے۔ رجعت پسند افراد عورتوں کے احترام کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن عورتوں کو مردوں سے حقیر گردانتے ہیں۔ تاریخی طور پر پیوستہ مفادات کے پروردہ گروہ ہوائے نفس کے اسیر رہے ہیں۔ انسانی تاریخ میں جہاں رجعت پسندوں نے سیاسی اختیار حاصل کیا، وہاں عصمت فروشی اور بردہ فروشی کو فروغ ملا۔ اس میں ایک نازک سی نفسیاتی علت کارفرما ہے۔ ذہنی رفاقت اور فکری یگانگت سے خالی نفسانی ہوس کا رجحان ہمیشہ نارسائی کے احساس پر ختم ہوتا ہے۔ چنانچہ رجعت پسند ذہن اس احساس نارسائی کی تلافی تشدد اور تحکمانہ اختیار میں تلاش کرتا ہے۔ جدید فکری روایت میں عورت اور مرد کا رشتہ جمہوری ہے۔ یہ رشتہ دو افراد کی ذات کے باہم انکشاف کا نام ہے۔ ایسا انکشاف رتبے ،حقوق اور اختیار کی مساوات کے بغیر ممکن نہیں۔ رجعت پسند ذہن کلی اختیار اور مطلق حاکمیت کے خبط کا اسیر ہے۔ جنسی رفاقت ایک فرد کے دوسرے پر اختیار کا نہیں ، دو تکمیلی ، پیداواری اور تخلیقی اکائیوں کی سانجھ کا نام ہے۔ رجعت پسند ذہن شریک حیات سے رفاقت کی بجائے اطاعت کا طالب ہوتا ہے۔ چنانچہ اُسے عام طور پر کم عمر، مجہول، منفعل اور مطیع ساتھی کی خواہش ہوتی ہے۔ ایسا تعلق تکمیل ہوس کا دروازہ تو کھول سکتا ہے، جذبۂ رفاقت کی تسکین نہیں کر سکتا۔ سو روایت پرست ذہن میں ہوس اور نفرت کے متناقض روئیے جنم لیتے ہیں ۔ لامحدود خواہش اور نخوت آمیز بیگا نگی کا تضاد پیدا ہوتا ہے۔ رجعت پسند فرد کی یہ داخلی خلیج ریاست کے رگ و ریشے میں سرایت کر جاتی ہے۔ عورتوں کے خلاف امتیازی قوانین بنائے جاتے ہیں۔ ان کی نقل و حرکت پر پابندی عاید کی جاتی ہے۔ انھیں تعلیم سے محروم رکھا جاتا ہے۔ ان پر روزگار کے دروازے بند کئے جاتے ہیں۔ تحقیق، تخلیق ، دریافت اور پیداوار کے شعبوں میں عورتوں کی صلاحیتوں سے انکار کیا جاتا ہے ۔ انہیں اجتماعی فیصلہ سازی میں مؤثر آواز سے محروم رکھا جاتا ہے۔ رجعت پسند ذہن عورت کو ایک مکمل انسان نہیں، محض اپنی خواہشات کی تکمیل کا آلہ سمجھتا ہے۔ پڑھنے والوں کو اس رائے سے اختلاف ہو سکتا ہے ۔ اگر یہ تجزیہ غلط ہے تو پھر سوال کیا جانا چاہئے کہ ہم عورتوں کے تحفظ کے لئے زبانی جمع خرچ سے آگے بڑھ کر کیا کر رہے ہیں؟