• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اناپورنی کے فلمسازوں نے انتہا پسندوں کے دباؤ پر معافی مانگ لی

ڈیجیٹل پلیٹ فارم نیٹ فلکس فلم اناپورنی کو ہٹانے کے بعد فلمسازوں نے انتہا پسندوں کے مطالبے پر معافی مانگ لی۔

بھارتی اداکارہ نین تارا کی فلم اناپورنی کے خلاف شیو سینا کے رہنما رمیش سولنکی کی پولیس شکایت کے بعد اسے پہلے نیٹ فلکس نے ہٹا دیا گیا تھا، پھر فلم کے پروڈیوسر ادارے زی اسٹوڈیو ز نے اس پر معافی مانگ لی۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ ماہ کے آخر میں نیٹ فلکس پر ریلیز ہونے والی فلم کے حوالے سے وشوا ہندو پریشد نے زی اسٹوڈیو کو خط لکھا تھا۔

ادارے نے موقف اختیار کیا کہ ہمارا کسی ہندو یا برہمن کے جذبات مجروح کرنے کےلیے فلم نہیں بنائی، ہم ہر طبقے کے جذبات کا احترام کرتے ہیں، بطور شریک پروڈیوسر معذرت خواہ ہیں۔

اس سے قبل رمیش سولنکی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر فلم سے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

انہوں نے فلم میں چند متنازع مناظر کی شکایت کی تھی، ان کا کہنا تھا کہ ان مناظر سے ہندو مخالف جذبات ابھرے ہیں، ان میں سے ایک بھگوان رام کو گوشت خور بتانے والا بھی ہے۔

اپنی ممبئی پولیس کو کی گئی شکایت کی کاپی شیئر کرتے ہوئے رمیش سولنکی نے بتایا کہ ہم نے 3 نکات پوائنٹ آؤٹ کیے ہیں۔

ان میں سے ایک ہندو پجاری کی صاحبزادی کی نماز کی ادائیگی اور بریانی پکانا، دوسرا لو جہاد اور تیسرا ساتھی اداکار کا اداکارہ کو گوشت کھانے پر آمادہ کرنے کےلیے کہنا کہ بھگوان رام بھی گوشت خور تھے۔

انٹرٹینمنٹ سے مزید