معروف بھارتی کوریوگرافر اور فلمساز ریمو ڈی سوزا جن کا اصل نام رمیش گوپی نیئر ہے، اُنہوں نے 15 سال کی عمر میں مذہب تبدیل کرنے کی وجہ بتا دی۔
ریمو ڈی سوزا نے حال ہی میں اپنے ایک انٹرویو میں بتایا کہ میں ایک بات واضح کرنا چاہتا ہوں، لوگ سمجھتے ہیں کہ میں نے شادی کرنے کے لیے مذہب تبدیل کیا لیکن ایسا بالکل نہیں ہے۔
اُنہوں نے بتایا کہ ممبئی آنے سے پہلے میں گجرات کے شہر جام نگر میں تھا، وہاں میں ایک چرچ کے لیے بہت زیادہ کام کرتا تھا، میں ان کے لیے شوز کیا کرتا تھا، کپڑے اکٹھے کرتا تھا اور ان کو بہت زیادہ خیرات بھی دیتا تھا۔
ریمو ڈی سوزا نے بتایا کہ ایک دن چرچ میں موجود فادر ڈیوس میرے پاس آئے اور اُنہوں نے مجھ سے سوال کیا کہ تم چرچ کے لیے اتنا کچھ کرتے ہو، عیسائیت قبول کیوں نہیں کر لیتے؟
اُنہوں نے بتایا کہ فادر ڈیوس کے سوال نے مجھے سوچنے پر مجبور کیا، میرے کزن اور وہاں موجود زیادہ تر لوگ کیتھولک تھے، پھر میں نے اپنے والد سے پوچھا کہ کیا مجھے عیسائیت کو قبول کر لینا چاہیے؟ والد نے جواب دیا کہ میرا نام نہیں بدلنا، باقی جو کرنا چاہتے ہو کرو۔
ریمو ڈی سوزا نے اپنے آنجہانی والد کی خواہش کا احترام کیا اور وہ آج بھی اپنا پورا نام ’ریمو گوپی ڈی سوزا‘ لکھتے ہیں۔
واضح رہے کہ ریمو ڈی سوزا نے لیزیل نامی عیسائی خاتون سے 1999ء میں شادی کی تھی اور شادی کے وقت ان کی عمر 20 سال تھی، اب اس جوڑی کے ہاں 2 بیٹے بھی ہیں، جن کے نام اڈونیس اور گیبریل ہیں۔