پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینئر رہنما اعظم سواتی نےکہا ہے کہ جمہوریت کی بقا کےلیے قانون کی پاسداری یقینی بنانا ہوگی، الیکشن کمیشن شفاف انتخابات کے سوا ہر کام کررہا ہے۔
پشاور میں میڈیا سے گفتگو میں اعظم سواتی نے کہا کہ الیکشن کمیشن ادارہ نہیں بلکہ سہولت کا رہا ہے، ہم بدلہ لینے کے بجائے ملک کے لیے کام کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ سینیٹ میں حق اور سچ کی بات کریں گے، مخصوص نشستوں کے لیے سپریم کورٹ گئے ہیں۔
پشاور اپلیٹ ٹریبونل نےسینیٹ الیکشن کاغذات مسترد ہونے کے لیے اعظم سواتی اپیل پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔
اعظم سواتی اور ان کے وکیل بیرسٹر وقار اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر ٹریبونل میں پیش ہوئے۔
وکیل نے بتایا کہ اعظم سواتی کے کاغذات جنرل اور ٹیکنوکریٹ نشستوں پر مسترد ہوئے ہیں، میرے موکل کے کاغذات تاج محمد کے اعتراض پر مسترد ہوئے۔
وکیل نے مزید کہا کہ اعظم سواتی پر غلط معلومات فراہم کرنے کا اعتراض ہے کہ مقدمات کی تفصیل نہیں بتائی، معلوم مقدمات کی تفصیل دی ہے۔
وکیل نے یہ بھی کہا کہ اعظم سواتی 18 سال سینیٹر بھی رہے، دو مرتبہ ٹیکنوکریٹ سینیٹر رہے ہیں۔
وکیل شکایت کنندہ نے کہا کہ ایسے مقدمات بھی ہیں، جس میں اعظم سواتی نے ضمانت لی لیکن کاغذات میں نہیں بتایا، خود کو ٹیکنوکریٹ کہنا بھی غلط بیانی ہے۔
جسٹس شکیل نےکہا کہ وہ یہ دعوی کررہا ہے، یہ غلط بیانی نہیں، اگر حلف لے کر دیتا ہوں اور وہ نہ ہوتے تو پھر غلط بیانی ہوتی۔
پشاور اپیلیٹ ٹریبونل نے وکلا کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔