آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ26؍ جمادی الاوّل 1441ھ 22؍ جنوری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

نیوکلیئر سپلائی گروپ میں پاکستان اور بھارت کی رکنیت

نیوکلیئر سپلائی گروپ (NSG) کا قیام 1974ء میں بھارت کے جوہری دھماکے کے نتیجے میں عمل میں آیا جس کا بنیادی مقصد دنیا میں جوہری ہتھیاروں کے پھیلائو کو روکنا ہے۔ اس گروپ کا کوئی ممبر جوہری مواد کی سپلائی صرف اسی صورت میں کرسکتا ہے جب وہ اس بات کا اطمینان کرلے کہ اس کی سپلائی کے نتیجے میں جوہری ہتھیاروں کا پھیلائو نہیں ہوگا۔ اس وقت نیوکلیئر سپلائی گروپ کے 48 رکن ممالک ہیں جن میں ارجنٹائن، آسٹریلیا، آسٹریا، بیلاروس، بلجیم، برازیل، بلغاریہ، کینیڈا، چین، کروشیا، قبرص، چیک ری پبلک، ڈنمارک، ایسٹونیا، فن لینڈ، فرانس، جرمنی، یونان، ہنگری، آئس لینڈ، آئرلینڈ، اٹلی، جاپان، قزاقستان، کوریا، لیٹویا، لتھوانیا، لکسمبرگ، مالٹا، میکسیکو، نیدرلینڈز، نیوزی لینڈ، ناروے، پولینڈ، پرتگال، رومانیہ، روس، سربیا، سلواکیہ، سلوینیا، جنوبی افریقہ، اسپین، سویڈن، سوئٹزرلینڈ، ترکی، یوکرائن، برطانیہ اور امریکہ شامل ہیں۔
توانائی کی بڑھتی ہوئی ضروریات کی وجہ سے مستقبل میں جوہری ری ایکٹروں سے سول نیوکلیئر توانائی کا حصول بڑھے گا جو دنیا میں ایک ابھرتی ہوئی بڑی منڈی ثابت ہوگی۔ پاکستان میں توانائی کا بحران ہے اور لوڈشیڈنگ سے صنعتی پیداوار متاثر ہورہی ہے جس سے ہر سال ہمیں 2% جی ڈی پی کا نقصان ہورہا ہے۔ اس وقت ملک میں 35.2%

بجلی فرنس آئل، 30% ہائیڈرو، 29% گیس، 5.8% نیوکلیئر اور دیگر ذرائع سے پیدا کی جارہی ہے جس کی وجہ سے ہماری بجلی کی اوسط لاگت خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں نہایت زیادہ ہے، مطلوبہ معاشی ترقی کیلئے صاف، محفوظ اور سستی توانائی کا حصول پاکستان کیلئے ناگزیر ہے۔ اس وقت ملک میں کینپ، چشمہ I، II نیوکلیئر پاور پلانٹس سے 725 میگاواٹ سول نیوکلیئر انرجی سے بجلی حاصل کی جارہی ہے جو ہماری مجموعی بجلی کی پیداوار کا صرف 4.7% ہے۔ امید ہے کہ کراچی کے کینپ2,3 اور پنجاب میں چشمہ III اور IV سول نیوکلیئر انرجی منصوبوں کے 2022ء تک مکمل ہونے کے بعد ہمیں مزید 3000 میگاواٹ سول نیوکلیئر انرجی حاصل ہوجائے گی۔میں نے 25اپریل 2016ء کے کالم ’’پاکستان کی نیوکلیئر سیکورٹی میں بہتری‘‘ میں ان اقدامات کا ذکر کیا تھا جس سے ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان ایک ذمہ دار ایٹمی ریاست ہے ۔ گزشتہ نیوکلیئر سیکورٹی کانفرنس میں ایٹمی ماہرین نے بھارتی جوہری مواد کی چوری کے 5 واقعات پر تشویش اور پاکستان کے ایٹمی مواد کی سیکورٹی کی تعریف کی تھی۔ پاکستان کے اطمینان بخش ٹریک ریکارڈ کو مدنظر رکھتے ہوئے انٹرنیشنل اٹامک انرجی کمیشن نے پہلی بار اپنے ہیڈ کوارٹر کے علاوہ پاکستان میں 14 مارچ سے 18 مارچ 2016ء تک جوہری سلامتی تربیتی کانفرنس اسلام آباد میں منعقد کی اور پاکستان کے سینٹر آف ایکسی لینس آف نیوکلیئر سیکورٹی کے تربیتی معیار کو سراہا۔
بھارت نے 13 مئی اور پاکستان نے 19 مئی کو باضابطہ طور پر نیوکلیئر سپلائی گروپ میں رکنیت کیلئے درخواست دی تھی اور 20 سے 24 جون کو نیوکلیئر سپلائی گروپ کے باضابطہ اجلاس میں ان دونوں ممالک کی رکنیت کی درخواست پر غور کیا گیا لیکن دونوں ممالک کو ممبر شپ دینے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ قارئین! نیوکلیئر سپلائی گروپ کے رکن ممالک کیلئے ضروری ہے کہ وہ جوہری عدم پھیلائو کے معاہدے (NPT) پر دستخط کرچکے ہوں لیکن بھارت، پاکستان اور اسرائیل نے این پی ٹی پر دستخط نہیں کئے ہیں جبکہ بھارت 2008ء میں امریکہ سے تعاون کرکے اپنے لئے نیوکلیئر سپلائی گروپ کے کئی قواعد سے استثنیٰ حاصل کرچکا ہے۔ 2009ء میں امریکہ نے بھارت سے ’’انڈو، یو ایس‘‘ نیوکلیئر معاہدہ کیا جبکہ 15 جولائی 2015ء کو دونوں ممالک کے مابین 60 معاہدے کئے گئے جس سے امریکی، بھارتی عزائم اور گٹھ جوڑ کا پتہ چلتا ہے۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے نیوکلیئر سپلائی گروپ کے اجلاس سے قبل امریکہ، چین، میکسیکو اورسوئٹزرلینڈ کے کئی دورے کئے اور امریکہ نے بھارت کی اس گروپ میں رکنیت کی حمایت کیلئے ایک زبردست مہم شروع کی لیکن چین، برازیل، ترکی، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور سوئٹزرلینڈ نے بھارت کی نیوکلیئر سپلائی گروپ کی رکنیت کی مخالفت کی ہے۔
گزشتہ دنوں پاکستان کی ممتاز نیوکلیئر ایکسپرٹ اور سائوتھ ایشین اسٹرٹیجک اسٹیبلٹی انسٹی ٹیوٹ(SASSI) یونیورسٹی کی ڈائریکٹر جنرل اور اُن کی ٹیم کو FPCCI نے نیوکلیئر سپلائی گروپ پر پریذنٹیشن دینے کیلئے فیڈریشن ہائوس مدعو کیا جس میں میرے علاوہ ٹی ڈیپ کے سی ای او ایس ایم منیر، فیڈریشن کے قائم مقام صدر خالد تواب، حنیف گوہر، ارشد فاروق، زبیر طفیل، گلزار فیروز، عبدالسمیع خان اور دیگر نے شرکت کی۔ ڈاکٹر ماریہ سلطان سے میرے پرانے تعلقات ہیں اور ہم اکثر ٹی وی کے پروگراموں اور پرائم منسٹر ہائوس کی بریفنگز میں ملتے رہے ہیں۔ انہوں نے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کی المنائی کی نیشنل سیکورٹی پر کراچی میں منعقدہ ایک اہم سیمینار جس میں میرے علاوہ کور کمانڈر، ڈی جی رینجرز سندھ اور دیگر اہم شخصیات شریک تھیں، میں بہترین مقالہ پڑھا تھا جس کو شرکاء نے نہایت سراہا تھا۔ اس بار فیڈریشن میں ڈاکٹر ماریہ سلطان نے نیوکلیئر سپلائی گروپ میں پاکستان کی رکنیت اور ہائی ٹیکنالوجی ٹریڈ پر اس کے اثرات پر ایک بہترین پریذنٹیشن دی اور پاکستان کے نیوکلیئر سپلائی گروپ میں رکنیت نہ ملنے سے ہماری صنعت و تجارت پر منفی اثرات کے بارے میں بتایا۔ آج میں ڈاکٹر ماریہ سلطان کی پریذنٹیشن اپنے قارئین سے شیئر کرنا چاہوں گا۔
نیوکلیئر سپلائی گروپ میں دو کیٹگری ہیں۔ پہلی کیٹگری میں نیوکلیئر میٹریل، آلات، سپر کمپیوٹرز، سینسر لیزرز، بحری آلات اور متعلقہ سروسز شامل ہیں جبکہ دوسری کیٹگری میں میٹریل، کیمیکلز، مواصلاتی نظام، نیوی گیشن اور ایرواسپیس شامل ہیں۔نیوکلیئر سپلائی گروپ متفقہ فیصلے کے ذریعے ان میٹریل، آلات اور کیمیکلز کو سپلائی کرنے کی اجازت دے سکتا ہے ۔ نیوکلیئر سپلائی گروپ کی کیٹگری I اور II میں شامل میٹریل، کیمیکلز اور آلات نیوکلیئر کے علاوہ سول اور کمرشل مقاصد کیلئے بھی استعمال ہوتے ہیں۔ بھارت کیٹگری II کے آئٹمز کیلئے ایک بڑی مارکیٹ ہے۔ مثال کے طور پر کیٹگری 2 میں شامل کیلشیم فلورائٹ، ایلمونیم اور گلاس بنانے میں استعمال کیا جاتا ہے۔ بیری لیم کمپیوٹر، موبائل فون اور مواصلاتی آلات بنانے کیلئے استعمال ہوتا ہے۔ میگنیشیم اوکسائیڈسیمنٹ بنانے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔ ٹائی ٹینیم جیٹ فائٹر، میزائل، لیپ ٹاپ بنانے میں استعمال ہوتا ہے۔ بھارت اگر یکطرفہ طور پر نیوکلیئر سپلائی گروپ کا ممبر بن جاتا ہے تو وہ قانونی طور پر پاکستان کو مندرجہ بالا اہم میٹریل، آلات اور کیمیکلز کی سپلائی ویٹو کرسکتا ہے جس سے پاکستان کی صنعتی مقابلاتی سکت ختم ہوجائے گی لہٰذا نیوکلیئر توازن کو برقرار رکھنے کیلئے یہ ضروری ہے کہ بھارت اور پاکستان کو ایک ساتھ نیوکلیئر سپلائی گروپ کی ممبر شپ دی جائے جس کیلئے پاکستان کو سفارتی سطح پر اپنی کوششوں کو بڑھانا ہوگا۔ ڈاکٹر ماریہ نے مجھ سے درخواست کی ہے کہ سندھ میں اعزازی قونصل جنرلز کے ڈین کی حیثیت سے ہماری کارپس نیوکلیئر سپلائی گروپ کے 48 ممبر ممالک سے سفارتی سطح پر NSG میںپاکستان کی ممبرشپ کیلئے کوششیں کرے۔پاکستان کو اپنے کیس میں یہ ثابت کرنا ہوگا کہ پاکستان ایک ٹیکنالوجی ابزورمنٹ ملک ہے یعنی ہم ہائی ٹیکنالوجی کو محفوظ رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، ہمارے نیوکلیئر کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کو دنیا نے سراہا اور پاکستان کا بہترین سیفٹی ٹریک ریکارڈ ہے، پاکستان نے ہمیشہ جوہری عدم پھیلائو میں عالمی کوششوں کا ساتھ دیا ہے۔ ہم 42 سا ل سے اپنے سول نیوکلیئر بجلی گھروں کی کامیابی سے حفاظت کررہے ہیں اور ہمیں اپنی انرجی کی کمی کو پورا کرنے کیلئے مزید سستی سول نیوکلیئر انرجی کی اشد ضرورت ہے تاکہ ملک میں صنعتکاری سے نئی ملازمتیں پیداکرکے ملک میں غربت میں کمی لائی جاسکے۔