آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ5؍ ربیع الاوّل 1440ھ 14؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
سکھ مذہب کے بانی بابا گرونانک کی 1469ء میں پیدائش سے قبل ننکانہ کا نام ’’رائے بھوئے کی تلونڈی‘‘ تھا۔ گرونانک کے والد کلیان چند کھتری عرف کالو مہتہ رائے بھوئے بھٹی کے بیٹے بلار خان بھٹی کے پاس منشی کے طور پر ملازم تھے۔ تلونڈی بنیادی طور پر ایک ہندو آبادی تھی مگر یہاں کا جاگیردار رائے بلار خان بھٹی نو مسلم تھا۔ نانک سے نسبت کی وجہ سے اس آبادی کا نیا نام ننکانہ یعنی ’’نانک کا آنا‘‘پڑ گیا۔ مختلف تاریخی روایتوں کے مطابق اُس وقت ڈیرہ غازی خان سے تشریف لائے ہوئے ایک صوفی بزرگ سید مراد شاہ المعروف بابا نولکھ ہزاری ؒ ننکانہ کی نواحی آبادی شاہکوٹ (یہ آبادی بھی سید مراد شاہ کی آمد کی نسبت سے شاہ کوٹ یا شاہ دا کوٹ کے طور پر مشہور ہوئی) میں آکر آباد ہوئے۔ بابا نولکھ ہزاری ؒ کا رائے بلار بھٹی کے پاس کافی آنا جانا تھا۔ ایک دفعہ اسی طرح کی ایک ملاقات کے دوران گرونانک کے والد کالو مہتہ بھی موجود تھے۔بابا نولکھ ہزاری نے انہیں خوشخبری دی کہ ان کے گھر بہت جلد ایک بیٹا پیدا ہوگا اور نولکھ ہزاریؒ کی بشارت کے مطابق کچھ ہی عرصہ بعد کالو مہتہ کے گھر بیٹا پیدا ہوا جس کا نام نانک رکھ دیا گیا۔ نانک اپنی بہن نانکی بی بی سے کوئی پانچ سال چھوٹے تھے۔ نانک نے اپنی زندگی کے ابتدائی 16سال اسی بستی میں گزارے۔ بچپن میں نانک سے کئی ایسی

خارق العادت باتیں ظہور پذیر ہوئیں جن کی پورے علاقے میں مشہوری ہوگئی۔ سب سے پہلے ان خارق العادت باتوں کا مشاہدہ کرنے اور ان کو ماننے والوں میں رائے بلار بھٹی اور نانک کی بڑی بہن نانکی بی بی تھیں۔ رائے بلار بھٹی ساری زندگی بابانانک کا قدر دان رہا حتیٰ کہ 1515ء میں انہوں نے اپنی موت سے قبل تقریباً ساڑھے سات سو مربع اراضی گرونانک کے نام وقف کر دی تھی۔ رائے بلار بھٹی کی قبر شہر کے جنوب مغربی طرف ایک بلند ٹبہ(دھولر ٹبہ) پر واقع قبرستان میں آج بھی موجود ہے اور ضلعی انتظامیہ نے قبرستان کے قریب ایک چھوٹا ساپارک تعمیر کیا ہے اور رائے بلار کی قبر کے اوپر ایک چھوٹا سا گنبد بھی تعمیر کرایا ہے۔
گرو نانک کے والد نے نانک کو ایک اسکول میں داخل کرایا مگر پھر کچھ ہی عرصہ بعد مال مویشی چرانے پر لگا دیا اور پھر آخر میں اسے تجارت کی ترغیب دی۔ ایک دفعہ نانک کے والد نے نانک کو بیس روپے دیئے تاکہ منڈی چوہڑ کانہ (موجودہ فاروق آباد) جاکے تجارت کرے۔ جاتے ہوئے نانک کو والد نے ہدایت کی کہ سچا اور کھرا سودا کرکے آنا ہے ۔ اس سفر میں خاندانی ملازم بالا جٹ بھی نانک کے ہمراہ تھا۔ راستے میں نانک کو ایک جگہ پر کچھ سادھو بیٹھے ہوئے نظر آئے، سادھوؤں نے کئی دنوں سے کھانا نہیں کھایا تھا۔ نانک نے اپنے بیس روپے کا کھانا لاکر ان سادھوؤں میں تقسیم کر دیا اور کہنا شروع کردیا کہ بھوکوں کو کھانا کھلانے سے بڑھ کر اور کوئی سچا سودا نہیں ہوسکتا۔ اسی واقعہ کی یادگار کے طور پر بعد میں وہاں گردوارہ ’’سچاسودا‘‘ تعمیر ہوا جو آج بھی موجود ہے اور ہر سال ہزاروں سکھ وہاں کی زیارت کو جاتے ہیں۔ ننکانہ شہر میں بابا نانک کی ابتدائی زندگی کے مختلف واقعات کی یادگار کے طور پر کئی گردوارے بنائے گئے ہیں ۔ گرودوارہ کا لفظی مطلب "گرو کا دروازہ"ہے۔ ننکانہ شہر میں کل آٹھ گردوارے ہیں جن میں سب سے مشہور گرودوارہ ’’جنم استھان ‘‘ہے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں بابا گرونانک کی پیدائش ہوئی تھی۔ دراصل یہ وہی گرودوارہ ہے جس کے لئے دنیا کے کونے کونے سے لوگ زیارت کے لئے آتے ہیں۔ یہ سارے گرودوارے اپنی موجودہ شکل میں رنجیت سنگھ کے دور حکومت میں بنائے گئے تھے۔ 1921ء میں اکالی تحریک کے احتجاجی مظاہرین نے ان گردواروں کا انتظام سنبھالنے کے لئے احتجاج کیا جس کے نتیجے میں گردوارہ جنم استھان میں ان احتجاجی سکھوں پر اندھا دھند فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں دوسو کے قریب سکھ مارے گئے۔ کچھ کے جسموں کا قیمہ تک بنایا گیا اور کچھ کو درختوں سے لٹکاکر آگ میں بھون دیا گیا۔ اسی طرح کا ایک درخت ’’شہیدی جنڈ‘‘ آج بھی گردوارہ جنم استھان میں موجود ہے۔
جب نانک کی عمر 16سال ہوئی تو نانک اپنی بہن نانکی بی بی، جس کی شادی سلطان پور میں ہوئی تھی ، کے ہمراہ سلطان پور چلے گئے اوروہاں کچھ عرصہ ملازمت کی۔ بابا نانک نے1487ء میں بٹالہ میں شادی کی اور ان کے دو بیٹے ہوئے۔ گرو نانک نے اپنی زندگی میں چار بڑے سفر کئے اور کئی سالوں میں ہزاروں میل کا سفر طے کرکے بغداد، مکہ، مدینہ، تبت، سری لنکااور کئی دوسرے ممالک کا سفر کیا۔ نانک نے اپنی تعلیمات میں خدا کی وحدانیت ، خدا کے نام کا ذکر ، رزق حلال ،ایمانداری اور غریب لوگوں کے دکھ درد اور خوشیوں میں شریک ہونے پر بڑا زور دیا۔ بابا نانک کے دیوان میں ساڑھے سات ہزار سے زیادہ اشعار ہیں ۔ بابا گرونانک نے گرو انگد کو اپنا جانشین اور دوسرا گرو مقرر کیا۔سکھ مذہب میں کل دس گرو آئے اور گیارہواں گرو سکھ مذہب کی مقدس کتاب’’گرو گرنتھ‘‘صاحب کو کہا جاتا ہے۔ اس کے بعد گروؤں کے آنے کا سلسلہ بند ہوگیا ہے ۔ گرو گرنتھ صاحب پنجابی زبان میں ہے اور گورمکھی رسم الخط میں لکھی ہوئی ہے ۔اس مقدس کتاب میں بابا گرونانک اور کچھ دوسرے گرؤئوں کی تعلیمات اور اقوال کے علاوہ بابا فرید گنج شکر کے شلوک (شعر) اور کبیر کا کلام بھی شامل ہے۔ بابا گرونانک نے اپنی زندگی کے آخری ایام کرتار پور ضلع نارووال میں گزارے اور وہاں 1539ء میں ان کی وفات ہوئی۔ تاریخی روایتوں کے مطابق ان کی وفات پر ہندوئوں اور مسلمانوں میں تنازع کھڑا ہو گیا۔ مسلمانوں نے دعویٰ کیا کہ نانک مسلمان تھے اور ہم انہیں دفنائیں گے جب کہ ہندوؤں کا دعویٰ تھا کہ نانک ہندو تھے اور ہم اپنے مذہب کے مطابق آخری رسومات ادا کریں گے۔ اسی تنازع کے دوران ایک بزرگ آئے اور انہوں نے کہا لڑنے سے پہلے میت کو تو دیکھ لو۔ چادر اٹھائی گئی تو میت وہاں سے غائب تھی۔ اسی کفن کی چادر کو مسلمانوں اور ہندوؤں نے برابر تقسیم کرکے اپنے اپنے مذہب کے مطابق آخری رسومات ادا کیں۔
بابا گرونانک کی نسبت کی وجہ سے ننکانہ شہر کو دنیا بھر میں بہت شہرت ملی۔ ننکانہ کو 1922ء میں تحصیل کا درجہ دیا گیا اور 2005ء میں اسے ضلع بنادیا گیا۔ ننکانہ کے اہم قصبوں میں سیدوالہ، واربرٹن، شاہ کوٹ، سانگلہ ہل بچیکی، منڈی فیض آباد شامل ہیں۔ سیدوالہ تقریباً پانچ سو سال پرانا قصبہ ہے اور لاہور سے ملتان جانے والے پرانے راستے پر دریائے راوی کے کنارے آباد ہے۔ ایک زمانے میں یہ ضلع گوگیرہ کی تحصیل بھی رہا ہے۔ قلعہ سید والہ بھی بہت مشہور ہے جہاں انگریزوں کے ساتھ لڑائی کے دوران احمد خان کھرل دریائے راوی عبور کرکے یہاں قیام کرتا اور بعض اوقات اس سے بھی آگے قلعہ بچیکی آکے ٹھہرتا تھا۔ مشہور رومانوی کہانی مرزا صاحباں کے کردار مرزا کا تعلق بھی سیدوالہ سے تھا۔ سیدوالہ سے تھوڑا آگے ننکانہ کی طرف مشہور قصبہ بچیکی منڈی واقع ہے ۔ یہاں بھی ایک مشہور قلعہ تھا جسے آج کل اسکول میں تبدیل کردیا گیا ہے۔ قصبہ واربرٹن ایک انگریز پولیس افسر رچرڈوار برٹن کے نام پر آباد کیا گیا ہے جو ریٹائرمنٹ کے بعد یہاں آکر آباد ہوا اور یہاں اسے کافی زمین الاٹ کی گئی تھی۔ بعد میں رچرڈ واربرٹن اپنی زمین اور گھر ایک ہندو کو بیچ کر انگلستان واپس چلے گئے تھے ۔ قصبہ منڈی فیض آباد چاولوں کی ایک بہت بڑی منڈی ہے جس کا پرانا نام دھوکہ منڈی تھا اور کسی ’’سیانے‘‘ کے کہنے پر اس کا نام دھوکہ منڈی سے تبدیل کر کے منڈی فیض آباد رکھا گیا۔اسی طرح شاہ کوٹ اور سانگلہ ہل بھی کافی پرانے اور تاریخی شہر ہیں۔ شاہ کوٹ دراصل وہاں پندرھویں صدی میں آکر آباد ہونے والے مشہور بزرگ سید مراد شاہ المعروف بابا نولکھ ہزاری کے نام کی نسبت سے شاہ کوٹ مشہور ہوا۔ اسی طرح مختلف تاریخی روایتوں کے مطابق سانگلہ ہل شہر بھی سکندر اعظم کے زمانے سے کسی نہ کسی شکل میں موجود رہا ہے۔ ننکانہ صاحب میں ہر سال نومبر کے مہینے میں ہزاروں سکھ یاتری دنیا کے کونے کونے سے حاضر ہوکر گردوارہ جنم استھان میں بابا گرونانک کے جنم دن کی تقریبات مناتے ہیں۔ اسی طرح اپریل کے مہینے میں بھی سکھ یاتری کافی تعداد میں یہاں آتے ہیں جو پہلے حسن ابدال (راولپنڈی) میں گردوارہ پنجہ صاحب کی یاترا کرتے ہیں اور واپسی پر گردوارہ جنم استھان میں حاضری دیتے ہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں