• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

انکار کرنے سے کچھ فرق نہیں پڑتا۔

ناقابل تردید حقیقت ہے کہ بہت سی باتیں، بلکہ بے شمار باتیں ہم سنتے ہیں، ہم پڑھتے ہیں، واقعات اور ماجرائیں جو ہم بھگتتے ہیں اور ناقابل برداشت، تلخ اور کڑوے تجربوں سے گزرتے ہیں، زیادہ تر ہماری سمجھ سے بالاتر ہوتے ہیں۔ مگر، ہم کبھی بھی اپنی کوتاہی، ناقابلیت اور نااہلی کا اعتراف نہیں کرتے۔ ہم خود کو پھنے خان سمجھتے ہیں۔ مجھے سب معلوم ہے، میں سب جانتا ہوں کی خوش فہمی میں گرفتار اپنی زندگی گزار دیتے ہیں۔ حالانکہ اپنی خامیوں اور کوتاہیوں کا اعتراف کرنے سے شعور اور لاشعور پر تذبذب، گھبراہٹ اور بوکھلاہٹ کا غبار کم ہونے لگتا ہے۔ درگزر کرنے کی بجائے ہم الجھی ہوئی اور پیچیدہ حکایتوں کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اپنی کوششوں میں ہم کبھی کامیاب اور کبھی ناکام رہ جاتے ہیں۔ اپنے وجود میں ہم اطمینان محسوس کرتے ہیں کہ ہم نے پیچیدہ حکایت کو سمجھنے کیلئے بھرپور کوشش کی تھی۔ ہم نے سنی سنائی حکایتوں کو آنکھیں بند کرکے قبول نہیں کیا تھا۔ ہم نے بات سمجھنے کی کوشش کی تھی۔

آج ہم پیچیدہ نوعیت کی ایک کہانی سمجھنے کی کوشش کریں گے۔ اس حکایت کو ہمارے برگزیدہ صوفی شعرا نے روحانیت کا درجہ دیا ہے۔ صوفی شعرا نے ایسا کیوں کیا ہے؟ اس سوال کا جواب میرے پاس نہیں ہے۔ سب سے پہلے آپ کہانی کا خلاصہ پڑھ لیجئے۔

لوک کہانی کی ابتدا ہو بہو فلمی کہانی کی طرح ہوتی ہے۔ پورے شہر میں ایک بے انتہا خوبصورت لڑکی کے چرچے تھے۔ بنانے والے نے اس لڑکی کو خوبصورت بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔ دیکھنے والے لڑکی کو دیکھ کر دنگ رہ جاتے تھے۔ انہی دنوں چھوٹے موٹے کاروبار کے سلسلے میں ایک نوجوان کا شہر آنا ہوتا ہے۔ کسی میلے ٹھیلے میں اجنبی نوجوان کا خوبصورت لڑکی سے آمنا سامنا ہوتا ہے۔ دونوں ایک دوسرے کے دل میں جگہ بنا لیتے ہیں۔ دونوں کے درمیان پھر ملنے کے وعدے ہوتے ہیں۔ وعدے وفا ہوتے ہیں۔ ساتھ مرنے جینے کے اقرار ہوتے ہیں۔

محبت خوشبو کی طرح ہوتی ہے۔ اور محبت کی خوشبو کو پھیلنے میں دیر نہیں لگتی۔ شہر بھر میں لڑکے لڑکی کی محبت کے چرچے ہونے لگے۔ سرگوشیاں چہ میگویوں میں بدلنے لگیں۔ والدین نے لڑکی کی شادی کسی دوسرے لڑکے سے کرادی۔ کہانی کے اس موڑ پر آپ لڑکی کے والدین کو بُرا بھلا کہہ سکتے ہیں۔ انسانی حقوق کے حوالے سے آپ لڑکی کے والدین کو کٹھور اور سنگ دل کہہ سکتے ہیں۔ آپ والدین کے رویے پر اعتراض کرسکتے ہیں۔ آپ ان پر ذاتی تنقید کرسکتے ہیں۔ آپ والدین کو روگ کہہ سکتے ہیں۔ آپ والدین کو فاسد کہہ سکتے ہیں۔ آپ معاشرے میں مستقل بحث کی ابتدا کرسکتے ہیں۔ کیا لڑکے اور لڑکی کو اپنی پسند سے شادی کرنی چاہئے، یا والدین کی پسند کے مطابق شادی کرنی چاہئے؟

والدین نے بڑا ظلم کردیا۔ بیٹی کی شادی اپنی پسند کے کسی شخص سے کروادی۔ لڑکی کے لئے یہ بہت بڑا صدمہ تھا۔ وہ نئے ماحول میں اجنبی شوہر کے ساتھ زندگی گزارنے لگی۔

چھوے موٹے کاروبار کے لئے شہر میں آیا ہوا نوجوان اپنی پہلی محبت میں ناکام ہو جانے کے بعد دل برداشتہ ہوچکا تھا۔ اس نے واپس لوٹ جانے کا ارادہ مسترد کردیا۔ لڑکی کی ایک جھلک دیکھنے کے لئے وہ اسی شہر میں رہنے لگا۔ گزر بسر کرنے کے لئے لڑکے نے کچھ بھینسیں پال لیں۔ دنیا سے دل لگانے کی بجائے اس نےدریا کے اُس پار کنارے کے قریب جھگی ڈال دی۔

جس کاتبِ تقدیر نے آپ کی اور میری زندگی کا اسکرپٹ لکھا ہے، اسی کاتب تقدیر نے نوجوان لڑکے اور لڑکی کی المناک زندگی کا اسکرپٹ لکھا تھا۔ محبت فنا ہو جانے کے باوجود راکھ نہیں بنتی۔ انجام و اکرام، وعدے وفا کرنے کی چنگاری سلگتی رہتی ہے۔ چنگاری کسی لمحے بھڑک کر ماضی اور حال کو جلا کر مستقبل کی نئی کتھا لکھ سکتی ہے۔ لڑکے اور لڑکی نے ایک مرتبہ پھر سے ملنے، جینے اور مرنے کے وعدے کئے۔ قسمیں کھائیں۔

اپنے شوہر یعنی میاں کو گہری نیند میں چھوڑ کر، گھڑا لے کر گھر سے نکلتی، بپھرا ہوا دریا عبور کرتی اور رات کا باقی ماندہ حصہ اپنی چاہت کے ساتھ گزارتی اور صبح ہونے سے پہلے لوٹ آتی اور میاں کے قریب سو جاتی۔ عقاب کی سی نظر رکھنے والے ہر زاویے سے عورت یعنی لڑکی کو بدکردار گنواتے ہیں۔ لڑکی پر بداخلاق ہونے کی مہر لگا دیتے ہیں۔ ایک شادی شدہ عورت کا ہر رات میاں کے سو جانے کے بعد چوری چھپے گھر سے نکلنا، اپنے چاہنے والے کے ساتھ ملنا اور وقت گزارنا دنیا کے کسی بھی معاشرے میں معیوب سمجھا جاتا ہے۔ مانا کہ والدین نے لڑکی کو اپنی پسند کی شادی کرنے نہیں دی اور اس کی شادی ظلم اور ناانصافی کی تھی۔

بال کی کھال اتارنے والے پوچھتے ہیں کہ کیا ایک مظلوم عورت کو اخلاقی حق پہنچتا ہے کہ وہ کسی اور سے شادی ہو جانے کے بعد ، میاں کے نیند میں غافل ہو جانے کے بعد اپنے پہلے محبوب سے ملتی رہے؟ آپ کہانی کے کرداروں کو جانتے ہیں ، ان کے نام سے بھی واقف ہیں۔ سوہنی ماہیوال کی کہانی میں روحانیت کہاں ہے؟

اعلیٰ محبت قربانی مانگتی ہے۔ اس لوک کہانی میں سوہنی ماہیوال نے کسی قسم کی قربانی نہیں دی تھی۔

تازہ ترین