لڑائی جھگڑا تو دور کی بات ہے ہمارے درمیان چھوٹی موتی چپقلش بھی نہیں ہوئی تھی۔ کسی قسم کا اختلاف نہیں تھا ہمارے درمیان، ان کو مجھ سے شکایت تھی اور نہ مجھے ان سے کوئی شکایت تھی۔ چھبیس ستائیس برس سے سب کچھ ہمارے درمیان ٹھیک ٹھاک، حسب معمول اور مثالی چل رہا تھا اس نوعیت کی یکساں اور اچاٹ طرز زندگی سے ہم بیزار ہوچکے تھے ہم چاہتے تھے کہ ہماری زندگی میں کچھ غیر معمولی ہوجائے ہمیں جھنجھوڑ کر رکھ دے۔
ہم نے ایک دوسرے سے الگ ہونے کا فیصلہ کرلیا چھبیس ستائیس برس کی یکسانیت کو ہم نے توڑنے کا فیصلہ کرلیا۔ اس نوعیت کا سوانگ رچاتے ہوئے ہم نے کبھی کسی کو نہیں دیکھا تھا دوست دشمن اپنے پرائے کسی کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ میرے اورپونم کے درمیان یہ سب کیا اور کیوں ہورہا تھا۔
طلاق کی کارروائی پوری ہوجانے کے بعد عدالت نے ایک کاغذ پونم کے ہاتھ میں تھمادیا ،کاغذ تھام کر پونم اورمیں بہت دیر تک ایک دوسرے کی طرف دیکھتے رہے تھے، کہنے کےلئے ہم دونوں کے پاس بہت کچھ تھا مگر ہم کہنے سے قاصر تھے عدالت میں سناٹا چھا گیا تھا، ہمارے وکیل ہم دونوں سے دور دور کھڑے ہوگئے ان کی سمجھ سے بالا تر تھا کہ بغیر کسی وجہ کے پونم اور میں الگ کیوں ہورہے تھے ۔وجہ پونم اورمیرے بغیر کسی اور کی سمجھ میں نہیں آرہی تھی کبھی تو کوئی نوک جھونک ہوئی ہوتی ،کبھی تو کوئی ناچاقی ہوئی ہوتی، کبھی تو کوئی چھوٹا موٹا لڑائی جھگڑا ہوا ہوتا ، کچھ بھی تو نہیں ہوا تھا ہم دونوں یکسانیت سے گھبرا گئے تھے پیدا ہونا ، پڑھ لکھ کر جوان ہونا ، ملازمت کرنا ، بچے پیدا کرنا بچوں کیلئے املاک بنانا اور مرجانا، ایسی یک رنگی ،ایک ہی ڈھنگ پر رینگنے والی زندگی ہمیں قبول نہیں تھی۔ پونم اور میں نے ایک دوسرے سے الگ ہوجانے کا فیصلہ کرلیا تھا۔
عدالت سے باہر آنے کےبعد پونم نے مجھ سے پوچھا ، یہ جوکچھ ہم نےکیا ہے کیا اچھا کیا ہے ؟ میں اندر سے ٹوٹ پھوٹ رہا تھا میں نے پونم سے کہا میں تم سے خفا نہیں ہوسکتا تھا ،تم سے ناراض نہیں ہوسکتا تھا تم پر چیخ نہیں سکتا تھا تم پر چّلا نہیں سکتا تھا۔ پونم نم ناک آنکھوں سے میری طرف دیکھ رہی تھی میں نے کہا ’’تم نے مجھے کسی کام سےروکا نہ ٹوکا کبھی میری کسی بات کا برا نہیں منایا کبھی دیر سے گھر آنے کا سبب نہیں پوچھا۔‘‘
اس سے پہلے کہ پونم کی آنکھوں سے آنسو چھلک پڑتے میں نے کہا ، آؤ میں تمھیں گھر چھوڑ دیتا ہوں ۔ پونم شش و پنج میں پڑ گئی ، جھجکی ، میں نے گاڑی کا دروازہ کھولتے ہوئے کہا ، آؤ بیٹھو ۔وہ گاڑی میں بیٹھ گئی ، گھر تک ہم خاموش بیٹھے رہے ڈرائیور نے گھر کےسامنے گاڑی روک دی گاڑی سے اترتے ہوئے میں نے ڈرائیور سے کہا میڈم کا خیال رکھنا انہیں کسی قسم کی تکلیف نہیں ہونی چاہئے۔ برسہا برس سے ڈرائیور ہمارے ساتھ منسلک تھا وہ حیران تھا تذبذب میں تھا زبان سے اس نے کبھی کچھ نہیں کہا سر کو جنبش دی ۔
میں پونم کو گھرکے دروازے تک چھوڑنے آیا پونم نے دروازہ کھول دیا ،کہا آؤ گے نہیں ۔ میں نے جان بوجھ کر ہاتھ میں پکڑا ہوا کاغذ گرادیا،کاغذ اٹھانے کے لئے جھکتے ہوئے میں نے پونم کا پاؤں چھو لیا وہ ایک قدم پیچھے ہٹ گئی ، یہ کیا کررہے ہو ۔ مڑتے ہوئے میں نے کہا میں تو دیوتا نہیں بن سکتا مگر تم دیوی ہو ۔
عدالت میں فیصلہ کرتے ہوئے میں نے گھر گاڑی اور بچے پونم کو دے دیئے تھے ۔ جدا ہوجانے کے بعد بنیادی اندیشوں نے مجھے گھیر لیا پونم کو کسی قسم کی کوئی تکلیف نہ ہو ۔ وہ کسی کی محتاج نہ ہوکہنے کو ہم جدا تو ہوگئے تھے لیکن وہ میرے اور قریب آگئی تھی مجھے میری سانسوں میں پونم کی سانسیں سنائی دیتی تھیں۔ عدالت نے ہمیں قانونی طور پر الگ تو کردیا تھا مگر روحانی طور پر میں پونم کے بہت قریب چلا گیا تھا۔ مجھے بے انتہا خوشی ہوئی تھی جب پونم نے بڑی دھوم دھام سے ہماے بیٹے کی شادی کروائی تھی ۔ پونم نے مجھے دعوت نامہ بھیجا تھا مگر میں پونم اور اپنے بیٹے کے سامنے جانا مناسب نہیں سمجھتا تھا میں خوش تھا کہ پونم خوش تھی۔ زندگی سے مجھے اور کچھ نہیں چاہئے تھا۔
زندگی میں بہت کچھ اچانک اور ناگاہ ہوجاتا ہے پونم نے اپنا مکان بیٹے کے نام کردیا وہ ہمارا اکلوتا بچہ تھا۔ ہوسکتا ہے میں خود بھی اسے شادی کے تحفہ میں مکان اسکے نام کردیتا نجانے کیوں یہ سب مجھے اچھا نہیں لگا۔ مجھے پونم کی غلطی نے تب ذہنی طور پر پریشان کردیا جب ہماری بہو نے پونم کو سرونٹ کوارٹر میں شفٹ کردیا میں تڑپ اٹھا۔
میں نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا پہلی پیشی پر جج صاحب نے مجھے پہچان لیا ۔مقدمہ کی نئی تاریخ دیتے ہوئے جج صاحب نے کہا’’میں جانتا تھا تم ایک دن پچھتاؤ گے‘‘ ۔
اگلی پیشی پر جج صاحب نے پونم کو بھی عدالت میں بلا لیا، جج صاحب نے کہا ’’تم پونم سے دوبارہ شادی کرسکتے ہو مگر اس کے لئے تمھیں اور پونم کو کچھ قانونی اور شرعی تقاضے پورے کرنے پڑیں گے‘‘۔
حیرت سے میں جج صاحب کی طرف دیکھتا رہا ، جج صاحب نے فرمایا، ’’پونم کو دوسرے کسی شخص سے شادی کرنی پڑے گی اس شخص سے طلاق لینے کے بعد تم پونم سے دوبارہ شادی کرسکوگے‘‘۔
’’مجھے یہ فیصلہ قبول نہیں ہے‘‘ جیسے آتش فشاں پھٹ پڑا پونم نے جج صاحب سے کہا ’’میں باقی ماندہ زندگی اپنے بیٹے کی نوکرانی بن کر سرونٹ کوارٹر میں رہتے ہوئے گزار دوں گی مگر دوسرے کسی شخص سے شادی نہیں کروں گی۔‘‘