حسیب نایاب منگی
رمضان المبارک برکتوں، رحمتوں اور مغفرت کا مہینہ ہے، جو ہمیں صبر، ایثار اور قربِ الٰہی کی خُوب صُورت تعلیمات سے بہرہ مند کرتا ہے۔ اس رمضان میں المبارک میں جہاں بڑی عُمر کے افراد روزے، عبادات اور صدقات کے ذریعے اللہ کی رضا حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، وہیں بچّوں کے لیے بھی یہ ایک سُنہری موقع ہوتا ہے کہ وہ اسلامی تعلیمات سے رُوشناس ہوں اور نیکی کے رستے پر چلنے کی ابتدائی مشق کریں۔
گرچہ چھوٹے بچّے روزہ رکھنے کے پابند نہیں، مگر اُن کی دل چسپی،شوق اور جوش دیکھ کر اُن میں اسلامی فرائض واقدار کی چاہت و محبّت پیدا کی جاسکتی ہے۔ اُنہیں رمضان کی فضیلت واہمیت سے متعلق دِل چسپ کہانیاں سنائیں، تاکہ اُن کے دل میں اس مہینے کی عظمت راسخ ہو۔ بچّے فطری طور پر نقّال ہوتے ہیں، جو عموماً اپنے والدین اور بڑوں کے عمل دیکھ کر ہی سیکھتے ہیں۔
اس لیے ضروری ہے کہ والدین اور بڑے بہن بھائی اُن کے سامنے بہترین اعمال کا مظاہرہ کریں، جیسے وقت پر نماز پڑھنا، سحر و افطار کے وقت شُکر ادا کرنا، دوسروں کی مدد، غریب غرباء کو کھانا کھلانا وغیرہ۔ اس طرح بچّے بھی یہ نیک عادات اپنانے کی کوشش کریں گے۔
اِسی طرح اگر کوئی بچّہ بہت شوق سے روزہ رکھنے کی خواہش ظاہر کرے، تو اُسے روزہ رکھنے کی ترغیب دی جائے، تاکہ وہ اس خُوب صُورت عبادت کا خُود تجربہ حاصل کرے اور اُس کے شوق وجستجو میں مزید اضافہ ہو۔ اِسی طرح بچّوں کو سحری اور افطاری میں شامل کرنا، خصوصی دُعائیں سکھانا اور باجماعت نماز کے لیے مسجد ساتھ لے کرجانا بھی اُن میں عبادات کی محبّت و لگن بےدار کرتا ہے۔
نیز، بچّوں کو رمضان کے اصل مقصد سے رُوشناس کروانے کے لیے مختلف سرگرمیوں کا بھی اہتمام کیاجا سکتا ہے، جیسا کہ نیکیوں کا چارٹ بنانا، جس میں ہردن کی نیکی درج کی جائے یا صدقہ دینے کے لیے ایک خصوصی ڈبّا رکھنا، جس میں بچّے اپنی پاکٹ منی سےکچھ نہ کچھ ڈالتے رہیں کہ یہی وہ عُمر ہوتی ہے، جس میں بچّوں کے دِلوں میں، زندگی بھر کے لیے نیکی اور تقویٰ کا بیج بویا جاسکتا ہے۔
اگر والدین اور بڑے اُن کی درست رہنمائی کریں، تو رمضان نہ صرف بڑی عُمر کے افراد بلکہ بچّوں کے لیے بھی روحانی تعلیم وتربیت کا مہینہ بن سکتا ہے۔