صدر ٹرمپ نے گزشتہ دنوں پاکستان کا شُکریہ ادا کیا کہ اس نے کابل خودکُش حملے کے ماسٹر مائنڈ کی گرفتاری میں امریکا کی مدد کی۔ بعدازاں، امریکا کے قومی سلامتی کے مشیر، مائیکل والٹرز نے پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ، اسحاق ڈار کا فون پر شُکریہ ادا کیا۔ کابل خودکُش حملے میں 173 افراد ہلاک ہوئے تھے، جن میں13 امریکی شامل تھے۔ یہ حملہ 2021 ء میں اُس وقت ہوا، جب امریکی فوجی کابل سے واپس جارہے تھے۔
اطلاعات کے مطابق حملے کے ماسٹر مائنڈ، شریف اللہ عرف جعفر کا تعلق داعش سے ہے، جسے بلوچستان میں افغان سرحد کے قریب گرفتار کیا گیا اور یہ کارروائی امریکی اور پاکستانی انٹیلی جینس شیئرنگ کی بنیاد پر ممکن ہوئی۔پاکستانی وزیرِ اعظم، شہباز شریف نے صدر ٹرمپ کا شُکریہ ادا کیا کہ اُنہوں نے دہشت گردی کے خلاف جاری پاکستانی کوششوں کا اعتراف کیا۔
وزیرِ اعظم نے کہا کہ خطّے میں امن کے لیے امریکا کے ساتھ شراکت داری جاری رہے گی۔ پاکستان دنیا کا وہ پہلا مُلک ہے، جس کا صدر ٹرمپ نے اپنی دوسری ٹرم میں شُکریہ ادا کیا ہے، ورنہ تو وہ کیا دوست، کیا دشمن، سب کے خلاف محاذ کھولے کھڑے ہیں۔ یہ شُکریہ کسی ٹویٹ، خط یا انٹرویو میں نہیں، بلکہ کانگریس کے اُس اہم ترین سیشن میں کیا گیا، جس سے امریکی صدر سال میں صرف ایک بار خطاب کرتا ہے۔
افغانستان سے انخلا کے بعد امریکا اور پاکستان کے تعلقات نے وہ گرم جوشی نہیں دیکھی، جو ماضی میں تھی، حالاں کہ امریکا، پاکستان کا سب سے بڑا ٹریڈنگ پارٹنر بھی ہے اور اسے جی ایس پی پلس جیسی تجارتی رعایت دے رکھی ہے۔ دراصل خارجہ امور چلانے والے واشنگٹن کو یہ احساس دلانے میں ناکام نظر آتے ہیں کہ یہ تجارت سراسر امریکی فائدے میں تھی۔ سابقہ سفارت کاروں کے تجزیوں، تبصروں سے بھی اندازہ ہوتا ہے کہ وہ ان تجارتی تعلقات کی اہمیت سمجھنے، سمجھانے سے قاصر رہے کہ ان تعلقات کو ہمیشہ فوجی اور تنازعات ہی کی نظر سے دیکھتے رہے۔
ایک رائے یہ بھی ہے کہ ٹرمپ کا شُکریہ کوئی زیادہ سُود مند بات نہیں۔ وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ امریکا اور مغربی ممالک کے لیے دہشت گردی اور شدّت پسندی آج بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ اور یہ بہت عرصے بعد ہوا ہے کہ کسی امریکی صدر نے ایسے عوامی، پارلیمانی فورم پر پاکستانی حکومت اور اُس کی دہشت گردی کے خلاف کام یاب کوششوں کا کُھلم کُھلا اعتراف کیا ہے۔ٹرمپ نے افغانستان سے وہی مطالبہ کیا ہے، جو پاکستان کا ہے۔ یعنی امریکی چھوڑے گئے ہتھیار کسی صُورت دہشت گردوں کے ہاتھ نہ لگنے پائیں۔
ٹرمپ نے تو اِن ہتھیاروں کی لمبی چوڑی فہرست بھی گنوائی اور افغان عبوری حکومت کو وارننگ دی کہ اگر یہ واپس نہ کیے گئے، تو پھر وہ امریکی امداد کی آس بھول جائے۔ ازبکستان اُن بلیک ہاک لڑاکا ہیلی کاپٹرز کی پہلی کھیپ اِسی دباؤ کے نتیجے میں واشنگٹن کو واپس کرچُکا ہے، جو افغانستان سے امریکی فوج کی واپسی کے وقت وہاں منتقل ہوئے تھے۔ دہشت گرد کی گرفتاری سے یہ بات کُھل کر سامنے آئی کہ امریکا اور پاکستان کے مابین دہشت گردی کے خلاف مضبوط تعاون موجود ہے۔
مشیرِ دفاع نے میڈیا کو بتایا کہ ٹرمپ انتظامیہ اِن روابط کی بنیاد پر پاکستانی حکومت سے اچھے تعلقات استوار کرنے کو تیار ہے۔ اِس مثبت صُورتِ حال سے کیسے فائدہ اُٹھایا جائے، یہ حکومت کی خارجہ پالیسی کے لیے اہم ہوگا۔ ٹرمپ ایک تاجر صدر ہیں اور وہ دنیا کو اِسی نظر سے دیکھتے ہیں، جب کہ ان کے اردگرد سارے اہم مشیر بھی بزنس مین ہیں۔ خوش قسمتی سے اِس وقت پاکستان میں بھی ایک تاجر خاندان حُکم ران ہے۔
مُلکی پالیسی کا محور بھی معیشت، سرمایہ کاری اور تجارت ہے۔پاکستان کوئی چھوٹا مُلک نہیں۔ اِس کی معیشت کم زور ضرور ہے، لیکن خاصی وسیع ہے، جو بڑی سے بڑی آزمائش سے نکل جاتی ہے۔ خواہ کوئی کتنی ہی مایوسی پھیلائے، مُلک دیوالیہ نہیں ہوتا۔ امریکی انتظامیہ، خاص طور پر صدر ٹرمپ کو یہ احساس دلانے کی ضرورت ہے کہ جنوبی ایشیا میں پاکستان کی صُورت ایک اور مُلک بھی ہے، جو ٹرمپ کی بزنس پالیسی کے مطابق ترقّی کرنا چاہتا ہے۔
ایک بات یہ بھی ہے کہ ہمیں اپنی خارجہ پالیسی کو تناذعات کے تناظر میں لو پروفائل میں رکھنا ہوگا کہ یہاں دنیا کے ہر معاملے میں جذباتی ہونے کی عادت سی پڑ گئی ہے۔ ہمیں کسی معاملے میں زیادہ پُرجوش ہونے کی ضرورت نہیں، ہاں اصولی موقف پر ڈٹے رہیں، جیسے دوسرے ممالک کشمیر پر ہماری اصولی حمایت کرتے ہیں۔ دوسری بات یہ کہ باہر بیٹھ کر مُلک کے خلاف پراپیگنڈے کا سلسلہ اب بند ہوجانا چاہیے۔ ایسے افراد یاد رکھیں کہ جمہوریت اور آزادیٔ اظہارِ رائے ٹرمپ کے منشور میں شامل نہیں۔
چند روز قبل ہی اُنھوں نے حُکم جاری کیا ہے کہ جن تعلیمی اداروں میں امریکا مخالف مظاہرے ہوں گے،وہاں کی انتظامیہ کو فارغ کر دیا جائے گا۔ یہ بیرونِ ممالک سے آئے طلبہ کے لیے کُھلا پیغام ہے۔ اُنھیں بتادیا گیا ہے کہ یہاں پڑھو اور انقلاب کے لیے کوئی دوسرا مُلک ڈھونڈو۔
؎’’ہوئے تم دوست جس کے، دشمن اُس کا آسماں کیوں ہو‘‘ یہ مصرع صدر ٹرمپ کے حلیف اور دوست ممالک آج کل بار بار پڑھ رہے ہوں گے، لیکن شاید بے چاروں کو پتا نہیں کہ صدر ٹرمپ بھی یہی بات اپنے دوستوں سے متعلق کہتے چلے آئے ہیں۔ اِن دوست ممالک میں ایک یوکرین ہے، جس کے صدر کو وائٹ ہاؤس میں سبکی کا سامنا کرنا پڑا، تاہم صدر ذیلنسکی نے بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی اور نہلے پے دہلا مارا۔
پھر یورپ ہے، جسے امریکی دوستی اور لیڈر شپ پر بڑا ناز تھا۔ فرانس کے صدر میکرون اور برطانیہ کے وزیرِ اعظم وائٹ ہاؤس کی حاضری کے بعد سر پکڑے بیٹھے ہیں کہ کیا کریں اور کیا نہ کریں۔ کانفرنس پر کانفرنس بُلا رہے ہیں کہ نیٹو کا مستقبل کیا ہوگا، کیا وہ مغرب کی قابلِ اعتماد ڈھال بن سکے گا یا پھر جس امریکی صدر کا دل چاہے گا، اسے ڈکٹیٹ کرے گا۔
پھر کینیڈا اور میکسیکو ہیں، جو امریکا کے پڑوسی اور ہم قوم ہیں، لیکن اُن پر پچیس فی صد ٹیرف عاید کردیا گیا، جواباً وہ بھی ایسا ہی کچھ کر رہے ہیں۔ یہ دوستی ہے، دشمنی ہے یا مقابلہ، کسی کو کچھ سمجھ نہیں آرہا۔صدر ٹرمپ نے ایک موقعے پر چین کے صدر سے متعلق کہا تھا کہ وہ بہت اچھے شخص ہیں اور ان سے مل کر بڑی خوشی ہوتی ہے، لیکن اب چین پر بھی دس فی صد ٹیرف لگا دیا، جس کا چین نے بھی اِسی طرح جواب دیا۔
ٹرمپ نے غزہ کے شہریوں کو مشورہ دیا کہ وہ کہیں اور آباد ہوجائیں تاکہ یہاں ایک سیّاحتی شہر بسا سکیں۔ صدر ٹرمپ کو عُہدہ سنبھالے، دو ماہ بھی نہیں ہوئے، مگر عالمی امور اور میڈیا میں صرف اُن ہی کا ذکر ہو رہا ہے۔ یوں لگتا ہے، ٹرمپ یہ جِتا رہے ہیں کہ دنیا، امریکا کی کتنی محتاج ہے۔ صدر ٹرمپ کی سیاست اور فطرت سے واقف افراد کو تو کوئی حیرت نہیں ہو رہی، لیکن جس بات نے اُنہیں بھی شَشدر کردیا، وہ اُن کی برق رفتاری ہے۔
ٹرمپ اِس امر میں بھی کام یاب رہے کہ جو عالمی میڈیا اُن کے خلاف تھا، اُنھیں نظر انداز کرتا تھا، اب وہ صرف اُن ہی کی خبریں دینے پر مجبور ہے۔ نیز، اُنہوں نے اپنے طاقت وَر صدر ہونے کا تاثر بھی دے دیا کہ پوری دنیا میں ایک ہل چل سی مچا دی ہے۔ ہر ایک اُن کے اقدمات پر ردّ ِعمل دے رہا ہے، خود کوئی پہل کرنے کے قابل نہیں۔
صدر ذیلنسکی سے اُن کی جو تکرار ہوئی، اس میں امریکا کے نائب صدر نے کافی مرچ مسالا ڈالا۔دل چسپ بات یہ ہے کہ ٹرمپ اور ذیلنسکی دونوں یوکرین میں جنگ بند کروانے پر متفق اور نایاب معدنیاتی ذخیرے پر معاہدے کے لیے تیار ہیں، اختلاف صرف فروعی معاملات پر ہے۔ نائب صدر نے میڈیا کے سامنے ذیلنسکی کو ٹوکا اور مطالبہ کیا کہ وہ امریکا کے شُکر گزار ہوں۔ اس پر ذیلنسکی نے کہا’’ مَیں ہوں۔‘‘وینس نے کہا’’ نہیں، ابھی پھر کہیں۔‘‘
اِس پر ٹرمپ نے کہا کہ’’ آپ جنگ بڑی بہادری سے لڑ رہے ہیں، لیکن آپ کو جنگ لڑنے کے قابل ہم نے امداد دے کر بنایا، وگرنہ ایک ہفتہ نکالنا بھی مشکل ہوتا۔‘‘ یہ بات بالکل درست ہے اور صدر جوبائیڈن نے پوری دنیا کے سامنے یوکرین کی مدد کا وعدہ کیا تھا، اب اگر ہر آنے والا امریکی صدر اپنی پالیسی بدلے گا، تو دنیا، خاص طور پر دوست اُس پر کیسے بھروسا کریں گے۔ اس کی گارنٹی کو گارنٹی کون مانے گا۔ سپر پاور ہیں، تو پھر سپر پاور ہی کی طرح رہنا ہوگا۔ جمہوری نظام میں شخصیت ضرور بدلتی ہیں، لیکن اسٹیٹ پالیسی کا تسلسل جاری رہتا ہے۔
اگر امریکا کے دشمنوں کی بات کریں، تو روس اور چین پہلے ہی امریکی پابندیوں کی زد میں ہیں اور اس کی تمام پالسیز، خواہ دفاع سے متعلق ہوں یا معیشت سے، اِنہی کے خلاف ہیں۔چین اور روس کو بھی اب سوچنا پڑے گا کہ اگر امریکا سے آج کوئی معاہدہ کرتے ہیں، تو وہ کتنا دیرپا ہوگا۔ روس کے صدر پیوٹن اور وہاں کا میڈیا آج کل بہت خوش ہے کہ یوکرین، جس پر اُنہوں نے جنگ مسلّط کی تھی، بہت مشکل میں ہے۔ امریکا نے اُسے ہتھیاروں کی سپلائی عارضی طور پر روک دی ہے۔ لیکن اہم یہ بھی ہے کہ ٹرمپ جو کچھ نیٹو، یورپ اور یوکرین کے ساتھ کر رہے ہیں، اگر کل کو وہ اُن کی بات نہیں مانتے، تو پھر کیا ہوگا۔
ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ ایران سے دوبارہ نیوکلیئر ڈیل کرنا چاہیں گے، لیکن اپنی شرط پر اور لگتا یہی ہے کہ شرط میں کوئی لچک بھی نہیں دِکھائیں گے۔یہ بھی یاد رہے کہ ذیلنسکی، ٹرمپ تکرار کے فوراً بعد برطانیہ میں یورپی رہنماؤں کا اجلاس ہوا، جس میں ذیلنسکی بھی موجود تھے، جنہیں یورپ کی بھرپور سپورٹ کا یقین دلایا گیا۔ پھر برسلز میں منعقدہ سیکیوریٹی کانفرنس میں بھی اِس کا اعادہ کیا گیا۔
برطانوی وزیرِ اعظم، امریکا اور یوکرین کے درمیان ثالثی کر رہے ہیں، بلکہ اُنہوں نے ٹرمپ کو اِس امر پر راضی بھی کر لیا کہ یوکرین میں یورپی فوج امن کی نگرانی کرے گی۔ دوسری بات یہ کہ امریکا کی طرف سے اِن یورپی کوششوں پر کوئی تنقید سامنے نہیں آئی۔ بس یہی بات دُہرائی گئی کہ جنگ بندی امریکا کی ترجیح ہے، جس پر یورپ کو بھی کوئی اعتراض نہیں۔ یورپ نے اِس کا بھی وعدہ کر لیا کہ وہ اپنے دفاع پر اُتنا ہی خرچ کریں گے، جتنا امریکا خرچ کرے گا اور ٹرمپ یہی چاہتے تھے۔
غالباً صدر ٹرمپ دنیا سے زیادہ اپنے ووٹرز کو یقین دلانا چاہتے ہیں کہ وہ’’امریکا فرسٹ‘‘ کی پالیسی پر سختی سے کاربند ہیں اور اب کسی کی مجال نہیں کہ وہ اُن سے اختلاف کرے۔ وہ ہر ایک کو جِتا رہے ہیں کہ تم ہمارے احسان کے بوجھ تلے دَبے ہوئے ہو، اس لیے ہمارے شُکر گزار رہو اور ہماری بات مانو۔ ٹرمپ کا یہ کہنا ہے کہ امریکا کو دوستوں اور دشمنوں نے جمہوریت اور امداد کے نام پر بہت لُوٹا اور اب وقت آگیا ہے کہ اِن سب سے اپنے احسان کا بدلہ لیا جائے۔ یوکرین کے معاملے پر تقریباً پوری مغربی دنیا نے ٹرمپ سے اختلاف کیا ہے۔ یورپ کے لیڈر تو بھنّا گئے ہیں، اُنھیں سمجھ نہیں آ رہا کہ کیا کریں، لیکن یورپی لیڈر ڈپلومیسی بڑے ٹھنڈے مزاج سے کرتے ہیں۔اُنہوں نے مل کر پانچ سو سال تک دنیا پر حُکم رانی کی، جس میں ایک امریکا بھی شامل تھا۔
ٹرمپ کی اس جارحانہ پالیسی کے بہت سے رُخ ہوسکتے ہیں۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ وہ کب خوش ہوتے ہیں اور کب ناراض۔یہ بھی نہیں کہ وہ اپنی ہر بات پر ڈٹ جاتے ہوں۔ پہلی ٹرم میں شمالی کوریا کے سربراہ کو صفحۂ ہستی سے مٹانے کی دھمکیاں دیتے رہے اور پھر بڑے آرام سے اُن سے دو بار مذاکرات کیے۔
چین پر کبھی پابندیاں لگاتے ہیں، تو کبھی مذاکرات۔ اور پھر یہ کہ جو دل میں ہوتا ہے، وہ زبان پر لے آتے ہیں اور ڈپلومیسی میں سب سے خطرناک بات یہی ہوتی ہے۔ سفارت کاری میں اشارے کنایوں میں مدعا بیان کیا جاتا ہے کہ اگلا شش و پنج میں رہے کہ اس کا اصل مطلب کیا ہے اور صرف وقت آنے پر اپنے کارڈ شو کیے جاتے ہیں۔
شام کی موجودہ صُورتِ حال اِس کی ایک بہترین مثال ہے۔اسرائیل اور امریکا جنگ تو حماس، حزب اللہ اور ایران کے خلاف لڑتے رہے، لیکن اس کا فائدہ شام میں اُٹھایا اور وہاں سے روس اور ایران کو پسپا کردیا۔ کیا قوم پرست ٹرمپ کسی نئے امریکا یا ورلڈ آرڈر کی تشکیل چاہ رہے ہیں؟ اِس سوال کے جواب کے کئی پہلو ہوسکتے ہیں۔ اوّل، ہاں۔ اِس کا مطلب یہ ہوا کہ امریکا اپنی پالیسیز بدلنے جارہا ہے۔
ٹرمپ بین الاقوامی امور کو بھی نفع، نقصان کی نظر سے دیکھیں گے اور اِس ضمن میں فائدے کے علاوہ کوئی بھی چیز مستقل نہیں ہوگی۔ لیکن فائدہ تو مفادات سے جُڑا ہوا ہے اور مفادات کے حصول کے لیے جو ڈپلومیسی بروئے کار لائی جاتی ہے، اُس میں فوجی اور اقتصادی قوّت ساتھ ساتھ چلتی ہیں۔ جیسے کینیڈا، میکسیکو اور چین پر عاید کردہ ٹیکسز سے ایک سو بلین ڈالرز ملیں گے، لیکن کبھی کبھی یہ اقدامات روزگار اور منہگائی کی شکل میں نقصان دہ بھی ہوسکتے ہیں۔ پھر یہ بھی مشکل ہے کہ محض تجارت اور پیسے سے دوسرے ممالک پر رُعب جما کر عالمی لیڈر شپ حاصل کر لی جائے۔
خود ٹرمپ کہہ چُکے ہیں کہ وہ امریکی فوجی قوّت کو اِتنا مضبوط کردیں گے کہ کسی کی امریکا کو آنکھیں دکھانے کی مجال نہ ہو، لیکن اگر اُن کے سارے دوست کم زور پڑ جائیں، تو اس صُورتِ حال سے اُن کے دشمن فوراً فائدہ اُٹھائیں گے۔
دوسرا منظر نامہ یہ ہو سکتا ہے کہ ٹرمپ نے اپنے اتحادیوں کو پہلے ہی بتا دیا ہو کہ دشمنوں کو تاثر دیا جائے گا کہ سب آپس میں لڑ پڑے ہیں، اب میدان خالی ہے اور پھر دشمن کو گھیرا جائے گا۔ ٹرمپ عُہدہ سنبھالنے سے پہلے یورپی رہنماؤں سے مل چُکے تھے اور یہ ملاقاتیں صرف معانقوں اور مزاج پرسی تک تو محدود نہیں رہی ہوں گی۔ اصل حقیقت کیا ہے، پردہ اُٹھنے کا انتظار کریں۔