الحمدُللہ، ہم پر رمضان المبارک کا بابرکت مہینہ سایہ فگن ہے۔ یہ ماہِ مبارک اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے کہ اِس میں جنّت کے دروازے کھولے اور جہنّم کے بند کردیے جاتے ہیں۔ دنیا بَھر میں اِس مہینے کا نہ صرف احترام کیا جاتا ہے بلکہ روزے داروں کے لیے آسانیاں بھی پیدا کی جاتی ہیں۔
ہر چند کہ رمضان المبارک کی مناسبت سے دُنیا بَھر میں مسلمانوں کے لیے روزمرّہ استعمال کی اشیاء سَستی کردی جاتی ہیں، مگر ہمارے یہاں بالکل برعکس صورتِ حال ہوتی ہے کہ ماہِ صیام کی آمد سےقبل ہی اشیائے خورونوش کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگتی ہیں، یہاں تک کہ کھانے پینے کی اشیاء عوام کی قوّتِ خرید سے باہر ہوجاتی ہیں۔ گرچہ ہر سال رمضان المبارک میں حکومت کی طرف سے مختلف رمضان پیکیجز کے اعلانات بھی کیے جاتے ہیں، مگر وہ بھی صرف دعووں ہی تک محدود رہتے ہیں۔
دیکھا جائے، تو بازاروں میں ہر قسم کی اشیائے خورونوش دست یاب ہوتی ہیں، لیکن گراں فروشی، ناجائز منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی کے سبب سفید پوش افراد بھی اُنہیں خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے، تو غریب غرباء کی توبساط ہی کیا۔ ہاں، یہ ضرور ہے کہ حالات چاہے جیسے بھی ہوں، مُلک بھر کے عوام اور خصوصاً کراچی کے دریا دل لوگ خیر خواہی، ہم دردی و بھائی چارے کی کئی روشن مثالیں ضرور قائم کرتے ہیں۔
جیسا کہ رمضان المبارک کے آغاز ہی سے کراچی کی کئی فلاحی و رفاہی تنظیمیں اور انفرادی سطح پر کئی صاحبِ استطاعت شہری افطار کے وقت روزے داروں کی خدمت میں مصروف ہو جاتے ہیں اور شہر بَھر میں بس اسٹاپس، مساجد اور چوراہوں پر اپنی مدد آپ کے تحت افطار دسترخوانوں کا اہتمام کرتے ہیں۔ مختلف فلاحی و رفاہی تنظیموں کی جانب سےشہرکےمختلف مقامات پر دسترخوان سجائے جاتے ہیں، جن سے روزانہ لاکھوں مستحق، ضرورت مند افراد مستفید ہوتے ہیں۔
گورنر سندھ، کامران خان ٹیسوری کی جانب سے گورنر ہاؤس میں گزشتہ تین برس سے عوام کے لیے افطارڈنر کا اہتمام کیا جا رہا ہے، جس میں عام شہریوں کے علاوہ مختلف شعبۂ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات بھی شرکت کرتی ہیں اوراس موقعے پر گورنر سندھ شہریوں کےاستقبال کے لیےخُود موجود ہوتے ہیں۔ گورنر ہاؤس میں غریب، محنت کش افراد اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ نہ صرف پُرتکلّف افطار کرتے ہیں بلکہ تاریخی عمارت کی تصاویر اور ویڈیوز بھی بناتے ہیں۔
یاد رہے، اِس افطار دسترخوان میں خواتین اور بچّے بھی بڑی تعداد میں شرکت کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں، گورنر ہاؤس میں چاند رات کو خواتین کو مفت منہدی لگانے اور چوڑیاں تقسیم کرنے کا بھی انتظام بھی کیا جاتا ہے۔ مختلف رفاہی تنظیموں کی جانب سے شہریوں کے لیے سحروافطار کے اہتمام کی بات کی جائے، تو اس ضمن میں ’’الخدمت فاؤنڈیشن‘‘ کی خدمات کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ الخدمت فاؤنڈیشن گزشتہ کئی دہائیوں سے دُکھی انسانیت کی خدمت میں سرگرمِ عمل ہے۔
اس رفاہی ادارے کی جانب سے ہر سال رمضان المبارک میں کراچی میں مختلف مقامات پر جو افطار دسترخوان لگائے جاتے ہیں، اُن سے روزانہ ہزاروں افراد مستفید ہوتے ہیں۔ علاوہ ازیں، ادارے کی جانب سے ضرورت مندوں میں نہ صرف معیاری کھانا مفت تقسیم کیا جاتا ہے، بلکہ بے کس و بے سہارا افراد میں راشن بھی بانٹا جاتا ہے۔ شہرِ کراچی کے مختلف علاقوں میں سیلانی ویلفیئر ٹرسٹ کی جانب سے ہر سال رمضان المبارک میں مستحقین میں راشن کارڈز تقسیم کیے جاتے ہیں، جب کہ شہرمیں کئی مقامات پر رمضان دستر خوان بھی لگائے جاتے ہیں۔
اِسی طرح ایدھی فاؤنڈیشن کی جانب سے بھی شہر کے مختلف مقامات پر’’ایدھی دسترخوان‘‘ کا اہتمام ہوتا ہے، جہاں رمضان المبارک میں ہزاروں افراد کو روزہ افطار کروایا جاتا ہے۔ پھر دیگر فلاحی تنظیموں کے علاوہ ’’عالم گیر ویلفیئر ٹرسٹ‘‘ کی جانب سے بھی رمضان المبارک میں شہر کے کئی مقامات پر دسترخوانوں کا انتظام ہوتا ہے، جن سے ہزاروں افراد مستفید ہوتے ہیں۔ نیز، اِسی تنطیم کی جانب سے روزانہ ہزاروں افطار باکسزغریب آبادیوں میں لے جاکر بھی تقسیم کیے جاتے ہیں۔
’’جے ڈی سی‘‘ یا جعفریہ ڈیزاسٹرمینجمنٹ سیل بھی ایک فلاحی تنظیم ہے۔ ویسے تو یہ تنظیم سال بَھر ہی خدمتِ انسانیت میں سرگرم رہتی ہے، لیکن رمضان المبارک میں اس کی جانب سے سحر و افطار کا خاص اہتمام کیا جاتا ہے کہ کراچی میں نمائش چورنگی پر ’’دستر خوانِ امام حسنؓ‘‘ کے نام سےاس کا مرکزی دسترخوان قائم کیا گیاہے، جہاں روزانہ ہزاروں افراد کوبِلاتفریق سحر وافطار کروائی جاتی ہے، جب کہ یہاں سے سحری اور افطاری گھر لے جانے کا بھی وسیع انتظام ہے۔
اس کے علاوہ بچّوں میں کپڑے، خواتین میں چوڑیاں اور دیگر اشیاء بھی تحفتاً تقسیم کی جاتی ہیں، جب کہ قرعہ اندازی کے ذریعے بے روزگار نوجوانوں میں چنگچی رِکشے اور موٹرسائیکلز تک تقسیم ہوتے ہیں۔ اسی طرح کراچی کے علاقے، سندھی مسلم سوسائٹی میں ’’محمود کیفے‘‘ کے نام سے قائم مشہور دسترخوان میں رمضان المبارک میں شہریوں کے لیے افطاری کا خصوصی اہتمام کیا جاتا ہے اور سیکڑوں مزدوروں ،ضرورت مندوں کو مفت کھانا کھلایا جاتا ہے۔
یہاں سال بَھر مخیّر افراد کے تعاون سے نادار افراد کے لیے ناشتے اور دوپہر اور رات کے کھانے کا انتظام کیا جاتا ہے۔ نیز، شہرِ قائد میں ’’فکس اِٹ‘‘ نامی فلاحی تنظيم بھی دُکھی انسانیت کی خدمت کے لیے کوشاں ہے۔ یہ رفاہی ادارہ ہر سال شہریوں کے لیے سحر و افطار دسترخوان کا خصوصی اہتمام کرتا ہے، جب کہ غریب ضرورت مند، بےسہارا افراد میں راشن بھی تقسیم کیا جاتا ہے۔ علاوہ ازیں، اس تنظیم کی جانب سے شہر کی مختلف شاہ راہوں اور گلی کوچوں میں بھی مسافروں کے لیے افطار کا انتظام کیا جاتا ہے۔
دیگر رفاہی تنظیموں کے علاوہ ’’آشیانہ ویلفیئر سوسائٹی‘‘ بھی اس کارِخیر میں اپنا حصّہ ڈال رہی ہے۔ یوں تو یہ تنظیم سال بَھر ہی بے کَس، بے سہارا افراد کی مدد میں مصروف رہتی ہے، مگر رمضان المبارک میں اِس کی جانب سے سحرو افطار کا خصوصی اہتمام ہوتا ہے اور کئی علاقوں میں مستحقین میں راشن بھی تقسیم کیا جاتا ہے۔
اس کے علاوہ شہرِ کراچی میں خدمتِ خلق فاؤنڈیشن، المصطفیٰ ٹرسٹ اور دیگر کئی فلاحی تنظیمیں بھی شہریوں کے سحر و افطار اور راشن کا بندوبست کرتی ہیں، جب کہ بعض شاہراہوں پر نوجوان اپنی مدد آپ کے تحت افطار سے قبل گاڑیوں میں سوار افراد، موٹر سائیکل سواروں اور پیدل چلنے والوں میں افطار باکسز، ٹھنڈے پانی کی بوتلیں اور جُوسز کے ڈبّے وغیرہ تقسیم کررہے ہوتے ہیں۔
نیز، کئی گُم نام مخیّرافراد بھی اس کارِ ثواب میں بڑھ چڑھ کر حصّہ لیتے ہیں۔ بلاشبہ، مادّہ پرستی، نفسانفسی کے اِس دَور میں مذکورہ بالا رفاہی تنظیموں اور مخیّر افراد کی کاوشیں قابلِ صد ستائش اور لائقِ تقلید ہیں۔