• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ماہِ رمضان المبارک، اسلامی تقویم کے اعتبار سے نواں مہینہ ہے۔ یہ تمام مہینوں کا سردار ہے اور اس کے فضائل لامحدود ہیں۔ یہ صبر، ہم دردی اورغم خواری کا مہینہ ہے۔ رمضان وہ واحد مہینہ ہے کہ جس میں شیاطین قید کردیئے جاتے ہیں اور ہر نیکی کا ثواب ستّر گُنا بڑھ جاتا ہے، جب کہ نوافل کا ثواب فرائض کے برابر ہو جاتا ہے۔ نیز، اِس بابرکت مہینے کا پہلا عشرہ رحمت، دوسرا مغفرت اور تیسرا جہنم سے آزادی کا ہے۔ 

اِسی ماہ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب، سرورِ کائنات، حضرت محمّد مُصطفیٰ ﷺ کے قلبِ اطہر پہ قُرآن نازل کیا، تو اِسی ماہ کو غزوۂ بدر اور فتحِ مکّہ سے بھی نسبت ہے۔ رمضان المبارک میں جہاں مسلمان دِن کے وقت اللہ کی رضا کے لیے روزہ رکھتے ہیں، وہیں رات کو نمازِ تراویح کا بھی اہتمام کرتے ہیں۔ پھر اِسی ماہ کے آخری عشرے میں اعتکاف جیسی بابرکت عبادت ہوتی ہے اور اِسی آخری عشرے میں طاق راتوں کو شب بےداری کرکے اللہ کا قُرب حا صل کیا جاتا ہے۔

لفظ،’’رمضان‘‘ دراصل ”رمض“ سے مشتق ہے، جس کے معنی جلانے کے ہیں۔ یعنی رمضان وہ بابرکت مہینہ ہے کہ جو مومن کے گُناہوں کو جلا دیتا ہے۔ قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ ”پس تُم میں سے جو کوئی اس مہینے (رمضان المبارک) کو پائے تو ضرور اس کے روزے رکھے۔‘‘(سورۂ بقرہ، آیت نمبر 185) جب کہ ماہِ صیام کے ضمن میں پیارے آقا حضرت محمّد مُصطفیﷺ کا فرمان ہے کہ ”جس نے ایمان کی بنا پر اور حصولِ ثواب کے لیے (احتساب کے ساتھ) رمضان کے روزے رکھے، اُس کے پچھلے گُناہ اللہ تعالیٰ نے بخش دیے“۔ (بخاری و مسلم) 

قرآن و حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ رمضان المبارک کا مہینہ بڑا بابرکت اور عظمت والا ہے۔ اس کی سب سے خاص عبادت روزہ ہے، جو ایک مومن کو صبر و ایثار اور ضبطِ نفس کی تربیت دیتی ہے۔ بقول حضرت شیخ سعدی شیرازیؒ ؎ ندارند تن پروراں آگہی… کہ پُرمعدہ باشد زحکمت تہی۔ ترجمہ: ’’جولوگ بہت زیادہ کھاتے ہیں، وہ آگہی سے محروم رہتے ہیں، کیوں کہ بَھرا ہوا معدہ حکمت سے خالی ہوتا ہے۔‘‘

جب انسان رمضان المبارک میں اِس تربیتی مرحلے کو اللہ اور اُس کے رسول ﷺ کی ہدایات کے مطابق احسن طریقے سے مکمل کرلیتا ہے، تو اس کے بدلے اللہ پاک نہ صرف اُس کے تمام گناہ بخش دیتا ہے، بلکہ اُسے ”تقویٰ“ کی لازوال دولت بھی عطا فرماتا ہے۔ مثال کے طور پر آپ کسی معیاری ہوٹل میں جائیں، تو وہاں کا عملہ آپ سے اس قدر خوش اسلوبی سے پیش آئے گا کہ آپ کا دل خوش ہوجائے گا، حتیٰ کہ اگر کوئی اُن سے بدتمیزی سے بھی پیش آئے، تو تب بھی وہ جواب دینا تو کُجا از خود معذرت کر لیتے ہیں۔ 

اگر آپ عملے سے استفسار کریں کہ آپ اتنا کچھ کیسے برداشت کرلیتے ہیں؟ تو اُن کا جوا ب ہوتا ہے کہ ’’ہمیں اس طرزِعمل کی باقاعدہ تربیت دی جاتی ہے۔‘‘ تو پتاچلا کہ تربیت حاصل کرنے کے بعد اُس کاشخصیت سے اظہار نہایت اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ اگر کوئی شخص کسی شعبے کی باقاعدہ تربیت حاصل کرے، مگر اُس کی شخصیت، طرزِ عمل سےتربیت کا اثر نہ چھلکتا ہو یا اُس کے کام میں نظر نہ آئے، تو اِس کا مطلب ہے کہ یا تو اُس نے صحیح طور پر ٹریننگ حاصل ہی نہیں کی یا پھرحاصل کر کے بھی گنوا دی ہے۔

یہ اللہ تعالیٰ کا اُمّتِ رسول ﷺ پر کتنا بڑا احسان ہے کہ اُس نے ہماری تربیت کے لیے پورا ایک مہینہ عطا فرمایا ہے، جس میں روزے، تراویح، اعتکاف اور طاق راتوں کے ذریعے ایک مسلمان کو رجوع الی اللہ اور حُسنِ اخلاق کی بہترین تربیت دی جاتی ہے۔

یاد رہے کہ اسلام ایک بامقصد دین ہے، چناں چہ اِس پوری تربیت کا بھی ایک مقصد ہے اور اگر وہ مقصد ہی فراموش ہوجائے،تو ایک مومن رمضان المبارک میں کثیرعبادت و ریاضت کے باوجود ناکام ہے، کیوں کہ وہ نتائج ہی حاصل نہیں ہوئے، جو دراصل اسلام کو مطلوب ہیں۔ اور شاید یہی وجہ ہے کہ رمضان المبارک کے مہینے کے اختتام کے ساتھ ہی ’’چاند رات‘‘ سے سارا ماحول یک سَربدل جاتا ہے۔

غالباً ہمارے معاشرے میں رمضان المبارک بھی اب محض ایک مذہبی تہوار ہی کی صُورت اختیار کرگیا ہے اور اِس کا بنیادی مقصد یعنی تقویٰ کا حصول کسی کے ذہن میں نہیں رہا۔ بقول علاّمہ اقبالؒ ؎ حقیقت خرافات میں کھو گئی… یہ اُمّت روایات میں کھو گئی۔ (ساقی نامہ، بالِ جبرائیل) معاذاللہ، ایک ماہ کی اِس تربیت کےبعد بھی اگرانسان میں سِرے سےکوئی مثبت تبدیلی نہ آئے، تو یہ انفرادی و اجتماعی دونوں اعتبار سے ایک لمحۂ فکریہ ہے۔

بہرحال، خوش آئند پہلو یہ ہے کہ مجموعی طور پر رمضان المبارک میں مسلمانوں کے طرزِعمل میں کچھ بہتری ضرورآتی ہے۔ حضرت مُجدد الف ثانیؒ اپنے مکتوبات میں فرماتے ہیں کہ ’’جس کسی کا رمضان بےترتیب گُزرا، اُس کا سارا سال بے ترتیب گُزرے گا۔‘‘ بےشک، ماہِ صیام رحمت و برکت کا مہینہ ہے۔ اِس ماہ مغفرت کی ہوائیں چلتی، رحمت کی پھوار برستی ہے۔ اب یہ تو ہم پر مُنحصر ہے کہ ہم اس بابرکت مہینے سے کیسے اور کتنا فیض یا ب ہوتے ہیں۔ (مضمون نگار گورنمنٹ سچّل سرمست آرٹس اینڈ کامرس کالج، حیدرآباد میں لیکچرار اسلامک کلچر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں)