آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر10؍ربیع الاوّل 1440ھ 19؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
ہر اس شخص، جسے صبح صبح اخبار بینی کا شوق ہے، کا اپنے مخصوص مزاج، عمر اور شخصیت کے مطابق اخبار کا کوئی نہ کوئی صفحہ پسندیدہ صفحہ ہوتا ہے جس کا وہ اخبار اٹھاتے ہی سب سے پہلے مطالعہ کرتا ہے بلکہ بہت سے لوگ تو ایسے بھی ہیں جو صرف اپنے پسندیدہ صفحہ کے لئے ہی اخبار خریدتے ہیں۔ آج کا کالم اخبار بینوں کی چیدہ چیدہ اقسام بالحاظ ان کی پسندیدہ خبریں اور ان سے متعلقہ اخبار کے صفحات پر روشنی ڈالنے کی ایک ادنیٰ سی کوشش ہے ۔
1۔جرم و سزا کی خبریں پڑھنے والے:اخبار بینوں کے ایک کافی مناسب طبقے کا اخبار کا پسندیدہ صفحہ جرم و سزا کا صفحہ ہوتا ہے۔ یہ لوگ اخبار اٹھاتے ہی سب سے پہلے جرم و سزا کی خبریں ڈھونڈتے ہیں۔ اس صفحہ پر زیادہ تر خبریں اس نوعیت کی ہوتی ہیں کہ فلاں گاؤں میں ’’ف ‘‘قضائے حاجت کے لئے کھیتوں میں گئی تو اوباش نے پکڑ کے زیادتی کر ڈالی۔ خبر سے ایسے لگتا ہے جیسے ’’ف‘‘ کوئی انسان نہ ہو بلکہ’’اصیل کُکڑی‘‘ ہو یا پھر اس طرح کی خبر کہ ’’ح ‘‘رات کے اندھیرے میں آشنا کے ساتھ فرار ہو گئی یا پھر ’’خ‘‘ کو محلے کا اوباش اٹھا کے لے گیا۔ اس قسم کے اخبار بین یہ خبریں پڑھتے ہوئے معاشرے میں جرائم کی بڑھتی ہوئی شرح پر تنقید کے ساتھ ساتھ اپنی اور’’ ف‘‘ ،’’ح‘‘اور ’’خ‘‘کی بد قسمتی پر کفِ افسوس بھی ملتے ہیں۔ یاد

رہے کہ اس صفحہ کو پڑھنے والے زیادہ تر اخبار بین جوان لوگ ہوتے ہیں ۔ البتہ کچھ خوش مزاج بابے بھی اس قسم کی خبروں کو شوق سے پڑھتے ہیں ۔
2۔تحقیق و تعلیم کی خبریں پڑھنے والے:ہر اخبار کے درمیان میں ایک ایسا صفحہ بھی ہوتا ہے جس پر ایک کالمی خبر کی شکل میں سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں ہونے والی تحقیق یا پھر طب کی دنیا میں ہونے والے تجربات کا نچوڑ لکھا ہوتا ہے ۔ کچھ اخبار بین اس صفحہ کو بڑے شوق سے پڑھتے ہیں۔ اس صفحہ کی نمائندہ خبریں کچھ اس طرح کی ہوتی ہیں کہ ریسرچ سے ثابت ہوا ٹماٹر کھانے سے پیٹ نہیں بڑھتا، پیاز کھانے سے کینسر نہیں ہوتااور ادرک کے استعمال سے جگر کی گرمی دور ہوتی ہے وغیرہ وغیرہ یا پھر بعض اوقات اس طرح کی خبریں بھی ہوتی ہیں کہ جرمن تحقیق کے مطابق پچیس سال بعد دنیا میں آکسیجن کی بہت کمی ہوجائے گی جس کی وجہ سے دنیا میں بڑی اموات واقع ہوں گی یا پھر امریکی تحقیق کے مطابق پچاس سال بعد دنیا میں شدید زلزلے آئیں گے وغیرہ وغیرہ۔ اس طرح کی خبریں پڑھنے والے قاری بہت حساس قسم کے لوگ ہوتے ہیں اور یہ اپنے بارے میں تو زیادہ نہیں البتہ پچاس سال بعد آنے والے طوفانوں اور زلزلوں کی متوقع آمد کی وجہ سے اپنے بچوں یا ان کے بچوں کے بارے میں اکثر بہت فکر مند نظر آتے ہیں ۔
3۔اشتہارات ضرورت رشتہ پڑھنے والے :اخبار بینوں کی یہ وہ قسم ہے جو صبح صبح اخبار اٹھاتے ہی سب سے پہلے ضرورت رشتہ کے اشتہارات کا مطالعہ کرتے ہیں۔ ان لوگوں کی آگے مزید تین قسمیں ہوتی ہیں پہلی قسم میں وہ لوگ ہوتے ہیں جو واقعی رشتہ ڈھونڈنے کے خواہشمند اور ضرورت مند ہوتے ہیں۔ دوسری قسم وہ ہوتی ہے جس کی مثال اُس شخص سے دی جاسکتی ہے جس نے ایک دن ایک نائی کو کسی شادی کی دعوت میں چاول پکانے کے لئے جاتے دیکھا تو نائی سے کہنے لگا استاد جی پلاؤ میں نمک ذرا تیز رکھنا۔ نائی نے اس شخص سے پوچھا کہ تم لڑکے والوں کی طرف سے مدعو ہو یا لڑکی والوں کی طرف سے؟ وہ شخص کہنے لگا میں کسی کی طرف سے مدعو نہیں ہوں، میں بس ’’شوقین مزاج‘‘ ہوں۔ اس دوسری قسم کے لوگوں کو حقیقتاً رشتے کی ضرورت نہیں ہوتی، یہ بھی بس’’ شوقین مزاج‘‘ لوگ ہوتے ہیں۔ اخبار میں اس قسم کے اشتہار دیکھ کر کہ پچیس سال کی سلم، اسمارٹ ، مل مالک کی اکلوتی بیٹی کے لئے رنڈوے، کنوارے کا رشتہ چاہئے جو گھر داماد بن کر مل کا کام سنبھال سکے، یہ لوگ سوچتے ہیں کہ جب وہ رشتہ ڈھونڈ نے کے لئے’’جھک‘‘ماررہے تھے تو ایسے رشتے کہاں تھے!! چونکہ اب کچھ ہو نہیں سکتا لہٰذا اپنی بیویوں پر ترچھی نظر مار کے خاموش رہنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ پولیس اور فوج میں جب جوان اپنے ہتھیار کھول جوڑ کر، پوزیشن سنبھال کر بغیر گولی کے ہتھیار کا ٹریگر دباکر فائرنگ کی پریکٹس کرتے ہیں تو اس کو ڈرائی پریکٹس کا نام دیا جاتا ہے۔ یہ لوگ بھی دوسرے لفظوں میں شادی کی ڈرائی پریکٹس ہی کررہے ہوتے ہیں ۔اس قبیل کی تیسری قسم میں وہ لوگ ہوتے ہیں جن کو درحقیقت رشتہ تو نہیں کرنا ہوتا مگر کبھی کوئی موقع ہاتھ لگ جائے تو ’’پولے پولے‘‘رکھ کر’’ڈرائی پریکٹس ‘‘کو حقیقی پریکٹس میں تبدیل کرنے کا فن بخوبی جانتے ہیں۔4۔کالم پڑھنے والے:اخبار پڑھنے والوں میں ایک چھوٹا سا طبقہ ان لوگوں کا بھی ہے جو اخبار میں سب سے پہلے ادارتی صفحہ پر کالموں کا مطالعہ کرتے ہیں ۔ ان لوگوں میں سے ہر ایک نے اپنے طور پر اپنا ایک پسندیدہ کالم نگار بھی بنایا ہوتا ہے۔ یہ اس کالم نگار کا کالم پڑھتے ہوئے زیر لب مسکراتے بھی ہیں اور بڑبڑاتے بھی ہیں ۔ مسکراتے اس وقت ہیں جب ان کی مطلب کی کوئی بات لکھی ہو اور بڑبڑاتے تب ہیں جب ان کو کوئی بات پسند نہ آئے اور اپنے آپ خود کلامی کے انداز میں کالم نگار سے ڈائیلاگ بھی بولتے ہیں، جیسے’’ایہہ کی لکھ دتا اے ظالماں!‘‘(یہ کیا لکھ دیا ہے ظالم!)وغیرہ۔ یہ اپنے پسندیدہ کالم نگار کی تقریباً ہر بات پر اندھا ایمان لے آتے ہیں مثلاً ایک کالم نگار نے اگر لکھا کہ ’’دنیا میں انسانوں کی اٹھارہ قسمیں ہوتی ہیں‘‘ یا پھر کسی اور نے لکھا کہ ’’سیاست میں پانچ قسم کے مغالطے ہوتے ہیں‘‘ تو یہ لوگ فوراً مان جاتے ہیں کہ دنیا میں واقعی اتنی ہی قسم کے لوگ ہوتے ہیں اور سیاست میں اتنے ہی مغالطے ہوتے ہیں ۔
5۔سیاست کی خبریں پڑھنے والے:گاؤں اور شہروں میں ہر جگہ اخبار کے قارئین کا ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو صرف سیاست کی خبریں پڑھتا ہے ۔ یہ سیاست ملکی اور غیر ملکی دونوں قسم کی ہو سکتی ہے۔ پاکستان کے دیہات میں اس طبقہ کے نمائندہ لوگ جب کسی نائی کی دکان یا کسی سبزی فروش کے تھڑے کے پاس کھجور کے پتوں والی چٹائی پر بیٹھ کر سیاسی خبریں پڑھتے ہیں تو بعض اوقات ان میں اس طرح کے جملے بھی سننے کو ملتے ہیں کہ جیسے امریکہ کے عراق پر حملے کے وقت ایک بابے نے دوسرے سے کہا تھا’’یار امریکہ اور عراق کو صلح کرلینی چاہئے۔ بُش کو کوئی کہے بندہ بنے جنگ نہ کرے ، صدام کا میں خود ذمہ دار ہوں‘‘ وغیرہ وغیرہ۔
6۔کچھ نہ پڑھنے والے:ایک پرانا لطیفہ ہے کہ ایک سردار صاحب نے اپنے نئے بنائے ہوئے گھر کے تین سوئمنگ پول اپنے دوست کو دکھاتے ہوئے کہا تھا کہ اگر ٹھنڈے پانی میں سوئمنگ کرنے کو دل کرے تو پہلا پول ٹھنڈے پانی کا ہے ، گرم پانی میں نہانے کا دل کرے تو دوسرے سوئمنگ پول میں گرم پانی ہے ۔ دوست نے پوچھا سردار صاحب تو تیسرا سوئمنگ پول کس مقصد کے لئے ہے؟ سردار صاحب نے کہا کہ بعض اوقات نہانے کو دل نہیں بھی کرتا اس لئے تیسرا سوئمنگ پول بھی بنادیا ہے ۔ اس طرح کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اخبار تو باقاعدگی سے منگواتے ہیں مگر کوئی بھی صفحہ ان کا پسندیدہ نہیں ہوتا بلکہ یہ لوگ سرے سے اخبار پڑھتے ہی نہیں ہیں۔ کئی دفعہ تو ایسا بھی ہوتا ہے کہ جس طرح اخبار استری ہو کے گھر آتا ہے اسی طرح استری شُدہ ردی والے کے پاس فروخت ہوتا ہے۔ اخبار منگوانے کا مقصد شاید یہ ہو کہ محلہ داروں پر کچھ رعب پڑے کہ اس گھر میں بھی کچھ پڑھے لکھے لوگ رہتے ہیں ۔ ہاں البتہ کچھ لوگ اس سے پڑھنے کے علاوہ کوئی اضافی کام ضرورلے لیتے ہیں مثلاً بعض لوگ دسترخوان کا کام لے لیتے ہیں یا پھر یہ اخبار قالین پر بچھا کر خربوزہ کاٹ کر اس پر رکھ لیتے ہیں ۔ مزید استعمال میں گنڈیری اور مالٹے کے چھلکے رکھنا بھی شامل ہے !!

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں