• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایک چھوٹے سے شہر سے ایک چھوٹا سا بچہ اچانک غائب ہوگیا۔ ماں پریشان۔ باپ پریشان۔ دادی پریشان۔ دادا پریشان۔ اڑوسی پریشان۔ پڑوسی پریشان۔ ایرے پریشان۔ غیرے پریشان۔ اطراف میں جتنے بھی گٹر تھے، ان کے ڈھکن غائب تھے۔ سب فکر مندوں نے کھلے ہوئے گٹروں میں اتر کر کھوج لگائی۔ بچے کا نام و نشان گم تھا۔ کچھ جنونی دوچار بند گٹروں کے ڈھکن ہٹا کر گٹروں میں اتر گئے۔ دور تک گٹروں کی یاترا کی۔ سوائے بچے کے وہ لوگ گٹروں سے بہت سی کام کی چیز نکال کر اپنے ساتھ لے آئے۔ مگر بچہ ندارد۔ ان کو معلوم تھا کہ مایوسی گناہ ہے۔ گناہ سے بچنے کے لئے بچے کے ماں باپ نے پولیس سے رجوع کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

پولیس اسٹیشن یعنی تھانہ گم گشتہ بچےکے گھر سے زیادہ دور نہیں تھا۔ بچے کے ماں باپ، دادا دادی اور نیک کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والے پڑوسی جتھ بناکر تھانے پہنچ گئے۔ تھانے کا انچارج یعنی ایس ایچ او بڑا ہی جھڑوس اور کھڑوس تھا۔

بھیانک گھنی مونچھوں کی وجہ سے وہ بڑا ہی ڈراؤنا لگ رہا تھا۔ بیڑی کے کش لگاتے ہوئے جھانسو ایس ایچ او نے جتھے سے کرخت لہجے میں کہا۔ ’’سرکار نے ہمیں تم جیسوں سے نمٹنے کے لئے تیار رہنے کا حکم دے دیا ہے۔ بتاؤ تم لوگوں کو تتر بتر کرنے کے لئے چھترول سے پٹائی کرواؤں، لاٹھی چارج کرواؤں، یا پھر گولی چلوادوں؟‘‘

جتھے کے لوگ دم بخود ہوکر خرانٹ افسر کی طرف دیکھتے رہے۔ ایس ایچ او کا پیٹ بہت بڑا تھا۔ اس نے پیٹ تانتے ہوئے جتھے سے پوچھا۔ ’’تھانے پر دھاوا بولنے آئے ہو؟ خاموش کیوں ہو؟ کچھ تو بولو‘‘۔

تب اسی سال کے ایک بزرگ پڑوسی نے بولنے کی ذمہ داری قبول کرلی۔ سہمے ہوئے جتھے کی طرف سے بولتے ہوئے بزرگ پڑوسی نے کہا۔ ’’ہم کچھ بولنے نہیں آئے ہیں۔ ہم آپکو بتانے آئے ہیں۔‘‘

سخت گیر ایس ایچ او نے کہا۔ ’’مجھے کیا بتانے آئے ہو۔ مجھے سب کچھ معلوم ہے کہ اڑوس پڑوس میں کون کیا کر رہا ہے۔‘‘

ایک ادھیڑ عمر کے شخص کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بزرگ نے کہا۔ ’’یہ ستار بھائی چھابڑیا ہے۔ اس کا چھوٹا بیٹا غائب ہوگیا ہے۔‘‘

ایس ایچ او نے پوچھا۔ ’’جلسے سے غائب ہوا ہے یا جلوس سے؟‘‘

ستار بھائی چھابڑیا بول پڑا۔ ’’سر، میرا چھوٹا بیٹا گھر سے غائب ہوگیا ہے۔‘‘

ایس ایچ او نے پوچھا۔ ’’کیا تمہارا گھر آسیب زدہ ہے۔ جن بھوت رہتے ہیں تمہارے گھر میں؟‘‘

’’نہیں سر، ایسی کوئی بات نہیں ہے۔‘‘ ستار بھائی چھابڑیا نے کہا۔ ’’ہمارے گھر میں ایک ہی باتھ روم ہے۔ ہم پچیس لوگ ایک گھر میں رہتے ہیں۔ اور کسی کے ہمارے گھر میں رہنے کی گنجائش نہیں ہے۔‘‘

ایس ایچ او نے پوچھا۔ ’’آئے گا بھٹی آئے گا۔ جائے گا بھئی جائے گا، جیسے نعرے تو نہیں لگاتا رہتا تھا۔ تمہارا بیٹا؟‘‘

’’سر وہ نعرے نہیں لگاتا تھا۔ ’’ستار بھائی چھابڑیا نے کہا۔ ’’وہ لولی پاپ مانگتا رہتا تھا۔‘‘

خرانٹ ایس ایچ او نے پوچھا۔ ’’تمہارے پڑوسی کے گلی کوچوں کے کتنے گٹروں کے ڈھکن غائب ہیں؟‘‘

ستار بھائی چھابڑیا نے کہا، ’’سب ہی گٹروں کے ڈھکن غائب ہیں، سرجی۔‘‘

’’تو پھر جاؤ۔ جاکر گٹروں میں اپنے بیٹے کو تلاش کرو۔‘‘

ایس ایچ او نے کہا۔ ’’ایک دنیا آباد ہے گٹروں میں۔ دیکھنا اس نے گٹر میں کسی گم شدہ لڑکی سے شادی نہ کرلی ہو، اور دھڑا دھڑ بچے پیدا کررہا ہو۔‘‘

خرانٹ ایس ایچ او کی بے تکی باتیں سن کر جتھا مایوس ہونے کے بعد گھر لوٹ آنے سے پہلے پیروں فقیروں کی درگاہوں پر گیا۔ خوب روتے دھوتے دعائیں مانگیں۔ چھوٹے بچے کی ماں نے دعائیں نہیں مانگیں۔ وہ صرف سرگوشیوں میں بڑبڑاتی رہی، میرا بچہ کہاں ہوگا، کس حال میں ہوگا، اور زاروقطار روتی رہی۔ دعائیں مانگتے ہوئے، بچے کو اغوا کرنے والوں کو بددعائیں دیتے ہوئے سب لوگ اپنے اپنے گھروں کو لوٹ گئے۔

تھوڑی دیر کے بعد بزرگ شہری ہاتھ میں موبائل فون تھامے چھوٹے گم شدہ بچے کے گھر پہنچے۔ ہانپتے کانپتے انہوں نے کہا ۔ ’’ستار بھائی، تمہارے بیٹے کا فون آیا ہے۔‘‘

ستار نے جھپٹ کر فون اپنے ہاتھ میں پکڑ لیا۔’’چھوٹے تو کہاں ہے۔ تجھے کس نے غائب کیا ہے۔ تو کیسا ہے؟ کچھ کھایا پیا بھی ہے یا بھوکا پیاسا ہے؟‘‘

بچے نے جواب دیا، ’’میں مزے سے ہوں بابا۔ انہوں نے مجھے خوب کھلایا پلایا ہے۔ مجھے لالی پوپ بھی لے کر دی ہے۔ اچھی نسل کے لوگ ہیں۔‘‘

باپ نے پوچھا۔ ’’انہوں نے تجھے کیوں اٹھایا ہے۔ پیسے مانگ رہے ہیں؟‘‘

چھوٹے نے جواب دیا۔ ’’وہ لوگ دہشت گرد ہیں بابا۔ مجھے مار ڈالنا چاہتے ہیں۔‘‘

ستار چھابڑیا کے منہ سے چیخ نکل گئی۔

چھوٹے نے کہا۔ ’’گھبراؤ مت بابا۔ جب تک وہ لوگ میرے سوال کا جواب نہیں دیں گے، مجھے ماریں گے نہیں۔ اور وہ لوگ میرے سوال کا جواب نہیں دے سکتے۔‘‘

ستار چھابڑیا نے پوچھا۔ ’’کیا پوچھا ہے تو نے ان سے؟‘‘

میں نے ان سے کہا ۔ ’’کسی نہ کسی وجہ سے لوگ ایک دوسرے کو مار ڈالتے ہیں۔ میں نے کیا تمہاری ماں کو مارا ہے کہ بدلے میں تم لوگ مجھے مار ڈالنا چاہتے ہو؟‘‘

تازہ ترین