کراچی ( اسٹاف رپورٹر)پاکستان اسٹاک ایکس چینج، آئی ایم ایف معاہدے سے متعلق منفی اطلاعات اور فروخت کےشدید دباو سےسرمائے کا بڑے پیمانے پر انخلاء، مارکیٹ میں شدید مندی کی بڑی لہر،کے ایس ای100انڈیکس میں 2003 پوائنٹس کی بڑی کمی ، ایک لاکھ 18اور17ہزار کی نفسیاتیحد برقرار نہ رہی ،56.83فیصد کمپنیوں کے شیئرز کی قیمت کم ہو گئی، سرمایہ کاری مالیت 216ارب 44 کروڑ 40لاکھ روپے گھٹ گئی،کاروباری حجم بھی 15.48فیصد کم رہا، تفصیلات کے مطابق نئے کاروباری ہفتے کے آغاز پر مارکیٹ میں مثبت رحجان دیکھنے میں آیا اور100انڈیکس میں355پوائنٹس تک کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، لیکن اس کے بعد مارکیٹ میں پھیلنے والی کچھ منفی اطلاعات اور سرمایہ کاروں کی جانب سے فروخت کا دباو بڑھنے سے مارکیٹ شدید مندی کی لپیٹ میں آگئی ، اور انڈیکس 2185پوائنٹس تک گھٹ گیا، جس کی وجہ سے ایک لاکھ 18ہزار اور پھر17ہزار کی حد بھی برقرار نہ رہی، سرمائے کے مسلسل انخلاء سے اختتام پر کے ایس ای100انڈیکس 2002.56 پوائنٹس کی کمی سے 118442.18پوائنٹس سے کم ہو کر 116439.62 پوائنٹس پر آکر بند ہوا، کے ایس ای30انڈیکس 672.48پوائنٹس کی کمی سے 36375.52پوائنٹس سے کم ہو کر 35703.04 پوائنٹس پر آگیا، جبکہ آل شیئرز انڈیکس1099.42 پوائنٹس کم ہو جانے کے بعد 73466.22 پوائنٹس سے کم ہو کر72366.80 پوائنٹس ہو گیا، مارکیٹ میں مجموعی طور پر 468کمپنیوں کے شیئرز کا کاروبار ہوا،124کمپنیوں کے شیئرز کی قیمت میں اضافہ، 266 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمت میں کمی اور 78کمپنیوں کے شیئرز کی قیمت مستحکم رہی،سرمائے کے انخلا ء کی وجہ سے مارکیٹ کی سرمایہ کاری مالیت 216 ارب 44 کروڑ 40 لاکھ 2ہزار روپے کی کمی سے 14182ارب 54کروڑ 95لاکھ 75ہزار روپے ہو گئی،کاروباری حجم 5کروڑ 71لاکھ48 ہزار شیئرز کی کمی سے31 کروڑ 19 لاکھ 70ہزار شیئرز رہا،پیر کو مارکیٹ میں کاروباری حجم کے لحاظ سے پاک الیکٹرون،سنرجی کو پاک، ٹی آر جی، سوئی سدرن گیس اور پاک انٹرنیشنل بلک سر فہرست رہے۔