حسبِ روایت عید کی شام بھائی صاحب کے دولت کدے پر خاندان کے افراد اکٹھے ہوئے۔ کس نے کہاں عید پڑھی، صبح نماز کتنے بجے ادا کی گئی، کسے مسجد کے اندر جگہ ملی اور کسے سڑک پر جائے نماز بچھانا پڑی جیسے موضوعات سے مرد حضرات نے گفتگو آغاز کی جب کہ خواتین کے گوشے سے ایک دوسرے کے ملبوسات، فرشی شلواروں، چوڑیوں اور حنائی ہتھیلیوں کی ستائش بھرے جملے کان میں پڑنے لگے۔ روایتی گپوں کے دوران یک دم خیال آیا کہ خاندان میں اب ایک نئی قدر بھی مشترک ہو چکی ہے، اور پھر اسی نکتے پر رات گئے تک گفتگو رہی۔
پیاری بیٹی تعبیر غزنوی پچھلے سال شادی کے بعد امریکا چلی گئی تھی ، اُس کے میاں صاحب عارج لودھی قریباً تین سال قبل تعلیم حاصل کرنے امریکا گئے تھے، اب وہ جارج واشنگٹن یونی ورسٹی سے ڈیٹا انیلے سس میں ایم اے کر کے نیویارک میں برسرِ روزگار ہو چکے ہیں۔ عارج امریکا میں مستقل قیام کا ارادہ رکھتے ہیں۔ عارج کی بڑی بہن بھی کچھ سال قبل تعلیم حاصل کرنے امریکا گئیں تھیں، وہیں ان کی شادی ہو گئی، اور اب تو وہ باقاعدہ امریکی شہری بن چکی ہیں۔عارج کی چھوٹی بہن بھی پچھلے سال تعلیم کی غرض سے امریکا چلی گئی تھی، اُس کے مستقبل کے نقشے میں بھی پاکستان شامل نہیں ہے۔ برادرِ بزرگ سید جنید غزنوی کے فرزند عادل نیو یارک کی سرا کیوز یونی ورسٹی میں فزکس کی ایک ادق شاخ میں پی ایچ ڈی مکمل کرنے والے ہیں، کیا وہ تعلیم مکمل کر کے پاکستان آ جائیں گے؟ وہ خود ابھی تک اس بارے میں کسی حتمی رائے تک نہیں پہنچ سکے۔ عید ملن میں شریک ممانی جان کی ایک بیٹی سمیرا تو بہت برسوں سے انگلستان میں مقیم ہے، پچھلے سال میرے ماموں زاد بھائی علی اور ان کی بیگم صاحبہ سدرا بھی لندن منتقل ہو گئے۔ میرے بہنوئی زاہد سعید صاحب کا بڑا بیٹا تو کئی برس سے جرمنی میں مقیم ہے، اس سال ان کی بیٹی بھی کینیڈا ہجرت کر گئی۔ عرض یہ کر رہا ہوں کہ عید کی دعوت پر جمع ہونے والے ہر گھرانے کے اکثر جوان بچے بچیاں ملک سے باہر جا چکے ہیں، اور ’’باقی جو ہیں تیار بیٹھے ہیں۔‘‘ احمد مشتاق نے کہا تھا’’اک زمانہ تھا کہ سب ایک جگہ رہتے تھے...اور اب کوئی کہیں کوئی کہیں رہتا ہے۔‘‘ ہر گزرتا سال اس شعر کی تشریح کرتا چلا جاتا ہے، ہر سال خاندان کی اس عید ملن پر ایک دو نوجوان کم ہو جاتے ہیں۔یہ ہے کہانی گھر گھر کی۔
نوجوان کیوں ملک سے جانا چاہتے ہیں؟ یہاں ان نوجوانوں کی بات ہو رہی ہے جن کا تعلق مڈل کلاس اور اپر مڈل کلاس خاندانوں سے ہے، یعنی وہ عُسرت کی وجہ سے ملک نہیں چھوڑ رہے، ان نوجوانوں کی اکثریت کا نظریہء حیات وہی ہے جو مغرب میں مقبول ہے جس میں ’’اٹ از مائی لائف، زندگی نہ ملے گی دوبارہ، فالو یور ڈریم‘‘ جیسے اصول بنیاد ی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ نوجوان ان معاشروں میں فطری دلچسپی رکھتے ہیںجہاں یہ نظریہء حیات پیدا ہوا اور جسکی بنیاد پر وہ معاشرے تعمیر کیے گئے۔ فکری آزادی اور شخصی آزادی اور اس کے تمام تر پرتوان نوجوانوں کو مرغوب ہیں۔ سوشل میڈیا کی بہ دولت ہمارے نوجوان نہ صرف مغربی معاشروں کی جُزیات تک سمجھتے ہیں، بلکہ ان تمام اوزاروں سے بھی آگاہ ہیں جو وہاں کام یابی کیلئے ضروری ہیں۔اور دوسری طرف اگر معاشی کام یابی ہی زندگی کا اساسی اصول ہے تو اس کیلئے ہجرت کرنا کوئی مشکل فیصلہ نہیں سمجھا جائے گا۔ اپنے ملک میں صلاحیت اور قابلیت کی تکریم نہ ہونا، سفارش کا راج، قانون کا اندھا پن، تو اس نسل کو پریشان کرتا ہی ہے، لیکن جب انہیں لگتا ہے کہ اس صورتِ احوال کے بدلنے کے کوئی آثار ملکی افق پر دور دور تک نظر نہیں آ رہے تو انہیں ہجرت کا فیصلہ انتہائی منطقی دکھائی دینے لگتا ہے۔ یہ سچ ہے کہ جب بچے ہم سے پوچھتے ہیں کہ یہ سب کب بدلے گا تو ہم انہیں کوئی تسلّی بخش جواب نہیں دے پاتے بلکہ دل ہی دل میں خود سے پوچھتے ہیں کہ آخر ’’یہ سب کب بدلے گا۔‘‘پچھلے ہفتے تھائی لینڈ میں زلزلے کی ایک ویڈیو دیکھی، ایک کثیرالمنزلہ عمارت جھول رہی ہے اور کوئی شخص عمارت کو نہیں دیکھ رہا، سب کی پشت گرتی ہوئی عمارت کی طرف ہے اور ہر کوئی دیوانہ وار بھاگ رہا ہے۔
پس نوشت:عید کی ضیافت کے اختتام پر بھائی صاحب کے حکم پر ایک تازہ غزل پیش کی گئی، آپ بھی سنیے:
ساقی اپنا ہے، جام ہے اپنا
بادشاہوں میں نام ہے اپنا
ایک ادھوری سی شکل دیکھی ہے
اور قصہ تمام ہے اپنا
اپنا لشکر ہی روند ڈالے گا
یہ جو دل بے لگام ہے اپنا
ٹھیک کہتی ہے وہ جو کہتی ہے
شاہ زادہ غلام ہے اپنا
سینہ کٹنے کے منتظر ہیں ہم
یار پھر بے نیام ہے اپنا
شہد کی ہوں گی نہریں جنت میں
ان لبوں کا مقام ہے اپنا
ہم نے سامان تک نہیں کھولا
مختصر سا قیام ہے اپنا
شیخ جی کی نماز بازی کو
دور ہی سے سلام ہے اپنا
سر پہ ہے آسمان پھیلا ہوا
اب یہی انتظام ہے اپنا
دل ہمیں کوستا ہے کیوں دن رات
شہر میں احترام ہے اپنا
ہم بھی پہنیں گے خِلعتِ دربار
خود سے یہ انتقام ہے اپنا