وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی کوششوں سےسعودی عرب کا مزید دس ہزار پاکستانیوں کو حج کی اجازت دینا دونوں برادر ممالک کے درمیان مضبوط تعلقات،باہمی تعاون اور پاکستانی عوام کے لیے سعودی عرب کی خصوصی توجہ کا عملی اظہار ہے۔پاکستان کی جانب سے حج کوٹہ میں توسیع کی درخواست ان شہریوں کے لیے کی گئی تھی جو حج کی مقررہ آخری تاریخ گزر جانے کے باعث رجسٹریشن نہیں کرا سکے تھے۔حج اسلام کا ایک لازمی رکن ہے جس کی تکمیل کے لیے دنیا بھر سے لاکھوں مسلمان امیر و غریب ایمانی تقاضے کے تحت رخت سفر باندھتے ہیں۔امسال کم و بیش 90ہزار پاکستانی سرکاری حج اسکیم کے تحت فریضہ حج ادا کریں گے لیکن پرائیویٹ حج اسکیم کے تحت حج کی بکنگ کرانے والے ہزاروں عازمین کا مستقبل اس وجہ سے غیر یقینی ہو گیا تھا کہ پرائیویٹ آپریٹرز نے منیٰ کے لیے چارجز بروقت جمع نہیں کرائے تھے جن کی ڈیڈلائن 14فروری تھی۔وزیراعظم نے سعودی احکامات کے تقاضوں کی بروقت تکمیل نہ کیے جانے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے انکوئری کا حکم دیا تھا اور نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار کو سعودی حکومت سے رابطہ کر کے خصوصی درخواست کرنے کی ہدایت کی تھی۔جمعہ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان السعود کا شکریہ ادا کرتے ہوئے انہوں نے اپنے پیغام میں خوشخبری دی ہے کہ سعودی عرب نےمزید 10ہزار اضافی عازمین کو حج کی اجازت دے دی ہے۔یہ مسئلہ حل کرانے پر حکومتی کاوشیں قابل تحسین ہیں تاہم اس کے ذمہ داروں کے خلاف تادیبی کارروائی ہونی چاہیے۔وزارت مذہبی امور کا دعوی ہے کہ پاکستان میں حج کے اخراجات خطے کے دیگر ممالک سے کم ہیں تاہم ان میں مزیدنمایاں کمی کے لیے ماضی میں بحری جہازوں کے ذریعے سفر حج کا تجربہ دہرایا جا سکتا ہے۔