• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تحریر: نرجس ملک

ماڈل: علیزے خان

ملبوسات: شاہ پوش(لبرٹی مارکیٹ، لاہور)

آرائش: Bege Salon

کوآرڈی نیشن: عابد بیگ

عکّاسی: عرفان نجمی

لے آؤٹ: نوید رشید

عورت سے متعلق کسی کا ایک خیال نظر سے گزرا۔ ’’عورت بڑی عجیب چیز ہے۔ سال ہا سال کی محنت و ریاضت سے اپنی ذات، شخصیت کی پوشش بُنتی ہے، ہر روز ایک ایک ٹانکا بڑی چاہت و محبّت سے رنگ برنگے دھاگے لگا لگا بَھرتی ہے، تب کہیں جاکے کردار و اخلاق کی تشکیل ہوپاتی ہے۔ مگر جب مکمل ہوتی ہے، تو ایک غلطی کربیٹھتی ہے، گرہ لگانا بھول جاتی ہے یا دانستہ دھاگے کا ایک سِرا کُھلا چھوڑ دیتی ہے اور پھر… ایک دن وہ سِرا کسی مَن چاہے یا اَن چاہے کو تھما دیا جاتا ہے۔ 

اب وہ مَن چاہا یا اَن چاہا چاہے تو اُسے خُود کے ساتھ باندھ کر اُدھڑنے، بکھرنے سے بچا لے، نہیں تو اُسی سِرے سے ساری سیون، اَنت بَنت ہی تار تار کرکے رکھ دے۔‘‘ اور ہمارے خیال میں، یہ جس کسی کا بھی خیال ہے، بہت حد تک درست ہی ہے، خصوصاً اگر بات ’’مشرقی عورت‘‘ کی ہو۔ ہمارے یہاں لگ بھگ اسّی فی صد شادی شدہ خواتین، اپنے لائف پارٹنرز کے رویّوں کی مجسّم تصویر، عکّاس ہوتی ہیں۔ تب ہی ایک مفکّر نے کہا کہ ’’ایک عورت اُس رویّے کی عملی تفسیر ہوتی ہے، جو اُس کے ساتھ روا رکھا جاتا ہے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ اُس کا، آپ کے ساتھ سلوک مثالی ہو، تو خُود آپ کو اُس کے ساتھ ایک آئیڈیل طرزِ عمل اختیار کرنا ہوگا۔‘‘ 

ویسے تو ایک میاں، بیوی ہی کے رشتے میں کیا، ہمیں اپنے ہر ایک تعلق، رشتے، بندھن میں عموماً اپنے قول و فکر، طریقۂ عمل ہی کا آئینہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ یہاں تک کہ کسی کے اِخلاص و وفا کی جانچ بھی اُس کے لیے خُود اپنی اخلاص بندی و خیر خواہی، بےلوثی و بےریائی کے تناظر میں بآسانی ممکن ہے۔ 

آپ کو کسی کے خُود سے مخلص ہونے میں شک و شبہ ہے، تو ذرا ایک بار خُود اپنے گریبان میں جھانک دیکھیں۔ اگر تو آپ کسی کے لیے سو فی صد مخلص و نیک نیّت ہیں، تو پھر اطمینان رکھیں، اگلا بھی آپ کے ساتھ یقیناً بے کھوٹ، وفادار ہی ہوگا۔ 

بہرکیف، بات ہورہی تھی عورت کی، تو اگر کوئی مرد، عورت کو سو فی صد اپنے رنگ میں رنگا، اپنی مَن مرضی کے مطابق ڈھلا دیکھنا چاہتا ہے، تو بہرحال اُسے یہ ایڈوانٹیج حاصل ہے کہ وہ محض اپنے40 ، 50 فی صد حُسنِ سلوک سے بھی یہ معرکہ سر کر سکتا ہے کہ اللہ نے قناعت پسندی، تھوڑے پر بہت خُوش ہوجانے کی صفت عورت کی فطرت و سرشت، خمیر میں گوندھ دی ہے۔ مرد کو سو فی صد کے حصول کے لیے، اپنا سو فی صد کبھی نہیں دینا پڑتا، وہ چند فی صد دے کر بھی مشکل سے مشکل ہدف آسانی سےحاصل کرسکتا ہے۔

اب خُود سوچیں، جو عورت گلاب کی ایک کلی، موتیے کے دو گجروں، محبّت بھرے ایک جملے، تعریف کے دو بولوں پر خوش و خرم، مسرور ومطمئن ہوجائے، اُس کا دل جیتنا، اُسے اپنی پسند کے مطابق ڈھالنا کس قدر سہل ہے۔ وہ کسی نے کہا تھا ناں کہ ؎ ’’بنایا ہے مصوّر نے حسین شہکار عورت کو…الگ پہچان دیتا ہے، کہانی کار عورت کو…وہ ماں ہو، بہن، بیوی یا کہ بیٹی ہو، سُنو لوگو…ہر اِک کردار میں رکھا گیا غم خوار عورت کو…یہی سچ مُچ بنادے گی، تِرے گھر کو حسیں جنّت…ذرا تم پیار سے کرنا کبھی سرشار عورت کو۔‘‘

اور پھر عبدالاحد ساز کی وہ نظم ؎ ’’وہ قبول صُورت سی… سانولی بھلی عورت…تھوڑا رُک کے دیکھیں تو …کتنی خُوب صُورت ہے…اُس کے نرم لہجے میں…اُس کی سوچ کی خُوشبو…اُس کے ذوقِ پوشش میں…ہلکے ہلکے رنگوں کے…انتخاب کا جادو…فکر کی جواں کرنیں…اُس کی رُوپ ریکھائیں…انکھڑیوں میں کچھ خاکے… مضطرب خیالوں کے…انگلیوں میں رچنائیں… نغمۂ تکلم میں…زیروبم کئی غلطاں…

ظرف اور ظرافت کے…زیرِلب تبسّم سے…کُھل کے مُسکرانے تک…پیچ وخم کئی لرزاں…اختیار و عادت کے…سادگی میں چہرے کی…شمع اِک فروزاں سی…آنچ درد مندی کی…لو کسی بلندی کی…جنبشِ روش اُس کی…نرم گام و آہستہ… اِک جہانِ رعنائی…ہر نگاہ شائستہ…کیف میں لطافت کے…تیزحسیت شامل…تیغ سےذہانت کی…اُس کی ہرادا قاتل…وہ قبول صُورت سی …سانولی بھلی عورت…تھوڑا رُک کے دیکھیں تو…کتنی خُوب صُورت ہے!‘‘توبھئی، ہرعورت خوب صُورت تو ہے ہی۔ 

وہ جو منٹو نے کہا تھا ناں کہ ’’عورت کبھی بدصُورت نہیں ہوسکتی۔‘‘ بس، ضرورت اس امر کی ہےکہ ہرخُوب صُورت عورت خوش باش بھی ہو۔ سو، جس عورت کی خوشی، جس بات میں مضمر ہو، اُس کےاختیار و اظہار کی سعی بہرحال ہونی چاہیے۔ جیسا کہ ازل ہی سے ہر عورت کی قلبی و ذہنی، روحانی و جاودانی خوشی و مسرت آرائش و زیبائش، بناؤ سنگھار میں پنہاں ہے، تو ہم سال ہا سال سے اِسی کا اہتمام و انصرام کیے جارہے ہیں۔

اب لیجیے، ذرا آج کی بزم سے بھی آنکھیں چار، دو دو ہاتھ کر لیں، جو موسم سے عین ہم آہنگ ہلکے پُھلکے، نہایت دیدہ زیب رنگ و آہنگ، بے حد دل آویز و دل فریب پرنٹس سے مزیّن ہے۔ وائٹ بیس پر ہلکے سُرمئی، رسٹ اوربراؤن سے شیڈز میں منفرد سے جیومیٹریکل پرنٹ کا جلوہ ہے، تو بہار کے مکمل جوبن (؎ پھول ہیں صحرا میں یا پریاں قطار اندر قطار… اُودے اُودے، نیلے نیلے، پیلے پیلے پیرہن) کے مثل رنگا رنگ پھول دار پرنٹ میں میچنگ سیپریٹس کا اسٹائل بھی ہے۔ 

ایک اور انداز میں سفید زمین پر سُرخ و زرد گلابوں نے مجمع لگا رکھاہے، تو سفید ہی بیس پرنیلے رنگ کی نُدرت و دل کشی کے تو کیا ہی کہنے، جب کہ پستئی رنگ کے بالکل ڈل سےشیڈ میں نفیس وسادہ سی میکسی کے حُسنِ لاجواب کا تو سمجھیں، کوئی مول ہی نہیں۔

جس عورت نے اپنی ذات کی پوشش کی اِک اِک سیون بڑی چاہت و محبّت سے رنگا رنگ دھاگے لگا لگا کر بَھری ہو، وہ تن کی آراستگی و پیراستگی کے لیے بھی کچھ بہت سندر و پوتّر ہی ڈیزرو کرتی ہے، تو ہمیں یقین ہے، ہمارا یہ انتخاب اِس معیار پر ضرور پورا اُترے گا، یہاں تک کہ آئینہ بےاختیار گُنگنا اُٹھے گا۔ ؎ ’’وہ کتنا دل نشیں، کتنا حسیں ہے…اُسے بھی اِس کا اندازہ نہیں ہے…تصوّر میں کوئی زہرہ جبیں ہے… نگاہوں میں ہر اِک منظر حسیں ہے… محبّت ہوگئی پاکیزہ یعنی…کوئی ارمان اب دل میں نہیں ہے…نظر آتا نہیں اپنے کو مَیں خُود… یہ کیا سحرِ نگاہِ اولیں ہے…یہ معراجِ تصوّر ہے کہ وہ اب…نظر کے سامنے ہے اور نہیں ہے۔‘‘