مصنّفہ: ڈاکٹر قرّاۃ العین طارق
صفحات: 263 ، قیمت: 1000روپے
ناشر: الحمد پبلی کیشنز، رانا چیمبرز، لیک روڈ، لاہور۔
فون نمبر: 37231490-042
زیرِ نظر کتاب کی مصنّفہ، ڈاکٹر قرّاۃ العین طارق ایک مشّاق قلم کار ہیں۔ زیرِ نظر کتاب موضوع کے اعتبار سے بہت اہم ہے۔ اُنہوں نے خواتین کی مزاحمتی شاعری کے حوالے سے ابتدا سے عصرِ حاضر تک کا تنقیدی جائزہ پیش کیا ہے، جو کوئی معمولی کام نہیں۔
تحقیقی کام کرنے والوں کو جگہ جگہ کی خاک چھاننی پڑتی ہے، تب کہیں بہتری کی صُورت نظر آتی ہے۔ پہلے باب میں ابتدا سے 1947ء تک، دوسرے باب میں 1947ء سے1980 ء تک اور تیسرے باب میں 1980ء سے عصرِ حاضر تک کی شاعرات کا ذکر کیا گیا ہے۔
مصنّفہ نے بہت عرق ریزی سے اِسے پایۂ تکمیل تک پہنچایا اور اُن کی محنت نے کتاب کو ایک دستاویز بنا دیا ہے۔’’ڈاکٹر قرّاۃ العین طارق کی نئی تحقیق‘‘ کے عنوان سے محمود شام کا پیش لفظ سند کا درجہ رکھتا ہے۔ شام جی نے تحریر کیا ہے کہ’’ڈاکٹر قرّاۃ العین طارق نے اِس منظر نامے کو بہت احتیاط، دل جمعی اور غیر جانب داری سے اپنے اوراق پر اجاگر کیا ہے۔
مجھے یقین ہے کہ اِس کتاب کی اشاعت سے عصری ادب میں معیاری اور معروف تنقید کا جو خلا ہے، وہ کسی حد تک پورا ہوگا۔ اردو تنقید میں یہ تحقیق، یقیناً ایک قابلِ قدر اضافہ ہو گی۔‘‘ کتاب میں ڈاکٹر فہیم شناس کاظمی، حمیدہ شاہین اور ڈاکٹر فرزانہ خدرزئی کے مضامین بھی شامل ہیں۔