• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

علّامہ اقبالؒ نے افغانوں سے متعلق بہت سبق آموز اشعار کہے، بلند خیالات ظاہر کیے ہیں۔؎’’آسیا یک پیکرِ آب و گِل است…ملّتِ افغان در آں پیکر دِل است…از فسادِ اُو، فسادِ آسیا…از کشادِ اُو، کشادِ آسیا…تا دل آزاد است، آزاد است تن…ورنہ کاہی در رہِ باد است تن۔‘‘ اور اقبالؒ نے یہ بھی کہا ہے۔؎’’افغان باقی، کہسار باقی…الحُکم للہ، الملک للہ۔‘‘افغانستان کی تاریخ بہت قدیم ہے۔ اِسی نسبت سے اس کے نام بھی بدلتے رہے۔ہندو’’رگ وید‘‘ میں اس کا نام’’آریانا‘‘ ہے۔ یونانیوں کے ہاں اس کا نام’’بکتریا‘‘ تھا۔

عرب اسے’’خراسان‘‘ کہتے تھے۔ سترہویں صدی کے وسط میں احمد شاہ ابدالی یا دُرّانی کے دَور میں یہ افغانستان کہلانے لگا اور اس کی ایک صدی بعد، 1855ء میں دوست محمّد خان نے اسے سرکاری طور پر افغانستان کا نام دیا۔ ہر دَور کے ہر حُکم ران نے اس پر اپنے مزاج، نظریات اور تصوّرات ثبت کیے۔ افغانستان قبائلی مزاج کی سرزمین ہے۔

قبائل کی رقابتیں اور آویزشیں اکثر خون خرابے کا موجب بنتی ہیں۔ ہم یہاں بہت پیچھے کی تاریخ سے قطع نظر، بیسویں صدی کے افغانستان کے اُتار چڑھاؤ اور انقلابات کا جائزہ لیتے ہیں۔ ہم جن نادر شاہی احکام کو محاورے میں بیان کرتے ہیں، وہ نادر شاہ ایرانی تھا، جس نے افغانستان کو فتح کیا تھا۔ 

بیسویں صدی میں حبیب اللہ کالاخانی کو اقتدار سے ہٹا کر15نومبر 1929ء کو ایک اور محمّد نادر شاہ اپنے باپ، سردار محمّد یوسف کی جگہ افغانستان کا بادشاہ بنا۔ تقریباً ایک سال بعد لوئی جرگہ نے اُس کے اقتدار کی توثیق کر دی۔1933ء میں تقسیمِ اسناد کی ایک تقریب میں ایک طالبِ علم، عبدالخالق ہزارہ نے گولی مار کر بادشاہ کو ہلاک کر دیا۔ والد کی موت کے بعد محمّد ظاہر شاہ افغانستان کا بادشاہ بنا اور 1973ء تک اس کی بادشاہت قائم رہی۔

1940ء کی قراردادِ پاکستان کے بعد جب تحریکِ پاکستان شروع ہوئی، تو پشتون لیڈر خان عبدالغفار خان آل انڈیا کانگریس اور گاندھی کے کیمپ میں تھے۔ خُود کو فخر سے’’سرحدی گاندھی‘‘ کہلواتے اور پاکستان کے سخت مخالفین میں سے تھے۔ اُن دنوں افغان بادشاہ، ظاہر شاہ بھی پاکستان مخالف بیانات دے رہا تھا۔

موجودہ صوبہ خیبر پختون خوا انگریزوں کے دَور ہی سے شمال مغربی سرحدی صوبہ کہلاتا تھا۔ شاہ ظاہر شاہ اور خان عبدالغفار خان کا مؤقف تھا کہ’’ڈیورنڈ لائن انگریزوں نے کھینچی اور پشاور سمیت اس کے اہم علاقے الگ کرکے یہ صوبہ بنایا گیا۔اِس لیے ہم ڈیورنڈ لائن کو سرحد تسلیم نہیں کرتے۔‘‘

اِس تنازعے کے حل کی ایک معقول تجویز یہ آئی کہ صوبہ سرحد میں ریفرنڈم کے ذریعے عوام کی رائے معلوم کی جائے کہ وہ پاکستان کے ساتھ جانا چاہتے ہیں یا بھارت کا حصّہ رہنا چاہتے ہیں۔ تقریباً ایک ہفتہ ریفرنڈم کا عمل جاری رہا اور 20 جولائی 1948ء کو نتائج کا اعلان ہوا، جس کے مطابق، صوبے کی اکثریت نے پاکستان کا حصّہ بننے کے حق میں رائے دی، لیکن افغان بادشاہ ظاہر شاہ اور ’’سرحدی گاندھی‘‘ کی پاکستان کے خلاف مہم جاری ہی رہی۔

افغانستان واحد مُلک تھا، جس نے پاکستان کے اقوامِ متحدہ کا رُکن بننے کی مخالفت کی تھی۔ اگرچہ کچھ عرصے بعد افغانستان نے اپنا یہ مؤقف بدل لیا تھا اور 1958ء میں ظاہر شاہ نے پاکستان کا دورہ بھی کیا، لیکن تلخی کی دبی چنگاری سُلگتی رہی۔

غفار خان کے بیٹے، خان عبدالولی خان نے اگرچہ پاکستان کو ایک حقیقت مان کر زندگی کے آخر وقت تک قومی سیاست میں سرگرم حصّہ لیا، لیکن اپنی خودنوشت’’Facts are Facts‘‘ میں اُنہوں نے لکھا کہ تقسیمِ ہند اور تخلیقِ پاکستان انگریزوں کے منصوبے کا حصّہ تھا۔ پشتونستان کا ایشو وہ بھی اُٹھاتے رہے۔ خان عبدالغفارخان پاکستان سے اِتنے بے زار تھے کہ موت کے وقت افغانستان میں دفن ہونے کو ترجیح دی۔

سوویت یونین(اب روس) نے وسطی ایشیا کی جن مسلمان ریاستوں کو اپنے تسلّط میں لے رکھا تھا، اُن میں سے ترکمانستان، ازبکستان اور تاجکستان کی سرحدیں افغانستان سے ملتی تھیں۔ رُوس اُس وقت دنیا کی دوسری بڑی قوّت تھا اور وسطی ایشیا سے لے کر مشرقی یورپ تک، اس کے جھنڈے لہرا اور نظریات پھیل رہے تھے۔ روس، جنوبی ایشیا کی طرف رُخ کرنا اور پاکستان عبور کر کے گرم پانیوں تک پہنچنا چاہتا تھا۔

روس کے قبضے میں جن تین وسط ایشیائی ریاستوں کی سرحدیں افغانستان سے ملتی تھیں، اُن کے ہم زبان ازبک اور تاجک خاصی بڑی تعداد میں افغانستان کے شہری تھے۔ اُن میں نسلی ارتباط کے ساتھ نظریاتی تعلقات بھی قائم تھے۔ نیز، کمیونزم کے جو بیج افغانستان میں بوئے گئے، وہ بھی مسلسل پروان چڑھ رہے تھے۔روس کی خواہش اور کوشش تھی کہ مشرقی یورپ کے بعد جنوبی ایشیا تک اپنے پاؤں پھیلائے۔ 

مشرقِ وسطیٰ کے کئی ممالک، جیسے عراق، شام، مصر، الجزائر اور تنظیمِ آزادیٔ فلسطین وغیرہ روس کے زیرِ اثر تھے۔ جنوبی ایشیا میں افغانستان پر قبضہ جما کر دوسرا قدم پاکستان میں رکھنا مقصود تھا، جہاں اشتراکی نظریات اور’’ایشیا سُرخ ہے‘‘کے نعرے لگانے والے عناصر موجود تھے۔ بہرکیف، 17جولائی 1973ء کو شاہ ظاہر شاہ کے کزن، سردار داؤد خان نے اُس کا تختہ اُلٹ کر اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ 

ظاہر شاہ کے دَورِ اقتدار ہی میں افغانستان کے اندر طلبہ، اساتذہ اور دانش وَروں کے حلقوں میں کمیونزم پھیل رہا تھا۔ 1964ء میں جو آئین نافذ ہوا، اُس میں سیاسی سرگرمیوں کی اجازت دی گئی، تو کئی جماعتیں وجود میں آ گئیں، جن میں ایک’’عوامی جمہوری پارٹی، افغانستان‘‘(PDPA)بھی تھی۔ سردار داؤد خان ایک مصلحت کوش اور موقع پرست آدمی تھا۔ اُس نے اقتدار میں آنے کے بعد ایسے اقدامات کیے، جن سے کمیونزم اور PDPA کو تقویت ملی۔ اُس وقت تک خلق اور پرچم، دو کمیونسٹ جماعتیں بھی وجود میں آ چُکی تھیں، جو روس کے ساتھ براہِ راست رابطے میں تھیں۔

شاہ ظاہر شاہ کی حکومت کے دَوران مقدّسات کی توہین کے کچھ ایسے واقعات ہو چُکے تھے، جنہوں نے علماء اور صوفیاء کو بھی متحرّک کر دیا تھا۔ کمیونسٹ رہنماؤں کی بے پردہ عورتوں کے سرِعام گھومنے پِھرنے پر مذہبی عناصر سخت برہم تھے اور وہ اِس ایشو پر زبردست مظاہرے بھی کر چُکے تھے۔ 

ایسے واقعات سردار داؤد کی حکومت میں بھی ہوئے۔ سردار داؤ کی صدارت میں تعلیمی اداروں، خاص طور پر کابل یونی ورسٹی کے اندر کمیونزم کے بڑھتے اثرات دیکھ کر اِخوانی اور جماعتِ اسلامی پاکستان کی فکر سے متاثر طلبہ کا ایک گروہ کمیونزم کی مخالفت میں سامنے آیا۔ 

1970ء کے عشرے میں بیک وقت سردار داؤد اور کمیونزم کی مخالفت میں اسلام پسند طلبہ کو منظّم کرنے والا کرشماتی شخصیت کا حامل طالبِ علم، عبدالرحیم نیازی تھا۔ کابل یونی ورسٹی میں طلبہ کو حکومت اور کمیونزم کے خلاف منظّم کرنے کا سہرا اِسی طالبِ علم رہنما کے سر تھا، لیکن یہ اپنا قائدانہ کردار مکمل کرنے سے پہلے ہی 1970ء میں وفات پا گیا۔ 

گلبدین حکمت یار، کابل یونی ورسٹی میں انجینئرنگ کے طالبِ علم تھے۔ وہ اپنی سیرت و کردار، عِلم و معلومات، نظریاتی تشخّص اور ناقابلِ مصالحت مؤقف کے باعث قیادت کی صلاحیتیں رکھتے تھے، جب کہ طلبہ تحریک میں بھی اُنہوں نے کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ وادیٔ پنج شیر سے تعلق رکھنے والے، احمد شاہ مسعود بھی کابل پولی ٹیکنیکل کالج کے معروف طالبِ علم لیڈر تھے۔ 

اُنہوں نے اِس وادی میں روسی افواج کے خلاف زبردست مزاحمت کی، لیکن وہ موقع پرستانہ رویّوں کی وجہ سے اندر ہی اندر مغربی قوّتوں، خاص طور پر جرمنی کے منظورِ نظر بن گئے اور جہادی تحریک میں وادیٔ پنج شیر تک محدود رہے۔

پاکستان میں اُس وقت ذوالفقار علی بھٹّو وزیرِ اعظم تھے۔ کابل سے کچھ طالبِ رہنما جماعتِ اسلامی کے رہنما، قاضی حسین احمد کے ساتھ مولانا مودودی سے ملے کہ وہ سردار داؤد کے خلاف کُھلی مزاحمت کرنا چاہتے ہیں، جس میں اُن کی مدد کی جائے۔ مولانا مودودی غیر ریاستی عناصر کے جہاد کے قائل نہیں تھے۔ اُنہوں نے مشورہ دیا کہ اِن طلبہ اور رہنماؤں کو بھٹو صاحب کے پاس لے جائیں تاکہ ریاست اِن کی مدد کا کوئی انتظام کرے۔ 

اِسی دوران 28اپریل 1978ء کو خلق اور پرچم کمیونسٹ جماعتوں سے وابستہ فوجی افسران نے عبدالقادر اور محمّد اسلم وطن جار کی قیادت میں بغاوت کر دی اور سردار داؤد کو اُن کے خاندان سمیت قتل کر دیا گیا۔ اِس بغاوت کے بعد پی ڈی پی اے کی رہنمائی میں نور محمّد ترکئی، انقلابی کاؤنسل کے چیئرمین اور نئے نام کے ساتھ’’ڈیموکریٹک ری پبلک آف افغانستان‘‘ کے وزیرِ اعظم بن گئے۔ 

یہ بالواسطہ روس کی حکومت تھی۔ ستمبر 1979ء میں نور محمّد ترکئی کا تختہ اُلٹ کر اُس کے حریف حفیظ اللہ امین نے اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ دسمبر 1979ء کو روس نے پرچمی دھڑے کے ببرک کارمل کو اپنے ٹینکس پر بٹھا کر حفیظ اللہ امین کے مقابل کھڑا کیا اور افغانستان پر براہِ راست حملہ کر کے سارا منظر نامہ ہی بدل دیا۔ ایران میں اِمام خمینی کی قیادت میں انقلاب برپا ہو چُکا تھا۔

اِن دو واقعات نے یوں تو ساری دنیا کو ہِلا کر رکھ دیا، لیکن پاکستان پر اِن تبدیلیوں کے بہت گہرے اور انتہائی نقصان دہ اثرات مرتّب ہوئے۔ ایرانی انقلابیوں کا موڈ بتاتا تھا کہ وہ اپنے انقلاب کو ساری دنیا میں نہیں، تو کم از کم اپنے پڑوسی مُلک پاکستان اور خلیجی ممالک تک توسیع دیں گے اور دوسری طرف، روس جب ہمارے دروازے پر اپنی پوری وحشیانہ قوّت کے ساتھ آ بیٹھا، تو ہمارا متاثر ہونا لازمی امر تھا۔

روس کے خلاف چار عناصر بیک وقت متحرّک ہوئے۔ چاروں کے راستے مختلف اور مقصد ایک تھا۔ پاکستان میں جنرل ضیاء الحق کی فوجی حکومت مسلّط تھی، جس کا نعرہ تھا کہ’’ روس کو پاکستان کے راستے گرم پانیوں تک پہنچنے کے مکروہ مقاصد کے آگے مزاحمت کی دیوار کھڑی کی جائے۔‘‘ اور اِسی بہانے فوجی اقتدار کو بھی طول ملے۔ 

امریکا، افغانستان کو روس کے لیے ایک ایسی دلدل بنانا چاہتا تھا، جس میں دھنس کر اُس کی طاقت اور دوسری بڑی عالمی طاقت ہونے کا نشہ ہَرَن ہو جائے۔ اِس لیے امریکا نے روس کے خلاف مزاحمت کرنے والی قوّتوں کی، خواہ وہ فوجی تھی یا جہادی تحریکیں، براہِ راست اور بالواسطہ پوری پوری مدد کی۔ جہادی تحریکوں کے افغان جہاد میں حصّہ لینے والے بہت سے لوگ اب بھی زندہ ہیں۔ اسلام میں جہاد کا حقیقی تصوّر یہ ہے کہ ایک امیر کے تابع اور ایک کمانڈر کی کمان میں جہاد کیا جائے، لیکن یہاں یہ شرعی اصول پسِ پُشت ڈالا گیا۔ 

انجینئر قطب الدّین حکمت یار نظریاتی طور پر جماعتِ اسلامی سے وابستہ تھے۔ سلفی فکر کے سعودی نواز عبدالرسول سیاف’’اتحادِ اسلامی برائے آزادیٔ افغانستان‘‘ کے پرچم کے ساتھ جہاد میں شامل تھے۔ پروفیسر برہان الدّین ربّانی الازہر یونیورسٹی مصر میں زیرِ تعلیم رہے تھے۔ وہاں اُن کے روابط اخوان المسلمین کی قیادت اور زعماء سے رہے۔

اِس لحاظ سے اُن کا نظریاتی تعلق جماعتِ اسلامی سے بھی بنتا تھا، لیکن اُنہوں نے’’جمعیتِ اسلامی‘‘ کے نام سے الگ جہادی تنظیم قائم کر لی۔ قبائلی اعتبار سے یہ تاجک اور ازبک نسل کے مجاہدین کی پارٹی تھی اور اس پر وادیٔ پنج شیر کے احمد شاہ مسعود کا اثر غالب تھا۔ حکمت یار کی’’حزبِ اسلامی‘‘ نسلی لحاظ سے پشتون تھی۔ 

صحیح اسلامی فکر ہونے کے باوجود دونوں میں وحدت قائم نہ ہو سکی۔ پھر مولوی یونس خالص کا دھڑا، حزبِ اسلامی میں سے نکل کر اِسی نام سے مصروفِ جہاد رہا۔ اس پر حقّانی مکتبِ فکر کے اثرات غالب آگئے تھے۔ بریلوی سوچ کے صبغۃُ اللہ مجدّدی’’جُبۂ نجاتِ مِلی، افغانستان‘‘ کے بانی لیڈر تھے اور اُنہوں نے روس کے خلاف جہاد کی آواز سب سے پہلے بلند کی تھی۔ جامعہ اسلامیہ حقانیہ یا دارالعلوم حقانیہ پاکستان میں دیوبندی فکر کی پہلی درس گاہ تھی اور جنوبی افغانستان سے ممتاز مجاہد لیڈر، جلال الدّین حقّانی اِسی مدرسے کے فاضل تھے۔

نو سال کی عظیم قربانیوں، لاکھوں افغانوں کی مُلک بدری، پاکستان اور ایران میں مہاجرت کا نتیجہ یہ نکلا کہ روس کو بہت بے آبرو ہو کر افغانستان سے نکلنا پڑا، جو بہرحال اِن جہادی تنظیموں ہی کا کارنامہ تھا۔ عرب مجاہدین میں شیخ عبداللہ عزام کو ناقابلِ فراموش کردار تھا۔

اسامہ بن لادن اور ایمن الظواہری نے بھی اِس جہاد میں گراں قدر خدمات انجام دیں، لیکن اس جہاد کے بعد اسامہ بن لادن نے القاعدہ تنظیم قائم کر کے جو کردار ادا کیا، اس نے جہاد کے حقیقی مفہوم اور رُوح کو بُری طرح مجروح کیا اور اُن کا شمار مجاہدین کی بجائے دہشت گردوں میں ہونے لگا۔ 

عرب، تاجک اور دیگر قومیّتوں کے جو مجاہدین روس کے خلاف لڑنے آئے تھے، بعد میں اُن کی حکومتوں نے اُنہیں قبول کرنے سے انکار کر دیا اور وہ پاکستان کے قبائلی علاقہ جات میں مقیم ہو کر ریاستِ پاکستان کے خلاف سرگرمِ عمل ہو گئے اور ابھی تک’’تحریکِ طالبانِ پاکستان‘‘ کے نام سے قتل و غارت کا کھیل کھیل رہے ہیں۔

روس کے خلاف جہاد کے بعد مجاہد تنظیموں کی آپس میں خون ریز لڑائیوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ وزیرِ اعظم محمّد خان جونیجو کی حکومت نے ایسی پالیسی بنائی، جس کی وجہ سے افغانستان کا کھیل بنتے بنتے بگڑ گیا اور جہادِ افغانستان کے ثمرات ضائع ہو گئے۔ بعد میں محترمہ بے نظیر بھٹو کی حکومت آئی، تو اُن کے وزیرِ داخلہ نصیراللہ بابر نے’’طالبان‘‘ کے نام سے ایک نیا فتنہ تخلیق کر کے افغانستان پر مسلّط کردیا۔ طالبان کو بگولے کی طرح اُٹھایا اور آندھی کی طرح پھیلایا گیا۔

اِسی دوران امریکا میں نائن الیون واقعہ ہو گیا، جس کا الزام اسامہ بن لادن کی تنظیم القاعدہ پر لگا۔ امریکا نے طالبان سے مطالبہ کیا کہ اسامہ بن لادن کو اُس کے حوالے کیا جائے اور پھر طالبان کے انکار پر اُس نے افغانستان پر چڑھائی کر دی۔ یوں افغانستان میں ایک اور تباہ کُن جنگ شروع ہو گئی، جو لاکھوں جانیں لے کر2021ء میں ختم تو ہو گئی، لیکن پاکستان کے لیے دہشت گردی کے سنگین مسائل تاحال ختم نہیں ہو رہے۔ (مضمون نگار، لگ بھگ 40 برس تک شعبۂ تعلیم سے وابستہ رہے۔ معروف مذہبی اسکالر اور کئی کتب کے مصنّف ہیں)

سنڈے میگزین سے مزید