• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دستِ خالق نے بنی نوع انسان کو خلق کیا تو ’’احسنِ تقویم‘‘ یعنی بہترین ساخت اور اشرف المخلوقات کی سند بھی عطا کی۔ یہ مُہر محض بیرونی خدوخال اور ظاہری حال و جمال کے لییے نہیں بلکہ بشری صلاحیتوں کو بامِ کمال تک پہنچانے کی بھی ہے۔ 

ہمارے اِس نئے سلسلے ’’احسنِ تقویم‘‘ میں رحمان فارس اُن بڑے اور مثالی انسانوں کے دل چسپ و دل آویز شخصی خاکے لکھیں گے، جنہوں نے خدا کی عطا کردہ اس مُہر کو صد فی صد درست ثابت کیا اور اپنے اپنے میدان میں تاحدِ امکاں عُروج پا کر دستِ خالق کی مُہر کی تصدیق کی۔ یہ نادرِ روزگار شخصیات ادب، اداکاری، سیاست، صحافت، کھیل، بیوروکریسی، بزنس، تعلیم اور صحت وغیرہ کے شُعبوں کے درخشندہ ترین ستارے ہوں گے۔

رحمان فارس ایک سینئر بیوروکریٹ (اسلام آباد میں تعینات ہیں)، انتہائی مقبول، ہردل عزیز شاعر اور کالم نگار ہیں۔ اُن کے تین شعری مجموعے شائع ہو کر بے پناہ مقبولیت حاصل کر چُکے۔ نیز، سوشل میڈیا پر نوجوان نسل کے مقبول ترین شعراء میں شمار ہوتے ہیں۔

اور ہاں… ہمیں ، ہمارے اس نئے سلسلے سے متعلق بھی اپنی آراء سے آگاہ کرنا ہرگز مت بھولیے گا۔

(ایڈیٹر، سنڈے میگزین)

محترم عطا الحق قاسمی حق کی عطا ہیں۔ کئی دہائیاں دُہائی دیں تو اُن جیسا دیدہ وَر جنم لیتا ہے۔ اُن کے مزاح کی خطرناک ترین خوبی یہ ہے کہ آپ چاہے اُن سے اتفاق کریں یا اختلاف، اپنا قہقہہ ہرگز نہیں روک پائیں گے۔ ہمیں یہ اعتراف کرنے میں کوئی عار نہیں کہ عطا اپنی حسِ مزاح سے قارئین کے حواسِ خمسہ کو گدگدی اور چھٹی حِس کو متجسّس کر ڈالتے ہیں۔

قاری سوچ میں پڑ جاتا ہے کہ اس لطیفہ نُما واقعے یا واقعہ نُما لطیفے میں کتنی واردات اصل اور کتنی عطائے عطا ہے۔ یہ الگ بات کہ اس دُبدھا، شش و پنج اور کش مکش کے دوران بھی اُس کی ہنسی روکے نہیں رُکتی۔ صاحبو! عطا ہنسی کے معاملے میں ہمارے معاشرے کی مجموعی یادداشت کو خُوب جھنجھوڑتے ہیں کہ عزیزو! زندگی مختصر ہے۔ ہنسنا کیوں بھول بیٹھے ہو؟ 

ہنسو اور جیو۔ اپنی حسِ مزاح سے وہ محفل کو دن دہاڑے لُوٹنے کا فن جانتے ہیں۔ لُوٹ تو وہ رات گئے بھی سکتے ہیں، مگر تب محفل نہیں ہوتی۔ جس طرح ہما شُما ایک ڈیڑھ منٹ سانس نہ لیں تو قضائے الہیٰ سے وفات پا جائیں، یہی معاملہ عطا کا لطیفوں کے باب میں ہے۔ وہ ایک ڈیڑھ منٹ سے زیادہ لطیفہ سُنے سنائے بغیر نہیں رہ سکتے۔ ’’یار فارس! وہ تازہ لطیفہ سُنا ہے؟‘‘ یہ جُملہ ابتدا ہوتا ہے، اُن تابڑ توڑ بلکہ پسلی توڑ لطیفوں کا، جن کا آغاز مسکراہٹ، درمیان ہنسی اور انجام قہقہہ ہوتا ہے۔ 

اگر ان پر کوئی آسمانی صحیفہ اُترتا تو ناچیز شعر کہتا؎ عطا الحق پہ اُترا ہے صحیفہ… لطیفہ در لطیفہ در لطیفہ۔ غالب کے ہاں مضامیں غیب سے آتے تھے۔ عطا کے ہاں یہی مصرعہ یوں ہو جائے گا ؎ آتے ہیں غیب سے یہ لطائف خیال میں۔ عطا الحق کا قافیہ ضیا الحق سے ملتا ہے، مگر (بقول یوسفی) قارورہ کچھ اور کہتا ہے۔ عطا کے جُملے غالب کی مانند کان پر روایتی قلم اور ہاتھ میں دوات لے کر نکلتے ہیں اور رستے ہی میں کہیں مُحلے کی نُکڑ والی کریانہ شاپ سے جدیدیت کی پُڑیا بندھوا لیتے ہیں۔ موصوف کا مزاح پُرانا ہوتا ہے، نہ ہی ’’آؤٹ آف ڈیٹ‘‘۔

اُنیس سو تینتالیس میں امرتسر میں پیدا ہوئے۔ اِسی لیے امرت رس سے بھی محبّت ہے، امرتی سے بھی۔ اور تو اور امرتا پریتم سے بھی پریت ہے، مگر ساحر لُدھیانوی کے حق میں دست بردار ہوگئے۔ حضرت پاکستان سے چار سال بڑے ہیں اور بڑے بھائی ہی کی طرح پاکستان کا خیال رکھتے ہیں۔ عطا نہ ہوتے، تو شاید بلکہ یقیناً پاکستان ہنسنا نہ سیکھ پاتا۔

مولانا بہاؤ الحق قاسمی جیسے جیّد عالم اور مفتی و مدرّس کے ہاں جنم لینے والے عطا میں مزاح کا اتنا گولا بارود جیسے ’’گودام نشین‘‘ اور ذخیرہ ہوا، اُس سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ ہمارے محترم ممدوح مزاح کے ذخیرہ اندوز ہیں۔ آپ چاک، ڈسٹر، کلاس روم، چُھٹی کی گھنٹی اور اسکول کے ماحول میں نشوونما پا کر وہ بنے کہ جو بنے بنائے، رٹے رٹائے، سُنے سنائے جوابات سے زیادہ ذاتی سوالات پر یقین رکھتا ہے۔

عطا نے یقین و ایمان جیسے پُختہ الفاظ کے خمیر ہی سے تجسّس بھرے مزاح کا خُمر اُٹھایا اور مزاح کے باب میں مکمل ’’خُمریات‘‘ لکھ ڈالیں۔ انسانی زندگی میں ہر لحظہ موجود Comic شکوک و شُبہات عطا کے ہاں لطائف کے دریا بن جاتے ہیں، جن سے مسلسل قہقہوں کی موجیں اُٹھتی ہیں۔ سُنانے والا بھی موج میں، سُننے والا بھی۔ تقسیمِ برصغیر و ہجرت اور ازسرِ نَو وزیرآباد میں رہائش نے بھی عطا کے مزاح کا کچھ نہیں بگاڑا۔ دُنیا اِدھر کی اُدھر ہوگئی، مگر موصوف میں جو مزاح کی قندیل روشن تھی، وہ روشن ہی رہی۔

یہ الگ بات کہ عطا ایک بیرونی اندرونی ہیں۔ یعنی اندرونِ مُعاشرہ رہ کر بھی وہ معاشرےکی تمام جہتوں، شخصیتوں اور کیفیتوں کو بیرون سے دیکھتے ہیں۔ اُن کے اندر کہیں امرتسر اور لاہور بقدرِ مساوی بھرے ہیں۔ بعض اوقات امرتسری عطا، لاہوری پر چھا جاتا ہے۔ بعض اوقات لاہوری عطا، امرتسری پر۔ مگر ان دونوں کے نُقطۂ اتصال پر ہماری ملاقات اصل عطا الحق قاسمی امرتسری ثُمَ وزیر آبادی ثُمَ لاہوری سے ہوتی ہے۔

اُن کے کالم کا ایک کلمہ کالم نگاروں کے سالم کالم اور شاعروں کے کُل کلام پر حاوی ہوتا ہے۔ عطا جس قلم سے کالم لکھتے ہیں، وہ ہنس ہنس کر دہرا اور جس دوات میں قلم ڈبو کر لکھتے ہیں، وہ ہنسی کے مارے اپنا آپ بھول جاتی ہے۔ اُن کا خامۂ طنز اتنا تیکھا ہےکہ کئی حجام اسےاُسترا بنا کر استعمال کرتے ہیں۔ عطا کی تحریریں نصاب میں شامل کر دی جائیں تو اسکولوں میں غیرحاضری ختم ہوجائے۔ 

اُن کی پھیلائی ہنسی اتنی متعدی ہے کہ متعدد بار ان کےکالم کو ٹیکا لگا کر quarantine کرنا پڑا۔ جس روز اُن کا کالم چھپتا ہے، اسٹاک مارکیٹ ہنس ہنس کر بیٹھ جاتی ہے۔ مریضانِ غم کے نسخوں میں ڈاکٹر لکھتے ہیں کہ ’’ایہنے نئیں بچنا، ایہنوں عطا کول لے جاؤ۔‘‘ (اِس نے نہیں بچنا۔ اِسے عطا کے پاس لے جائیں) عطا اُداس روحوں کا یونانی دواخانہ ہیں۔ موصوف ایسے میٹھے جرّاح ہیں، جو نشتر کو whipped cream میں ڈبو کر سرجری کرتے ہیں۔

سُورما سے سُورما صُورتِ حال کے ناسور بھی یُوں نکالتے ہیں کہ سرجری کے دوران صورتِ حال خُود بھی اس عجیب وغریب صُورت پر ہنستی رہتی ہے۔ عدالتوں میں عطا کا فقرہ بطورِ دلیل پڑھنے پر سخت پابندی ہے، کیوں کہ فاضل وکیل ہنستے ہوئے آپے یعنی کالے کوٹ سے باہر ہو جاتے ہیں، معزز جج صاحب ’’آرڈر آرڈر‘‘کی بجائے Louder Louder کہہ بیٹھتے ہیں اور سزائے موت کا مُچھّڑ مجرم ہنسی خوشی کھانستا ہوا پھانسی پررضامند ہوجاتا ہے۔ ویسے انصاف کے ٹیڑھے ترازو کوعطا کا کالم پڑھوانا چاہیے تاکہ وہ ایک ہی قہقہے میں سیدھا ہوجائے۔

ایک بار عطا کی تحریر ایم اے اُردو کے پرچے میں آگئی۔ طلباء و طالبات یُوں Chorus میں کھلکھلائے کہ ممتحن کو پرچہ روک کر اُن پر نقل کا پرچہ دینا پڑا۔ سچ تو یہ ہے، عطا جمی جمائی دُکانیں، ریڑھیاں، اور چھابے بند کروانے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے کہ نظریاتی ناجائز تجاوزات کو موصوف مزاح کے بلڈوزر سے زمین بوس کرڈالتے ہیں۔ ایک بار مجلسِ ترقئ ادب میں عباس تابش کے زیرِ اہتمام ایک مشاعرے میں صدارت قاسمی صاحب کی تھی۔

صاحبِ صدارت مشاعرہ گاہ پہنچے تو گُھٹنے کے آپریشن کے سبب وہیل چئیر پرتھے۔ فرمانے لگے کہ فارس! ڈاکٹرکو دایاں گُھٹنا دکھا کر درد کی وجہ پوچھی تو کہنے لگا۔ ’’قاسمی صاحب! اب عُمر کا بھی تو تقاضا ہے۔‘‘ قاسمی صاحب نے برجستہ کہا۔ ’’مگر ڈاکٹر صاحب! میرے بائیں گُھٹنے کی عُمر بھی اِتنی ہی ہے۔‘‘ 

قاسمی صاحب الحمراآرٹس کونسل کے چیئرمین تھے، تو ہم اُن کے دفتر حاضر ہوا کرتےتھے۔ایک سگریٹ سےدُوسرا اور دُوسرے سے تیسرا سُلگاتے اور راکھ کو لمبے عرصے تک جھاڑے بغیر بیلنس کیے رکھتے۔ ہم نے ایک بار دھیان دِلوایا تو فرمانے لگے کہ ’’فارس بیٹا! آگ تو ہر کوئی بیلنس کرلیتا ہے، زندگی راکھ کو بیلنس کرنے کا نام ہے۔‘‘ ایک بار تجسّس کے مارے ہم نے قاسمی صاحب سے پوچھا کہ اُن کے مقبول ترین ڈرامے’’شب دیگ‘‘کے کردار ’’کاکا منّا‘‘ اور ’’انکل کیوں‘‘ اُن کے ذہن میں کہاں سےآئے؟ اپنی مخصوص زیرِلب مسکراہٹ کے ساتھ بولے۔ ’’پاکستان میں ہر دوسرا بندہ کاکا مَنّا ہے۔‘‘ہم نےپوچھا۔’’اورپہلا بندہ؟‘‘کہنے لگے۔ ’’وہ انکل کیوں ہے۔‘‘

’’روزنِ دیوار سے‘‘ محض کالم نہیں، یہ پاکستان بھر کے لیے آئنہ ہے۔ یہ کالم اب پاکستانی قوم کی روزمرّہ عادت بن چُکا ہے۔ کل کلاں اِسے ’’کالموں کا بادشاہ‘‘ بھی قرار دیا جا سکتا ہے۔ موصوف کی اصل خوبی اُن کا موضوعاتی مزاح نہیں، اُن کا لہجہ ہے۔ وہ معاشرتی ناہم واری، اختیارات سے تجاوز، انٹلیکچوئل خُود پسندی اورعام منافقت پریُوں منہ پکا کرکے لکھ ڈالتے ہیں، جیسے موسم کا حال بتا رہے ہوں کہ بھیا! آج بارش ہوگی۔ باہر جاتے ہوئے چھتری لے جائیو۔

عطا کے طنز میں غصّہ ہو بھی تو ملفوف اور پوشیدہ ہوتا ہے (ایک ایسے جیبی رومال کی طرح، جسے آدمی شدید ترین ضرورت ہی کےوقت نکالتا ہے)۔ موصوف سیدھا سادہ لکھتے ہوئے بھی سیدھی چوٹ نہیں کرتے۔ آمر پرلکھتے تھے تو’’آ۔مر‘‘ نہیں لکھتے تھے، لپیٹ لپاٹ کر لکھتے تھے۔ معاشرتی عدم انصاف پر یُوں چوٹ کرتے ہیں کہ وہ خُود شرمندہ ہو کر اپنےہجّے بدل لیتا ہے۔

یہ تحریری ضبط خوف نہیں، تخلیقی طریقۂ واردات ہے۔ قاسمی صاحب بخوبی واقف ہیں کہ بات چیخ کر نہیں، سرگوشی میں بھی سمجھائی جاسکتی ہے، خاص طور پر اگر سرگوشی کا لہجہ لطیف ہو اور دورانِ لطیفہ آپ اپنی بائیں یا دائیں آنکھ مِیچ لیں۔ ماننےکی بات یہ ہےکہ عطا محض سیاسی کالم نگار ہرگز نہیں۔ اُن کا موضوع حضرتِ انسان کی دل چسپ ترین رنگا رنگی ہے، جسے پھول بھی کہا جا سکتا ہے، گرگٹ بھی۔

اُن کے کالم کا مشقِ ستم اکثر وہ طبقہ بھی بنتا ہے، جو خُود کو کُہنہ مشق اور ’’پڑھ پُختہ‘‘ سمجھتا ہے۔ جیسا کہ بیوروکریٹ، اپنے تئیں اصلاح کنندگان، خدائی فوجدار، نظریے کے ڈھولچی، کسی بھی شعبے کے ماہرین، جو خبطِ عظمت کا شکار ہوں۔ (اور ہاں، کبھی کبھار شعرائے کرام) حالاں کہ عطا خُود بھی شاعرہیں، مگرہیں بہت پُرلُطف چالاک۔ جہاں شاعروں کے ساتھ دو دو ہاتھ ہوں، توکالم نگاری اُن کی کمک پرآتی ہے۔ جہاں کالم نگارانِ شہر سے کُشتی ہو، اِن کے اشعار ان کی ڈھال بن جاتے ہیں۔

عطا کے لطیفے اتنے بالغ ہیں کہ اپنی مرضی سےنکاح کرکے وصل و افزائشِ نسل کر سکتے ہیں۔ عطا نے جس تجوری میں سالم بالغ لطیفے چُھپا رکھے ہیں، وہ صرف انہی کے بائیو میٹرک سے کُھل سکتی ہے۔ وہ اپنے نشاناتِ انگشت سے یک مُشت ڈھیر سارے چوکس لطیفے نکالتے ہیں اورغافل دوستوں پر چھوڑ دیتے ہیں اور پھر یہ لطائف احباب کو جیسے گدگدی کرتے ہیں، وہ ناقابلِ اشاعت مگر لائقِ ہم دردی ہیں۔

وزارتِ مذہبی امور نے ان لطائف کو ’’دھماکا خیز مواد‘‘ کی فہرست میں شامل کر رکھا ہے، جب کہ فاضل مفتیانِ کرام یہ لطیفے سُن پاویں تو دورانِ فتویٰ فوت ہوجاویں۔ عطا دورانِ لطیفہ گوئی فزکس میں بائیولوجی یُوں پھینٹتے ہیں کہ حاصلِ جمع قہقہہ آتا ہے۔ لڑکیاں عطا سے آٹوگراف مانگنے آتی اور فوٹو گراف دے کرجاتی ہیں۔ جوانی میں عطا کی رینج بین البراعظمی تھی، جس میں ایران و اطالیہ اور ہسپانیہ و ہنگری سبھی سرنِگوں تھے۔ 

موصوف حُسن کے بھی بہترین پارکھ ہیں۔ آغا فرماتے ہیں۔ کشمیری وہ ہوتا ہے، جو کش لگا کر میر کو پڑھے۔ میر کے شعری نشتر بہتّر تھے، عطا کے نثری نشتر ہزاروں ہیں۔ یہ برف پر طنزکریں تو اُسے پسینہ آجائے۔ ببّرشیر پرجُملہ کسیں تو وہ شرمندہ ہو جائے۔ قلم کی لبلبی دبا کربُلبُلے بناتے ہیں۔ مہمل بات کو بھی حاملِ مزاح کرڈالتے ہیں۔ ان کے جملے سے پیدا شدہ ہنسی کسی وحشی چھینک کی طرح ہوتی ہے، آپ اُسے ہرگز روک نہیں سکتے۔

عطا کھانوں کے بھی شوقین ہیں، لیکن بےسروپا کھانے نہیں، صرف سُریلے کھانے کھاتے ہیں۔ سری پائے کے سرتاپا عاشق ہیں۔ گویا پائے کھانے میں پائے استقلال رکھتے ہیں۔ آغا فرماتے ہیں کہ Foodies کو محبوبہ کے نقشِ پا میں پائے اور زلفِ دراز میں سِری نظر آتی ہے۔ یہ لوگ دیسی گھی کا ترونکا لگوا کے تب تک کُلچے کھاتے ہیں، جب تک اپنے قُل نہ کروا بیٹھیں۔ ایک بٹ صاحب چھتیس نان ہڑپ کرنے کے بعد بیت الخلا میں محوِ دُعا و گریہ تھے کہ ’’پاک پروردگار! یا جان کڈھ لے یا نان کڈھ لے۔‘‘البتہ عطا کوفتوں میں صرف نرگسی کوفتے اور شربتوں میں صرف شربتِ دیدارپسندفرماتے ہیں۔

جابر حُکم رانوں کے سامنے حالتِ بغاوت میں عطا جو بلند کرتے ہیں، وہ علمِ احتجاج ہوتا ہے۔ شکی قارئین تصحیح فرما لیں۔ ہمارے ہاں کئی کاہل جاہل پڑھتے نہیں، لکھتےرہتے ہیں، حالاں کہ آغا فرماتے ہیں، جس کی بوری میں سوراخ ہو، اُس کی گندم نہ بچ سکتی ہے نہ ’’پچ‘‘ سکتی ہے۔ المیہ یہ ہے کہ ہمارے ادب کے گول گودام میں دانۂ گندم کے رسیا کئی چوکس چوہے ڈھائی کتابیں کُتر کر شاعر و ادیب بن بیٹھتے ہیں۔ اور عطا کی تحریریں ایسے چوہوں کو سر سے دُم تک آئنہ دکھاتی ہیں۔ عطا نے فن کار و ہُنرمند کی پہچان میں کبھی ٹھوکر نہیں کھائی۔ قبض ہوشیار پوری اور مخبوط پانی پوری جیسے شعراء و فضلا کو اُنہوں نے ہمیشہ ’’شورا‘‘ اور ’’فضلہ‘‘ لکھا اور اس کا سبب املا کی غلطی ہرگز نہیں۔

وزیرِآباد سے مشیرِ وزیرِاعظم و سفیرِ پاکستان تک کا سفر، جس ذہانت و فطانت کا طالب تھا، وہ عطا میں کوٹ کوٹ کر بلکہ ثابت و سالم بھری ہے۔ ناروے میں سفیر بنے تو اُس نار زارِ سنجیدگی کو قہقہہ زار بنا دیا۔ اوسلو کو اچھرہ بنانےکا سہرا اُنہی کے سر ہے۔ عطا اُن شاعروں کو بھی مشاعرے کے گھوڑے پر لاد کر ناروے لےگئے، جو اس سے قبل اپنے محلّوں سے بھی باہر نہیں نکلے تھے۔

اُردو شاعروں نے پہلی بار برف دیکھی اور برف نے پہلی بار اُردو شاعر۔ دونوں بھونچکے رہ گئے۔ عطا، گمبھیر موضوع کا بھی گوتم گمبھیر کی طرح ایک ہی شاٹ میں پِتّا پانی کر دیتے ہیں۔ گنجلک نہیں لکھتے۔ اُن کے ہاں جملے پر جملہ نہیں چڑھا ہوتا بلکہ جملے برضا و رغبت بغل گیر ہوتے ہیں۔ موصوف مایوسی اور اُداسی کو پاس نہیں پھٹکنے دیتے، تاوقتیکہ مایوسی اور اُداسی حسِین لڑکیوں کے نام نہ ہوں۔ نااُمید لوگ ان کے پاس آتے رکشے سے اور جاتےاُمید سے ہیں۔ 

اُن کے قلم کی دھار ایسی ہے کہ بھابھی اِس سے بھنڈی توری اور قسائی سالم بکرا کاٹ لیتے ہیں۔ اُن کا قلم بلحاظِ مدارج قلم، اُسترا، نشتر، خنجر اور تیغِ تیز بن سکتا ہے۔ عطا کا طنز محبوبۂ غالب کے چلائے تیرِ نیم کش کی طرح آر پار نہیں ہوتا، دو کش لگا کرچار چرکے لگاتا ہے۔ نیمے دروں نیمے بروں ٹائپ۔ عطا نے جتنے سفر کیے، اُتنے مستنصر حسین تارڑ نے بھی نہیں کیے۔ فرق یہ ہےکہ عطا نے حسینانِ مشرق و مغرب کو سفر ناموں یا صُبحوں، شاموں میں اُتنا نہیں باندھا، بس کُھلا رکھا۔

قصّہ مختصر، عطاالحق قاسمی ہمارا اثاثہ ہیں۔ اُللہ انہیں سلامت رکھے۔

سنڈے میگزین سے مزید