• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

یہ لفظ’’موئن جو دڑو‘‘ ہے،’’موہن جو دڑو‘‘ یا پھر’’مہیں جو دڑو۔‘‘سندھی زبان میں ’’موئن‘‘ مُردے یا مُردوں کو کہتے ہیں، جب کہ’’دڑو‘‘ اونچے مقام، ڈھیر یا ٹیلے وغیرہ کو کہا جاتا ہے، یوں’’موئن جو دڑو‘‘ کا مطلب ہوا’’ مُردوں کا ٹیلا۔‘‘ یعنی یہ وہ مقام ہے، جہاں انسان دفن ہیں۔ 

اِس لفظ پر اعتراض یہ ہے کہ گزشتہ ایک صدی کے دَوران ہونے والی کھدائی میں اِس شہر سے صرف سات، آٹھ انسانوں کی کچھ باقیات ملی ہیں، تو اِس بنیاد پر اِسے’’مُردوں کا مدفن‘‘ قرار دینا مناسب معلوم نہیں ہوتا۔ ایک دوسری رائے کے مطابق، اِس شہر کا نام’’موھن جو دڑو‘‘ ہے۔

موہن یا موھن، بُدھ مت سے تعلق رکھنے والے نام وَر بادشاہ، اشوکِ اعظم کا نام تھا اور یہ شہر کسی زمانے میں بُدھ مت کے پیروکاروں کا مرکز بھی رہا ہے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ موہن، ایک مقامی حُکم ران تھا۔ کچھ عرصہ قبل سندھ اسمبلی میں بھی یہ مطالبہ سُنائی دیا تھا کہ اِسے’’موئن‘‘ کی بجائے’’موہن‘‘ لکھا جانا چاہیے۔ 

اِس ضمن میں ایک دلیل یہ بھی دی جاتی ہے کہ پرانے تاریخی ماخذات میں اِس لفظ کے انگریزی ہجّے’’Mohen‘‘درج ہیں۔ اِن آثار کی دریافت کا سہرا، سر جان مارشل کے سَر ہے اور اُنھوں نے بھی اپنی کتاب میں اِسے’’Mohen‘‘ ہی لکھا ہے۔ پھر تیسری رائے ہے کہ یہ’’ مہیں جو دڑو‘‘ ہے۔( مہیں، سندھی زبان میں سامنے کی چیز کو کہتے ہیں) چوں کہ یہ آثار دریائے سندھ کے سامنے واقع ہیں، اِس لیے اِسے ’’مہیں جو دڑو‘‘ یعنی ’’سامنے کا ٹیلا‘‘ کہا جاتا تھا، جو بگڑ کر موئن یا موہن جو دڑو ہوگیا۔ 

بہرحال، دو باتیں تو واضح ہیں۔ ایک تو یہ کہ حکومتی ادارے ابھی تک کوئی واضح فیصلہ نہیں کر پائے کہ یہ موئن ہے یا موہن۔ اِسی لیے اِن اداروں کے ہاں یہ لفظ دونوں طرح لکھا نظر آتا ہے۔ دوسری بات یہ کہ اِس شہر کو موئن جو دڑو یا موہن جو دڑو کا نام مقامی افراد نے محض اپنے مشاہدات اور روایتی قصّے کہانیوں کی بنیاد پر دیا تھا۔ ہزاروں برس پہلے اِس شہر کا کیا نام تھا؟ 

آج تک کسی کو کچھ پتا نہیں چل سکا۔ اِس تمہید کے بعد بتانا یہ مقصود ہے کہ سندھ حکومت کے وزیرِ سیّاحت اور اُن کی وزارت کے متعلقہ محکمے اِن دنوں صوبے میں سیّاحت کے فروغ کے لیے خاصے سرگرم ہیں۔ اِس سلسلے میں نت نئے منصوبے بھی سامنے آ رہے ہیں۔ ایسا ہی ایک قابلِ تحسین منصوبہ، مختلف سیّاحتی اور ہیریٹیج سائٹس تک خصوصی ٹرین چلانے کا بھی ہے۔ 

گزشتہ دنوں’’سندھ ٹورازم ڈیویلپمنٹ کارپوریشن (ایس ٹی ڈی سی) کے تحت کراچی سے مونا باؤ تک جانے والی سفاری ٹرین کا کافی چرچا رہا، پھر اِسی ادارے کی جانب سے کراچی سے موہن جو دڑو تک خصوصی ٹرین چلی، جس کا ہم بھی حصّہ بنے۔ اِس سفر کا آغاز ہفتے کی صبح نو بجے ہوا اور ہماری ٹرین دوسرے روز رات گیارہ بجے کینٹ اسٹیشن واپس پہنچی۔

ہم مقرّرہ وقت، یعنی صبح آٹھ بجے ریلوے اسٹیشن پہنچے، تو’’ایس ٹی ڈی سی‘‘ کا خصوصی کاؤنٹر ہمارا منتظر تھا۔ جہاں موجود چاق چوبند عملے نے ٹکٹ دیا اور بوگی تک رہنمائی بھی کی۔ پلیٹ فارم پر خاصی گہماگہمی تھی، لوگ بہت پُرجوش تھے، جب کہ میڈیا کی بڑی تعداد اِس اہم ایونٹ کی کوریج کر رہی تھی۔ 

ایک خُوش کُن امر یہ بھی رہا کہ ٹرین نے اپنے مقرّرہ وقت پر، ٹھیک 9بجے رینگنا شروع کردیا اور پھر رفتار بڑھتی چلی گئی۔ یہ دیکھ کر بھی اچھا لگا کہ سندھ ٹورازم ڈیویلپمنٹ کارپوریشن کے مینجنگ ڈائریکٹر، سیّد فیاض علی شاہ مسافروں کو خوش آمدید کہنے کے لیے خُود ایک، ایک کمپارٹمنٹ میں آئے۔ 

اِس سفاری ٹرین میں بہت سی فیملیز سوار تھیں، جن میں غیر مُلکی شہری بھی شامل تھے۔ لوگ ایک دوسرے سے مل رہے تھے، باہمی تعارف کا سلسلہ جاری تھا کہ ناشتے کی ٹرالیز کی آواز گونجی، جس پر سب اپنی اپنی نشستوں پر جا بیٹھے تاکہ ناشتے کی ٹرے اِدھر اُدھر نہ جانے پائے۔ ٹرین کوٹری پہنچی، تو پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکنان کی ایک بڑی تعداد استقبال کے لیے موجود تھی۔ یہاں صوبائی وزیرِ سیّاحت، سیّد ذوالفقار علی شاہ نے میڈیا سے گفتگو کی، جو کراچی سے اِسی ٹرین میں آئے تھے۔

اِس موقعے پر اُنہوں نے سیّاحوں کو یہ خوش خبری بھی سُنائی کہ’’سندھ حکومت کراچی سے سکھر تک سفاری ٹرین چلائے گی۔ جس کے ذریعے سادھو بیلہ، لینس ڈاؤن برج اور کوٹ ڈیجی کی بھی سیر کروائی جائے گی، جب کہ موسمِ گرما کی تعطیلات میں سیّاحوں کو ٹرین کے ذریعے گورکھ ہل اسٹیشن بھی لے جایا جائے گا۔‘‘ کچھ دیر بعد دوپہر کا کھانا پیش کیا گیا۔ ٹرین کو سیوھن سے کچھ پہلے لکی شاہ صدر کی پہاڑیوں کے درمیان، ایک بلند مقام پر چند منٹ کے لیے کھڑا کیا گیا تاکہ سیّاح دل فریب قدرتی نظاروں سے لُطف اندوز ہوسکیں۔

ایک طرف دریا، دوسری طرف خُوب صُورت پہاڑیاں، سامنے سڑک پر دوڑتی گاڑیاں، اِن تمام مناظر نے سفر کا مزہ دوبالا کردیا۔ سیوھن ریلوے اسٹیشن پہنچے، تو وہاں بھی لوگ ڈھول، تاشوں کے ساتھ استقبال کے لیے موجود تھے۔ یہاں سے تمام سیّاحوں کو ویگنز کے ذریعے حضرت عثمان مروندیؒ (لال شہباز قلندر)کے مزار پر لے جایا گیا۔ چوں کہ چند روز بعد سالانہ میلے کا آغاز ہونے والا تھا، اِس لیے ابھی سے زائرین کی تعداد میں اضافہ ہوگیا تھا۔ 

سیّاحوں کو رش سے بچاتے ہوئے خصوصی راستے سے مزار تک پہنچایا گیا، جو ایک بڑی عمارت کی شکل میں ہے اور اُن کی حضرت عثمان مروندیؒ کی قبر تک بھی رسائی آسان بنائی گئی۔ ڈیڑھ، دو گھنٹے وہاں گزارنے کے بعد ریلوے اسٹیشن واپسی ہوئی اور ٹرین منزل کی جانب چل پڑی۔ خصوصی ٹرین کا دادو میں بھی استقبال ہوا، پھر ہائی ٹی سرو کی گئی اور رات دس بجے کے قریب ہم لاڑکانہ ریلوے اسٹیشن پر اُتر گئے۔ 

یہاں استقبال کافی پھیکا رہا کہ سندھ حکومت کا یہ جتنا بڑا پراجیکٹ ہے، ضلعی انتظامیہ شاید اُس کا ادراک نہ کرسکی یا پھر اِسے روایتی ایونٹ سمجھ کر نمٹا دیا گیا۔ بہرحال، تمام سیّاحوں کو بسز کے ذریعے ایک خُوب صورت ہوٹل پہنچایا گیا، جو محکمۂ سیّاحت کے زیرِ انتظام ہے۔ ایک کُھلے مقام پر ہلکی ہلکی سردی میں پُرتکلّف ڈنر کا اہتمام تھا، جس کے دوران سیّاح محفلِ موسیقی سے بھی لُطف اندوز ہوتے رہے اور لوک فن کاروں نے بھی صوفیانہ کلام کے ذریعے خاصی داد سمیٹی۔

ہم دوسرے روز صبح بھرپور ناشتے کے بعد خصوصی بسز کے ذریعے ہوٹل سے موہن جو دڑو کی طرف روانہ ہوئے، جو لاڑکانہ سے تقریباً27 کلومیٹر کی دُوری پر واقع ہے۔ وہاں تک سڑکیں بہت اچھی بنی ہوئی ہیں، اِس لیے کسی پریشانی کے بغیر کچھ ہی دیر میں اپنی منزل پر پہنچ گئے۔ البتہ اِس سفر میں بھینسوں نے ضرور رکاوٹیں ڈالیں، جو بار بار سڑک پر آتی رہیں۔ تاہم، دیہات کا پس منظر نہ رکھنے والے اِس صُورتِ حال سے خاصے محظوظ ہوئے اور ویڈیوز بناتے رہے۔

طلبا و طالبات کی کئی ٹولیاں جو اپنے اساتذہ کے ساتھ مختلف شہروں سے وہاں آئے تھے
طلبا و طالبات کی کئی ٹولیاں جو اپنے اساتذہ کے ساتھ مختلف شہروں سے وہاں آئے تھے

ہمارا خیال تھا کہ موہن جو دڑو کوئی ویران، بیابان اور اجاڑ سا مقام ہوگا، مگر یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ اِس عالمی وَرثے پر خاصی رونق تھی۔ طلبا و طالبات کی کئی ٹولیاں ملیں، جو اپنے اساتذہ کے ساتھ مختلف شہروں سے وہاں آئے تھے، جب کہ بہت سی فیملیز بھی اِدھر اُدھر گھومتی پِھرتی نظر آئیں۔ اِس سائٹ کا داخلی مقام بہت اچھے طریقے سے مینیج کیا گیا ہے۔

ایک طرف ہرے بَھرے گھاس، پھول پودوں سے مہکتے کئی سبزہ زار ہیں، تو دوسری طرف موہن جو دڑو کی تہذیب و تمدّن کی عکّاسی کرتے ماڈلز اپنی طرف کھینچتے ہیں۔ گاڑیوں کی پارکنگ کا اچھا اور وسیع انتظام ہے۔ اگر صفائی ستھرائی کی بات کریں، تو صرف داخلی مقامات اور بیرونی راہ داریاں ہی نہیں، ہیریٹیج سائٹ کے اندرونی مقامات بھی بہت صاف ستھرے تھے۔ کھانے پینے کی چیزیں بھی وہاں دست یاب تھیں، جب کہ واش رومز بھی موجود تھے۔ مرکزی دروازے سے آثار تک جانے کے لیے خصوصی شٹل سروس سے بھی استفادہ کیا جاسکتا ہے۔

ہماری رہنمائی کے لیے وہاں گائیڈ موجود تھے، جنہوں نے موہن جو دڑو سے متعلق بنیادی معلومات فراہم کیں۔ ویسے تمام اہم مقامات پر تعارفی بورڈز بھی نصب کیے گئے ہیں۔ بالکل شروع میں ایک میوزیم بنایا گیا ہے، جس میں یہاں سے برآمد ہونے والی مختلف اشیاء رکھی گئی ہیں، جب کہ کئی ماڈلز کے ذریعے پانچ ہزار سالہ پرانی تہذیب کی عکّاسی بھی کی گئی ہے۔ مرکزی دروازے سے ذرا آگے بڑھیں، تو دائیں طرف’’ڈانسنگ گرل‘‘ کا بڑا سا مجسمہ نظر آتا ہے، جو اُن چند مجسموں میں شامل ہے، جنہیں موہن جو دڑو کی علامت قرار دیا جاتا ہے۔

چار انچ لمبا کانسی کا یہ مجسمہ 1926ء میں کھدائی کے دوران برآمد ہوا تھا۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ ایک 15 سالہ، لباس سے عاری لڑکی کا مجسمہ ہے، جس نے ایک ہاتھ کمر پر رکھا ہوا ہے، جس میں ایسی چوڑیاں پہنی ہوئی ہیں، جو آج بھی صحرائے تھر کی خواتین پہنتی ہیں۔ اِس مجسمے کو1946 ء میں ایک نمائش کے سلسلے میں بھارت لے جایا گیا اور پھر یہ واپس نہیں آیا۔ اب بھی اصل مجسمہ دہلی کے نیشنل میوزیم میں موجود ہے۔ اِس لڑکی کو’’سمبارہ‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔

یہاں سے آگے بڑھیں، تو کچھ دُور جاکر باقاعدہ موہن جو دڑو سائٹ کا آغاز ہوتا ہے۔ دروازے سے اندر داخل ہوں، تو سامنے’’کنگ پریسٹ‘‘ کے علامتی مجسمے پر نظر پڑتی ہے۔ اِس پجاری کا اصل مجسمہ تو نیشنل میوزیم میں ہے، مگر چوں کہ اِسے موہن جو دڑو کی ایک اہم ترین علامت قرار دیا جاتا ہے، شاید اِسی لیے یہ علامتی مجسمہ مرکزی دروازے پر نصب کیا گیا ہے۔ اِس مجسمے کی ایک خاص بات وہ چادر ہے، جو اِس نے اوڑھ رکھی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ چادر، اجرک سے مشابہ ہے۔ بالکل سامنے، بلندی پر وہ اسٹوپا نظر آتا ہے، جسے ہم پاکستان کے بیس روپے کے کرنسی نوٹ پر دیکھتے چلے آ رہے ہیں۔

ویسے تو ماہرِ آثارِ قدیمہ، آر ڈی بینر جی نے 1920ء کے لگ بھگ یہاں کھدائی کا آغاز کیا تھا، تاہم آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کے سربراہ، سر جان مارشل نے 1922ء کے بعد اِسے منظّم شکل دی، اِسی لیے اُنھیں اِن آثار کی دریافت کا بانی قرار دیا جاتا ہے۔ 1980ء میں یونیسکو نے’’موہن جو دڑو‘‘ کو عالمی ثقافتی وَرثے کی فہرست میں شامل کیا۔ ماہرین کے مطابق، یہ شہر ہزاروں برس پرانا ہے اور اِسے دنیا کا پہلا شہر قرار دیا جاسکتا ہے، جو باقاعدہ ٹاؤن پلاننگ کے تحت بسایا گیا۔

ایک اندازے کے مطابق، یہاں چالیس ہزار افراد بستے تھے، جو اعلیٰ تہذیب و تمدّن کے حامل تھے۔ تقریباً پانچ ہزار سال قبل اِس شہر کی سیوریج کی نالیاں ڈھکی ہوتی تھیں اور کچرا بہت سلیقے سے ٹھکانے لگایا جاتا۔ اسٹوپا سے کچھ ہی فاصلے پر ایک بڑے حمام کے آثار دریافت ہوئے ہیں، جب کہ گھروں میں موجود درجنوں کنویں بھی سامنے آچُکے ہیں۔ 

اِسی طرح وہاں گندم ذخیرہ کرنے کا بھی بہترین نظام تھا، جس کے لیے خصوصی کوٹھیاں بنائی گئی تھیں۔ باہمی مشاورت کے لیے ایک اسمبلی ہال بھی تعمیر کیا گیا تھا۔ یہ تمام چیزیں ہم نے دریافت شدہ آثار کی صُورت اپنی آنکھوں سے دیکھیں۔ موہن جو دڑو سے12 سو سے زاید مُہریں وغیرہ دریافت ہوچُکی ہیں، جن پر کچھ لکھا بھی ہوا ہے، مگر کیا لکھا ہے؟ ایک سو سال بعد بھی پڑھا نہیں جاسکا، اِسی لیے اِس بستی کے اہم راز ابھی تک راز ہی ہیں۔ 

مثال کے طور پر اِن افراد کا مذہب کیا تھا؟ کون سی زبان بولتے تھے؟ شہر کا نام کیا تھا؟ کس کی حکومت تھی؟ کچھ علم نہیں۔ اِسی طرح ابھی تک یہ بھی معلوم نہیں ہوسکا کہ یہ شہر کیوں اُجڑا؟ کوئی کہتا ہے، کسی زلزلے نے اِسے اُلٹ دیا، مگر اِس صُورت میں یہاں سے ہزاروں انسانوں کی باقیات ملنی چاہیے تھیں، جب کہ اب تک صرف سات، آٹھ افراد کی ہڈیاں وغیرہ ملی ہیں۔ ایک رائے یہ ہے کہ دریا کے کنارے ہونے کی وجہ سے سیلاب نے اِسے متاثر کیا ہوگا اور یہاں کے باسی کہیں اور نقل مکانی کرگئے ہوں گے۔

بلند مقام پر موجود گول اسٹوپے تک سیڑھیاں چڑھ کر جایا جاتا ہے اور وہاں سے اب تک دریافت کیا گیا تقریباً پورا شہر دیکھا جاسکتا ہے۔ ایک رائے کے مطابق، یہ شہر کم ازکم300 ایکڑ پر مشتمل ہوگا، جس میں سے اب تک صرف دس سے پندرہ فی صد ہی کی کھدائی ہوسکی ہے۔ اسٹوپے سے متعلق کہا جاتا ہے کہ یہاں بُدھ مت کے پیروکار ریاضتیں کیا کرتے تھے، جب کہ قریب ہی ایسے کمرے دریافت ہوئے ہیں، جنہیں یوگیوں کے حجرے کہا جا رہا ہے۔

تاہم، ایک مختلف رائے بھی موجود ہے، جس کے مطابق، اِس شہر پر کئی دور گزرے اور اِسی لحاظ سے یہاں کے باسیوں کے مذہبی عقائد بھی بدلتے رہے۔ کچھ ماہرین اِس اسٹوپے کو بُدھ مت سے منسلک کرنے کی مخالفت کرتے ہیں اور اِس ضمن میں ہڑپا سمیت کئی مقامات کی مثالیں دی جاتی ہیں، جہاں بُدھ مت کے پیروکار تو تھے، مگر وہ اِس طرح کے اسٹوپے نہیں بناتے تھے۔ دیکھتے ہیں، موہن جو دڑو کے یہ راز کب آشکار ہوتے ہیں۔

موہن جو دڑو کے تاریخی آثار چند برس قبل سیلاب سے بُری طرح متاثر ہوئے، جب کہ عالمی اداروں سمیت کئی فورمز اِن آثار کی حفاظت کے ضمن میں مختلف خدشات کا اظہار بھی کرتے رہے ہیں۔ وہاں اب سیّاحوں کے لیے سہولتوں کی فراہمی پر کام ہوتا نظر آ رہا ہے، جب کہ جو لوگ یہاں پہلے بھی آچُکے تھے، اُن کے مطابق، اب اِس عالمی ہیریٹیج سائٹ میں صفائی ستھرائی اور حفاظتی انتظامات ماضی کی نسبت خاصے بہتر ہیں۔ 

تاہم، جس طرح نوجوان، بالخصوص طلبہ تصاویر بنوانے کے لیے آزادانہ طور پر مختلف آثار میں داخل ہو رہے تھے، یہ اِن آثار کے تحفّظ کے ضمن میں ایک سنگین صُورتِ حال ہے۔ اِن پھیلے ہوئے آثار میں محافظین کی مناسب تعداد تعیّنات ہونی چاہیے۔

اِسی طرح سندھ حکومت کی جانب سے سفاری ٹرین کا منصوبہ اُس وقت تک کام یابی سے ہم کنار نہیں ہوسکتا، جب تک کوٹری سے دادو تک ریلوے ٹریک بہتر نہیں بنایا جاتا، کیوں کہ تباہ حال ریلوے ٹریک کی وجہ سے سفر کا وقت دُگنا ہوجاتا ہے۔ نیز، وفاق کے تعاون سے سفری اخراجات میں کمی بھی لائی جاسکتی ہے۔ سفر کے دوران ہماری کئی افراد سے بات چیت ہوئی، جنہوں نے ملے جُلے جذبات کا اظہار کیا۔ 

تاہم، ایک شکوہ یا شکایت تقریباً سب ہی نے کی اور وہ تھی بوگیوں کی حالتِ زار۔ خاص طور پر ٹرین کے واش رومز تو اذیت کا سبب بنے رہے۔ مجموعی طور پر سفر بہت اچھا رہا، سندھ حکومت کے متعلقہ محکمے کے اہل کاروں کا رویّہ نہایت دوستانہ تھا، قدم قدم پر رہنمائی کی اور سب سے اچھی بات یہ کہ اُنھوں نے سفری شیڈول پر عمل درآمد کروانے میں بہت جاں فشانی کا مظاہرہ کیا۔

سنڈے میگزین سے مزید