• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

رمضان المبارک انسانی زندگی میں روحانی بے داری، اخلاقی اصلاح اور جسمانی توازن کا نادر موقع فراہم کرتا ہے۔ یہ مہینہ محض عبادات کی کثرت یا بھوک پیاس کی مشق تک محدود نہیں، بلکہ ایک ایسا ہمہ جہت نظام ہے، جو انسان کے ظاہر اور باطن، دونوں پر انتہائی مثبت اثرات مرتّب کرتا ہے۔ 

روزہ انسان کو خواہشات کے غلبے سے نکال کر ضبط، اعتدال اور شعور کی راہ پر گام زن کرتا ہے، جس کے نتیجے میں نہ صرف روحانی پاکیزگی حاصل ہوتی ہے بلکہ جسمانی صحت پر بھی بہترین اثرات مرتّب ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ رمضان المبارک کو اگر صحیح انداز میں گزارا جائے، تو یہ انسان کے لیے ایک مکمل ’’علاجی مہینہ‘‘ بن جاتا ہے۔

جدید طرزِ زندگی اور قدرتی ری سیٹ(Reset)

جدید طرزِ زندگی میں انسان کا جسم مسلسل کھانے پینے، بے ترتیبی، ذہنی دباؤ اور غیر متوازن معمولات کا شکار رہتا ہے۔ اِس مسلسل دباؤ کے باعث انسانی جسم کا قدرتی نظام بُری طرح متاثر ہوتا ہے اور نتیجتاً مختلف بیماریاں جنم لیتی ہیں۔ 

ماہِ صیام میں روزہ اِس مسلسل دباؤ کے مقابلے میں جسم کو ایک قدرتی وقفہ فراہم کرتا ہے، جس کے دَوران جسم کو آرام، صفائی اور ازسرِنو ترتیب کا موقع ملتا ہے۔ یہ وقفہ دراصل انسانی جسم کے مختلف نظاموں کے لیے ایک قدرتی ری سیٹ کی حیثیت رکھتا ہے، جس کے نتیجے میں جسم کے مختلف نظام بہتر انداز میں کام کرنے لگتے ہیں۔

روزہ اور انسانی نظامِ ہاضمہ

روزے کا سب سے پہلا اور واضح اثر انسانی نظامِ انہضام پر مرتّب ہوتا ہے۔ سال بھر معدہ اور آنتیں مسلسل متحرّک رہتی ہیں، جس کے باعث بدہضمی، گیس، تیزابیت اور معدے کی دیگر شکایات عام ہو جاتی ہیں۔ روزہ معدے کو آرام فراہم کرتا ہے، جس کے نتیجے میں ہاضمے کی صلاحیت بہتر ہوتی ہے۔ 

جب معدہ سکون پاتا ہے، تو آنتوں کی کارکردگی بھی درست ہو جاتی ہے اور غذائی اجزاء بہتر انداز میں جذب ہوتے ہیں، جو مجموعی جسمانی صحت کے لیے نہایت اہم ہے۔ نظامِ ہاضمہ کے ساتھ، روزہ انسانی جسم میں قدرتی صفائی کا عمل بھی متحرّک کرتا ہے۔ روزے کے دوران جسم اضافی چکنائی، فاسد مادّوں اور زہریلے عناصر کو استعمال کر کے توانائی میں تبدیل کرتا ہے۔

یہ عمل ڈی ٹاکسی فیکیشن(Detoxification )کہلاتا ہے، جو جسم کو ہلکا، توانا اور متوازن بناتا ہے۔ اِسی عمل کے نتیجے میں وزن میں اعتدال پیدا ہوتا ہے اور موٹاپے سے وابستہ بیماریوں جیسے، جوڑوں کے درد، دل کے امراض اور شوگر کے خطرات میں کمی آتی ہے۔

روزہ اور دل کی صحت

دل کی صحت کے ضمن میں رمضان المبارک کے اثرات نہایت اہم اور سائنسی طور پر ثابت شدہ ہیں۔ روزہ رکھنے سے خون میں موجود خراب کولیسٹرول کی سطح کم ہوتی ہے، جب کہ اچھے کولیسٹرول میں اضافہ ہوتا ہے، جس کے باعث شریانوں میں جمی چکنائی کم ہو جاتی ہے۔ 

اس کے نتیجے میں خون کی روانی بہتر ہوتی ہے اور دل کو اضافی دباؤ سے نجات ملتی ہے۔ یہی عوامل دل کے دورے، فالج اور دیگر قلبی امراض کے امکانات کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔

بلند فشارِ خون کے مریضوں کے لیے افادیت

بلڈ پریشر یا بلند فشارِ خون کے مریضوں کے لیے رمضان المبارک ایک آزمائش تو ہے، مگر یہ اُنھیں ایک بہترین موقع بھی فراہم کرتا ہے۔ اگر یہ مریض معالج کے مشورے کے مطابق روزہ رکھیں اور اپنی غذائی عادات میں اعتدال اختیار کریں، تو ان کے بلڈ پریشر میں قدرتی طور پر بہتری آ سکتی ہے۔

روزے کے دوران نمک، مرغّن غذاؤں اور غیر ضروری خوراک میں کمی آتی ہے، جب کہ عبادات اور روحانی ماحول ذہنی دباؤ کو کم کرتا ہے۔ ذہنی سکون اور جسمانی نظم و ضبط مل کر فشارِ خون کو قابو میں رکھنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔

روزہ اور ذیابطیس کنٹرول

شوگر، خصوصاً ٹائپ ٹو ذیابطیس کے مریضوں کے لیے رمضان المبارک نظم و ضبط اور خود کنٹرول(Self-Control) کا پیغام لاتا ہے۔ مناسب منصوبہ بندی کے ساتھ روزہ رکھنے سے انسولین کے استعمال میں بہتری آتی ہے اور بلڈ شوگر لیول میں استحکام پیدا ہوتا ہے۔

وقفے وقفے سے کھانے کا یہ نظام انسولین ریزیسٹینس کم کرنے میں مدد دیتا ہے، جو شوگر کے مریضوں کے لیے ایک مثبت پیش رفت ہے۔ تاہم، یہ امر بھی نہایت ضروری ہے کہ ایسے مریض روزہ رکھنے سے قبل اپنے معالج سے مشورہ کریں تاکہ کسی پیچیدگی سے بچا جا سکے۔

رمضان المبارک اور ذہنی ونفسیاتی صحت

رمضان المبارک کے اثرات صرف جسمانی صحت تک محدود نہیں، بلکہ ذہنی اور نفسیاتی صحت پر بھی اس کے گہرے اثرات مرتّب ہوتے ہیں۔ روزہ رکھنے سے انسان کی سوچ میں ٹھہراؤ آتا ہے، ذہنی دباؤ کم ہوتا ہے اور بے چینی میں نمایاں کمی محسوس کی جاتی ہے۔ عبادات، ذکر اور قرآن سے تعلق جیسے امور انسان کو منفی خیالات سے دُور رکھتے ہیں، جس کے نتیجے میں ڈیپریشن اور اضطراب جیسی کیفیات میں کمی آتی ہے۔

ذہنی سکون دراصل جسمانی صحت کی بنیاد ہے اور رمضان اس بنیاد کو مضبوط کرتا ہے۔ دماغی صحت کے ضمن میں بھی روزہ مثبت کردار ادا کرتا ہے۔ روزے کے دوران دماغی خلیات کو بہتر طریقے سے توانائی ملتی ہے، جس سے یاد داشت، توجّہ اور سوچنے کی صلاحیت میں اضافہ ہوتا ہے۔ 

متوازن نیند، عبادات اور دن رات کے منظّم معمولات دماغی کارکردگی کو مزید بہتر بناتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے افراد رمضان میں خود کو ذہنی طور پر زیادہ پُرسکون اور یک سُو محسوس کرتے ہیں۔

انسانی جگر پر مثبت اثرات

جگر، انسانی جسم کا وہ عضو ہے، جو اِسے زہریلے مادّوں سے پاک رکھنے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ رمضان المبارک میں روزہ جگر کو اضافی چکنائی سے نجات دِلانے میں مدد دیتا ہے، جس کے نتیجے میں فیٹی لیور(Fatty Liver)جیسے مسائل کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔ جب جگر بہتر طور پر کام کرتا ہے، تو پورے جسم پر اس کے مثبت اثرات مرتّب ہوتے ہیں، جن میں توانائی میں اضافہ اور بیماریوں سے تحفّظ بھی شامل ہے۔

روزہ اور گُردوں کی صحت

اِسی طرح گُردے بھی روزے کے دَوران بہتر کارکردگی دِکھاتے ہیں، بشرط یہ کہ سحر و افطار میں مناسب مقدار میں پانی استعمال کیا جائے۔ گُردے جسم سے فاسد مادّوں کے اخراج میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور رمضان میں پانی کا درست استعمال، گُردوں کو صحت مند رکھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ یہ عادت رمضان کے بعد بھی اپنائی جائے، تو گُردوں سے متعلق بیماریوں کے خطرات میں کمی آ سکتی ہے۔

مدافعتی نظام کی مضبوطی

رمضان المبارک مدافعتی نظام(Immune System) کو بھی مضبوط بناتا ہے۔ سادہ، کم چکنائی والی اور متوازن غذا، کم کھانے کی عادت اور منظّم معمولات جسم کے دفاعی نظام کو بہتر بناتے ہیں۔ جب جسم کا مدافعتی نظام مضبوط ہوتا ہے، تو جسم مختلف انفیکشنز (Infections) اور بیماریوں کے خلاف بہتر طور پر لڑ سکتا ہے۔ یہ قوّتِ مدافعت خصوصاً موجودہ دَور میں نہایت اہمیت اختیار کر چُکی ہے۔

سحر و افطار میں غذا کا چناؤ

رمضان المبارک، غذائی عادات کے ضمن میں سادگی اور اعتدال کا سبق دیتا ہے۔ سحر اور افطار میں متوازن غذا، پھل، سبزیاں، فائبر، پروٹین اور مناسب مقدار میں پانی جسم کو ضروری غذائی اجزاء فراہم کرتے ہیں۔ اس کے برعکس، تلی ہوئی مرغّن اور غیر صحت بخش غذاؤں کا زیادہ استعمال روزے کے فوائد متاثر کر سکتا ہے۔ اگر رمضان میں سادہ غذا معمول بنالی جائے، تو اس کے اثرات سال بَھر محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ 

سحری اور افطاری کے اوقات نہ صرف عبادت کا حصّہ ہیں، بلکہ جسمانی صحت کے لیے بھی انتہائی اہمیت رکھتے ہیں۔ سحری وہ خوراک ہے، جو روزے کے لیے توانائی فراہم کرتی ہے اور جسم کو دن بَھر کی بھوک و پیاس کے مقابلے کے لیے تیار کرتی ہے۔ اِس لیے سحری میں ہلکی، لیکن توانائی بخش غذا حاصل کرنا ضروری ہے، جیسے دلیا، انڈے، دہی، سبزیاں، پھل اور کم چینی والی غذائیں۔ 

یہ غذائیں آہستہ آہستہ ہضم ہوتی ہیں اور توانائی کو دیر تک برقرار رکھتی ہیں، جس سے دن بَھر جسمانی طاقت اور ذہنی توجّہ قائم رہتی ہے۔ پانی کا مناسب استعمال بھی سحری میں نہایت ضروری ہے، کیوں کہ دن بَھر پانی کی کمی جسم کو تھکاوٹ، سَر درد اور کم زوری کی طرف لے جا سکتی ہے۔ 

سحری میں نمکین اور تلی ہوئی غذاؤں سے اجتناب کرنا چاہیے، کیوں کہ یہ پیاس بڑھا سکتی ہیں اور معدے پر اضافی دباؤ بھی ڈالتی ہیں۔ کیفین والے مشروبات، جیسے چائے یا کافی کی مقدار بھی محدود رکھنی چاہیے، کیوں کہ یہ پیشاب کے ذریعے جسم سے پانی خارج کرتے ہیں اور دن میں پانی کی کمی پیدا کر سکتے ہیں۔ افطار کے وقت بھی خوراک کا انتخاب بہت اہم ہے۔ 

سنّتِ نبویﷺ کے مطابق روزہ کھجور اور پانی سے کھولا جائے، کیوں کہ یہ جسم کو فوری توانائی فراہم کرتے ہیں اور معدے کو آرام دہ طریقے سے متحرّک کرتے ہیں۔ زیادہ دیر تک بھوکے رہنے کی وجہ سے افطاری میں بھاری اور تلی ہوئی غذاؤں کا استعمال عام ہے، لیکن یہ عادت صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔ 

بہتر ہے کہ افطار میں ہلکی، متوازن اور غذائیت سے بھرپور غذائیں شامل کی جائیں، جیسے سبزی، دال، چکن یا مچھلی اور پھل۔ یہ غذائیں جسم کو توانائی، پروٹین اور وٹامن فراہم کرتی ہیں اور ہاضمے کو بھی سکون دیتی ہیں۔ صحت کے مسائل جیسے معدے کی جلن، بدہضمی یا موٹاپا رکھنے والے افراد کو افطاری میں بھاری کھانوں سے گریز کرنا چاہیے۔ 

افطار کے بعد کھانے کو آہستہ آہستہ کھائیں اور چینی یا میٹھے کی مقدار محدود رکھیں، کیوں کہ زیادہ میٹھا بلڈ شوگر اور وزن کے مسائل پیدا کر سکتا ہے۔ افطاری کے دوران پانی بھی مناسب مقدار میں پینا ضروری ہے تاکہ جسم میں پانی کی کمی پوری کی جا سکے۔ سادہ اور متوازن غذا اپنانے سے رمضان کے دوران جسمانی نظام بہتر طریقے سے کام کرتا ہے اور روزے کے فوائد مکمل طور پر حاصل ہوتے ہیں۔

مخصوص مریضوں کے لیے احتیاطی تدابیر

کچھ مخصوص مریضوں، جیسے شدید شوگر، امراضِ قلب، کم زور گُردوں یا ڈائی لیسز کے مریضوں اور حاملہ خواتین کو روزہ رکھنے سے قبل خصوصی احتیاط اور طبّی مشورے کی ضرورت ہوتی ہے تا کہ کسی ممکنہ پیچیدگی سے بچا جاسکے۔ اسلام، انسان کی صحت کو مقدّم رکھتا ہے اور ایسی صُورت میں فرائض و واجبات کی ادائی میں سہولت فراہم کرتا ہے، جو دینِ اسلام کی جامعیت اور انسان دوستی کا ثبوت ہے۔

رمضان المبارک ایک ایسا مہینہ ہے، جو انسان کو اپنی زندگی کے ہر پہلو پر غور کا موقع دیتا ہے۔ یہ مہینہ روحانی پاکیزگی کے ساتھ، جسمانی تن دُرستی، ذہنی سکون اور معاشرتی بہتری کا ذریعہ ہے۔ اگر رمضان کو شعور، اعتدال اور صحیح طرزِ زندگی کے ساتھ گزارا جائے، تو یہ نہ صرف ایک مہینے کی عبادت، بلکہ پورے سال کے لیے صحت مند اور متوازن زندگی کی بنیاد بن سکتا ہے۔

واضح رہے، رمضان المبارک دراصل ایک اہم پیغام ہے کہ’’ صحت مند جسم اور پاکیزہ رُوح ہی مضبوط فرد اور صحت مند معاشرے کی ضمانت ہے۔‘‘

(مضمون نگار، پبلک ہیلتھ اسپیشلسٹ اور چیف میڈیکل آفیسر، سروسز اسپتال کراچی، ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ سندھ ہیں)

سنڈے میگزین سے مزید
صحت سے مزید