• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن کی نج کاری کا عمل مکمل ہوا، تو سب سے اہم چیلنج یہ سامنے آیا کہ اِس قومی ادارے کی بحالی و ترقّی کا سفر کیسے طے ہوگا۔ اِس امر میں کوئی شک نہیں کہ جنوری2026 ء میں پی آئی اے کی نج کاری نے جنوبی ایشیا کی ہوا بازی کی تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ کیا۔ دہائیوں کے مالی بحران، ریاستی بد انتظامی اور سیاسی دخل اندازی نے اِسے ڈوبنے کے قریب پہنچا دیا تھا۔

ایسے میں جب عارف حبیب کنسورشیم نے 139ارب روپے(تقریباً480 ملین ڈالرز) کی بولی لگا کر قومی ایئر لائن کے 75 فی صد شیئرز حاصل کیے، تو عوام اور حکومت کے لیے یہ عمل اُمید کی کرن کے طور پر سامنے آیا۔ شفّافیت کے بین الاقوامی تقاضے پورے کرنے کے لیے یہ سودا آئی ایم ایف کی کڑی نگرانی میں طے پایا۔ قومی ایئر لائن کا سفر، جو قیامِ پاکستان کے اوائل میں ایک نجی کمپنی سے شروع ہوا تھا، آج پھر ایک نجی کنسورشیم تک جاپہنچا۔ یہ نج کاری اِس لحاظ سے بھی ایک مثال بنی کہ سالوں پر محیط سرکاری کنٹرول کا خاتمہ ہوا۔ 

ویسے بھی پاکستان میں حکومتیں کہتی رہی ہیں کہ بزنس کرنا حکومت کا کام نہیں، لیکن سیاسی وجوہ اور حوصلے کے فقدان کے سبب ایسے بیانات کبھی عملی شکل اختیار نہیں کرسکے۔ بہرحال، نئے مالکان کی جانب سے125ارب روپے کی مزید سرمایہ کاری کا اعلان کیا گیا، تاہم یہ قومی ایئر لائن کے گمبھیر اور پیچیدہ مسائل کا حل نہیں ہے۔

اگر اِسے صرف ایک مالیاتی ادارہ سمجھا گیا اور اسے ایئر لائن انڈسٹری کے روایتی، پرانے طریقوں سے بحال کرنے کی کوشش کی گئی، تو صُورتِ حال میں بہتری ممکن نہیں ہوپائے گی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عارف حبیب کنسورشیم نے صرف طیارے اور لینڈنگ سلاٹس ہی نہیں خریدے، بلکہ ایک تیکنیکی خلا بھی خریدا ہے۔ یعنی بکھرے، پرانے اور آؤٹ ڈیٹڈ سسٹم پر چلنے والا انجینئرنگ نظام اور ایک ایسا کم زور کمرشل نیٹ ورک، جو عالمی ہوا بازی سے کٹ چُکا ہے۔

عارف حبیب کنسورشیم کے لیے بحالی اور مناسب منافعے کا حصول اُس وقت تک ممکن نہیں، جب تک وہ اِس حقیقت کا ادراک نہیں کرلیتے کہ پی آئی اے کی ناکامی میں صرف سیاسی نہیں، ٹیکنالوجی کی خامیوں کا بھی بڑا ہاتھ ہے۔ جدید ہوا بازی کے اُس دَور میں جہاں چھوٹی چھوٹی ایئر لائنز بھی ٹیکنالوجی کی برتری کے سبب مدّمقابل ہیں، اِس طرح کی بنیادی باتیں نظر انداز کرنا، دلدل میں پھنسنے کے مترادف ہوگا۔

پی آئی اے کا ڈھانچا مکمل خستہ حالی کا شکار اور تیکنیکی ناکامیوں کی داستان ہے۔ لہٰذا، قومی ایئر لائن کی بحالی کے لیے ضروری ہے کہ ماضی کے تیکنیکی فیصلوں اور اُن سے برآمد ہونے والے تباہ کن نتائج کا سائنسی انداز میں پوسٹ مارٹم کیا جائے۔ اِن تیکنیکی غلطیوں، بلکہ بلنڈرز نے ایئر لائن کو زمیں بوس، قوم کو تکلیف دہ شرمندگی اور ناقابلِ تلافی نقصان سے دوچار کیا۔ پاکستان آبادی کے لحاظ سے دنیا کا پانچواں بڑا مُلک ہے، اِس لیے ایئر لائن کو مسافروں کی کبھی کمی نہیں رہی۔

بیرونِ مُلک بھی اور اندرونِ مُلک بھی۔ گویا، یہ ایئر لائن مسافروں کی کمی کی وجہ سے نہیں ڈوبی، بلکہ ناقص ٹیکنالوجی اور آئی ٹی انفرا اسٹرکچر کے سبب ناکام ہوئی۔ اِسی ناکامی کی وجہ سے یہ پاکستانی اور دیگر مسافروں کی توقّعات پر پوری نہ اُتر سکی اور اُنہیں وہ سہولتیں دینے میں ناکام رہی، جو آج کے دَور میں کسی بھی ایئر لائن کے لیے ضروری ہیں۔

یہ کوئی فلاحی، سرکاری یا سیاسی ادارے نہیں، بلکہ اوّل درجے کے بزنس ادارے ہیں۔ قومی ایئر لائن کا یہ حال ہوگیا کہ کب جہاز اُڑان بھریں گے؟ مسافروں تک یہ بنیادی اطلاع بھی پہنچانا ممکن نہیں رہا۔ اوپر سے اُنہیں پرواز کی نقل وحرکت سے متعلق اکثر اندھیرے میں رکھا جاتا اور پرواز سے متعلق کوئی نئی صُورتِ حال اُن پر حیرت کی طرح نازل ہوتی، جو غصّے، جھنجھلاہٹ اور بے انتہا تکلیف کا باعث بنتی۔ نیز، پی آئی اے کو اُس وقت ایک اور غیر معمولی جھٹکے، بلکہ زلزلے کا سامنے کرنا پڑا، جب اس کا عالمی نیٹ ورک سے رابطہ منقطع ہوگیا۔

یہ کمرشل خُودکشی کے مترادف تھا۔ پی آئی اے کی تاریخ کا سب سے تباہ کُن فیصلہ اس کے پسنجر سسٹم( PSS)کی منتقلی تھا۔ پہلے طویل عرصے تک Sabre سسٹم کا استعمال کیا گیا، جو عالمی معیار کا حامل ہے، لیکن پھر لگتا ہے کہ پی آئی اے نے اخراجات بچانے کے لیے تُرکیہ کےHitit سسٹم پر منتقلی کا فیصلہ کیا۔ اِس فیصلے میں ادارے کی ماضی کی کام یابیاں مدّ ِنظر رکھی گئیں اور نہ ہی مستقبل میں اس کے اثرات کا جائزہ لیا گیا۔ اس فیصلے میں تیکنیکی مہارت کی کمی صاف جھلکتی ہے۔

ظاہر ہے، اس کے اثرات بھی بھگتنے پڑے۔ اس کا نتیجہ کمرشل بلیک آئوٹ کی صُورت سامنے آیا۔ نیا سسٹم عالمی شراکت داروں کے سسٹمز کے ساتھ رابطہ برقرار رکھنے میں ناکام رہا، جس سے پی آئی اے کا انٹر لائن نیٹ ورک ٹوٹ گیا اور یہ دیکھتے ہی دیکھتے عالمی ایئر لائن سے پوائنٹ ٹو پوائنٹ کیریر بن کر رہ گئی۔ اس کی عالمی ساکھ ختم ہوگئی۔ عملے کو ہاتھ سے لکھے بورڈنگ پاسز جاری کرنے پڑے، جو1970ء میں ہوا کرتا تھا، مگر اب اِسے سیکیوریٹی کے لیے سنگین خطرہ تصوّر کیا جاتا ہے۔

گزشتہ برس فروری میں ٹکٹنگ پورٹل کا دس دن تک بند رہنا، اِس سسٹم کی کم زوری کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ چوں کہ اِس سارے عمل کا تعلق براہِ راست مسافروں سے ہے، تو اِس بریک ڈائون نے اُنھیں اپنی قومی ایئر لائن سے بُری طرح مایوس کیا۔ اُن کی ترجیح غیر مُلکی ایئر لائنز بن گئیں، جو قومی ایئر لائن کی کم زوری کی وجہ سے آہستہ آہستہ جگہ بناتی رہیں۔ آج یہ صُورتِ حال ہے کہ تھوڑے سے فاصلے کے لیے بھی مسافر پی آئی اے کا انتخاب نہیں کرتے۔

قومی ایئر لائن کو ایک اور بیماری جو دیمک کی طرح چاٹ گئی، اُسے’’سیفٹی بلائینڈنیس‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ ایک طرح سے ٹک ٹک کرتا بم ثابت ہوئی۔ جولائی 2020 ء میں یورپی یونین سیفٹی ایجینسی نے پی آئی اے پر اپنے ڈومین میں پابندی عاید کر دی۔ یوں قومی ایئر لائن کے ڈوبنے میں جو کسر رہ گئی تھی، وہ بھی پوری ہوگئی۔

مُلک میں عام تاثر یہ دیا گیا کہ یہ پابندی صرف پائلٹس کے جعلی لائسینسز اور ڈگری اسکینڈل پر لگی۔ اِس سلسلے میں ہوا بازی کے وزیر کی اُس تقریر کا بہت شہرہ ہوا، جو اُنہوں نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں کی۔ جب کہ اِس پابندی کی جڑ، پی آئی اے کے سیفٹی مینجمینٹ سسٹم کی عدم موجودگی تھی۔ 

جدید ایوی ایشن کا انحصار ڈیٹا کے تجزیے پر ہے۔ ریگیولیٹرز اِس بات کو ایئر لائنز کے لیے لازمی قرار دیتے ہیں کہ وہ ایسا سافٹ ویئر استعمال کریں، جو جہاز کے سینسرز سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کا تجزیہ کرکے حادثے سے پہلے ہی خطرات کی نشان دہی کردے اور پی آئی اے کے پاس یہ نظام نہیں تھا۔ 

یورپی یونین سیفٹی ایجینسی نے واضح کیا کہ تنبیہہ کے باوجود ایئر لائن نے سیفٹی ڈیٹا کو ڈیجیٹلائز نہیں کیا، جس کی وجہ سے قومی ایئر لائن اندھے پن کا شکار رہی۔ پی آئی اے کی ایک اور بیماری اس کا انجینئرنگ کا کاغذی نظام اور جہازوں کی گرائونڈنگ کا خوف ناک مسئلہ ہے۔ قومی ایئر لائن کا انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ پرانے سافٹ ویئر اور کاغذی نظام ہی پر معاملات آپریٹ کرتا رہا، جب کہ آج کی تقریباً تمام جدید ایئر لائنز AMOSیا TRAXسسٹم استعمال کرتی ہیں، جو جہاز میں موجود ہر پُرزے اور سسٹم کی لائف سائیکل ٹریکنگ کرتے ہیں اور بروقت آگاہ کر دیتے ہیں کہ کب ان کی تبدیلی کا وقت آگیا ہے یا یہ بالکل ناکارہ ہوگئے ہیں۔

علاوہ ازیں، ایئر لائن میں انوینٹری سسٹم اور مینٹینینس پلاننگ کے درمیان رابطے کا فقدان ہوگیا، جس کی وجہ سے ایک تو بروقت خریداری نہیں ہوپاتی اور دوسری طرف انجینئرز کو معلوم ہی نہیں ہوتا کہ گودام میں کون سا پرزہ دست یاب ہے،کون سا نہیں۔ اِس ڈیٹا بلائینڈنیس یا ڈیٹا کی عدم موجودگی نے ایک اور خوف ناک کلچر پروان چڑھایا، جسے فضائی زبان میں ’’cana ba lization ‘‘ کہا جاتا ہے۔ یعنی ایک خراب جہاز کو اُڑانے کے لیے کھڑے جہاز سے پرزے نکال کر اُسے پرواز کے قابل بنانا۔

اِس عمل نے بوئنگ777 اور ایئر بسA320 کو 600دِنوں سے زیادہ گرائونڈ رکھا۔ آڈیٹر جنرل کی رپورٹ کے مطابق اِس بد انتظامی سے 22ارب روپے کا نقصان ہوا۔ پھر2016ء میں1.2کروڑ ڈالر انٹرپرائز ریسورس پلاننگ پراجیکٹ (ERP) کو خیرباد کہنا ایک اور بڑی غلطی تھی، جو جڑیں کھوکھلی کرنے کا باعث بنی۔ ایک مربوط ای آر پی سسٹم کے بغیر پی آئی اے کا مالیاتی نظام غیر شفّاف رہا۔ 

اِسی وجہ سے وہ فراڈ ممکن ہوا، جس میں پرانے ٹکٹ دوبارہ جاری کرکے پیسے بٹورے گئے۔ گھوسٹ ملازمین تن خواہیں لیتے رہے، کیوں کہ بائیو میٹرک نظام، پے رول نظام سے منسلک نہیں تھا۔ دُکھ کی بات یہ ہے کہ یونینز نے بھی یہ نظام ناکام بنانے میں کردار ادا کیا۔

اب سوال اور چیلنج یہ ہے کہ نج کاری کے بعد پی آئی اے کو کس طرح ترقّی کی راہ پر ڈالا جائے؟ اِس ضمن میں ریاض ایئر لائنز کا ماڈل، جو آرٹی فیشل انٹیلی جینس پر مبنی ہے، ایک اچھی مثال کے طور پر سامنے آیا ہے، اُسے اپنے حالات کے مطابق اپنا کر کام یابی حاصل کی جاسکتی ہے۔ ریاض ایئر لائن، AI NATIVE استعمال کرتی ہے۔ 2025ء میں لانچ ہونے والی یہ ایئر لائن روایتی نظام کی بجائے مصنوعی ذہانت پر کھڑی کی گئی ہے، جب کہ پی آئی اے آج بھی 1980 ء کے دَور کے نظام پر چل رہی ہے۔ 

ریاض ائیر دنیا کی پہلی ایئر لائن ہے، جس نے PNRپیسنجر نیم ریکارڈ کے طریقۂ کار کو ختم کرکے OOMS یعنی آفر اینڈ آرڈر مینجمینٹ سسٹم اپنایا ہے۔نیز،flyr اور sabr mosai کی مدد سے ریاض ایئر کا اے آئی سسٹم ہر مسافر کے لیے ریئل ٹائم میں ایک مخصوص مسافر تیار کرتا ہے، جس میں سیٹ، ہوٹل اور دیگر سہولتیں شامل ہوتی ہیں۔ اِس میں جدید اور غیر معمولی سسٹمز رکھے گئے ہیں، جو ایئر کرافٹ کی کارکردگی کو مجموعی طور پر بہترین بناتے ہیں۔ 

ریاض ایئر اپنے پورے آپریشن کا’’digital twin ‘‘ استعمال کرتی ہے۔آئی بی ایم موسم، عملے کی کمی اور دوسرے پیش آنے والے مسائل کا پیشگی تجزیہ کرتی ہے۔جی ایئر اسپیس اور ایموس سسٹم کی مدد سے جہاز پر نظر رکھی جاتی ہے اور پُرزہ یا سسٹم خراب ہونے سے پہلے ہی انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کو اطلاع مل جاتی ہے تاکہ وہ پیشگی اقدامات کرسکیں۔ 

ریاض ایئر کے جدید اے آئی سسٹم میں مسافروں کو اوّلیت دی گئی ہے اور عملے کو ہر وقت چوکنا رکھا جاتا ہے، اس کے لیے ملازمین کے پاس اے آئی اسسٹینٹس ہیں، جو آئی بی ایم واٹسونکس سسٹم پر کام کرتے ہیں۔ اگر کوئی فلائٹ لیٹ ہو، تو سسٹم خودکار طریقے سے عملے کو اس کا حل تجویز کرتا ہے اور وہ با آسانی اس سے نمٹ سکتے ہیں۔ ایسا کوئی طریقہ پی آئی اے میں موجود نہیں ہے اور عملہ اندھیرے میں ہاتھ پائوں مارتا رہتا ہے۔

مقابلے کے دَور میں سرکاری سے نجی ملکیت میں جانے کے بعد قومی ایئر لائن کے پاس بہتر آپشن کیا ہوگا، جس سے کام یابی یقینی ہو، تو یہی کہا جاسکتا ہے کہ اِس مقصد کے لیے جرأت مندانہ فیصلے اور جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ ناگزیر ہے۔ عارف حبیب کنسورشیم کے لیے کام یابی کا راستہ یہی ہے کہ اسے روایتی کمپنی کی بجائے ڈیجیٹل کمپنی کے طور پر چلائیں، جس کی مثال خطّے میں پہلے ہی سے موجود ہے۔

اِس ضمن میں یورپی یونین سیفٹی ایجینسی کی پابندیوں کا مکمل خاتمہ بھی ضروری ہے، جو جدید ٹیکنالوجی کے بغیر ممکن نہیں۔ کسی کی منّت سماجت نہیں کرنی پڑے گی، کیوں کہ ایئر لائن جدید دَور کا ماڈل ہوگی۔ پھر پی آئی اے میں اے آئی پر مبنی سیفٹی نظام رائج کرنا ہوگا۔ یہ اقدام عالمی اعتماد سازی کا باعث ہوگا۔ فوری طور پر کلائوڈ بیسڈ ایس ایم ایس سافٹ ویئر، جیسے آئی کیو ایس ایم ایس( IQSMS ) کا استعمال کرنا ہوگا، جس میں اے آئی اینالٹکس شامل کرنے ہوں گے تاکہ یورپی یونین سیفٹی ایجینسی کو پیشگی خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت دِکھائی جاسکے۔ اِس کے ساتھ، سائبر سیکیوریٹی بھی یقینی بنانی ہوگی۔

ڈارک ویب پر ڈیٹا کی فروخت روکنے کے لیے’’Zero trust architecture‘‘ اور بائیو میٹرک سیکیوریٹی کا نفاذ ضروری ہے۔ کسی بھی ایئر لائن کی کام یابی کے لیے مسافروں کا اعتماد جیتنا ضروری ہے، جو پی آئی اے کھو چُکی ہے، اِس لیے نئی شروعات میں آپریشنل استحکام یقینی بنایا جائے۔ کھڑے جہازوں سے پُرزے نکال کر دوسرے جہازوں کو عارضی پرواز کے قابل بنانے کی قطعاً اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ 

اِس مقصد کے لیے جدید سافٹ ویئر نصب کیے جائیں، جو سپلائی چین کو خودکار بناتے ہیں۔ کسی بھی بزنس کے لیے ضروری ہے کہ ایک خاص وقت کے بعد کٹ آئوٹ اور آمدنی کے بعد اضافے کی طرف جائے۔ یہ پی آئی اے کے لیے ایک طرح سے کمرشل چھلانگ ہوگی۔ اس کے دو طر یقے ہیں، ایک تو پرانا سسٹم ٹھیک کیا جائے اور دوسرا، جدید طریقے اپنائے جائیں۔ پی آئی اے کو پرانا سسٹم ٹھیک کرنے کی بجائے ریاض ایئر کی طرح OOMS کو اپنانا چاہیے، جو ایک بار میں مسئلہ حل کردے گا۔

اِس سے پی آئی اے مسافروں کو سیٹ ہی نہیں، ہوٹل، ٹرانسپورٹ اور اضافی بیگیج جیسی خدمات فروخت کر سکے گی اور یہ آمدنی میں فوری اضافے کا بھی سبب بنے گا، جس کی ایئر لائن کو ضرورت ہے۔ یہی ہوابازی کا جدید ماڈ ل بھی ہے۔ پی آئی اے کو واٹس ایپ پر اردو اور انگریزی میں سمجھنے والا جنریٹو اے آئی چیٹ بوٹ لانچ کرنا ہوگا، جو فلائٹ منسوخ ہونے پر خودکار طریقے سے ری فنڈ بکنگ کرے تاکہ مسافروں کو سہولت کا احساس ہو۔درحقیقت، پی آئی اے کی نج کاری، اس کی بحالی اور ترقّی کا آخری موقع ہے،جسے کسی صورت ضائع نہیں ہونے دینا چاہیے۔

سنڈے میگزین سے مزید