• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

گزشتہ کچھ دنوں سے پاکستان میں صوبوں کی تعداد بڑھانے کے سلسلے میں میڈیا پر مختلف مباحثوں اور تجزیوں کی بھرمار ہے۔ کہا جارہا ہے کہ نئے صوبے بنانا اسلئے ضروری ہے کہ موجودہ سیاسی اور انتظامی نظام کے پاس پاکستان کے بحران کا حل موجود نہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ مباحثے کسی فطری عمل کی پیداوار نہیںکیونکہ اس بحث میں حصہ لینے والے مخصوص مفادات کی ترجمانی کرتے نظرآتے ہیں جبکہ پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتیں بشمول پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) نے نئے صوبے بنانے کی مخالفت کی ہے۔ ان مباحثوں میں یہ نہیں بتایا جاتا کہ نئے صوبے اپنے ساتھ کتنا مالی بحران لائیں گے جسکا بوجھ ٹیکس دہنددگان کو نئی صوبائی اسمبلیوں، گورنروں، وزرائےاعلیٰ، کابینہ، ہائی کورٹس، پبلک سروس کمیشن اور سول سیکرٹریٹ کی صورت میں اٹھانا پڑے گا۔


یاد رہے کہ پاکستان بنتے ہی ریاستی دانشوروں نے مسلمان قوم، نظریہ پاکستان اور مضبوط مرکز پر مشتمل نعروں کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا شروع کر دیا تھاتاکہ ملک میں ہزاروں سال سے بسنے والی وحدتوں کے وجود سے انکار کیا جا سکے۔سابقہ وزیر قانون اے۔کے۔ بروہی نے روزنامہ ڈان میں ایک طویل مضمون میں یہ نظریہ پیش کیا تھا کہ سماجی علوم میں’’قومیت‘‘ نامی کسی تصورکا وجود نہیں ہے اور پاکستان، برطانوی مملکت ہند کی جانشین ریاست کی حیثیت سے ایک وحدانی ریاست ہے، نا کہ وفاقی میثاق۔مرکز نے صوبوں کو تشکیل دیا ہے ناکہ صوبوں نے وفاق کو۔جس سے وہ ثابت کرنا چاہتے تھے کہ مرکز پہلے قائم ہوا اور صوبے بعد میں۔لیکن اپنے مضمون میں انہوں نے اس بات کا ذکر نہیں کیا کہ پاکستان میں پانچ ہزار سال سے مختلف قومیں اپنی زبان، ثقافتی خدوخال، روایات اور رسم و رواج کے ساتھ آباد چلی آ رہی ہیں جبکہ پاکستان کو بنے اس وقت کچھ ہی سال ہوئے تھے۔ یہاں یہ بات بتانا ضروری ہے کہ قومیت نہ صرف ایک سماجی و سیاسی تصور فکر ہے بلکہ ایک زندہ حقیقت بھی ہے جس سے قطعی طور پر علیحدگی پسندی مراد نہیں لی جا سکتی۔ بروہی صاحب کے مطابق قوموں کے حقوق میں حق خود اختیاری بھی شامل ہوتا ہے جو ملک کی بنیادوں کو اکھاڑ پھینکے گا۔ لیکن اس سلسلے میں سوئٹزر لینڈ کی مثال ہمارے سامنے ہے جہاں جرمن، فرانسیسی اور اطالوی قومیں ایک ہی ریاست میں تمام قومیتی حقوق سے مستفید ہو رہی ہیں اور انکی کوئی خواہش نہیں کہ وہ الگ قومی ریاستیں بنائیں۔ اگر تاریخی طور پر دیکھا جائے تو اِس علاقے میں صوبوں کی تشکیل اور انکے حقوق، انتظامی طور پر متعین نہیں کیے گئے تھے کیونکہ اس میں لازمی قومیت کا دخل تھا ورنہ شمال مغربی سرحدی صوبہ پنجاب سے علیحدہ نہ ہوتا اور نہ ہی سندھ کا یہ مطالبہ کہ اسے بمبئی سے علیحدہ کیا جائے،قبول کیا جاتا۔ اسی وجہ سے 1935ء کا ایکٹ بھی ایک وفاقی ڈھانچہ ہی تجویز کرتا تھا اور 1940ء کی قراردادِ پاکستان بھی ہندوستان کے شمال مغربی (موجودہ پاکستان) اور مشرقی علاقوں میں آزاد ریاستوں کے قیام کا مطالبہ کرتی تھی جس میں شامل ہر خطے کی حیثیت خودمختار اور مقتدرہ اعلیٰ کی ہوگی۔ اس کیساتھ ساتھ تاریخی طور پر دیکھا گیا ہے کہ کسی بھی ملک کے اتحاد، استقامت اور خوشحالی کیلئے ضروری ہوتا ہے کہ وہاں رفتہ رفتہ واحد قوم ارتقاء پذیر ہو۔ پاکستان اس وقت تک واحد قوم نہیں بن سکتا جب تک اسکے فطری اور لازمی اجزائے ترکیبی یعنی پنجابی، سندھی، پختون، سرائیکی اور بلوچ قوموں کی باہمی رضامندی، سود و زیاں کے اشتراک اور ہم سری کی بنیاد پر وفاق کو تشکیل نہ دیا جائے۔ ہمارے سیاسی مدبرین کو اس با ت کا ادراک ہونا چاہئے کہ قومیت کا مسئلہ، پاکستان میں جمہوریت کے مسئلے سے الگ کوئی چیز نہیں ہے۔ آج وقت کی اشد ضرورت یہ ہے کہ ہم مضبوط مرکز کی بجائے مضبوط پاکستان کی بات کریں اور مضبوط مرکز کے نام پر وحدتوں سے انکی معاشی، معاشرتی، تاریخی اور سیاسی اقدار سے انکا رنہ کریں ورنہ آپ کے پاس ایک مضبوط مرکز تو ہوگا لیکن شاید مضبوط پاکستان نہیں ہوگا۔ مشرقی پاکستان کی علیحدگی انہی نا انصافیوں کا پیش خیمہ تھی۔ اٹھارویں ترمیم کی بدولت پہلی بار پاکستانی ریاست نے حقیقی معنوں میں وفاقی و فلاحی ریاست کا روپ دھارا ہے کیو نکہ اس ترمیم کا مقصد پاکستان کو ایک قوم بنانا ہے جو اسکے اتحاد، استحکام اور خوشحالی کی ضامن ہو۔ یاد رہے کہ قوموں کی تاریخ میں ایسے معاہدوں کو تقدس کا درجہ حاصل ہوتا ہے جنکے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہیں کی جاتی۔ آج پاکستان کا موجودہ سیاسی بحران جس کا حل، نئے صوبے بنانے میں مضمر بتایا جاتا ہے، دراصل مرکزی اور صوبائی اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی سے وابستہ ہے۔ آئین کے آرٹیکل 32کی روح کے مطابق مقامی حکومتوں کا نفاذ ضروری ہے اور آرٹیکل 140(A)کی روح کے مطابق ان اداروں کو مالیاتی، انتظامی اور سیاسی اختیارات منتقل کیے جائیں۔ سول سروس اور پولیس پر سیاسی اثرو رسوخ کا مکمل خاتمہ کیا جائے۔ جمہوری معاشروں میں عوام کی پیدائش سے لیکر وفات تک کے سفر کی مینجمنٹ مقامی سطح پر ہی کی جاتی ہے اور اسکے ساتھ ساتھ مقامی حکومتیں، ہماری سیاست کو ابتدائی نرسری فراہم کر کے ورکنگ کلاس کی لیڈرشپ کو ارتقاء پذیر کر سکتی ہیں جس سے ریاست اور عوام کے درمیان ایک رشتہ استوار ہوگا۔ یاد رہے کہ آج کے یورپ میں کسی بھی سیاسی جماعت کی لیڈر شپ موروثی نہیں ہوتی بلکہ مقامی حکومتوں سے ہوتے ہوئے مرکز تک پہنچتی ہے یوں وہ عام آدمی کے تمام مسائل سے آگاہی رکھتے ہوئے سماجی تبدیلی کا محرک بنتی ہے۔

تازہ ترین