30 نومبر کو پاکستان پیپلز پارٹی کا 58 واں یوم تاسیس منایا جا رہا ہے۔ـ دنیا کی جدید سیاسی تاریخ میں سیاسی پارٹیوں کی بہت زیادہ اہمیت ہے جن کی وجہ سے منتشر عوام کو ایک پروگرام یا ضابطے کے تحت لانا اور انہیں معاشرتی دھارے کا حصہ بنانا ممکن ہوا ـ ۔دنیا میں پچھلےدو تین سو سال میں جو بھی انقلاب آئے ہیں وہ اُنہی سیاسی پارٹیوں کی جدوجہد کا نتیجہ تھے جنہوں نے پوری دنیا کی سیاسی معاشرتی اور معاشی شکل و صورت کو تبدیل کر دیا انہی سیاسی پارٹیوں کی وجہ سے ایسے مختلف سیاسی نظریوں نے فروغ پایا جنہوں نے انسانی معاشرے کے ارتقاء میں زبردست کردار ادا کیا۔ ـ وہ جدید جمہوریت کی مختلف شکلیں ہوں یا جماعتی ڈکٹیٹر شپ حتیٰ کہ شخصی ڈکٹیٹر شپ اور فاشزم تک کو ایک نظام کے طور پر متعارف کرانے کا سہرا بھی سیاسی جماعتوں کے سر ہے۔ ـ سیاسی جماعتوں کا سب سے بڑا مثبت پہلو یہ ہے کہ انہوں نے انفرادی طور پر مختلف نظریات میں بٹے ہوئے عوام کی کنفیوژن دور کی انہیں ایک واضح پروگرام دیا اور نظریاتی کشمکش میں الجھے ہوئے گروہوں کو معاشرتی سطح پر ایک دوسرے کے نظریات کا احترام کرنے ، نفرت کے جذبات کو دبانے اور نظریاتی اختلافات کے باوجود معاشرتی ہم آہنگی کا سبق دیا ،گویا انسانی معاشرے میں سیاسی جماعتوں کا کردار ایک گائیڈ یا ٹیچر کا ہوتا ہے۔
کسی بھی معاشرے میں ذہنی ارتقاء کی انتہا یہ ہوتی ہے کہ وہاں انفرادی شخصیت کے بجائے سیاسی جماعتیں زیادہ اہم ہو جاتی ہیں ـ ہمارے دور کا ابھی تک کا بہترین نظام جسے ہم جمہوریت کہتے ہیں وہ بھی سیاسی جماعتوں کا مرہونِ منت ہے اس کا انسانی معاشرے پر سب سے بڑا احسان یہ ہے کہ جمہوریت کی بدولت انسان نے اپنے صدیوں پرانے مسئلے کو حل کیا اور وہ حل طلب مسئلہ تھا اقتدار کی پرامن منتقلی کا۔ـ سائنس دانوں کے نزدیک اس کرہ ارضی کی عمر لاکھوں سال جبکہ مذہبی پیشواؤں کے مطابق ہزاروں سال ہے لیکن انسانی معاشرے نے گزشتہ 200سال سے جس تیزی سے ترقی کی ہے اس کی مثال نہیں ملتی اور اسکی بنیادی وجہ اقتدار کی ایک مخصوص مدت تک کسی جماعت کو پرامن منتقلی ہے، ـ اس سے پہلے اقتدار کے حصول کے لئے سازشیں اور جنگیں جاری رہتی تھیں ۔
یہی وجہ ہے کہ حکومتوں کا پہلا کام عوام کے فلاح و بہبود کی بجائے اپنے اقتدار کو برقرار رکھنے کے لئے جوڑ توڑ کرنا اور اپوزیشن کا کام حکومت گرانے کے لئے ہر غیر اخلاقی حربہ اختیار کرنا تھا ۔ایسے میں انسانی فلاح و بہبود ، صحت تعلیم اور روزگار کی طرف کسی کا دھیان نہیں جاتا تھا ـ۔ اقتدار کا حصول محض سازشوں اور طاقت کے بہیمانہ استعمال پر موقوف تھا ـ یہ سیاسی پارٹیوں کی لائی ہوئی جمہوریت کا ہی کارنامہ تھا کہ اس نے عوامی حمایت کے ذریعے ایک مخصوص مدت کے لئے پرامن طریقے سے اقتدار منتقل کرنے کا راستہ دکھایاـ ۔اب اقتدار کا حصول حکومتی کارکردگی کی بنیاد پر ہونے لگا جس نے ہر وقت کے خوف اور لڑائی جھگڑے کو بالائے طاق رکھتے ہوئے حکمرانوں کو عوامی فلاح و بہبود کے کاموں کا موقع فراہم کیا جسکی وجہ سے زندگی کے ہر شعبے میں حیران کن انقلابات رونما ہوئے ۔ـ
یہی وجہ ہے کہ سیاسی تاریخ میں دو شخصیات اور ان کی جماعتوں کی حیثیت ہمیشہ ناقابل فراموش رہی ہے ـ۔ ایک کسی ملک کے بانی اور اس کی سیاسی جماعت ، دوسرے کسی ملک کے ریفارمر یا مصلح اور اس کی سیاسی جماعت کی۔پاکستان میں قائداعظم محمد علی جناح کی بانی پاکستان اور پاکستان مسلم لیگ کی خالقِ پاکستان سیاسی جماعت جبکہ ذوالفقار علی بھٹو شہید کی ایک مصلح یا ریفارمر اور انکی سیاسی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کی ریفارمسٹ پارٹی کےطور پر مسلمہ حیثیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ قائد اعظم کی زندگی نے انہیں اتنی مہلت عطا نہ کی کہ وہ پاکستان کا منشور بنا سکتے جبکہ ہندوستان نے آزادی کے صرف دو سال بعد ہی 1949 میں اپنا دستور بنا لیا تھا جس کی وجہ سے انہیں مستقبل کے بارے میں ایک واضح لائحہ عمل مل گیا اور وہاں جمہوری ادارے پروان چڑھنے لگے جب کہ پاکستان میں بروقت آئین سازی نہ ہونے کی وجہ سے اقتدار کے حصول کیلئے سازشوں کے انگنت دروازے کھل گئے جس کی وجہ سے جمہوری عمل کے ذریعے بننے والے ملک میں غیر جمہوری قوتیں مضبوط ہوتی گئیں اور پاکستان کمزور ہوتے ہوتے دولخت ہو گیا۔ ـ 30 نومبر 1967کو جب لاہور میں پاکستان پیپلز پارٹی کا قیام عمل میں آیا تو اس وقت پورا ملک سیاسی ابتری کا شکار تھا۔ بھٹو شہید نے اقتدار میں آتے ہی ملک کا سب سے دیرینہ مسئلہ حل کیا ـ انہوں نے اپنے ابتدائی دو سال کے اندر دو آئین قوم کو دیے ـ ایک عبوری آئین اور دوسرا 1973 کا متفقہ عوامی اور جمہوری مستقل آئین ـ۔ چنانچہ پاکستان پیپلز پارٹی کو تاریخ میں یہ منفرد مقام حاصل ہو گیا کہ اس نے پاکستان کو جو سرزمینِ بے آئین کہلاتا تھا ایک ایسا آئین دیا جو ہمیشہ غیر آئینی قوتوں کے لئے سدِ راہ بنا رہا۔ صرف یہی نہیں اسی سیاسی جماعت کی حکومت کے دوران پاکستان نے اپنا نیوکلیئر پروگرام شروع کیا جس نے دفاعِ وطن کو ناقابلِ تسخیر بنا دیا ۔ـ یہ افسوس کی بات ہے کہ ایک آئین ساز لیڈر کو آئین شکن قوتوں نے موت کے گھاٹ اتار دیا ورنہ شاید آج پاکستان کی صورتحال مختلف ہوتی ـ اگرچہ غیرجمہوری قوتوں نے ہمیشہ پاکستان پیپلز پارٹی کا راستہ روکنے کی کوشش کی اور اس کے لیڈروں اور ورکروں نے شہادتوں اور قید و بند کی نئی تاریخ رقم کی ـ۔پارٹی پر ابتلا کے سخت طوفان گزرے اور اسے سندھ تک محدود ہونا پڑا لیکن 58 سال تک کسی پارٹی نے جمہوریت کے لئے اتنی قربانیاں نہیں دیں جتنی پیپلز پارٹی نے دی ہیں ۔ـ پیپلز پارٹی کی موجودہ قیادت کا فرض ہے کہ وہ پارٹی کے بنیادی منشور کے مطابق پارٹی کا لائحہ عمل تیار کرے تاکہ پارٹی کی عظمتِ رفتہ کو بحال کیا جا سکے۔ ـ آج کا شعر
ہوس کی قید سے اک روز یوں رہا کردے
مرے خدا ذرا سا مجھ کو بھی خدا کردے