لاہور کی تاریخی عمارات اور ورثہ کی بحالی کا پروگرام زور و شور سے شروع ہو چکا ہے۔ لاہور واحد شہر ہے کہ جس کے تاریخی ورثہ میں عوام کے ساتھ ساتھ فاتح بادشاہوں اور انگریز نوآبادیاتی نظام کا حصہ موجود ہے۔ مزیدبرآں سابقہ تاریخی ادوار کے شابہ انسانی (پیشہ ورانہ) کردار آج بھی موجود ہیں، خدمات انجام دے رہے ہیں۔
قبل ازیں ’’لاہور والڈ سٹی‘‘ کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا گیا تھا جس نے اندرون لاہور، تاریخی عمارات ازقسم قلعہ لاہور، شاہی عمارات، امراء کی حویلیوں، پرانے عوامی محلوں، گلیوں اور بازاروں کی بحالی کے لئے گراں قدر خدمات انجام دی ہیں، لیکن یہ تاریخی لاہور کی جزوی بحالی تھی۔ بیرون لاہور کہ جس کی زیادہ تر آبادکاری انگریز عملداری میں ہوئی وہ بھی تاریخ کا حصہ ہے۔ لہٰذا شاید لاہور کے ثقافتی ورثہ میں اس نوآبادیاتی عہد کو نمائندگی دینے کے لئے اور وسیع تر معنوی تناظر میں ایک نئے ادارے کی ضرورت پیش آ گئی ہے کہ جس کو "LAHR" "Lahore Authority for Heritage Revival" یعنی ’’ادارہ برائے بحالی ثقافتی ورثہ‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ لاہور کے روایتی ثقافتی اور پنجابی کلچر کو پنجاب سے اور پنجاب کے اجتماعی کلچر کو لاہور سے جدا نہیں کیا جا سکتا۔ لہٰذا اس اتھارٹی کا دائرۂ اختیار اگر پنجاب تک وسیع کر دیا جائے تو کوئی مضائقہ نہ ہو گا اور اسے "PAHR" یعنی ادارہ برائے بحالی ثقافت پنجاب‘‘ کا نام دے کر لاہور اور پنجاب کی ثقافت کے تمام اجزائے ترکیبی کو محیط کیا جا سکتا ہے اور پنجاب کے ثقافتی کلچر کے گلدستےکو مزید گل و گلزار کیا جا سکتا ہے، خوش رنگ بنایا جا سکتا ہے۔عالمی طور پر مسلمہ کسی بھی ثقافتی ورثہ کے تین پہلو معروف ہیں: مجسم یعنی "Tangible" ورثہ جس میں باغات، عمارات و یادگاریں شامل ہوتی ہیں۔ دوسری قسم ورثہ لطیف (Intangible) یعنی اس ثقافت کی زبان و ادب، رسم و رواج، روایات، ہنر، ہیروز کے کارنامے، لوک داستانیں، لوک گیت وغیرہ شامل ہوتے ہیں۔ جبکہ ورثہ کی تیسری قسم میں اس خطے کے لینڈاسکیپ یعنی قدرتی مناظر ازقسم پہاڑ، چشمے، دریا، ندی نالے، علاقائی پودے، پرندے شامل ہوتے ہیں۔
اب معلوم نہیں اس نوزائیدہ ادارے کے دائرۂ عمل میں تاریخی ورثہ کی ان تمام اقسام کی بحالی شامل ہے یا پھر صرف فاتح بیرونی اقوام و طاقتوں کی تعمیرکردہ پرانی عمارات کی بحالی شامل ہے۔ لاہور کہ جس کی بنیاد تقریباً 4000سال قبل قدیم بادشاہ ’’لاما‘‘ کے دور میں اس کے بیٹے ’’لوہ‘‘ نے رکھی۔ قبل از مسیح کے اس شہر کو بعدازاں ’’تورامان‘‘ نامی ’’ھن‘‘ بادشاہ نے آج سے تقریباً 1500سال قبل مسطح کر دیا۔ اس کے نام و نشان مٹا کر اس کی جگہ نئی آبادی بسا لی اور یوں لاہور شہر کے قدیم آثار و باقیات یکسر غائب ہو گئے۔ شہر لاہور کی قدیم تاریخ کا یہ خلا اس کی قدیم ثقافت کی بازیافت میں بڑی رکاوٹ بن چکا ہے۔ چنانچہ ناچار اس کی زیادہ تر تاریخی شناخت بیرونی حملہ آوروں ازقسم لودھی، غزنوی، مغل، سکھ خاندانوں کی شاہی عمارات، مذہبی عبادت گاہوں میں ہی ملتی ہے۔ یا پھر اس ورثے کی ایک تازہ جھلک گزشتہ صدی کے نوآبادیاتی (Colonial) دور کی پبلک عمارات سے اخذ کر سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ لاہور کے تاریخی ورثہ میں بیرونی فن تعمیر (Architecture) اور فاتح اقوام کی زبانوں ازقسم فارسی اور انگریزی زبانوں کا زیادہ عمل دخل پایا جاتا ہے جو آج بھی جاری و ساری ہے۔ اس محدود اسکوپ کے ساتھ لاہور کے محض 1500سال پرانے ثقافتی ورثہ کی بحالی کے لئے "LAHR" کو زیادہ تکلف نہیں کرنا پڑے گا، کیوں کہ والڈسٹی کی بحالی کا زیادہ تر کام قبل ازیں مکمل ہو چکا ہے۔
انگریز دور کی بیشتر عمارات جن میں پرانے تعلیمی ادارے، سرکاری عمارات ازقسم جی او آر، دفتر لاٹ صاحب، جی پی او، ہائی کورٹ، گورنر ہائوس وغیرہ ہر سال زرِکثیر اربوں روپے سے بحال رکھے جاتے ہیں اور ان کے اندر انگریزی زبان کا بکثرت استعمال رہتا ہے۔ لاہور حسب سابق صوبہ کی راج دھانی ہے اور جس کی حکمرانی بھی زیادہ تر معروف خاندانی (Dynasties) کے پاس رہتی ہے۔ ہاں البتہ اس تاریخی ورثہ کو عوامی رنگ دینے کے لئے قبل ازیں بیان کردہ لطیف ورثہ کو اُجاگر کرنا پڑے گا۔